سپریم کورٹ اور سینٹ کا الیکشن

محبوب اسلم


سینٹ الیکشن ہمیشہ کیطرح اسدفعہ بہی بکرامنڈی کا ہی نقشہ پیش کر رہا ہے یعنی تہتر سال کے بعد بہی ہم اسی کیچڑ میں پھنسے ہیں جسمیں مادر ملت کیساتھ بوٹ والے بھائیوں کی ”مہربانی“ سے لیکر کمانڈو فوجی کیساتھ ساتھ بہاری مینڈیٹ والے، سب پر بھاری اور تبدیلی کے دعویدار سب ہی لتھڑے رہے۔

 اس دفعہ سینٹ کی منڈی میں سپریم کورٹ بیچاری خواہ مخواہ اپنی عزت گنوا رہی ہے۔ یعنی ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بہی لے ڈوبیں گے۔

صاحب عقل انگلیاں دانتوں میں دبائے قومی اداروں کی یہ بے توقیری دیکہ رہے ہیں کہ کسطرح حکومت کا ایک بنیادی ستون یعنی عدلیہ ایک دوسرے ستون یعنی انتظامیہ کی ناجائز حمایت میں تیسرے ستون یعنی مقننہ کی ذمہ داری زبردستی ایک آئینی ادارے یعنی الیکشن کمیشن پر ٹھوس رہا ہے۔
ملک کا آئین ان تین ستونوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنے کا پابند کرتا ہے۔ مقننہ یعنی پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ قانون سازی کرے اور ملک کے آئین میں عوامی امنگوں کے مطابق قانون سازی کرے۔

انتظامیہ کا کام ملک کی باگ دوڑ سنبھالنا ہے اور عدلیہ کا کام ہے کہ ملک کے آئین کی خلاف ورزی نہ ہو۔ 
 یہ عجب بات ہے کہ آج ملک کی عدلیہ کا اصرار ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ قانون سازی نہ کرے بلکہ ناجائز طور پر ایک دوسرا آئینی ادارہ یعنی الیکشن کمیشن ملک کے آئین کیخلاف خود قانون سازی کرتے ہوئے سینٹ کے الیکشن کا آئینی طریقہ کار بدل دے!!! 
آخر یہ اندہیر نگری اور چوپٹ راج کیوں؟؟؟ تو وجہ تو صاف ظاہر ہے کہ سیلکٹڈ کو ہر حال میں سہارہ دینا ہے چاہے اس کیلئے عدلیہ برہنہ ہو جائے یا مقننہ بے توقیر ہو یا الیکشن کمیشن کو ہی غیر آئینی قدم اٹہانا پڑے۔۔۔

بس اَبے کا حکم ہے کہ نِکے کا کام ہر حال میں ہونا چاہئیے۔۔۔اور اَبے کا یہ بہی خیال ہے کہ ملک کا آئین کیا ہے۔۔۔

ایک کاغذ کا ٹکڑا جسے کسی بہی وقت ردی کی ٹوکری میں پہنیکا جا سکتا ہے!!! 
لیکن افسوس ہوتا ہے جب آئینی اداروں کےسربراہ بہی اَبے کے سامنے سپر ڈال دیتے ہیں۔۔۔یعنی اَبے کو اپنا سچ مچ ہی اَبا مان لیتے ہیں۔۔۔

پھر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ جمہوریت اور آزادی کی جدوجہد یہ سب ایک سراب ہے۔ بائیس کروڑ عوام کیساتہ ایک نہ ختم ہونے والا بہیانک مذاق ہے جو ہماری پچھلی نسلیں توکہا ہی گیا اب آنے والی نسلوں کو بھی نگلنے کے درپے ہے!!! 
اور یار لوگ ٹراسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو کوستے ہیں اور ہائبریڈ حکومت کی پھبتی پر چیں بچیں ہوتے ہیں۔۔۔

بھائی سامنے کی بات ہے جب آپ کے آئینی اداروں کے کرتوت یہ ہونگے تو پھر دنیا کے آئینے میں وہی کچھ نظر آئیگا جو آپ اصل میں ہیں۔۔۔کرپٹ اور جعلی جمہوریت!!! 

اب کس سے فریاد کی جائے؟؟؟

ملک کی اعلی عدالت سے جو اپنی غیر جانبداری کہو چکی، مقننہ سے جو اپنا حق گنوا چکی یا انتظامیہ سے جو اپنی ساکہ لٹا چکی یا پھر ”اَبے“ سے جو ہے ہی ناجائز باپ؟؟؟ 

اس ملک کی آنے والی نسلوں کواگر اقوام عالم کے سامنے عزت سے سر اٹھا کر جینا ہے تو اس ناجائز باپ کو اسکے استحصالی رویے سے روکنا ہوگا۔۔۔

اسے بتانا ہوگا کہ تو اس گہر کا نوکر ہے باپ نہیں ہے کہ یہ ناجائز باپ ہی بنیادی غلطی ہے جو سارے نظام کی خرابی کی جَڑ ہے۔

 اب یہ ہوگا کب اور کون کریگا؟؟؟ اسکا جواب اس بات میں مضمر ہے کہ یہ ناجائز باپ کتنا ظلم و ستم کرتا ہے اور عوام کی برداشت کی حد کیا ہے۔ ویسے تو حالیہ ضمنی انتخابات میں عوام نے اس ناجائز اَبے کو واضح پیغام تو بھیجا ہے۔۔۔ سانگھڑ، کراچی اور بلوچستان میں اَبے کے نِکے کو رول کر رکھدیا گیا ہے۔۔۔

شنید ہے کہ پنجاب میں بھی یہی ہونے والا ہے کہ وہاں عوام اور بھی تنگ ہیں اور اس پر بزادر کی شکل میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کاجواب بھی دینا چاہتے ہیں۔۔۔اور اگر پنجاب نے اَبے کا ہاتھ روک لیا تو پھر سمجھیں اَبا شاید اپنی عزت کو بچانے میں ہی عافیت سمجہے۔۔۔لیکن یہاں بھی اصل سوال یہ نہیں کہ کیا ایسا ہوگا۔۔۔سوال یہ ہے کہ کب ہوگا۔۔۔ہونا تو طے ہے!!! 
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔۔۔آمین


 


افکار و نظریات: سپریم کورٹ اور سینٹ کا الیکشن