یہ ماہ جنوری کی بات ہے کہ جب  جہلم کے قریب سوہاوہ میں جی ٹی روڈ پر کار اور وین میں تصادم کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق جب کہ 15 زخمی ہوگئے، حادثہ کار کا ٹائر پھٹنے کے باعث پیش آیا جس کی وجہ سے کار مخالف سمت سے آنے والی وین سے جا ٹکرائی۔

آج صبح حسن ابدال میں جی ٹی روڈ پر کیڈٹ کالج کے قریب راولپنڈی سے پشاور جانے والے ٹرک اور مسافر وین میں تصادم ہوا ہے، تصادم کے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں وین میں سوار 10 افراد جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہو گئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں مزید 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

 ریسکیو ذرائع کے مطابق دونوں گاڑیوں میں تصادم کے بعد آگ لگی، جس کے بعد قریب موجود گیس پائپ لائن میں آگ بھڑک اٹھی اور کسی مسافر کو اترنے کا موقع نہ مل سکا ۔

یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں ٹریفک حادثات میں تقریبا روزانہ کی بنیادوں پر انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں لیکن ہم اسے اللہ کی مرضی سمجھ کر چپ سادھے ہوئے ہیں۔

ہمارے سامنے ناقص گاڑیاں روڈ پر دوڑتی ہین لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی  اور اسی طرح گاڑیوں کی کوالٹی چیک کرنے کا بھی کوئی معقول انتظام نہیں۔ بڑی  مسافربسوں کا تو حال ہی برا ہے۔ مسافروں کے اترنے اور چڑھنے کے لئے بھی فقط ایک دروازہ ہوتا ہے، ہنگامی صورتحال میں زندہ بچ نکلنے کے کوئی چانسز نہیں۔

عام عوام تو چلیں بے شعور ہیں یا لاپرواہ ہیں لیکن سرکار کیا کر رہی ہے!؟ کیا ہر روز اتنی بڑی تعدادمیں  غیر معیاری بسوں ، گاڑیوں اور اناڑی ڈرائیوروں کا روڈ پر آنا اور انسانی زندگیوں سے کھیلنا سرکار کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔

دوسری طرف تنگ اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر بھی فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا میڈیا جہاں شاہی مسائل کو کوریج دیتا ہے وہیں اسے عوامی مسائل کو بھی بھرپور کوریج دینی چاہیے۔

ہماری دانست کے مطابق انسان دشمن افراد کے خلاف عوام اور سرکار کو ایک ہو کر کارروائی کرنی چاہیے، جہاں پر بھی اناڑی ڈرائیور، ناقص گاڑی ، جعلی ادویات ، حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف ہوٹل، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں نظر آئیں ، میڈیا اور  عوام کو فورا ً سرکار کے نوٹس میں لانا چاہیے اور شکایت نمبر کو اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہیے۔ اگر کسی کی شکایت پر شنوائی نہ ہو تو ان معاملات کو میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آنا چاہیے اور اعلی عدالتوں کو از خود نوٹس لینا چاہیے۔

جگہ جگہ شکایت کرنے کے لئے ٹیلی فون نمبرز درج ہونے چاہیے اور خود بھی سرکاری اداروں کو  عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لئے حرکت میں آنا چاہیے۔

ہمارے ہاں  حادثات کے بعد قیمتی جانوں پر نقصان کا اطہار کر کے معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ  رفع دفع کے بجائے ان مسائل کو میڈیا ، عوام اور حکومت کے تعاون سے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

جب تک ہم ان چیزوں پر چپ سادھے رہیں گے اسی طرح آگ میں جھلستے رہیں گے۔

 نذر حافی


افکار و نظریات: ٹریفک حادثات۔۔۔معاملہ رفع دفع