گورنمنٹ کی نوکری 
 مقدر عباس 

اکرمؔ نہایت ہی ہونہار طالب علم تھا۔ ہر کلاس میں اوّل پوزیشن اسی کی زینت بنتی۔ اساتذہ اور گھر والے سب اس سے خوش تھے۔ بچپن ہی سے یہ باتیں اسے سننے کو ملیں کہ بڑا ہو کر افسر بنے گا۔ گھر والے اس کی تعلیم   میں مکمل تعاون کرتے۔ حتی اسے تنکا بھی دہرا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ کپڑے استری کئے ہوئے مل جاتے ،کھانا تیار ملتا،والد صاحب زمیندار تھے۔ جیب خرچ بھی ہر وقت مہیا ہوتا۔ غرض اوائلِ عمر ہی سے وہ افسر بن چکا تھا۔ 
اس کے لا شعور میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ اس نے بڑا ہوکر سرکاری افسر بننا ہے۔ اگر اسے کبھی گھر کے کام کاج کوئی بہن بھائی کہہ بھی دیتا تو اس کا جواب ایک ہی ہوتا،کیونکہ میں پڑھتا ہوں اس لئے کام نہیں کر سکتا۔ اگر کام کروں گا تو پڑھائی کیسے ہوگی۔ ؟
موصوف نے ۱۹۹۸ میں بی اے  کر لیا تھا۔ اسے مختلف سرکاری نوکریوں کا موقع بھی ملا لیکن کیوں کہ اسے بڑا افسر بننا تھا۔ لہذا وہ اس موقع کو یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ یہ تو چھوٹی پوسٹ ہے۔ میں کسی بڑی سیٹ پر ملازمت کروں گا۔ وقت گذرتا گیا۔ 
طاہر،اکرم کا ہم جماعت اور محنتی طالب علم تھا،اگرچہ وہ پہلی تین پوزیشنز پر نہیں تھا لیکن  اوورآل وہ کلاس میں اچھا پڑھنے والا شمار ہوتا تھا۔ طاہر کے والد صاحب ایک ویلڈر تھے۔ 
پڑھایی کے بعد طاہر گھر آ کر اپنے والد کا ہاتھ بٹاتا اور اس طرح آہستہ آہستہ وہ اپنے کام میں ماہر ہوگیا۔ طاہر نے بی اے کرنے کے بعد اپنا  والد کیساتھ ویلڈنگ کے کام کو وسعت دی۔ 
اب طاہر کا کام اتنا پھیل چکا تھا کہ وہ زرعی آلات بنانے لگ گیا۔ وہ محنت کرتا رہا ۔ اس نے ساتھ ہی کچھ زمین خریدی اور اپنی ویلڈنگ کی دکان کو ایک زرعی آلات کا کارخانہ بنا دیا۔ 
اکرم کوبھی جب اس طرح کا مشورہ دیا جاتا تو وہ کہتا؛میں نے گورنمنٹ جاب کے لیےاپلائی کیا ہوا ہے۔ اکرم کے والد صاحب بھی اب انتظار کر کے تھک چکے تھے۔ وہ کہتے بیٹا!کب تک انتظار کرو گے۔ ہماری زمین اس پر ٹنل فارمنگ یا اس طرح کے جو دیگر پرجیکٹ ہیں،ان پر کام کرتے ہیں۔ لیکن اکرم کا ایک ہی جواب تھا۔ 
مجھے گورنمنٹ کی ہی نوکری کرنی ہے۔ میں کیوں کہ پڑھا لکھا بندہ ہوں اب زمینوں میں کام کروں گا تو لوگ کیا کہیں گے۔ 
کچھ عرصے بعد پرائمری سکول ٹیچر کی جابز  کا اشتہار آیا۔ انتظار کرکے اکرم تھک چکا تھا۔ پس اس نے بھی اسی جاب کے لیے اپلایی کر دیا۔ جب اکرم ٹیسٹ دینے گیا۔ 
وہاں اسے سہیل جو قریبی گاؤں سے تعلق رکھتا تھا مل گیا۔ اس نے اکرم سے پوچھا۔ آپ تو کسی اور نوکری کے انتظار میں تھے۔ یہاں کیوں اپلائی کیا۔ اس نے کہا یار سچ پوچھو تو مجھے پڑھانے میں ذرہ برابر بھی دلچسپی نہیں اور وہ پرائمری لیول پر جہاں بہت سر کھپانا پڑتا ہے۔ 
بس کوئی اور گورنمنٹ کی نوکری نہیں مل رہی تھی تو میں نے سوچا یہی کر لوں۔ جیسی بھی ہے گورنمنٹ کی نوکری تو ہے ناں۔ 
المختصر اکرم اس بار بھی کامیاب نہ ہوا۔ صدمہ دو برابر اس وقت ہوا جب والد کی دار فانی سے جانے کی خبر ملی۔ اب کاندھوں پر ذمہ داری بھی تھی۔ بھائی بھی اپنی زمیںیں جدا کر چکے تھے۔ اب اکرم کو رہ رہ کر باپ کی باتیں یاد آرہی تھیں کہ کچھ کام تو کر لیتا۔ لیکن اسے ''لوگ کیا کہیں گے'' کے ڈر نے زمینداری سے محروم رکھا۔ 
بھلا پڑھا لکھا بندہ بھی کھیتوں میں کام کرتا ہے۔ وہ جب بھی طاہر کو دیکھتا تو کفِ افسوس ملتا اور حسرت سے دیکھتا۔ کاش میں بھی کویی اپنا کام شروع کر دیتا،گورنمنٹ کی نوکری کے انتظار میں زندگی گزار دی۔ 
کاش میں کویی ہنر سیکھ لیتا۔ کوئی فوٹو کاپی،ٹائپنگ، ایگریکلچر،ڈیری پروجیکٹ۔ آج خالی ہاتھ نہ ہوتا۔ 

 


افکار و نظریات: گورنمنٹ کی نوکری