اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات شاعرِ مشرق۔۔۔شاہِ لافتیٰ منظوم ولایتی آج نماز ِ ظھرین کے بعد کچھ پڑھنے کی غرض سے لائبریری پہنچا۔فارسی کی کتابوں کے بیچ میں سے ایک کتاب نکالی، کتاب کے سرِوق پر لکھا ہوا تھا " اقبال اور شیخ زنجانی"۔ کتاب کو لیا اور بیٹھ کر پڑھنا شروع کردیا۔ کتاب کے پہلے صفحے پر ہی پاکستان کے نامور شاعر و ادیب افتخار عارف کا ایک " سلام" مذکور ہے۔ جس کا ایک شعر ملاحظہ کیجیے: کربلا ہو کہ نجف ہو کہ مدینہ سب کو اگلے ہی صفحے پر جناب افتخار عارف کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں: " بیسویں صدی کے عظیم مفکر ، شاعر، مدبّر، حکیم الامت علامہ محمد اقبال (رح) کے افکار و سوانح کی مختلف جہات پر نہ صرف یہ کہ برصغیر جنوبی ایشیا میں بلکہ ساری دنیا میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور مسلسل لکھا جارہا ہے۔ نئے نئے رُخ نئی تفصیلات کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ پھر بھی جیسا کہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کثیرالجہات شخصیتوں کے حوالے سے بعض گوشے اُس طرح اُجاگر نہیں ہوپاتے جیسے کہ ہونے چاہیے تھے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ زندگی کے بعض ابواب حادثاتِ زمانہ کہ اُڑتی ہوئی گرد میں گُم ہوجاتے ہیں یا اتنے واضح اور روشن نہیں رہ پاتے جتنا اُن کا حق ہے۔ ایک نسل اس سے واقف ہوتی ہے مگر بعد میں آنے والے اس سے کماحقہ، فیض یاب نہیں ہوپاتے"۔ آپ مزید لکھتے ہیں:" برصغیر کے ممتاز محقّق ڈاکٹر اکبر حیدری کی پیشِ کردہ کتاب عالمِ اسلام کے جیّد عالمِ دین حضرت عبدالکریم نجفی زنجانی (رح) کی لاہور آمد کے موقع پر اُن کے اور حکیم الامت علامہ اقبال (رہ) کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو پر مبنی ہے، جسے سید بلگرامی مرتبت حسن جعفری مرحوم ومغفور نے محفوظ کرلیا تھا۔ " وحی و الہام اور بُرھانِ امامت" پر حضرت میرزا عبدالکریم زنجانیؓ اور حکیم الامت علامہ محمد اقبالؓ کے مابین محاضرہِ علمی کے مطبوعہ مگر نایاب متن کے ساتھ ڈاکٹر اکبر حیدری کا مقدمہ خاص طور پر محفوظ کیے جانے کے قابل ہے۔ نبی کریمؐ، رسولِ رحمتؐ ، ختمی مرتبتؐ، احمدِ مجتبیٰؐ ، محمدِ مصطفیٰؐ اور ان کے خانوادہِ طیّب و طاہر کے حضور علامہ اقبالؓ نے عقیدتوں کے جو نذرانے پیش کیے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ مسلم دنیا میں بولی جانے والی زبانوں کے شاید ہی کسی شاعر نے فکر کی رفعت و جامعیت اور جذبے کی شدّتِ وفور کے امتزاج کے ساتھ اعلیٰ ترین جمالیاتی ہُنروری کے قرینوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا مثالی نذرانہِ عقیدت پیش کیا ہو جیسا کہ اقبالؓ نے کیا ہے۔ اس کے بعد آخر میں لکھتے ہیں: " ایسے دور میں جب ملت اسلامیہ فروعی مسلکی اختلافات میں قدم قدم پر الجھتی نظر آرہی ہے، اس کتاب کی اشاعت دِلوں کو جوڑنے اور تعلقات کو مستحکم کرنے میں ایک کردار ادا کرے گی، مجھے اس کا پورا یقین ہے"۔ کتاب کے صفحہ٧ پر ڈاکٹر اکبر حیدری " مقدمہ مرتِّب" کے عنوان سے رقمطراز ہیں "ڈاکٹر اقبال حنفی تھے اور آخر عُمر تک اسی مسلک پر قائم رہے۔ اس کے باوجود وہ ابتدائی عُمر سے محمدؐ و آلِ محمدؑ سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ شیخ اعجاز احمد اقبال کے بھتیجے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مقلد تھے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اقبال کے ایک سیالکوٹی دوست ڈاکٹر میرحیدر جنہیں اقبال کے خاندان سے گھریلو تعلقات تھے، شیعہ عقائد رکھتے اور محرم الحرام کےدنوں میں تعزیہ اور ذوالجناح کے جلوس کے ساتھ ماتم کرتے تھے۔ وہ اقبال کو تفضیلی کہتے تھے۔ اس لیے کہ اقبال حضرت علی کے معتقد تھے۔ اقبال کے بچپنے کے استاد ( شمسُ العلماء) سید میرحسن رضوی آٹھویں امام حضرت علی رضاؑ کی اولادوں سے تھے۔ وہ ممتاز عالمِ دین تھے۔ اُن کی مذہبی تعلیم کے زیرِ اثر اقبال کی نظر میں وسعت اور خیالات میں ایک نیا عنصر وجود میں آیا۔ اقبال نہایت احترام و عظمت سے میرحسن کے بارے میں لکھتے ہیں: وہ شمعِ بارگہِ خاندانِ مرتضویؑ اور ایک جگہ لکھتے ہیں: مجھے اقبال اُس سید کے گھر سے فیض پہنچا ہے صفحہ ٨ میں لکھتے ہیں کہ ہمارے پاس ٹھوس شہادتیں موجود ہیں کہ اقبالؓ، علامہ ہروی کی مجلسوں میں شرکت کرنے کے بعد اُن سے قرآنی نکات اور امامت کے بارے میں تبادلہِ خیال کرتے تھے۔ علامہ ہروی کے بعد علامہ زنجانی سے بھی استفادہ کیا۔ غرضیکہ ان ان دونوں متبحر علماء نے اُن کے افکار کو جِلا بخشی اور انہیں مودّت آل رسولؐ کی طرف مائل کردیا۔ یہ بھی ثابت ہے کہ اقبالؓ لاہور کی مجلسوں میں ناظم لکھنوی (م:١٩١٧ء) ، آغا شاعر قزلباش اور جلیل لکھنوی کی مرثیہ گوئی سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ جب علامہ اقبالؓ کا انتقال١٩ صفر ١٣۵٧ھ (٢١اپریل١٩٣٨) کو ہوا تو اردو کے مشہور ادیب، صحافی اور عالمِ دین خواجہ حسن نظامی نے اپنے ہفتہ وار اخبار " منادی" دہلی مورخہ ٢٩ اپریل کے شمارہ میں ذیل کی خبر شائع کی تھی: " میرے دوست اور فلسفیانہ شاعری کے آفتاب ڈاکٹر سر شیخ محمد اقبال نے جمعرات کے دم ١٩ صفر ١٣۵٧ھ صبح صادق کے وقت اس دنیا سے کوچ فرمایا۔ وہ چونکہ محب اہل بیتؑ تھے اور تفضیلی عقائد رکھتے تھے، اس کیلیے قدرت نے ان کو چہلم سید الشہداء علیہ السلام سے ایک دن پہلے کی تاریخ عطا فرمائی"۔ ڈاکٹر اکبر حیدری اپنی اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ اقبال نے انتقال سے قبل ١٩٣٧ء میں ایک وصیت نامہ مرتب کیا تھا۔ ماہر اقبالیات رحیم بخش شاہین مرحوم ( اوراقِ گم گشتہ صفحہ ۴٦٨) کے مطابق اقبال نے اس کے آخری جملے میں اپنے بیٹے جاوید اقبال پر زور دیا تھا کہ: مزید بر آن رقمطراز ہیں کہ میرے پاس مخزن لاہور ، جلد ٣ نمبر٢ بابت مئی ١٩٠٢ ء کا نادر الوجود شمارہ ہے۔ اس کے صفحہ ۴٨ تا ۵٠ میں اقبال کی ایک مسلسل نظم " خط منظوم" ( پیغام بیعت کے جواب) ۴٠ شعر میں موجود ہے۔ نظم کی شان مزول یہ ہے کہ کسی نے اقبال کو مرزا غلام اگمد قادیانی کی بیعت کرنے کی دعوت دی تھی۔ اقبال نت قادیانی بیعت کو ٹھکرا کر نظم کے آخری شعر میں واشگاف الفاظ میں اپنے عقیدے کا والہانہ اظہار کرکے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈالا تھا۔ یہ شعر نظم کا ماحصل ہے: فیض اقبال ہے اسی در کا ذیل کے اشعار بھی اسی زمانے کے یادگار ہیں: سُنا ہے صورت ِ سینا نجف میں بھی اے دل یہ شعر بھی قابلِ ذکر ہے: پوچھتے کیا ہو مذھبِ اقبال بانگ درا میں موجود نظم " زہد و رندی" میں تو صاف لکھا: ہے اس کی طبیعت میں تشیّع بھی ذرا سا شہید مرتضیٰ مطہریؓ علامہ اقبالؓ اقبال کی شاعری کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرکے انہیں ممتاز اسلامی شعراء میں طاق قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ڈاکٹر اکبر حیدری کتاب کے صفحہ ١۵ میں لکھتے ہیں کہ علامہ ہروی صاحب قلہ (١٩٢٢) کے انتقال کے بعد ڈاکٹر اقبال نے آیت اللہ میرزا عبدالکریم زنجانی سے استفادہ کیا ۔ موصوف غالباٙٙ ١٩٢٧ء کے بعد لاہور تشریف لائے اورطیہاں نواب فتح علی خان قزلباش مرحوم کے صاحبزادے نواب نثار علی خان کے پاس قیام پزیر ہوئے۔ اور یہیں ڈاکٹر اقبال سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کے چمد دوستوں نے شیخ زنجانی سے ایک مجلس میں سوال کیا کہ وحی اور الہام میں جو فرق ہے اسے قرآن سے ثابت کریں۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ بارہوین امام مہدیؑ آخرالزمان کے ظہور کا وقت معین ہے کہ نہیں؟ علامہ زنجانی نے فی البدیہہ دونوں سوالوں کے جواب مسلسل تین گھنٹے دیے۔ لاہور کے ایک دانش ور اور اقبال کے دوست سید حسن جعفری علامہ زنجانی کی تقریر قلمبند کرنے کیلیے مامورکیے گئے تھے۔ انہی دنوں دسمبر ١٩٢٨ء میں اقبال نے جو لیکچر مدراس میؓ دیے تھے وہ علامہ زنجانی کی اسی مجلس سے استفادہ کرکے مرتب کیے گئے تھے۔ علامہ ہروی کے بارے میں اقبال ایک خط ٣١ اکتوبر ١٩١٦ء کو مہاراجہ کشن پرشاد شاد وزراعظم دکن کو لکھا تھا اس کا خلاصہ ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے : " علامہ ہروی عالِمِ متبحر ہیں ۔ مذھباٙٙ شیعہ ہیں۔ جو کچھ فرماتے ہیں وہ قرآن سے ثابت کرتے ہیں۔ ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں"۔ کتاب کے صفحہ ١٣ میں لکھتے ہیں کہ اُس زمانے میں یہ خبر ہندوستان می گشت کررہی تھی کہ اقبال شیعہ ہوگئے ہیں۔ چنانچہ خود اقبال نے بھی اس واقعہ سے اکبر الہ آبادی کو مطلع کیا تھا۔ اس کا ذکر اکبر نے بھی خواجہ حسن نظامی صاحب کے نام اپنے خط مورخہ٢٣نومبر١٩١٦ کو درج ذیل الفاظ میں کہا تھا: " اقبال صاحب نے مجھ کو خط میں لکھا ہے کہ مسئلہ امامت کو انہوں نے قبول کیا ہے۔ لیکن یہ اقرار نہیں کیا ہے کہ وہ شیعہ ہوگیا" آخر میں یہ کہ یہ بات عُشاقِ اقبالیات کیلیے ایک المیہ سے کم نہیں ہے کہ اقبال کے سوانح نگاروں اور شارحین نے حقیقت پسندی اور رواداری کے حقیقی اصولوں کا لحاظ نہیں رکھا ۔اقبال کے اکثر و بیشتر وہ اشعار جن میں آل محمد ؑ کی مدحت و توصیف کی گئی تھی ان کو وضاحت کرنے سےبھی حتیٰ گریز کیا۔ مسلمِ اول شاہِ مرداں علیؑ
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

نور کے سلسلہِ عام میں رکھا گیا ہے
مفتخر ہوں تو یہ فیضانِ کرم ہے اُن کا
اُن کی نسبت کو مرے نام میں رکھا گیا ہے
رہے گا مُثلِ حرم جس کا آستان مجھ کو
پلے جو اس کے دامن میں وہی کچھ بٙن کے نکلے ہیں"
" انہیں آل رسولؐ اور ائمہ اہلبیتؑ سے تمسک رکھنا چاہیے"۔
بندہِ شاہِ لا فتیؑ ہوں میں
کوئی مقام ہے غش کھا کے گرنے والوں کا
ہمیشہ وردِزبان ہے علیؑ کا نام اقبال
کہ پیاس روح کی بجھتی اس نگینہ سے
ہوں مریدِ خاندان خفتہِ خاکِ نجف
موج دریا آپ لے جائیگی ساحل پر مجھے
یہ گناہ گار بوترابیؑ ہے
تفضیلِ علیؑ ہم نے سنی اس کی زبانی
علامہ اقبال اگرچہ رسمی طور سنی المذھب تھے لیکن وہ اہلبیتؑ سے خاص محبت رکھتے تھے۔ وہ اشعار جو انہوں نے اہلبیتؓ کی شان میں فارسی میں لکھتے ہیں ، گمان نہیں گرتا ہوں کہ کسی شاعر نے ایسے اشعار اہلبیتؓ کی مدح میں لکھے ہوں"
آخر میں جشنِ مولودِ کعبہ کی مناسبت سے علامہ اقبالؓ ہی کے ایک شعر کیساتھ طالبِ دعا ہیں؛
عشق را سرمایہِ ایماں علیؑ
از ولایے دودمانش زندہ ام
در جہاں مثلِ گہر تابندہ ام
افکار و نظریات: شاعرِ مشرق۔۔۔شاہِ لافتیٰ
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں