اقبال، تیرا قلندر آ ہی گیا!

تحریر: منظوم ولایتی

گزشتہ روز میرا تہران کا چکر لگا۔  بعض دوستوں نے سفری روداد قلمبند کرنے کی فرمائش کی۔ ناچیز نے بھی  فوراٙٙ حامی بھر لی تھی۔ لیکن وہاں جاکر کچھ  ارادہ بدل گیا اور سفری روداد نہیں لکھ سکا۔اُن دوستوں سے پیشگی معذرت!

ایک تو یہ کہ 23مارچ کا دن تھا۔ اس حوالے سے کچھ لکھنا تھا اور دوسری چیز امام خمینی رحمة اللہ کی قبر مطہر کی پہلی مرتبہ زیارت کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔
اور  اب ان دونوں موضوعات کو باہم ملاکر کچھ الفاظ  جوڑنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

پہلی بات تو یہ کہ  جیسا بیان ہوا کہ زندگی میں پہلی مرتبہ تہران میں حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی قبر مطہر پر حاضری کی سعادت ملی۔  

یوں بیسویں صدی کے اس قابلِ فخر فرزند علیؑ و بتولؑ کی خدمت میں صمیمِانہِ قلب سلام و عقیدت پیش کیا۔

ساتھی دوستوں کے نہیں معلوم، پر راقم  کے جذبات عقیدت سے کئی درجے بلند تر  و ماوراء الطبعی قسم کے تھے۔ میرے دماغ میں اقبال کا "زبورِ عجم" میں موجود یہ فارسی کلام  تادیر گردش کرتا رہا :

چون چراغ لاله سوزم در خيابان شما
اي جوانان عجم جان من و جان شما
غوطه ها زد در ضمير زندگي انديشه ام
تا بدست آورده ام افکار پنهان شما
مهر و مه ديدم نگاهم برتر از پروين گذشت
ريختم طرح حرم در کافرستان شما
تا سنانش تيزتر گردد فرو پيچيدمش
شعله ئي آشفته بود اندر بيابان شما
فکر رنگينم نذر تهي دستان شرق
پاره ي لعلي که دارم از بدخشان شما
مي رسد مردي که زنجير غلامان بشگند
ديده ام از روزن ديوار زندان شما
حلقه گرد من زنيد اي پيکران آب و گل
آتشي در سينه دارم از نياکان شما

سوچتا رہا کہ اے کاش امت مسلمہ  اِس جیسے اسلام کے "بطلِ جلیل" کو شیعہ وسنی کی محدود "اکھیوں" اور "روزنوں "سے بالاتر ہوکر خالص اسلام کی تعلیمات کی روشنی دیکھتی تو  یہ شخصیت کانفرنسوں اور لفاظیوں  سے ہٹ کر بہ یک وقت کئی میدانوں میں  " بت شکنی" کرتی نظر آتی!!

پھر فوراٙٙ  خیال آیا کہ  میں اُس شخصیت کے مزار پر کھڑا ہوں جس کے بارے میں سر اقبال لاہوریؓ نے بہت سال پہلے پیشنگوئی کرتے ہوئے کہا تھا:

می رسد مردی کہ زنجیر غلامان بشگند
دیدہ ام از روزنِ دیوار زندان شما

میں دل میں یہی کہتا رہا کہ اے اقبال!  جی ہاں وہ آپ کا رول ماڈل "مرد" اور "قلندر" ایران کی سرزمین میں  آبھی گیا اور کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کا راستہ دکھا بھی گیا، اور  امت مسلمہ کو " لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا" والا سبق پڑھا تے ہوئے  اپنی ذمہ رایاں کمالِ خوبی سے نبھا کر قلبِ مطمئنہ کے ساتھ داعی اجل کو لبیک کہہ کر آج یہاں آسودہِ خاک ہیں، جہاں پر راقم کھڑا یہ سوچ رہا ہے!!
"نور اللہ مرقدہ الشریف"

اس دوران سوچتا رہا کہ  آج 23مارچ ہے اقبال تو نے جس ملک کا خواب دیکھا تھا وہ عزیز ملک تو  الحمد للہ قوم کی قربانیوں سے بنا تو سہی مگر تیرے معتمد جناح کے بعد بڑوں نے ملک لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کا فریضہ کمالذمہ داری سے انجام دیتے ہوئے وہ حال کردیا ہے کہ اب ملک تو باقی ہے پر  یہ قوم  ایک قوم نہیں رہی، بس  لوگوں کا ایک ہجوم! ہر سُو نفرتیں، گینگز کا راج۔، ریپ،قتل ڈکیتی، رشوتیں، ثقافت کے نام پر ناچ گانے، عورتوں کے حقوق کے نام پر کیا کیا۔۔۔!!
خلاصہ یہ کہ بانٹ دیا گیا۔۔۔اور سلسلہ کمالِ سرعت سے ہنوز جاری  و ساری ہے۔

اسی دوران شاعر مشرق  کا ایک اردو شہربھی میرے دماغ میں گھومتا رہا، جب میں تہران میں کوہ دماوند کے قریب موجود " آزادی ٹاور" کے اوپر بیسوں فُٹ بلندی پر جاکر پورے تہران شہر کا نظارہ کر رہا تھا۔ اور زیرِ لب  یہ شعر گنگنا رہا تھا؛

تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

اور اس بات پر بھی خوش تھا کہ میں آج اپنی چشم ظاہر  سے دیکھ رہاتھا کہ اقبال کی پیشنگوئی کے عین مطابق آج تہران، دنیا کی عالمی سیاست پر کمندیں ڈال ڈہا تھا اور سید علی خامنہ ای "علیؑ گونہ" بات کررہے تھے!!

بیسویں صدی کی دو شخصیات جن کے افکار کی میری اپنی ذاتی زندگی اور فکر و نظر پر گہری چھاپ ہے۔ وہ شاعر مشرق حکیم الامت حضرت ڈاکٹر سر علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ اور امام امت امام خمینی رحمة اللہ علیہ ہیں۔ دونوں کشمیری النسل ہیں!!

لیکن کمال اسف ! کشمیری ہنوز، ہنود کی قیدِبلا جرم کی زندگی جی رہے ہیں۔ اس ضمن میں طرفین کے سیاستدانوں اور بڑوں کی دانستہ خیانتیں  ناقابل بیان ہیں۔ خیر یہ موضوع نہیں فی الحال!!

یہی ارادہ ہے کہ اِس دفعہ پاکستان جاوں گا تو شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؓ کی قبر مطہر پر ضرور حاضری دوں گا، عرض و ادب کے بعد  خدا سے اُن کے طفیل نورِ بصیرت کی بھیک مانگوں گا۔ ان شاء اللہ تعالی العزیز۔

راقم اس سے پہلے بھی لاہور شہر  ایک دو  دفعہ جاچکا ہوں، حتیٰ شاعر مشرق کے روضے پر بھی جاچکا ہوں، پر اُس وقت فکری طور پر نابالغ تھا، اقبال لاہوری کو پڑھا اور سمجھا نہیں تھا۔ اب چونکہ تھوڈی سی طالبعلمانہ معرفت حاصل ہوئی ہے تو مزید فکری رشد و نمو کا دریوزہ بن کر حاضری دوں گا۔

آخر میں اقبال لاہوری کے اس شعر  سے اجازت چاہتا ہوں:

ایک ولولہ تازہ دیا میں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند