انقلابِ اسلامی کے عالمی اثرات، آن لائن سیشن

 منظوم ولایتی

تاریخِ انسانی کے ایک طائرانہ مطالعے سے ہی یہ بات سامنے آتی ہے کہ دنیا کے اندر مختلف زمانوں میں بےشمار تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔انسان چونکہ ایک تغیّرِ پذیر مخلوق ہےلہذا اپنے ارد گرد  وقوع پذیر تغیرات سے متاثر ہوتا ہے۔ایک نظام لیکر آتا ہے، آزماتا ہے اور پھر اس سے تنگ آکر خود ہی اس کے خلاف بغاوت پر اتر آتا ہے۔ 

دور جانے کی ضرورت نہیں چند صدی قبل کی ہی بات ہے کہ دنیا میں صنعتی انقلاب کا چرچا ہوا۔ "چرچ پوپ کے حوالے اور حکومت شاہ کی ملکیت" کے ناہنجار شعار بلند ہوئے۔ مگر دنیا نے دیکھا  کہ بہرحال یہ نعرے بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوئے۔ 
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسیحیت کی دنیا میں نہ سہی مگر اسلام کی آفاقی تعلیمات کی روشنی میں کسی صورت "چرچ پوپ کے حوالے اور حکومت بادشاہ کی ملکیت " جیسے شعار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اسلامی دنیا کے انقلابات میں ایران کے اسلامی انقلاب کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ایران کا اسلامی انقلاب بیسویں صدی کے  ساتویں عشرے کے آخر میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ دنیائے عصر میں عظیم اندرونی اور بیرونی پہلوؤں کا حامل یہ واقعہ علاقائی اور عالمی سطح پر عظیم تبدیلیوں کی بنیاد بن گیا۔

اس حوالے سے آج رات نو بجے " انقلابِ اسلامی کے عالمی اثرات" کے موضوع پر ایک آن لائن سیشن کا انعقاد کیا گیا۔

ذیل میں اس آن لائن سیشن کی  مختصر سی  رپورٹ قارئیں کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔

 سیشن کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام الٰہی سے ہوا جس کی سعادت برادر قاری منظور حیدری نے حاصل کی۔ تلاوت کے بعد نعت رسول مقبولؐ پڑھنے کا شرف جناب غلام محمد غضنفر آف اسلام آباد نے کو ملا، جنہوں نے اپنی خوبصورت آواز میں بارگاہِ رسالت مآب ؐ میں گلہائے عقیدت کے پھول بچھاور کیے۔ جزاکما اللہ خیر الجزاء

اس کے بعد آج کے آنلائن سیشن کے پہلے مہمان ISO بلتستان ڈویژن کے سابق صدر جناب سعید شگری نے انقلاب کی بیالیسویں سالگرہ کی  مناسبت سے سامعین وناظرین کو مبارکبادی  کے بعد اپنی گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کیا " کسی نے امام خمینیؓ سے پوچھا تھا کہ آپ کا لایا ہوا انقلاب امام زمانہ علیہ السلام کی تحریک کی نشانیوں میں سے ہے تو آپ نے فرمایا نہیں بلکہ یہ ایک مقدمہ ہے"۔

سعید شگری فرمانے لگے کہ انقلابِ اسلامی سے پہلے دنیا کو تشیّع کی اس قدر آگاہی جتنی ہے ، جوں ہی ایران میں امام خمینیؓ کی قیادت میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا دنیا کی نظریں اور ان کی توجہ شیعیت کی طرف ہونے لگیں۔چونکہ ایک ایسے دور میں ایک اسلامی انقلاب آیا تھا کہ جس کی دنیا کو توقع  ہی نہیں تھی۔

موجودہ دور میں مقاومتی بلاک کی مضبوطی کی اشارہ کرتے ہوئے  برادر شعید شگری فرمانے لگے کہ رھبر انقلاب حضرت امام خامنائی دام عزہ کی بابصیرت قیادت میں مقاومتی بلاک نے چند سالوں کے اندر داعش کے وجود کو مشرق وسطیٰ میں شکست دی اور ایک زبردست عالمی طاقت کا مظاہرہ کیا۔

آخر میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ کشمیر اور فلسطین کی نوجوان نسل آج رھبر معظم اور مقاومتی سے فکری طور پر وابسطہ ہیں جس کی وجہ سے کشمیری حریت پسندوں اور فلسطینی مقاومتی گروپ مضبوط ہے جو ظالمین کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔

اس کے بعد قم المقدسہ سے سیشن کے دوسرے مہمان جناب علامہ عابد مھدوی صاحب نے اپنی گفتگو کی ابتداء قرآن مجید سورہ قصص آیت4 سے کی جس میں اللہ تعالیٰ مستضعفین اور کمزروں کو زمین کے وارث بنائے  جانے کا وعدہ فرمارہا ہے۔ 

 علامہ عابد مھدوی  نے فرمایا کہ ایران کا اسلامی انقلاب اچانک  نہیں آیا بلکہ اس کیلیے مقدمات پہلے سے فراہم کیے گئے تھے۔ امام خمینیؓ کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ انہوں نے وہی کتابیں جو دوسرے علماء بھی ہڑھتے تھے، سے ایک انقلاب برپا کیا اور لِیقومٙ الناسُ بِالقسطِ کے مصداق بنکر اپنی قوم کو میدانِ عمل میں اتارا اور بت شکنِ زمان قرار پائے۔

