امنِ بین المذاہب اور اسلام

محبوب اسلم

اللہ رب العزت سورہ المائدہ۔۔۔آیت 48 میں فرماتے ہیں:
”پھر اے محمدؐ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بہی جی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی  بنا سکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو.“ 

درج بالا آیت اسلام کی بین المذھبی امن اور بین المسلمین اتحاد کی اصل روح ہے۔ ملاحظہ ہو کہ کس خوبصورتی اور کس جامع لیکن مختصر اور آسان پیرائے میں رب العزت نے اس پیچیدہ معاملے کا ایک پائیدار حل نوع انسانی کیلئے رھتی دنیا تک پیش کیا ہے۔

رب العزت۔۔۔ پیغمبر پاک صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کو واضح انداز سے بیان فرمارہے ہیں کہ یہ قرآن درحقیقت حق کیساتھ اترا ہے اور اپنے سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کی نہ صرف تصدیق کرتا ہے بلکہ انکا محافظ بہی  ہے۔ قرآن کا پہلی نازل ہونے والی کتابوں کا محافظ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مذھبی روایات کو پرکھنے کیلئے قرآنی تعلیمات ایک کسوٹی کا کردار انجام دیں گی۔ 

لیکن پھر رب العزت نے فوراً ہی  اس حقیقت کا بہی  اظہار کیا کہ نوع انسانی اپنی الگ الگ مذھبی روایات اور شریعت رکھتی ہےاور ان روایات اور شریعت کا الگ الگ ہونا خود اللہ کی مرضی اور حکم سے ہے کہ وہ ہمکو اپنی اپنی شریعت میں آزمائے جس کے ماننے کا ہمدم بھرتےہیں۔ 
یوں اس آیت کی روشنی میں ہممسلمانوں کو دیگر مذاھب سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے کہ انکی موجودگی خود رضائے الہی کی بدولت ہے۔ اور ھر ھرقوم کی شریعت ہی  اسکا امتحان ہے۔ یوں کسی مسلمان سے یہودیوں کے سبت کی بابت پوچھ گچھ نہ ہوگی اور کسی یہودی سے جمعہ کے دن کی فضیلت یا رمضان کے روزوں کا سوال نہ ہوگا۔ھر امت اپنی اپنی شریعت پر جوابدہ ہوگی۔ 

لیکن یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ جب مذاھب اور خاص طور پر الہامی مذاھب جو ایک خدا کے تصور پر یقین رکھتے ہیں انکے بنیادی عقائد جیسے خدا کی وحدانیت، گناہوں سے برات اور یوم آخرت پر ایمان وغیرہ کے بیچ بین المذاھبی اختلاف کامعاملہ درپیش ہو تو اللہ رب العزت قرآن کو ان بنیادی معاملات اور عقائد کے محافظ کے طور پر ضرور پیش کرتا ہے اور اس صورت میں بہی  شائستگی کاحکم صادر فرماتا ہے اور ان معاملات پر تاویل اور دلائل کا مطالبہ کرتاہے۔۔۔اور معاملہ اگر طے نہ ہو سکے تو اس صورت میں بہی  باھمی طور پر امن اور سلامتی سے ”تمھارے لئے تمھارا دین اور ھمارے لیے ھمارا دین“ کا راستہ اپنانے کا حکم دیتا ہے اور کج بحثی اور کسی بہی  قسم کے جھگڑے اور تشدد کا ھرگز حکم نہیں دیتا۔ مثال کے طور پر اللہ رب العزت سورہ النحل۔۔۔آیت 125 میں فرماتے ہیں:
”اپنے رَبّ کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اُسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو، اور (اگر بحث کی نوبت آئے تو) ان سے بحث بہی  ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ یقینا تمہارا پروردگار اُن لوگوں کو بہی  خوب جانتا ہے جو اُس کے راستے سے بھٹک گئے ہیں ، اور اُن سے بہی  خوب واقف ہے جو راہِ راست پر قائم ہیں.“ 

اور پھر آخر میں اللہ رب العزت بین المذاھب میں صرف اور صرف ایک مسابقت کی بنیاد رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تم میں سے نیکی کے کاموں میں کون سبقت لے جاتا ہے۔۔۔ سبحان اللہ!!! 

کیا ہی  احسن مسابقت کا اصول وضع کیا گیا ہے کہ تم میں اگر کوئی مقابلہ ہے تو وہ یہ نہیں کہ کس کی شریعت بہتر ہے اور کس کا عقیدہ درست ہے۔۔۔مقابلہ اگر ہے تو اس بات کا ہے کہ تم میں سے کون کتنا نیک ہے اور کون کتنا پرہی زگار ہے۔ اور پھر عقیدے کی درستگی اور اسطرح کے باقی معاملات کیلئے اللہ رب العزت نے کیا ہی  خوب اصول وضع کیا ہے کہ ان باقی معاملات کا تعلق چونکہ میری ذات سے تعلق رکھتا ہے اور اندیکہی  حقیقتوں سے متعلق ان عقائد کا فیصلہ تم مجھ پر چھوڑ دو اور میں یوم آخرت ان معاملات میں تمھارا فیصلہ کر دوں گا۔ 

یوں بین المذاھب میں سورہ المائدہ۔۔۔آیت 48 سے بڑھکر کوئی اور اتنا جامع لیکن انتہائی آسان فہم اصول ہو ہی  نہیں سکتا۔ 

آخر میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے التماس ہے کہ جو دین اسلام غیر مذاھب کے افراد کیساتھ اختلاف رائے کے اتنے احسن اور پر امن اصول وضع کرتا ہے کیا وہ دین بین المسلمین اور امت مسلمہ میں اختلاف رائے میں گالی گلوچ اور تشدت کو برداشت کر سکتا ہے؟؟؟رب العزت کی قسم ھرگز نہیں۔۔۔ہممیں کتنا ہی  اختلاف ہو ہمیں اسلامی بھائی چارے اور امت مسلمہ کی یکجہتی کو ھر حال میں فوقیت دینی ہے اور یاد رکہیں کہ اللہ رب العزت کا وعدہ ہے کہ۔۔۔”آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو.“ 

آج امت مسلمہ کو جتنی باھمی یکجہتی کی ضرورت ہے وہ شاید آج سے پہلے کبہی  نہ تہی ۔ عراق، شام اور یمن آج آگ و خون میں نہلا دیے گئے ہیں اور ہمہیں کہ سمجھ کر ہی  نہیں دیتے؟؟؟ اللہ کی کتاب پکار پکار کر کہہ رہی  ہے کہ۔۔۔” آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو.“ لیکن ہمبضد ہیں کہ ان معاملات کا فیصلہ تلوار کی نوک پر کرینگے۔۔۔اور یوں ہمدن دھاڑے اسلام دشمن قوتوں کے ھاتہوں میں بہی  استعمال ہو رہے۔۔۔آخر کس لئے؟؟؟ کس انا پرستی اور کس شیطانی جال میں ہم پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ ذرا دل و دماغ کھول کر اپنے رب کے الفاظ پر بھی  غور کریں!!! 

اللہ تعالی ہمسب کو امن و امان اور باہمی بھائی چارے کیساتھ رھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نیکی اور پرہیزگاری کی مسابقت میں کامیابی عطا فرمائے۔