شاعرِ مشرق۔۔۔شاہِ لافتیٰ

منظوم ولایتی

آج نماز ِ ظھرین کے  بعد کچھ پڑھنے کی غرض سے لائبریری پہنچا۔فارسی کی کتابوں کے بیچ  میں سے ایک کتاب نکالی، کتاب کے سرِوق پر لکھا ہوا تھا " اقبال اور شیخ زنجانی"۔

 کتاب کو لیا اور  بیٹھ کر پڑھنا شروع کردیا۔ کتاب کے پہلے صفحے پر ہی پاکستان کے نامور شاعر و ادیب افتخار عارف کا ایک " سلام" مذکور ہے۔ جس کا ایک شعر ملاحظہ کیجیے:

کربلا ہو کہ نجف ہو کہ مدینہ سب کو
نور کے سلسلہِ عام میں رکھا گیا ہے
مفتخر ہوں تو یہ فیضانِ کرم ہے اُن کا
اُن کی نسبت کو مرے نام میں رکھا گیا ہے

اگلے ہی صفحے پر جناب افتخار عارف  کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں: " بیسویں صدی کے عظیم مفکر ، شاعر، مدبّر، حکیم الامت علامہ محمد اقبال (رح) کے افکار و سوانح کی مختلف جہات پر نہ صرف یہ کہ برصغیر جنوبی ایشیا میں بلکہ ساری دنیا میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور مسلسل لکھا جارہا ہے۔ نئے نئے رُخ نئی تفصیلات کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ پھر بھی جیسا کہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کثیرالجہات شخصیتوں کے حوالے سے بعض گوشے اُس طرح اُجاگر نہیں ہوپاتے جیسے کہ ہونے چاہیے تھے۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ زندگی کے بعض ابواب حادثاتِ زمانہ کہ اُڑتی ہوئی گرد میں گُم ہوجاتے ہیں یا اتنے واضح اور روشن نہیں رہ پاتے جتنا اُن کا حق ہے۔ ایک نسل اس سے واقف ہوتی ہے مگر بعد میں آنے والے اس سے کماحقہ، فیض یاب نہیں ہوپاتے"۔

آپ مزید لکھتے ہیں:" برصغیر کے ممتاز محقّق ڈاکٹر اکبر حیدری کی پیشِ کردہ کتاب عالمِ اسلام  کے جیّد عالمِ دین حضرت عبدالکریم نجفی زنجانی (رح) کی لاہور آمد کے موقع پر اُن کے اور حکیم الامت علامہ اقبال (رہ) کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو پر مبنی ہے، جسے سید بلگرامی مرتبت حسن جعفری مرحوم ومغفور نے محفوظ کرلیا تھا۔ " وحی و الہام اور بُرھانِ امامت" پر حضرت میرزا عبدالکریم زنجانیؓ اور حکیم الامت علامہ محمد اقبالؓ کے مابین محاضرہِ علمی کے مطبوعہ  مگر نایاب متن کے ساتھ ڈاکٹر اکبر حیدری کا مقدمہ خاص طور پر محفوظ کیے جانے کے قابل ہے۔

نبی کریمؐ، رسولِ رحمتؐ ، ختمی مرتبتؐ، احمدِ مجتبیٰؐ ، محمدِ مصطفیٰؐ اور ان کے خانوادہِ طیّب و طاہر کے حضور علامہ اقبالؓ نے عقیدتوں کے جو نذرانے پیش کیے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ مسلم دنیا میں بولی جانے والی زبانوں کے شاید ہی کسی شاعر نے فکر کی رفعت و جامعیت اور جذبے کی شدّتِ وفور کے امتزاج کے ساتھ اعلیٰ ترین جمالیاتی ہُنروری کے قرینوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا مثالی نذرانہِ عقیدت پیش کیا ہو جیسا کہ اقبالؓ نے کیا ہے۔

اس کے بعد آخر میں لکھتے ہیں:

" ایسے دور میں جب ملت اسلامیہ فروعی مسلکی اختلافات میں قدم قدم پر الجھتی نظر آرہی ہے، اس کتاب کی اشاعت دِلوں کو جوڑنے اور تعلقات کو مستحکم کرنے میں ایک کردار ادا کرے گی، مجھے اس کا پورا یقین ہے"۔

کتاب کے صفحہ٧ پر ڈاکٹر اکبر حیدری " مقدمہ مرتِّب" کے عنوان سے رقمطراز ہیں "ڈاکٹر اقبال حنفی تھے اور آخر عُمر تک اسی مسلک پر قائم رہے۔ اس کے باوجود وہ ابتدائی عُمر سے محمدؐ و آلِ محمدؑ سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ شیخ اعجاز احمد اقبال کے بھتیجے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مقلد تھے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اقبال کے ایک سیالکوٹی دوست ڈاکٹر میرحیدر جنہیں اقبال کے خاندان سے گھریلو تعلقات تھے، شیعہ عقائد رکھتے اور محرم الحرام کےدنوں  میں تعزیہ اور ذوالجناح کے جلوس کے ساتھ ماتم کرتے تھے۔ وہ اقبال کو تفضیلی کہتے تھے۔ اس لیے کہ اقبال حضرت علی کے معتقد تھے۔ اقبال کے بچپنے کے استاد ( شمسُ العلماء) سید میرحسن رضوی آٹھویں امام حضرت علی رضاؑ کی اولادوں سے تھے۔ وہ ممتاز عالمِ دین تھے۔ اُن کی مذہبی تعلیم کے زیرِ اثر اقبال کی نظر میں وسعت اور خیالات میں ایک نیا عنصر وجود میں آیا۔ اقبال نہایت احترام و عظمت سے میرحسن کے بارے میں لکھتے ہیں:

   وہ شمعِ بارگہِ  خاندانِ مرتضویؑ
رہے گا مُثلِ حرم جس کا آستان مجھ کو

اور ایک جگہ لکھتے ہیں:

مجھے اقبال اُس سید کے گھر سے فیض پہنچا ہے
پلے جو اس کے دامن میں وہی کچھ بٙن کے نکلے ہیں"

صفحہ ٨ میں لکھتے ہیں کہ ہمارے پاس ٹھوس شہادتیں موجود ہیں کہ  اقبالؓ، علامہ ہروی کی مجلسوں میں شرکت کرنے کے بعد اُن سے قرآنی نکات اور امامت کے بارے میں تبادلہِ خیال کرتے تھے۔ علامہ ہروی کے بعد  علامہ زنجانی سے بھی استفادہ کیا۔ غرضیکہ ان ان دونوں متبحر علماء نے اُن کے افکار کو جِلا بخشی اور انہیں مودّت آل رسولؐ کی طرف مائل کردیا۔ یہ بھی ثابت ہے کہ اقبالؓ لاہور کی مجلسوں میں ناظم لکھنوی (م:١٩١٧ء) ، آغا شاعر قزلباش اور جلیل لکھنوی کی مرثیہ گوئی سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

جب علامہ اقبالؓ کا انتقال١٩ صفر ١٣۵٧ھ (٢١اپریل١٩٣٨) کو ہوا تو اردو کے مشہور ادیب، صحافی اور عالمِ دین خواجہ حسن نظامی نے اپنے ہفتہ وار اخبار " منادی" دہلی مورخہ ٢٩ اپریل کے شمارہ میں ذیل کی خبر شائع کی تھی:

" میرے دوست اور فلسفیانہ شاعری کے آفتاب ڈاکٹر سر شیخ محمد اقبال نے جمعرات کے دم ١٩ صفر ١٣۵٧ھ صبح صادق کے وقت اس دنیا سے کوچ فرمایا۔ وہ چونکہ محب اہل بیتؑ تھے اور تفضیلی عقائد رکھتے تھے، اس کیلیے قدرت نے ان کو چہلم سید الشہداء علیہ السلام سے ایک دن پہلے کی تاریخ عطا فرمائی"۔

ڈاکٹر اکبر حیدری اپنی اسی کتاب میں  آگے چل کر لکھتے ہیں  کہ اقبال نے انتقال سے قبل ١٩٣٧ء میں ایک وصیت نامہ مرتب کیا تھا۔ ماہر اقبالیات رحیم بخش شاہین مرحوم ( اوراقِ گم گشتہ صفحہ ۴٦٨) کے مطابق اقبال نے اس کے آخری جملے میں اپنے بیٹے جاوید اقبال پر زور دیا تھا کہ:
" انہیں آل رسولؐ  اور ائمہ اہلبیتؑ سے تمسک رکھنا چاہیے"۔

مزید بر آن رقمطراز ہیں کہ میرے پاس مخزن لاہور ، جلد ٣ نمبر٢ بابت مئی ١٩٠٢ ء کا نادر الوجود شمارہ ہے۔ اس کے صفحہ ۴٨ تا ۵٠ میں اقبال کی ایک مسلسل نظم " خط منظوم" ( پیغام بیعت کے جواب) ۴٠ شعر میں موجود ہے۔ نظم کی شان مزول یہ ہے کہ کسی نے اقبال کو مرزا غلام اگمد قادیانی کی بیعت کرنے کی دعوت دی تھی۔ اقبال نت قادیانی بیعت کو ٹھکرا کر نظم کے آخری شعر میں واشگاف الفاظ میں اپنے عقیدے کا والہانہ اظہار کرکے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈالا تھا۔ یہ شعر نظم کا ماحصل ہے:

فیض اقبال ہے اسی در کا
بندہِ شاہِ لا فتیؑ ہوں میں

ذیل کے اشعار بھی اسی زمانے کے یادگار ہیں:

سُنا ہے صورت ِ سینا نجف میں بھی اے دل
کوئی مقام ہے غش کھا کے گرنے والوں کا
ہمیشہ وردِزبان ہے علیؑ کا نام اقبال
کہ پیاس روح کی بجھتی اس نگینہ سے
ہوں مریدِ خاندان خفتہِ خاکِ نجف
موج دریا آپ لے جائیگی ساحل پر مجھے