 آپ نے فرمایا کہ قرآن کہتا ہے ایک ایک دو دو ہوکر نکلو اور خود کو مضبوط کرو  اور یہاں مضبوطی سے مراد سیاسی، علمی، اقتصادی نیز ہر قسم کی مضبوطی شامل ہے۔

اس کے بعد  عابد مہدوی صاحب نے امام زمان ؑ کی غیبت کے بعد  عصر غیبت میں سیاست سے متعلق علماء کے درمیان جو آراء و نظریات رہے ہیں، ان کوبیان کرتے ہوئے کہا کہ امامؑ کی غیبت کے بعد ایک فکری انقلاب آیا ، جس کی وجہ سے تین قسم کے نظریات وجود میں آگئے:

(١) بعض فقہاء نے کہا کہ سیاست اور حکومت کرنا امام معصوم کے ساتھ خاص ہےیعنی غیر معصوم کیلیے جائز ہی نہیں۔
(٢) بعض  فقہاء کا نظریہ تھا کہ ہم سیاست میں حصہ  تو لیں گے مگر اس طرح سے کہ حکومت بادشاہ کرے یوں  اس سے ملکر قوی ہوجائیں۔

(٣) فقہاء کا ایک تیسرا گروہ نے کہا کہ ہم سیاست اور حکومت پہ قدم بھی رکھیں گے اور اقتدار بھی خود ہی سنبھال کر  اس طرح سے کام کریں گے کہ حکومت معصوم کیلیے زمینہ سازی ہو۔
امام خمینیؓ وغیرہ کا تعلق بھی تیسرے گروہ سے تھا۔

آخر میں حاج قاسم سلیمانی اور حاج ابومہدی المہندس کی شہادت کے بعد  مقاومتی بلاک کی طرف سے دئیے جانے والے "انتقام سخت" سے متعلق سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ انتقام ایک محدود انتقام نہیں ہوگا  بلکہ عالمی اسکتباری طاقتوں سے کسی بھی میدان میں لیا جاسکتا ہے البتہ اس انتقام کا نتیجہ امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ سے انخلاء ہے۔

اس کے بعد سیشن کے آخری مہمان ڈاکٹر علی محمد صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز فرماتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؓ  اور انقلاب اسلامی پر نسلِ آدم کو فخر کرنا چاہیے چونکہ یہ انقلاب  ایک خالصتاٙٙ آئینی انقلاب تھا۔

امام خمینیؓ کی شخصیت سے متعلق بات کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ امام ؓ کی شخصیت بہت گہری تھی یہی وجہ ہے کہ آپ کے ادکات اور افکار بہت عمیق ہیں۔ چونکہ آپ نے امریکہ اور بادشاہت کو شکست دینے سے پہلے اپنے اندر کے شیاطین کو شکست سے دوچار کیا تھا اور ایک خالص عبدِ الہی بن گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تائیدِ الہی امام خمینیؓ کے شاملِ حال تھی۔

ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے کہ صنعتی انقلاب کے چار سو سالوں میں اربوں ڈالر خرچ کیے گئے تاکہ دین اور سیاست میں جدائی ڈال سکیں مگر امام خمینی کا کمال یہ تھا کہ آپ نے ایک اسلامی انقلاب کے ذریعے سے ان کے نظریے کو چکناچور کیا۔

آپ نے مزید فرمایا کہ امام خمینیؓ نے مسلمانوں کے منجمد فکروں کے اندر تحرک پیدا کیا اور امت مسلمہ کو امتِ واحدہ کا درس دینے میں کامیاب ہوئے۔ آپ نے ایک ایسے دور میں انقلاب پیدا کیا جب دنیا مشرقی اور مغربی بلاک میں مقید تھی یہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے شاملِ حال ہونے کی نشاندہی ہے۔

آج کے دور میں مقاومتی بلاک کی طاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکیوں نے اپنی خودساختہ داعش سے متعلق  کہا تھا کہ چالیس سال لگیں گے ہمیں داعش کو ختم کرنے میں مگر مقاومت نے ساڑھے تین سال میں داعش کی بیخ کنی کی۔

وینزویلا پر ہونے والے ظلم پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ باوجود یہ  کہ امریکیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ ایران سے تیل کسی صورت وینزویلا نہ پہنچے مگر پانچ بڑے آئل ٹینکرز وہاں پہنچا کر ایران نے ثبوت دیا کہ وہ دنیا کے ہر مظلوم کے ساتھ ہے اور ظالمین کا دشمن ہے۔

آخر میں پاکسان سے متعلق  کسی برادر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر علی محمد فرمانے لگے کہ ہم نے انقلاب سے شعار ضرور لیا  مگر کماہ حقہ عملی طور پر کام نہ کر پائے۔

آخر میں سیشن کے دوستوں کا اور خاص طور پر مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا گیا اور سیشن اختتام پزیر ہوا۔

تائید و مدد الہی کی بات ہوئی ہے تو شاعرِ مشرق کے ایک شعر کے ساتھ اجازت کا طالب ہوں؛

   فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر آئیں گے گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی