پوپ کا دورہ عراق ۔۔۔

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا


نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com
یہ نشرو اشاعت اور اطلاعات  کی جنگ کا زمانہ ہے۔ اس دور میں   خبریں مخصوص مقاصد کیلئے تولید کی جاتی ہیں، منصوبہ بندی کے ساتھ حادثات کو وجود میں لایا جاتا ہے اور مختلف  واقعات کو ایک فلم یا ڈرامے کی طرح  پیش کر کے   رائے عامہ پر اثر انداز ہوا جاتا ہے۔ بعد ازاں   یہی رائے عامہ کسی بھی بیانیے کی تشکیل کا باعث بنتی ہے۔ 
اس ہفتے کے دوران  جہانِ مسیحت کے عظیم روحانی رہنما  پاپ فرانسیس   کے دورہِ عراق نے دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا  ہے۔ جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ عراق میں قاسم سلیمانی کا خون ابھی خشک نہیں ہوا۔ عراق ابھی سوگوار ہے، لوگ  اداس ہیں ،  اور خطےسے امریکی و استعماری افواج کے انخلا کا مطالبہ زوروں پر ہے۔  چنانچہ اس دورے کو  بعض نے اپنے مقاصد کے پیشِ نظر  صلیبی جنگوں کی نئی روش کہا ہے، کچھ نے اپنے اہداف کی خاطر اسے ایک برائے نام  دورے سے تعبیر کیا ہے،  بہت ساروں نے اپنی مصلحت کے پیشِ نظر اسے معمول کا ایک سرکاری دورہ  کہنے پرہی  اکتفا کیا ہے،کچھ نے اسے خطےمیں امریکی مفادات کے تحفظ کی ایک چال کےطورپر دیکھا ہے، بعض نے اسے ایرانی حکومت کے مقابلے میں عراق میں اہل تشیع کی مرجعیت کو کھڑا  کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، بعض کے نزدیک یہ اسرائیل کو وسعت اور تحفظ  بخشنے کا ایک منصوبہ ہے، بعض نے اسے عراقی عیسائی کمیونٹی  کی مدد وحمایت تک محدودقرار دیا ہے۔۔۔المختصر یہ کہ ہر خبر کی طرح اس دورے کو بھی  اپنے اپنے اہداف،  مفادات اور نظریات  کے پیشِ نظرہی   نشر کیا گیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ذاتی  قیاس آرائیوں،  اور سنی سنائی باتوں کے بجائے ہمیں  حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔ حقائق کے ادراک کیلئے تجزیہ و تحلیل ضروری ہے۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ  بنیادی طورپر تجزیہ و تحلیل کے تین بنیادی اساسی عناصر ہیں۔
  ایک: ماضی کی تاریخ کا درست علم
  دو: حال کے واقعات کا گہرا مشاہدہ 
تین:  ماضی اور حال کا منطقی ربط 
پاپ فرانسیس    کی عراق میں آمد کو ماضی و حال کے ساتھ ملاکر منطقی ربط  دینے کی ضرورت ہے۔اس وقت  ہم اپنے  قارئین کیلئے  عیسائیت اور اسلام کے حوالے سے  ایک   ابتدائی اور سرسری خاکہ پیش کر رہے ہیں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ  مسلمانوں اور عیسائیوں کے ماضی کے تعلقات سخت رنجشوں پر مبنی ہیں۔عیسائیت  اپنے پیروکاروں کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا  اور اسلام  دنیا کا دوسرا بڑا دین ہے۔دونوں اہلِ کتاب ہیں اور دونوں خدا کی معرفت،  آسمانی ہدایتوں،معاد اور انسانی نجات و بخشش پر زور دیتے ہیں۔   عیسائیوں کی طرح مسلمانوں میں بھی دین کی سیاست سے جدائی کا نظریہ رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں۔ عیسائیوں میں سب سے بڑا  دینی منصب پاپ  اور مسلمانوں میں  خلیفہ، امیر ،مفتی اعظم ، مرجع تقلید  یا ولی فقیہ کا ہے۔عیسائیوں کی طرح مسلمانوں میں بھی اپنے اپنے فرقوں کے جداگانہ مذہبی پیشواہیں۔ نیز مسلمانوں کی طرح عیسائیوں کیلئے بھی عراق ایک تاریخی اور دینی سرزمین ہے۔
اب آئیے اس سوال کے ساتھ بات کو آگے بڑھاتے ہیں  کہ پاپ کے دورہ عراق کو اتنی زیادہ اہمیت کس وجہ سے ملی؟
