اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات فرنگی اور نجفی افکار میں فرق پیشکش : وائس آف نیشن مختار حسین توسلی حوزہ علمیہ نجف میں ایک دینی طالب علم ہیں اور ڈاکٹر محمد حسین دینی تعلیم کے بعد مختلف این جی اوز سے وابستہ ہونے کے بعد آج کل نیویارک میں مقیم ہیں۔ یہ دونوں تحریرں قارئین پر واضح کرتی ہیں کہ ان دونوں کے افکار میں کتنا فرق ہے۔ ہم قارئین کیلئے ایک ہی موضوع پر دونوں کے کالمز پیش کر رہے ہیں۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوجائے گا کہ جلوہِ دانش فرنگ سے خیرہ ہونا ہمارے ہاں ایک عام سی بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہیں۔ پہلا کالم محترم محمد حسین کا ہے چونکہ انہوں نے پہلے لکھا ہے۔ معدومیت کے خطرے سے دوچار بلتی زبان و تہذیب محمد حسین، نیویارک عربی و فارسی زبان و تہذیب کے ثقافتی یلغار پندرہ صدی پہلے تک بلتستان میں بون مذہب (نیچرلزم کی ایک مقامی شکل) کی پیروی کی جاتی رہی ہے۔ سدھارتھ گوتم بودھا کی تعلیمات سے متاثر ہو کے بلند پہاڑوں کے اس پورے خطے میں بودھ مت پھیل گیا۔ آٹھ صدیوں تک بلتستان بدھ مت پر عمل پیرا رہا۔ بون اور بدھ مذاہب کے آثار بلتستان میں آج بھی جا بجا موجود ہیں۔ بدھ مت نے بون مذہب کو مٹانے کی کوشش نہیں کی اس لیے ایک مشترکہ تہذیبی تسلسل کے طور پر پر آگے بڑھتا رہا۔ تاہم چودھویں صدی میں براستہ کشمیر ایرانی و عربی مبلغین و صوفیا تشریف لائے اور بلتستان میں اسلام کی تبلیغ کی تو چند دہائیوں کے اندر ہی سب نے بدھ مت چھوڑ کر اسلام قبول کیا۔ یہ تہذیبی تغیر ایک نئے اور موجودہ بلتستان کی بنیاد بنا۔ اس تغیر نے بلتستان کو مجموعی طور پر اپنے نسلی و تہذیبی اصل یعنی تبت سے کاٹ کر رکھ لیا۔ رسم و رواج، رہن سہن، طور طریقے، سماجی تعامل، اقدار و نظریات سب کچھ تبدیل کر کے رکھ لیا۔ یہاں تک کہ اس کی بنیادی شناخت بھی چھین کر نئی شناخت اپنانے پر مجبور کیا عربیوں نے اپنے قبائلی اور اہل فارس نے تو خود اپنے تسلسل کاٹا نہیں مگر بلتی قوم نے مکمل کاٹ لیا۔ عربوں نے نہ اپنے نام تبدیل کیے، نہ تلوار چھوڑی اور نہ ہی شلوار، دف و دھمال کو روایت، عربی غنا و موسیقی کو تلاوت و نشید کی صورت میں آگے بڑھایا، اہل فارس نے بھی اپنے تہذیبی ورثے سے رشتہ نہیں توڑا۔ یہاں تک کہ انہوں نے لفظ اللہ کو بھی قبولیت نہیں بخشی بلکہ اپنے “خدا” کو اللہ بنا کر کے رکھنے پر اصرار کیا، زرتشتی نوروز کو بھی مذہبی حیثیت دینے کے لیے احادیث ڈھونڈ نکال لیں۔ تمام موسیقی آلات اور ساز و سرور کے لیے اپنے ہی ورثے کو برتر سمجھا۔ آج بھی حرم امام رضا میں یہ انسٹرومنٹس بجائے جاتے ہیں، اس سے ایران کے مجتہدین کو کوئی اعتراض ہے اور نہ اسلامی و الہی نظام حکومت کو، انہوں نے فارسی زبان کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ پورے عربی اسلام کو فارسی میں ڈھال دیا۔ جبکہ اس کے برعکس مبلغین اسلام کی منشا کے مطابق ہمارے بزرگوں نے ہر بلتی ورثے کو ناپید کرنے میں کلیدی ادا کیا۔ بطور مثال بلتی زبان کے سب سے معروف اور بڑے شاعر مرحوم بوا شاہ عباس ہیں۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ان کی مذہبی شاعری اور کلام کے بغیر بلتستان میں منعقد ہونے والی کم و بیش کوئی بھی مذہبی محفل مکمل نہیں سمجھی جاتی ہے۔ ان کے کلام میں بھی مشکل سے دس فیصد الفاظ بلتی زبان کے ہیں جبکہ باقی عربی و فارسی سے مستعار ہیں۔ ویسے بوا شاہ عباس سے زیادہ گلہ بنتا بھی نہیں کہ وہ خود بھی عربی النسل سادات یعنی مقامی کمتر و خدمت گار بلتی قوم کے برتر و بزرگ طبقے میں سے تھے۔ ثقافتی تغیر اور تہذیبی تعامل و ارتقا کے نتیجے اور تسلسل میں ہر زبان و تہذیب سے کچھ الفاظ و اظہارات ادھر ادھر ہوتے رہتے ہیں جس کا کوئی مضائقہ نہیں تاہم اس قدر زیردست اور متاثر ہونا بلتی زبان کو معدومیت کے خطرے سے دوچار کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بزرگان دین بنیادی طور پر مذہبی و تہذیبی استعمار کا کردار ادا کر گئے کہ بڑے خوشنما نعروں میں کسی زبان و تہذیب کی جڑیں کاٹ ڈالیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر بلتی زبان و تہذیب کو ایک نجس و ناپاک اور فرسودہ ورثے کے طور پر بلتی قوم کے سامنے باور کرایا۔ آج بھی بلتی میں سب سے بڑی گالی “چھڑ و بودھ” یعنی “ناپاک بودھ” سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ہر برے کام اور جرائم کو “بودھ لس”، بلتی زبان کو بودھ سکد، بلتی تہذیب کو بودھ توکس، بلتی تاریخ کو بودھ وخ کہلا کر بلتی قوم کے تاریخی ورثے سے اپنے تعلق کو شرمساری، بدتری اور بدبختی جیسے نفسیاتی عوارض کے ساتھ جوڑ لیے جس کے بعد عربی و فارسی زبان و تہذیب کو مقدس، معتبر، برتر و بہتر بنا اور سمجھا کر پیش کیا، ہم اپنی بلتی رسم الخط، اس رسم الخط میں موجود علم و حکمت، علوم و فنون اور تاریخ و ثقافت سے جڑے ذخیرے، لباس و پوشاک، اوزار و آلات، مصنوعات، موسیقی، فوک کلچر سمیت ہر چیز سے مکمل کٹ گئے۔ ہر مقامی مظہر کو بدتر اور ہر بیرونی مظہر کو برتر اور مقدس بنا کر پیش کیا۔ بچوں کے بلتی نام مکمل ناپید ہو چکے۔ محلوں، گاوں اور مقامات کے نام بھی بڑی تیزی سے عربی و فارسی میں بدل دیے جا چکے ہیں۔ اپنی تہذیب پر شرمسار بلتی قوم میں احساس کمتری، احساس زیاں، احساس گمشدگی کے پیچھے نسلی تسلسل پرمحیط یہ ثقافتی تغیر ہے۔ معروف بلتی فنکاروں کے خلاف تشدد، خوف، نفرت اور جبر آج اپنے عروجکو پہنچ چکا ہے۔ کتنے ایسے فنکار ہیں جو اس جبر کے باعث گوشہ نشین ہیں، شرمسار ہیں، سماجی تنہائی کے شکار ہیں یا اپنا راستہ بدلنے اور مذہبی حلیے اپنانے پر مجبور ہیں۔ یہ مذہبی استعمار کے بدترین واردات کی چند مظاہر ہیں۔ یہ تہذیبی تعامل و ارتقا کے دوران ضرورت کے چند الفاظ و اظہارات کے د متعارف و متروک ہونے کی مانند بلکل نہیں ہے بلکہ صاف صاف اور سوچا سمجھا استعماری واردات ہے جو اب بھی جاری ہے۔ بلتی زبان اور معدومیت مختار حسین توسلی، نجف اشرف محترم محمد حسین کے شبہات اور ان کا رد آج محترم ڈاکٹر محمد حسین صاحب نیویارک کی ایک تحریر بعنوان " معدومیت کے خطرے سے دوچار بلتی زبان و ثقافت " نظر سے گزری، جس کے مندرجات پڑھ کر تعجب بھی ہوا حیرت بھی کہ ڈاکٹر صاحب جیسے پڑھے لکھے انسان عربی و فارسی خاص کر اسلام کے بارے میں ایسی معاندانہ باتیں کیسے کر سکتے ہیں جبکہ خود نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ ان کا نام بھی "محمد حسین مستنصر" ہے جو مکمل طور پر عربی سے ماخوذ ہے؟ بہرحال انہوں نے اپنی تحریر میں کچھ مبہم باتیں کی ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے تاکہ عام لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا نہ ہو جائیں۔ نوٹ:۔ آپ اس موضوع پر اپنی معلوماتی و تحقیقی تحاریر ہمیں بھیج سکتے ہیں۔ ادارہ
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

بلتسی یل کو اب بلتستان کہلایا جانے لگا۔ لفظ بلتستان بلتی اور ستان کا مرکب ہے۔ لفظ کے فارسی بننے سے پہلے نام “بلتی یل” تھا۔ یعنی بلتیوں کے رہنے کی جگہ۔
عرب اور عجم کے گوشہ گوشہ میں ڈھونڈ کر آپ کو ایسا شہر یا گاوں شاید نہیں ملے گا جس کا “غیر اسلامی” عربی یا فارسی نام تبدیل کر کے “اسلامی رکھا ہو”
اب ہر طرف علی آباد، بتول آباد، حسن آباد، حسین آباد، کبیر آباد، گلشن آباد وغیرہ نظر آتے ہیں۔
شرمساری کا عالم یہ ہے کہ اگر آپ نے کسی گاوں کا تبدیل شدہ نئے نام کی جگہ پرانا بلتی نام اس گاوں والے کسی شخص کے سامنے اپنی زبان پر لایا تو آپ سے وہ لڑنے پر آ جاتاہے، وہ اسے ناپاک، کم تر و فرسودہ اور باعث شرم اور نئے “اسلامی نام” کو باعث فخر و عظمت سمجھتا ہے۔
ان کی باتوں کو پڑھ کر مجھے اس بات کی بھی سمجھ نہیں آئی کہ وہ عربی اور فارسی کے مخالف ہیں یا اسلام کے؟
یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی دین کسی دوسرے دین پر غالب آجاتا ہے تو اس کی تعلیمات سے متصادم تہذیب و ثقافت خود بخود معدوم ہو جاتی ہے، البتہ جو چیزیں اس کی تعلیمات سے متصادم نہ ہوں ان کا وجود کسی نہ کسی حد تک برقرار رہتا ہے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ بلتستان میں پہلے بون چھوس یعنی بون مذہب رائج تھا اس کے بعد بدھ مت آ گیا لیکن بدھ مت نے بون چھوس کو مٹانے کی کوشش نہیں کی اس لئے دونوں ایک مستقل تہذیبی تسلسل کے طور پر آگے بڑھتے رہیں۔
اس حوالے سے عرض ہے کہ بون چھوس یعنی بون مذہب اور بدھ مت قریب العقائد مذاہب ہیں، تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بون مذہب کی بہت سی رسوم اور عقائد کو بدھ مت نے اپنے اندر شامل کرلیا ہے ایسے میں وہ کیوں کر بون مذہب کو مٹانے کی کوشش کرتا، ڈاکٹر صاحب نے خود لکھا ہے کہ یہ دونوں مذاہب ایک مستقل تہذیبی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے رہے، لہذا خود ان کے بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بہت ساری رسومات دونوں مذاہب میں مشترک تھیں، ورنہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی دین کسی دوسرے دن پر غالب آجائے اور اس کے نتیجے میں مغلوب دین کی تہذیب و ثقافت کو زوال نہ آجائے۔
ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ اسلام نے یہاں کے لوگوں کی بنیادی شناخت کو چھین کر ایک نئی شناخت کو اپنانے پر مجبور کیا۔
یہاں پر ڈاکٹر صاحب نے مغالطے سے کام لیا ہے، اس لیے کہ اسلامی مبلغین نے اہل بلتستان کو اسلام قبول کرنے پر ہرگز مجبور نہیں کیا انہوں نے صرف تبلیغ کی ہے جبکہ لوگوں نے اپنی مرضی سے بدھ مت کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے، اگر اسلام کے مبلغین نے بلتستان پر لشکر کشی کی ہوتی، اس علاقے پر قبضہ کیا ہوتا اور یہاں کے لوگوں کو زبردستی بدھ مت چھوڑ کر اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ہوتا تو آپ کہہ سکتے تھے کہ اسلام نے یہاں کے لوگوں کی بنیادی شناخت کو چھین کر زبردستی ایک نئی شناخت کو اپنانے پر مجبور کیا، جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے، لہذا آپ کا یہ دعوی قرین قیاس نہیں ہے۔
خیال رہے کہ دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور نجات کا نام ہے اس کا دامن بےشمار آداب و رسوم اور اقدار و روایات سے مملو ہے لہذا اسے کسی دوسرے دین و مذہب سے کوئی رسم و رواج مستعار لینے کی ضرورت نہیں ہے، چنانچہ یہ دین دنیا کے جس خطے میں بھی پہنچا ہے وہ بغیر کسی تسلط پسندانہ اقدام کے مقامی لوگوں کو اپنی جانب جلب کرنے اور ان کی سابقہ تہذیب و ثقافت کو تبدیل کرنے میں کامیاب رہا ہے، جس کے نتیجے میں اسلام کی اپنی تہذیب و ثقافت وجود میں آئی ہے، لہذا یہ صرف بلتستان کا مسئلہ نہیں ہے، ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم اسلام جیسے الہی دین کی تہذیب و ثقافت کے امین ہیں۔
ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں کہ یہ علاقہ پہلے بلتی یول کہلاتا تھا فارسی کے آنے کے بعد بلتستان بن گیا۔
یہاں پر موصوف نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ فارسی نے اس علاقے کے اصل نام کو بگاڑا ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے، یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ اسلام کے آنے کے بعد اس علاقے کا نام تبدیل ہو گیا بلکہ اس سے پہلے بھی مختلف ادوار میں اس علاقے کو مختلف ناموں جیسے بلتی یل، پلولو اور تبت خورد وغیرہ سے پکارا جاتا رہا ہے۔
آگے لکھتے ہیں کہ عربوں اور اہل فارس نے اپنے تہذیبی تسلسل کو نہیں کاٹا جبکہ اہل بلتستان نے اپنے تہذیبی تسلسل کو کاٹ دیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہم نے اسلام کو سب سے بہترین دین کے طور پر قبول کر لیا ہے تو پھر ہم نے عربوں یا اھل فارس کی پیروی نہیں کرنی بلکہ ہم نے اسلام کی تعلیمات کو فالو کرنا ہے، اگر انہوں نے اپنے سابقہ تہذیبی تسلسل کو جاری رکھا ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلیں اور اسلامی تعلیمات سے متصادم تہذیب و ثقافت کو گلے لگائے رکھیں، یہ کوئی لازمہ نہیں بنتا کہ اگر انہوں نے اپنی پرانی تہذیب و ثقافت کو نہیں چھوڑا ہے تو ہم بھی نہ چھوڑیں۔
رہی بات کئی عورتوں کے ساتھ بیک وقت ازدواج کی تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ ایک سے لے کر چار تک عورتوں کے ساتھ ازدواج کے جائز ہونے کا حکم اسلام کا ہے عربوں کا نہیں، لہذا ہر چیز کو غلط طریقے سے بیان کرنا اچھی بات نہیں ہے۔
