مغالطے

تبرید حسین(لندن)
سوال: کیا ندیم افضل چن کے استعفے دینے کی وجہ شھدا ہزارہ ہیں؟
جواب: یہ سوال بہت سے اچھا لکھنے والے تنظیمی دوستوں نے بھی اٹھایا ہے۔ میں یہ سوال سن کر ورطہ حیرت میں ہوں۔ لوگ لابنگ کرتے ہیں کہ اقتدار کی راہداریوں میں بیٹھے مضبوط اور مقتدر لوگ آپکے موقف کی حمایت میں کوئی بات کریں۔ یہاں وزیراعظم کا ترجمان اپنے وزیراعظم کی پالیسی کے کیخلاف ہمارے موقف میں کھل کر بات کرتا ہے۔ نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا چن صاحب کے استعفے کی وجہ ہزارہ مظلومین کی کی حمایت کو قرار دے رہے ہیں۔ اور مظلومین کا موقف کھل کر دنیا کے سامنے آنے کی ایک وجہ چن صاحب کا استعفے بھی بنا اور ہر طرف سے حمایت ملی تو بجائے اسکے کہ ہم اس پوٹینشل کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہم نےخود ہی سرے سے قبول کرنے سے ہی انکار کر دیا کہ چن صاحب نے تو اس وجہ اس استعفی نہیں دیا۔
 یا للعجب۔

سوال:کیا چن صاحب کی بات کرنے کی بجائے ہمیں ایم ڈبلیو ایم کی توصیف نہیں کرنا چاہیے تھی؟
جواب:حیرت میں ڈوبے سوا پھر چارہ نہیں ایک روایتی سیاستدان اور ایک مذہبی تنظیم کا موازنہ ہی بھلا کیا۔ مذہبی تنظیمیں تو فقط انہیں نعروں کے ساتھ میدان عمل میں ہیں اور یہی ان کےقیام اور بقا کی غرض و غائیت۔ ہاں ندیم افضل چن کا موازنہ کرنا ہے تو پاکستان تحریک انصاف کے کسی مشیر یا وزیر سے کریں تو زیادہ موزوں ہو گا۔ 

اور ایک اہم بات کہ ایم ڈبلیو ایم کے بارے میں میں نے پہلے بھی کھل کر لکھا ہے اور بار دیگر عرض ہے کہ الحمداللہ ایم ڈبلیو ایم وہ واحد جماعت ہے  جو کھل کر مظلومین کی حمایت میں بطور جماعت باہر نکلی ہے۔ راجہ صاحب اور حسن ظفر صاحب نے ہمیشہ  قائدانہ کردار ادا کیاہے اور کارکنان نے بھی ان کی آواز پر لبیک کہا ہے۔
مگر یہاں اس بات کو بھی قبول کرنے میں تامل نہیں ہونا چاہئے کہ باقی تنظیموں ( شیعہ علماء کونسل، جامعہ المنتظر و دیگر)  کے اکابرین و کارکنان بھی جماعتی وابستگی بالائے طاق رکھتے ہوئے ان دھرنوں میں شریک ہوئے جو قابل ستائش ہے۔ 

 آخری اور اہم بات
مولانا سید جواد نقوی صاحب نے کوئٹہ مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند کی۔ جزاک اللہ خیر۔ توقع ہے خانوادگان شہدا کے ساتھ اظہار یک جہتی و ہمدردی کیلئے کوئٹہ تشریف بھی لے جائیں گے۔
 مگر یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ جس انداز سے دوسری شیعہ فکری  تنظیموں کے بارے میں آغا صاحب کی کیطرف سے انتہائی نا مناسب  الفاظ ادا کئے گئے وہ ہماری نظر میں انتہائی غیر موزوں اور قابل اعتراض تھے۔
آغا جواد نظری و فکری اور روش کے اختلاف کو مناسب پیرائے میں احترامات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ضرور بیان کیا کریں یہ ان کا حق ہے۔  مگر توہین کا عنصر نفرتیں دوریاں اور کارکنوں کے درمیان سوشل میڈیا وار کا ذریعہ ہی بن سکتی ہیں اور منزل کو ہم سب سے مزید دور کرنے کا سبب۔

حالانکہ اختلاف کا حق استعمال کرتے ہوئے کچھ اعتراضات تو میں نے بھی اپنی قومی جماعت ایم ڈبلیو ایم کے ذمہ داران کی خدمت میں پیش کئے ہیں مثلا
 
 بیک وقت موجودہ حکومت سے اتحاد اور دھرنا کی پالیسی لوگوں کو سمجھ نہیں آئی۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد آغا رضا کا بلیک میلنگ کے حوالے سے بیان کہ عمران خان کےمطابق یہ پی ڈی ایم کیلئے کہا گیا، یہ دراصل اسے کلین چٹ دینے کے مترادف تھا۔ آغا رضا یا ایم ڈبلیو ایم کا موقف اگر مختلف تھا تو انہیں وہیں کھل کر اسی پریس کانفرنس میں اسکا بھی اظہار کرنا چاہیے تھا۔
اسی طرح آئی ایس او کے مرکزی صدر کی ایک تحریر جو زیر گردش ہے اس کے مطابق حکومتی کارندے، وزیر اور مشیر کوئٹہ میں مسلسل خانوادگان شہدا اور ایم ڈبلیو ایم کے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے اور بھڑکانے کے علاوہ دھرنے کو سبوتاژ کرنے کیلئے پیسے بھی آفر کرتے رہے۔ تو پھر سوال تو وہی دوبارہ منہ اٹھائے کھڑا ہے کہ ایسی جماعت سے اتحاد چہ معنی دارد؟
یہ سوالات اٹھانے کے باوجود میرا ایم ڈبلیو ایم یا آغا راجہ ناصر صاحب سے محبت اور احترام کا رشتہ موجود ہے۔

بھائیو آخری گزارش یہ ہے کہ ہر شخصیت یا تنظیم کے اچھی عمل کی جہاں توصیف کریں وہاں قابل احتساب باتوں پر احتساب بھی۔
خدارا اپنے اپنے ممدوح قومی قائدین اورتنظیموں میں جائز اور تعمیری تنقید کو رواج دیں۔ یہی اکیسویں صدی میں تنظیمی و قومی ارتقا کا واحد راستہ ہے۔

21 جنوری 2021
صبح 3:14

 


افکار و نظریات: مغالطے