یہ شعر بھی قابلِ ذکر ہے:

پوچھتے کیا ہو مذھبِ اقبال
یہ گناہ گار بوترابیؑ ہے

بانگ درا میں موجود نظم " زہد و رندی" میں تو صاف لکھا:

ہے اس کی طبیعت میں تشیّع بھی ذرا سا
تفضیلِ علیؑ ہم نے سنی اس کی زبانی

شہید مرتضیٰ مطہریؓ علامہ اقبالؓ  اقبال کی شاعری کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرکے انہیں ممتاز اسلامی شعراء میں طاق قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
علامہ اقبال اگرچہ رسمی طور سنی المذھب تھے لیکن وہ اہلبیتؑ سے خاص محبت رکھتے تھے۔ وہ اشعار جو انہوں نے اہلبیتؓ کی شان میں فارسی میں لکھتے ہیں ، گمان نہیں گرتا ہوں کہ کسی شاعر نے ایسے اشعار اہلبیتؓ کی مدح میں لکھے ہوں"

ڈاکٹر اکبر حیدری کتاب کے صفحہ ١۵ میں لکھتے ہیں کہ  علامہ ہروی صاحب قلہ (١٩٢٢) کے انتقال کے بعد ڈاکٹر اقبال نے آیت اللہ میرزا عبدالکریم زنجانی سے استفادہ کیا ۔ موصوف غالباٙٙ ١٩٢٧ء کے بعد لاہور تشریف لائے اورطیہاں نواب فتح علی خان قزلباش مرحوم کے صاحبزادے نواب نثار علی خان کے پاس قیام پزیر ہوئے۔ اور یہیں ڈاکٹر اقبال سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔  ڈاکٹر صاحب اور ان کے چمد دوستوں نے شیخ زنجانی سے ایک مجلس میں سوال کیا کہ وحی اور الہام میں جو فرق ہے اسے قرآن سے ثابت کریں۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ  بارہوین امام مہدیؑ آخرالزمان کے ظہور کا وقت معین ہے کہ نہیں؟ علامہ زنجانی نے فی البدیہہ دونوں سوالوں کے جواب مسلسل تین گھنٹے دیے۔  لاہور کے ایک دانش ور اور اقبال کے دوست سید حسن جعفری علامہ زنجانی کی تقریر قلمبند کرنے کیلیے مامورکیے گئے تھے۔  انہی دنوں دسمبر ١٩٢٨ء میں اقبال نے جو لیکچر مدراس میؓ دیے تھے وہ علامہ زنجانی کی اسی مجلس سے استفادہ کرکے مرتب کیے گئے تھے۔

علامہ ہروی کے بارے میں اقبال ایک خط ٣١ اکتوبر ١٩١٦ء کو مہاراجہ کشن پرشاد شاد وزراعظم دکن کو لکھا تھا اس کا خلاصہ ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے :

" علامہ ہروی عالِمِ متبحر ہیں ۔ مذھباٙٙ شیعہ ہیں۔ جو کچھ فرماتے ہیں وہ قرآن سے ثابت کرتے ہیں۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں"۔

کتاب کے صفحہ ١٣ میں لکھتے ہیں کہ اُس زمانے میں یہ خبر ہندوستان می گشت کررہی تھی کہ اقبال شیعہ ہوگئے ہیں۔ چنانچہ خود اقبال نے بھی اس واقعہ سے اکبر الہ آبادی کو مطلع کیا تھا۔ اس کا ذکر اکبر نے بھی خواجہ حسن نظامی صاحب کے نام اپنے خط مورخہ٢٣نومبر١٩١٦ کو درج ذیل الفاظ میں کہا تھا:

" اقبال صاحب نے مجھ کو خط میں لکھا ہے کہ مسئلہ امامت کو انہوں نے قبول کیا ہے۔ لیکن یہ اقرار نہیں کیا ہے کہ وہ شیعہ ہوگیا"

آخر میں یہ کہ یہ بات  عُشاقِ اقبالیات کیلیے ایک المیہ سے کم نہیں ہے کہ اقبال کے سوانح نگاروں اور شارحین نے حقیقت پسندی اور رواداری کے  حقیقی اصولوں کا لحاظ نہیں رکھا ۔اقبال کے اکثر و بیشتر  وہ اشعار جن میں آل محمد ؑ کی مدحت و توصیف کی گئی تھی ان کو وضاحت کرنے سےبھی حتیٰ گریز کیا۔


آخر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی مناسبت سے علامہ اقبالؓ ہی کے ایک شعر کیساتھ طالبِ دعا ہیں؛

مسلمِ اول شاہِ مرداں علیؑ
عشق را سرمایہِ ایماں علیؑ
از ولایے دودمانش زندہ ام
در جہاں مثلِ گہر تابندہ ام 

 


افکار و نظریات: شاعرِ مشرق۔۔۔شاہِ لافتیٰ