جہاں تک غلاموں کی خرید و فروخت کا معاملہ ہے تو یہ نظام صرف عرب معاشرے میں رائج نہیں تھا بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ایسا ہوتا تھا، اسلام کے آنے کے بعد یہ نظام عرب معاشرے سے ختم ہو گیا جبکہ امریکہ میں اس کے بعد بھی جاری رہا، آج امریکہ میں جتنے بھی سیاہ فام بستے ہیں وہ سبھی غلام بنا کر وہاں پہنچا دیے گئے تھے، آج بھی ان کے دامن سے غلامی کا دھبہ نہیں دھلا ہے۔
علاوہ ازیں تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب معاشرے میں غلاموں کو گھروں میں نوکر کے طور پر رکھا جاتا تھا، آج بھی پوری دنیا میں گھروں میں نوکر اور ملازم رکھنے کا رواج عام ہے، لہذا اس میں کوئی زیادہ قباحت نہیں ہے جبکہ امریکہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہاں پر سیاہ فام غلاموں پر ساتھ انسانیت سوز مظالم کیے گئے، ان کو انسان ہی نہیں سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہیں حیوانوں کے ساتھ رکھا گیا ، مگر اس کے خلاف فاضل مُحَرّر یا دوسرے مغرب زدہ لوگ قلم نہیں اٹھائیں گے کیونکہ یہ ان کے آقا کو اچھا نہیں لگتا۔
ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں کہ اہل فارس نے لفظ اللہ کو بھی شرف ِ قبولیت نہیں بخشا بلکہ اپنے " خدا " کو اللہ بنا کر رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔
یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے ورنہ ایسی بات نہیں ہے کہ اہل فارس کو لفظ " اللہ " پسند نہیں ہے، یا وہ لفظ خدا سے اللہ کے علاوہ کوئی اور ذات مراد لیتے ہیں بلکہ وہ اللہ اور خدا دونوں استعمال کرتے ہیں، درحقیقت لفظ خدا اللہ کا فارسی میں متبادل لفظ ہے، آپ بھی اللہ کے لیے اپنی زبان میں موجود لفظ استعمال کر سکتے ہیں اسلام نے اس چیز سے نہیں روکا، جس طرح انگلش میں اللہ کے لیے God استعمال کرتے ہیں، اسی طرح ہم بھی بلتی میں اللہ کے لئے لفظ کھون جوق استعمال کر سکتے ہیں۔
موصوف آگے لکھتے ہیں کہ بلتستان کے معروف شاعر حضرت بوا شاہ عباس کے قصائد میں بمشکل دس فیصد بلتی کے الفاظ ملتے ہیں اور باقی الفاظ عربی اور فارسی سے مستعار لئے گئے ہیں۔
یہ بیان بھی حقیقت کے بالکل برعکس ہے، اگرچہ ان کے قصائد میں عربی اور فارسی کے الفاظ کثرت سے استعمال ہوئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بلتی کے الفاظ دس فیصد سے زیادہ استعمال نہیں ہوئے ہیں، بالفرض اگر ان کے قصائد میں عربی اور فارسی کے الفاظ کی بہتات ہے تو اس سے کوئی قباحت لازم نہیں آتی بلکہ بلتی شاعری میں حسن پیدا ہوجاتا ہے۔
انہوں نے بوا شاہ عباس پر عربی النسل ہونے کی بنا پر غیر مقامی ہونے کا بھی الزام لگایا ہے گویا انہوں نے دبے لفظوں میں انہیں بھی مذہبی استعمار قرار دیا ہے، یہ رویہ قابل مذمت ہے۔
واضح رہے کہ جب بھی کوئی خاندان اپنے علاقے سے ہجرت کر کے کسی دوسرے علاقے میں جا کر بستا ہے تو ایک دو نسلوں کے بعد اس کے افراد وہاں کے مقامی باشندے بن جاتے ہیں جبکہ بوا شاہ عباس بذات خود کسی عرب علاقے سے نہیں آئے تھے بلکہ ان کے آباؤ اجداد ایران سے آئے تھے لہذا ان کا خاندان کئی نسلوں سے بلتستان میں آباد تھا۔
انہوں نے اپنی تحریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بلتستان کے علما اور بزرگان دین کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے مذہبی اور تہذیبی استعمار کا کردار ادا کرتے ہوئے خوشنما نعروں کے ذریعے یہاں کی زبان و تہذیب کی جڑوں کو کاٹ دیا ہے۔
پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ اسلام کے مبلغین نے یہاں پر بزور طاقت اسلام کو نہیں پھیلایا، ایسا ہوتا تو آپ الزام لگا سکتے تھے کہ علما اور بزرگان دین نے زبردستی یہاں کی زبان و ثقافت کی جڑوں کو کاٹ دیا ہے، لہذا ان کی بات سوائے غلط بیانی اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔
بلتی زبان کے حوالے سے عرض ہے کہ آیا اس زبان کی رسم الخط اسلام کے آنے سے پہلے کسی تعلیمی ادارے میں رائج تھی؟
اگر یہ رسم الخط اسلام کے آنے سے پہلے کسی تعلیمی ادارے میں رائج تھی اور اسلام کے آنے کے بعد بھی اس کے مبلغین اور علماء نے اس کو ختم کر دیا ہے تو وہ قصور وار ہیں اور آپ کا الزام بجا ہے، لیکن اگر ایسی بات نہیں ہے تو پھر یہ محض بہتان تراشی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
جہاں تک بلتی ادب کا تعلق ہے تو اسلام کے آنے کے بعد اس کو عروج ملا ہے، کیوں کہ اس سے پہلے مقامی شعراء کے پاس اپنی طبع آزمائی کے لیے خلو، ڑگیانگ خلو جیسے لوگ گیت کے علاوہ کوئی خاص میدان نہیں تھا، جب کہ اسلام کی آمد کے بعد مقامی شعراء کو طبع آزمائی کے لیے قصیدے، مرثیے، نوحے اور بحر طویل کے کھلے میدان میسر آئے ہیں جن میں انہوں نے خوب طبع آزمائی کی ہے، چنانچہ قصائد، مرثیہ جات، نوحہ جات، بحرِ طویل اور دیگر اصناف شاعری کی صورت میں ہمارے پاس بلتی ادب کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ بزرگان دین نے عربی اور فارسی زبان و تہذیب کو مقدس، معتبر، برتر اور بہتر بنا کر پیش کر دیا جبکہ بلتی زبان و ثقافت کو بدھ مت سے منسوب ہونے کی بنا پر نجس چیز کے طور پر پیش کیا ہے۔
تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ایسے لکھ رہے ہیں جیسے بلتستان کی موجودہ نسل بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے، یہاں پر سارے بدھ مت کے پیروکار موجود ہیں، لہذا ان کے منشاء کے برخلاف علماء یہ سب کچھ کر رہے ہیں، انسان کو اتنا تو معلوم ہو جانا چاہیے کہ جب بلتستان کے لوگوں نے اسلام کو ایک برتر دین کے طور پر قبول کر لیا ہے تو پھر وہ کیوں کر اپنے سابقہ دین بدھ مت کی تہذیب و ثقافت کو گلے سے لگا کر رکھیں؟
دوسری بات یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کسی بھی دیں و مذہب کی اہانت کرنا جائز نہیں ہے، لہذا ہم نے آج تک نہیں سنا کہ اسلام کے مبلغین اور علماء نے بلتی زبان کو " بدھ سکت" ہونے کی وجہ سے نجس کہا ہو، بلکہ وہ نہ صرف اس زبان کے بولنے پر فخر محسوس کرتے ہیں بلکہ اس کی بقا کے لیے کوششیں کرنے والوں کی بھی صف اول میں ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام سے پہلے بلتستان میں رائج بدھ تہذیب کو " بدھی توکس" اور تاریخ کو " بدھی وخ " کہتے ہیں، موصوف نے اس کو بھی غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
ظاہری بات ہے بدھ تاریخ کو بدھی وخ ہی کہیں گے جس طرح برصغیر میں انگریز کے دور کو بلتی میں "انگریزی وخ" کہتے ہیں، اس میں انگریزی اور بلتی تاریخ کو گالی دینے کا مفہوم کہاں سے نکلتا ہے ؟
جہاں تک بچوں اور مقامات کے بلتی یا عربی فارسی نام کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے لوگوں کی اپنی مرضی ہے، جو نام انہیں اچھا لگے گا وہی رکھ لیں گے، آپ کی خواہشات کے پابند تھوڑی ہیں، ویسے بھی لڑکے کا نام "کھی فرو" اور لڑکی کا نام "کھی نو لدن" رکھنے سے بہتر نہیں ہے کہ علی اور فاطمہ رکھا جاۓ؟
مزید لکھتے ہیں کہ معروف بلتی فن کاروں پر جبر اور تشدد انتہا کو پہنچ چکا ہے، نیز خواتین کو اپنے فن کے اظہار کا حق حاصل نہیں ہے ؟
موصوف نے اس بیان کے ذریعے بلتستان کی غلط تصویر لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، موصوف اور دیگر مغرب زدہ یا دین بیزار لوگ دین اسلام کی تبلیغ کو جبر و تشدد کا نام دیتے ہیں جوکہ درست نہیں ہے، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں معاشرے میں مادر پدر آذاد ہو کر رہنے دیا جائے، مردوں اور عورتوں کے آذادانہ اختلاط پر کوئی روک تھام نہ ہو گویا انہیں مغربی ممالک کی طرح رنگ ریلیاں منانے کا موقع فراہم کیا جائے جس کی اسلام میں قطعا گنجائش نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب آپ کسی دین کو فالو کرتے ہیں یا کسی معاشرے میں رہتے ہیں تو اس کے اصول و قوانین پر عمل کرنا بھی ضروری ہے، اس میں کسی دوسرے دین یا معاشرے میں ہونے والی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے کی بات کرنا نا معقول ہے۔
الغرض موصوف نے پوری تحریر میں اس بات کا رونا رویا ہے کہ اہل بلتستان کی پسماندگی کی بنیادی وجہ یہاں کی زبان و تہذیب پر عربی اور فارسی زبان و ثقافت کی بالادستی ہے جو علما اور بزرگان دین کی وجہ سے قائم ہو گئی ہے۔
ان کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ کے پہلو میں خطہ لداخ موجود ہے جہاں پر آج بھی بدھ مت کے پیروکار بستے ہیں جنہوں نے بدھ مت کی زبان و ثقافت کو زندہ رکھا ہوا ہے، گویا وہاں خالص بلتی بولنے والے اپنی صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں، کیا وہ لوگ تعمیر و ترقی کے حوالے سے اوج ثریا تک پہنچ گئے ہیں؟
آخری بات یہ ہے کہ اگر دین بیزار لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کی وجہ سے ترقی نہیں کر پا رہے ہیں تو ان پر کوئی قدغن نہیں ہے وہ اپنے سابقہ دین کی طرف لوٹ سکتے ہیں، عربی، فارسی اور اسلام کو کوسنے کی بجائے بہتر یہی ہے کہ وہ بدھ مت کی تہذیب و ثقافت کو دوبارہ اپنا لیں، اگر وہ اسی کے ذریعے ترقی کر سکتے ہیں اور دنیا میں نام کما سکتے ہیں تو اس میں ہمارا کیا جائے گا، لیکن اس کے لیے انہیں اسلام کو خیرباد کہہ کر یہ ساری مہم چلانی ہوگی کیونکہ یہ نا معقول بات ہے کہ وہ اسلامی معاشرے میں بسنے والوں کے لیے بدھ مت کی تہذیب و ثقافت کو رواج دینے کی بات کریں اور ایسا نہ کرنے پر اسلام کے مبلغین اور علماء پر لعن طعن کریں یہ بجائے خود ایک شدت پسندی ہے۔
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں