خلافتِ عثمانیہ  اور ہمارا اپنا گھر
نذر حافی

ہم محنت سے کتراتے ہیں، خوابوں کے جزیرے میں رہتے ہیں، خیالوں کی دنیا میں آہو  شکار کرتے ہیں اور پھونکیں مار مار  کر مسائل کی گرہیں کھولتے ہیں۔ہماری سب سےبڑی تمنا یہی ہے کہ کچھ کئے بغیر ہی ہمارے سب کام ہو جائیں۔ساری دنیا میں صاحبِ علم کو عالم ، عارف،  مدبر اور با بصیرت کہا جاتا ہے  جبکہ  ہمارے ہاں سادہ لوح اور دنیا وما فیھا سے بے خبر شخص کو حقیقی عالم اور عارف کا درجہ ملتا ہے۔یعنی جیسے ہم ہیں ویسے ہی لوگوں کو ہم اپنا بڑا سمجھتے ہیں۔ ہماری اجتماعی سوچ کے مطابق  بڑے عالم، مدبر، متقی  اور عارف کیلئے ضروری ہے کہ وہ  دنیا جہان کا سادہ لوح شخص ہو۔
ایک صاحب  عراق میں گئے۔ وہاں اُن کی ملاقات مرجع عالیقدر  آیت اللہ العظمی   سید علی سیستانی  سے ہوئی۔ واپسی پر   سب اُن سے  اس ملاقات کا حوال جاننا چاہتے تھے۔ انہوں نے  اپنی سوچ کے مطابق مرجع عالی قدر کے  اجتہاد،علم و تقوی اور سادگی  کا آنکھوں دیکھاحال بیان کیا۔ ساتھ ہی بہت تعجب اور حیرت کے ساتھ ایک عجیب کرامت بھی بتائی۔ کہنے لگے کہ  وہ اتنے بڑے عارف ہیں کہ اب کسی کو کیا بتاوں! احباب کے اصرار پر انہوں نے انتہائی رازداری کے عالم میں  اپنی زبان واکی اور  کہنے لگے:
آیت اللہ العظمی نے مجھے بالکل اپنے  نزدیک بٹھایا، انتہائی شفقت اور محبت کا مظاہرہ کیا ،مجھ سے میرے والدین اور بچوں کی بیماریوں اور مشکلات کا بھی پوچھا اور اُن کیلئےدعابھی کی۔اُن کا اصرارتھاکہ  آیت اللہ العظمی پہلے سے ہی میرے  اور  میرے والدین اور بچوں کے بارے میں سب کچھ جانتے تھے۔
عراق کے بعد ایران آجائیے۔ متعددمرتبہ مجھے ایسے پاکستانیوں سے ملنے کا موقع ملا جو   ایران کے سپریم لیڈر ولی فقیہ آیت اللہ خامنہ ای  سے مل چکے تھے۔ ایسے پاکستانیوں میں سے کئی لوگ رہبرِمعظم سے ملاقات کے دوران اُن  کا عمامہ ، عبا  یا  انگوٹھی مانگ کر اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ ایک زمانے میں یہ وبا قابلِ شرم حد تک عام ہو گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ پاکستانیوں سے ملاقات کے بعد رہبرِ معظم کے وجود مبارک پر کوئی چیز باقی نہیں رہتی تھی۔اس امر میں  مبالغے کاامکان ضرور ہے لیکن امرِ واقع یہ ہے کہ ایسے موارد بکثرت پائے جاتے ہیں۔سادہ لوحی کےمارے ایسے لوگ اس وسوسے کا شکار ہیں کہ انہوں نےرہبر معظم سے کچھ مانگ کرکوئی  بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔
اس خام خیالی اور سادہ لوحی  کی کئی شکلیں ممکن ہیں۔ فرض کریں کہ  اگر کوئی ایران کےکسی دینی  مدرسے کا طالب علم پاکستان آئے۔  یہاں پاکستان کے کسی قصبے میں اگر وہ یہ کہے کہ مجھے ایرانی سپریم لیڈر کی طرف سے آپ لوگوں کے درمیان  تبلیغ کیلئے بھیجا گیا ہے اور ساتھ وہ دلیل یہ دیتا ہو کہ ایران کے سپریم لیڈر تو رہبر معظم سید علی خامنہ ای  ہی ہیں۔ میں بھی ایران سے اعزام ہو کر  تبلیغ کیلئے آیا ہوں۔  پس  اب میں انہی کا نائب اور انہی کی طرف سے اعزام شدہ مبلغ ہوں تو   اب  ایسے مبلغ کو آپ کیا کہیں گے!
اس کے بعد  کچھ ذکر  ترکی کا بھی ہوجائے۔آج کل ہمیں یہ سوداہے کہ ترکی کے ساتھ ہم  خلافت کا کاروبار کریں گے۔ یعنی سعودی عرب کے بعد ترکی کیلئے  مجاہدین  برآمد اور وہاں سے خلافت کو اپنے ہاں درآمد کریں گے۔ان دنوں  ہمارے ہاں سعودی عرب کے بعد  ترکی سےخلافت عثمانیہ لانے کی خواہش زوروں پر ہے۔ جیسے ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اب ترکی میں خلافتِ عثمانیہ نام کی کوئی چیز ہے ہی  نہیں ۔اس وقت ترکی سے خلافت عثمانیہ کی مانگ بالکل ایسےہی ہے کہ  جیسے کوئی ہندوستان سے مغلیہ نظامِ حکومت مانگنے لگے۔  یہ ٹھیک ہے کہ  ہمارے پڑوسی ملک کا نام آج بھی ہندوستان ہے لیکن اب اس ملک میں مغلیہ نظامِ حکومت کی بیخ کنی ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ ترکی کے یورپ، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تعلقات سعودی عرب سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ یہ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے  بھی  نہیں۔ہر چیز آن دی ریکارڈموجود ہے۔اب ہم یہ خیالی پلاو پکا  رہے ہیں کہ اس وقت امریکہ و اسرائیل اور یورپ کا سب سےبڑا شراکت دار  اور  وفادار رجب طیب ایردوان  ہی خلیفۃ المسلمین ہے۔ وہ جلد ہی اپنی کرامت سے ہمارےملک میں بھی خلافت عثمانیہ نافذکرے گا۔ پھر معجزات و کرامات سے تہلکہ مچ جائے گا، غزوہ ہند ہوگا اور ساری دنیا پر ہماری حکومت ہوگی۔۔۔
اندرکی بات یہ ہےکہ ہم محنت سے جی چراتے ہیں، چنانچہ  تحقیق ،سائنس ، ٹیکنالوجی  اور  پیشرفت سےکوسوں دور ہیں،  سو  خوابوں کی دنیا میں اُڑانیں بھر تے ہیں  اور خیالی پلاو سے قوم کا  پیٹ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ترکی کی خلافت کو درآمد کرنے کی اس خام خیالی کا نتیجہ پھر وہی نکلے گا جو سعودی  خلافت کو  پاکستان میں درآمد کرنے کا نتیجہ نکلا ہے۔ پاکستان کی سالمیت، بقا اور پیشرفت کا تقاضا یہ ہے کہ  ہم  اس سادہ لوحی کو ترک کریں،  خیالی دیگیں کھٹکھٹانے کے بجائے اپنے آپ کو اور اپنے  گھر کو ٹھیک کریں،گھر تو آخر اپنا ہے۔