سب سے پہلے تو پاپ کوسمجھئے!  در اصل پاپ کو  پوری دنیا میں مسیحیت کے  دو ہزار سالہ قدیم علمی ، ہنری، عرفانی، اخلاقی ، تاریخی ،  اور مذہبی  چہرے کی حیثیت حاصل ہے۔پاپ کا احترام صرف عیسائیوں کے ہاں ہی نہیں بلکہ دیگر ادیان و مسالک کے ہاں بھی نمایاں ہے۔ خود عرب ممالک کے ہاں پاپ کو ایک خاص تقدس حاصل ہے۔ شاید بہت سارے لوگ یہ نہیں جانتے کہ پاپ ، کیتھولک چرچ کا سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ  ویٹیکن سٹی اسٹیٹ کا سربراہ بھی ہوتاہے ، یعنی وہ مذہبی پیشوا ہونے کے علاوہ  دوسرے ممالک کے حکمرانوں  کی مانند ایک حکمران بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ  پاپ  کا کسی بھی ملک کا دورہ کچھ خاص قوانین کے مطابق ہوتا ہے۔  ان قوانین میں سے ایک اہم  قانون یہ ہے کہ  کسی بھی  ریاست  کی حکومت کی جانب سے پاپ کو  باضابطہ دفتری  دعوت نامہ بھیجا جائے۔   دوسرا اہم قانون یہ ہے کہ  میزبان ریاست میں واقع مقامی کیتھولک چرچ بھی دعوت نامہ بھیجے  اور تیسرا  قانون یہ ہے کہ مدعو کرنے والی ریاست میں مذہبی گروہوں ، خاص طور پر غیر کیتھولک چرچوں   بالخصوص آرتھوڈوکس فرقے کی طرف سے مخالفت نہ کی جائے۔
پاپ کا  یہ دورہ عراق ، عراقی حکومت {صدر} اور  عراق کے کیتھولک چرچ کے سرپرست  کی دعوت اور درخواست پر کیا گیا ہے، اور  آرتھوڈوکس کی طرف سے اس دورے کی مخالفت بھی نہیں کی گئی۔  یوں یہ ایک قانونی اور سرکاری دورہ تھا۔پاپ مختلف ممالک کے  اس طرح کےدورے کرتے رہتے ہیں اور ان دوروں کا  کم از کم اتنا ہی اثر ہوتا ہے جتنا کسی صدر مملکت کے دورے کا ہوتا ہے۔لیکن عراق کا یہ دورہ معمول کے دوروں سے بہت مختلف تھا۔۔۔
اس دورے نے  مندرجہ زیل چند وجوہات کی بنا پر بین الاقوامی برادری کے درمیان خاص اہمیت حاصل کی ہے۔
۱۔  خلیجی اورعرب ریاستوں کے درمیان عراق کی جمہوری اور سیاسی حیثیت نمایاں ہو کر  ابھری ہے۔ وہ عرب بادشاہ جنہوں نے عراق کو تباہ کرنے کیلئے اپنی ساری دولت صرف کی اور دہشت گردوں کے ان گنت ٹولے عراق میں لانچ کئے انہیں یہ واضح پیغام ملا کہ عراقی عوام نے اپنی سر زمین پر بادشاہت اور آمریت کو دفنا دیا ہے اور اب  عراق میں جمہوریت اور سیاسی بیداری کا سفر شروع ہو چکا ہے۔
۲۔ یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا جب عراق میں آئےروز اغیار کے ایجنٹ مسلح حملے اور دھماکے کرتے رہتے ہیں۔ ایسے خوفناک ماحول میں اتنی اہم شخصیت کا  اتنا پرسکون اور آرام دہ دورہ  دہشت گردوں اور ان کے عالمی سرپرستوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ عراق کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
۳۔ دیگر عرب ریاستوں میں اقلیتوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ پاپ کے عراقی حکومت پر اعتماد نے عراق کی نومولود جمہوریت  کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔دنیا پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ کمزور سے کمزور جمہوریت بھی کسی طاقتور آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ عراق کی پارلیمنٹ، حکومتی اداروں اور عوام  میں اقلیتوں کے ساتھ حُسن سلوک اور ان کے حقوق کا جو احترام ہے وہ اس سارے خطے کیلئے مثالی ہے۔ 
۴۔ دنیا پر واضح ہوگیا کہ نہتے لوگوں پر خود کُش حملے کرنے والوں، لوگوں کی گردنیں کاٹنے والوں، عبادت گاہوں اور اقلیتوں پر شبخون مارنے والوں کا عراقی عوام اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ طالبان و القاعدہ و داعش یہ سب امریکیوں و  عربوں اور یورپینز کی اپنی ہی کارستانی تھی،  اس کارستانی کے نتیجے میں  اقلیتوں سمیت جتنے بھی بے گناہ لوگ مارے  گئے  اور دربدر ہوئے   اُن کے اصل ذمہ دار عراقی عوام نہیں بلکہ  وہی مغرب، عرب اور امریکی ہیں۔

۵۔ کیتھولک چرچ ایک عالمی  ادارہ ہے، پوپ اس ادارے کا سربراہ  بھی اور ویٹیکن سٹی اسٹیٹ کا  حاکم بھی ہوتا ہے۔ ادارو ں اور اسٹیٹس کے بہت سارے مفادات مشترکہ ہوتے ہیں۔  مغربی ریاستیں پوپ کی اس حیثیت کو نظرانداز نہیں کر سکتیں، اسی طرح پوپ بھی عالمی ریاستوں کے مفادات کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ چنانچہ اہداف اور مفادات کے حصول کیلئے پوپ اور مغربی ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعامل کرتے ہیں۔ 
اس تعامل کے پیشِ نظر  دنیا میں پوپ کا کردار ایک اخلاقی سفارتکار کا بھی ہے۔چونکہ   مغربی، امریکی اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات اس وقت ایران کے ساتھ انتہائی تناو کے شکار ہیں، دنیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اس  جنگ اور تناو کے نے سب کے ہوش اُڑا  رکھے ہیں۔ کوئی بھی عقلمند انسان جنگ کے شعلے نہیں بھڑکانا چاہتا۔ اس وقت ایران تک رسائی کا بہترین سفارتی دروازہ عراق ہے۔ چنانچہ پوپ کے عراق میں آنے سے ایران کے دروازے پر ایک سفارتی دستک بھی دی گئی ہے۔
قارئین کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ امریکہ کے نئے صدر مسٹر جوبائیڈن  ایک طرف تو کیتھولک ہیں اوردوسری طرف  پوپ فرانسیس کے  خط کے پیروکار یا مقلد بھی ہیں۔ یوں دورہ عراق کے ذریعے ایران کے ساتھ یورپ و  امریکہ اور عربوں  کے مابین  کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات کے امکانات بھی پائے جاتے ہیں۔ اگلے چند ماہ میں ممکن ہے کہ  اس کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو جائیں۔
۶۔مرجع عالیقدر آیت اللہ سیستانی کے ساتھ پوپ کی ملاقات نے بھی اس دورے کوبہت زیادہ  نمایاں کیا ہے۔قارئین کو معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں جو مزلت پوپ کو حاصل ہے  تقریباًتقریبا ًوہی مزلت  آیت اللہ سیستانی کوبھی حاصل ہے۔ عراق اور اس کے باہر دنیا بھر میں آیت اللہ سیستانی کے بھی لاکھوں مقلدین پائے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ عراق کے اندر دیگر  سنی و شیعہ علما و مراجع بھی موجود ہیں، عراقی چرچ اور حکومت کی طرف سے  صرف آقای آیت اللہ العظمی سیستانی کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے چونکہ عراق میں آیت اللہ سیستانی کو  سب شیعہ و سنی اور مراجع و مجتہد اپنا ترجمان،  بزرگ، سربراہ اور قائد تسلیم کرتے ہیں۔ عراق میں  ریاستی وحدت، ملکی دفاع، سیاسی نظریات اور پالیسی ساز ہونے کی حیثیت سے آیت اللہ سیستانی کی دانش و بصیرت کے سب معترف ہیں۔  یعنی اگر آیت اللہ سیستانی مدظلہ تعالی سے ملاقات ہوگئی تو سب سے ہوگئی ۔
یہاں یہ بات خصوصیت کے ساتھ عرض کی جارہی ہے کہ عراق میں آیت اللہ العظمی سیستانی کی اجتماعی اور قومی حیثیت صرف شیعہ مرجع تقلید کی نہیں ہے بلکہ آپ وہاں پر  سارے مسلمانوں ، جمہوری طاقتوں، محب وطن قبائل اور اقلیتوں کے ہمدرد ، پاسدار، نگہبان، رہنما  اور  ناظر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔حتی کہ ایرانی مراجع عظام اور ولی فقیہ کے ہاں بھی آپ کی منزلت آشکار اور واضح ہے۔ اتنی اہم اسلامی شخصیت کے ساتھ یہ کسی پوپ کی پہلی ملاقات تھی۔ چنانچہ اس اتنی اعلی سطح کی پہلی اور تاریخی ملاقات کی اہمیت مختلف میدانوں میں خود بخود واضح ہے۔ 
مغربی و عربی ذرائع ابلاغ  اور اُن کے متاثرین نے اس موقع پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے  کہ پوپ کی آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے مقابلے میں ایک اور مرجع تقلید کو نمایاں کیا جائے۔ ایسے لوگوں میں سے کچھ تو خاص مقاصد کے تحت ایسا پروپیگنڈہ کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ یہ جانتے ہی نہیں کہ اہلِ تشیع کے ہاں مجتہد، مفتی، مرجع تقلید، اجتہاد، درسِ خارج اور ولی فقیہ کسے کہتے ہیں۔ ورنہ جولوگ جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ مراجع عظام  کی تقویت کے بغیر ولایت فقیہ کا نظام تشکیل ہی نہیں پا سکتا۔ کہیں پر بھی کسی مرجع تقلید کی قدردانی اور عزت افزائی در اصل ولی فقیہ کی ہی قدردانی اور عزت افزائی ہے۔  
چنانچہ یہ دورہ آیت اللہ سیستانی کے ساتھ ملاقات کے باعث جہاں خلیجی ریاستوں اور امریکہ و یورپ کیلئے اہم رہا وہیں  ایران کے ولی  فقیہ  آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے نزدیک بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔اس کی اہمیت کو  آپ بیک ڈور سفارتکاری کے تناظر میں اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔
۷۔ اس دورے سےپہلے دنیا کے سامنے صرف  عرب بادشاہوں، داعش، القاعدہ اور  تکفیریوں کو  اسلام کا چہرہ بنا کر پیش کیاجاتا تھا۔اس دورے میں ساری دنیا  از سرِ نُو اسلام کی حقیقی اور اصلی شکل کی طرف متوجہ ہوئی۔اقوامِ عالم کو پتہ چلا کہ حقیقی اسلام کے علمبرداردیگر ادیان و مذاہب کے ساتھ حُسنِ سلوک اور اقلیتوں کے ساتھ رواداری پر مکمل ایمان رکھتے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ  ذرائع ابلاغ میں پہلی مرتبہ دینِ اسلام کا اصلی چہرہ لوگوں کو دیکھنے  کیلئے ملا۔ 
وہ ماڈرن   دنیا جوعرب بادشاہوں کی رنگ رلیوں اور دہشت گردوں کی وحشت و بربریت کو اسلام کے طور پر دیکھ رہی تھی، اُس نے  انتہائی قریب سے اسلام کی سب سے بڑی شخصیت کی سادہ زیستی، بغیر کسی تزئین و آرائش کے معمولی زندگی اور تواضع کا مشاہدہ کیا، اس دورے سے   اہلِ مغرب کو پتہ چلا کہ  مسلمانوں کے نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت پر کاربند مسلمان کیسے ہوتے ہیں، اُن کا اٹھنا بیٹھنا  اور طرزِ زندگی کیسا ہوتا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ یہی سادگی اورمعمولی  طرز زندگی  ایران میں مراجع عظام اور ولی فقیہ کے ہاں بھی واضح  اور نمایاں ہے۔ 
پوپ کا یہ دورہ جہاں عراق میں عیسائیوں کے حقوق کیلئے مہم تھا وہاں دنیا  بھر میں مسلمانوں کے حقوق کیلئے بھی اہم تھا۔ اس سے اقوامِ عالم تک  واضح طور پر یہ پیغام پہنچا ہے کہ اگر اہلِ کتاب میں سے مسلمانوں کی سب سے اہم اتھارٹی اقلیتوں کے حقوق کیلئے اپنی خدمات پیش کرتی ہے، اپنے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کو یقینی بنانے پر تاکید کرتی ہے،اُن کے سیاسی و قومی حقوق کو تسلیم کرتی ہے ،  اُن کی جان و مال اور عزت و ناموس کی حفاظت کو  اپنا دینی فریضہ سمجھتی ہے تو پھر  دیگر ادیان ومکاتب کو بھی اسلام اور مسلمانوں خصوصاً فلسطین اور کشمیر   کے حوالے سے اپنے نظریات پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ 
بہر حال  انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں یہ دنیا کے دو بڑے  اخلاقی و عرفانی اور زندہ ادیان کی اعلی سطح قیادت کی پہلی ملاقات تھی، یہ ملاقات انبیا کی سرزمین عراق میں ہوئی،  یہ صرف چالیس منٹ کی ملاقات تھی لیکن  یہ چالیس منٹ پوپ کے سارے دورے پر حاوی رہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ  دنیا کے تمام مکاتب، ممالک اور مسالک کی طرف سے  تقریبِ ادیان، انسانی حقوق اور فلاحِ بشریت کیلئے اس ملاقات سے حدِ اکثر استفادے کی کوشش ہونی چاہیے۔