روزہ اور طب
 حکیم قاسم یزدانی 

( حوزہ علمیہ قم )


 اسلامی احکام  مصالح اور مفاسد کے تابع ہوتے ہیں ۔  اگر کوئی کام روح اور بدن کے لئے مفید ہوتا ہے تو  مستحب یا واجب قرار پاتا ہے اور اگر کوئی کام روح یا بدن کے لئے مضر ہوتا ہے  توحرام یا مکروہ قرار پاتاہے  ۔ روزہ  بھی احکام اسلامی میں سے ایک ہے۔یہ نہ صرف روح کے لئے مفید ہے بلکہ بدن سے بیماریوں کو ختم کرتا ہے۔ اس سے پہلے کہ روزے کے بارے میں طبی حوالے سے بات کریں، اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ روزہ قرآن میں ایک عبادت کے طور پر ذکر ہوا ہے ، لہذا  اس کو عبادت سمجھ کر انجام دینا چاہیے۔کیونکہ علم جتنی ترقی کر جائے پھر بھی محدود ہے۔

حکمت الٰہی کو پوری طرح سمجھنے کی قدرت نہیں رکھتا لیکن یہ بات باعث نہیں بننی چاہیے سائنس نے جو روزے کے بارے میں انکشافات کیے ہیں بیان نہ کیے جائیں کیونکہ اس کام سے ہمارے ایمان میں اضافہ ہو گا  اور ہم شوق سے اس کام کو انجام دیں گے۔۔

اس بات کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے کہ سائنس دان آج ہمیں روزے کے فوائد بتا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے بیماریوں کا علاج ہوتا ہے، جبکہ طبیبوں کے  طبیب  سردار نے آج سے چودہ سوسال پہلے ایک چھوٹے سے جملے میں اس راز کو بیان کیا اور فرمایا:

 صُومُوا تَصِحُّو روزہ رکھو تا کہ صحت مند رہو۔)دعائم الاسلام ، ج ۱ ،ص ۳۴۲)
یہ ہمارا غلط خیال ہے کہ ہم روزے سے  مریض یا کمزور ہو جائیں گے بلکہ روزہ ہماری سلامتی کے لیے ہے۔ خدا وند عالم جو ہم سے ماں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے  ہمیں سالم دیکھنا چاہتا ہے اور ہماری روح اور جسم کی سلامتی کے لیے روزہ فرض کیا ہے۔
قرآن میں روزے  کا ہدف بیان کرتے ہو ئے ارشاد ہوا  : (لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ )(سورہ بقرہ ۔ آیہ ۱۸۲) اگر ہم روزہ کو پوری شرائط کے ساتھ انجام دیں تو  ہمارے اندر تقوا کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی ،جس کی وجہ سے ہماری روح اور جسم نقصانات  سے بچ  جائیں گے ۔

 اس کے علاوہ قرآن نے خود کہا ہے کہ (وَ أَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ) یعنی روزہ تمہاری روح اور جسم کے لئے بہتر ہے ۔ او ر اللہ تعالی ہمارے لئے آسانی چاہتا ہے روزہ کی وجہ سے ہمیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا کیونکہ روزہ کے بہت سے فوائد ہیں اس لئے واجب کیا ہے۔

( يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ)

روزہ جدید میڈیکل میں
اگر روزے کے آداب اس طرح بجا لائیں جسطرح محمد و آل محمد علیھم السلام  نے فرمایا ہے تو یہ ہمارے لیے بھوک کے ساتھ بہترین علاج ہے۔ایسی روش کہ یورپین جس کی طرف  ابھی متوجہ ہوئے ہیں۔
  ڈاکٹر پارسیلوس کہتا ہے " ممکن ہے بھوک کا فائدہ معالجہ میں دوائی کے فائدہ سے زیادہ ہو" 
 ڈاکٹر ھلبا اپنے مریضوں کو چند دن غذا منع کرتا تھا اور پھر ہلکی غذا تجویز کرتا تھا۔ 
پاشوتین کا نظریہ ہے کہ:روزہ انسان کی جوانی کو پلٹا سکتا ہے۔( قرآن اور طب ، ص ۲۱۱، ۲۱۳)
رومی ڈاکٹر کہتا ہے :

سب سے پہلی  بیماری زیادہ کھانے کی وجہ سے اور سب سے پہلا علاج روزہ تھا ۔
ایک ڈاکٹر ۴۵ سال کی تحقیق کے بعد کہتا ہے : مذہبی روزہ ایک بہت بڑا جہاد ہے  جو مسلمانوں کے درمیان رائج ہے۔(۔ نقش روزه در  درمان بيماريها، ص 5)
ڈاکٹر الکسی سوفورین: روزہ بدن کی ۴۵ % بیماریاں جو انفیکشن کے ساتھ ہوتی ہیں ،بدن سے خارج کر دیتا ہے۔( روزه روشى نوين در درمان بيماريها، ص 65)
حیرت کی بات ہے بعض ڈاکٹروں نے روزے کے ۳۰ دن ہونے کے بارے میں بھی تحقیقات کی ہیں ۔  ہم اگر توجہ کریں تو اللہ تعالی کا ہر کلام حکمت اور طب کے مطابق ہے ۔ اس سلسلے میں دو قول یہاں  پیش کئے جاتے ہیں۔
 فزیالوجی ڈاکٹر بندکیت روزے کے دورے کو ۳۰ دن  کہتا ہے ۔
ڈاکٹر جان فروموران کہتا ہے: غذائی ذخائر مردوں میں ۳۰  %   اور خواتین میں ۲۰% ایک مہینہ تک کافی رہتے ہیں یعنی ایک مہینہ تک بھوکا رہنا بدن سے زائد مواد جوکہ  بیماریوں کا سبب بنتے ہیں،  کو صاف کر دیتا ہے۔ 
روزے کے طبی فوائد :
روزہ کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے بعض  قارئین محترم کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
۱۔ موٹاپے کا علاج
رسول خدا صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم  ارشاد فرماتے ہیں :  روزہ آنتوں کو باریک اور گوشت کو کم کرتا ہے ( میزان الحکمت)
روزے سے بدن کی اضافی چربی ( جو موٹاپے کا باعث بنتی ہے ) سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔بدن کی چربی کو ختم کرنے لیے بھوک بہترین علاج ہے اور چربی کے ختم ہونے سے موٹاپا  بھی ختم ہو جائے گا۔ موٹاپے کی وجہ سے کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں بلڈ پریشر، دل اور رگوں کی بیماریاں ،  شوگر، جوڑوں کی مشکلات ، بدن کی بد صورتی اور بعض کینسر ۔۔۔ (مجلہ خورنوش، ش 21 )۔موٹا انسان اپنے ہم عمر کی نسبت جلدی مرتا ہے۔
۲۔ شوگر کا علاج 
۱۹۱۰ عیسوی میں ڈاکٹر گلبا  کے ذریعے روزہ  شوگر کے علاج    کےطور  پر تجربہ کیا گیا۔  اور فرانس ، برطانیہ اور امریکہ کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں نے اس کی تائید کی ہے۔(اولين دانشگاه آخرين پيامبر ص 63)
۳۔ ہارمون کی ترشحات میں نظم  پیدا کرتا ہے۔
انسان کے بدن میں مختلف قسم کے ہارمون ترشح ہوتے رہتے  ہیں جن کے کم یا زیادہ ہو نے کی وجہ سے بدن میں اختلال اور بے اعتدالی پیدا ہو جاتی ہے اور روزہ انکو معتدل کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اور خاص طور پر بچوں اور جوانوں میں نمو کےہارمون ترشح ہونے کا سبب بنتا ہے۔ 
۴۔ دل کی بیماریوں کا علاج۔
سعودی عرب کے دو دانشوروں کی تحقیق کے مطابق  جو کہ ۲۰۱۶ میں منتشر ہوئی ہے،  روزہ داری دوا کے بغیر دل اور رگوں کے  لئے مفید ہے۔(دل کی بیماریاں آج  کل اموات کی بہت  بڑی وجہ ہیں  اور روزہ ان کا بہترین علاج ہے  چونکہ دل نظام انہضام کی طرف سے روزے کی حالت میں استراحت میں ہو تا ہے  اس لئے دل کی دھڑکن کم ہو جاتی ہے۔  دل کی بیماریوں کی تین بڑی وجوہات ہیں :

بلڈ پریشر کا بڑھنا ،  کولیسٹرول کا بڑھنا اور  تنباکو نوشی  ، روزہ  ان تینوں کے لئے مؤثر عامل ہے۔
۵۔ جنسی توانائی پر کنٹرول 
 رسول خدا صلی اللہ  علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے :

( يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ‏ عَلَيْكُمْ بِالْبَاهِ‏ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِيعُوهُ فَعَلَيْكُمْ بِالصِّيَامِ فَإِنَّهُ وِجَاؤُهُ‏۔ ) الکافی ، ج ۴، ص ۱۸۰)

 اے گروہ جوان آپ پر شادی کرنا لازم ہے  ۔ اگر نہیں کر سکتے  تو روزہ رکھیں کیونکہ کیونکہ روزہ  شہوت کو کنٹرول کرتا ہے۔ 
یعنی ایک جوان اگر شادی نہیں کر سکتا  تو اسے چاہئے کہ وہ روزہ رکھے ۔  روزہ شہوت کو کنٹرول کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ روزے کی وجہ سے انسان کا ارادہ  مضبوط  ہو جاتا ہے جس سے وہ  گناہوں سے بچ جاتا ہے۔ تحقیقی  نتائج کے مطابق ماہ  رمضان میں مشت زنی، جنسی خیالات، جنسی مسائل ، نامحرم کی طرف دیکھنا میں واضح کمی پائی جاتی ہے۔

(اثرات روزہ داری در ماہ رمضان بر میل جنسی: نقش ہارمون  یا قشر مغز ۔ رسالہ میڈیکل یونیورسٹی گیلان ۱۳۸۴، ۱۴۰( ۵۶)
۶۔  کینسر کا علاج 
جو لوگ خاص طور جو واجب کے ساتھ مستحب روزے بھی  رکھتے ہیں وہ کینسر  سے  بھی محفوظ  رہتے ہیں اور روزہ خود  کینسر کا علاج بھی ہے  
ڈاکٹر کلوغ کہتا ہے :

کینسر کی  ابتدائی  پھنسیوں اور پھوڑوں کا ایک سے دو ہفتوں میں روزے کے ذریعے  علاج  کیا جاسکتا ہے۔ (روزه روش در درمان بيماريها ص 67) روزے کی وجہ سے  بدن کی انرجی عمل انہضام کے بجائے  بافتوں اور سیلز  کے درست کرنے کی طرف متوجہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ٹیومر کی نمو رک جاتی ہے۔

( فايده روزه از ديدگاه علم تغذيه،  نیوز پیپر  همشهرى 14/ 7/ 84)
چینی اور امریکی  ڈاکٹروں کے  بیان کے مطابق   جو کہ ۲۰۱۷ میں Nature Medicine رسالہ میں نشر کی گئ ہیں جس میں خون کے کینسر کے علاج کے لئے  جدید مؤثر طریقوں کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے ایک  محدود غذائی ٹائم ٹیبل جن میں سے روزہ داری ہے جو مختلف قسم کے ٹیومر  کا علاج اور بچاؤ کا  ذریعہ ہے۔

(Nat Med۔ 2017Jan, 23, 1, 79- 90)
۷۔ حافظے کی کمزوری اور  بلغم  کا علاج 
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  فرماتے ہیں : (خَمْسٌ يَذْهَبْنَ بِالنِّسْيَانِ وَ يَزِدْنَ فِي الْحِفْظِ وَ يَذْهَبْنَ بِالْبَلْغَمِ السِّوَاكُ وَ الصِّيَامُ وَ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ وَ الْعَسَلُ وَ اللُّبَان‏ پانچ چیزیں بھولکڑپن کو ختم ، حافظہ کو قوی اور بلغم کو رفع کرتی ہیں ۔ (۱) مسواک (۲) روزہ (۳) قرآن کی تلاوت (۴) شہد (۵) کندر ( مکارم الآخلاق، ص ۱۶۶)
نوروسافاری ویب سائٹ نے لکھا  کہ روزہ داری دماغ کے قوی ہونے کا سبب بنتی ہے (http://www۔neurosafari۔com) اور زائمر ، پارکینسون اور ہیڈ اٹیک سے بچاتا ہے۔
۸۔ روزہ اور سلامت نفسیات
کلی طور پر روزہ اور تمام عبادات اسلامی جو تکرار ہوتی انسان کو خدا وند متعال کی طرف متوجہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے انسان کو سکون ملتا ہے اور ٹینشن کم ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر نفسیاتی بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ 
یونیورسٹی میں طالب علموں کو دو گروہوں میں تقسیم  کیا گیا روزہ رکھنے والے اور روزہ نہ رکھنے والے  ان کا آپس میں مقایسہ کیا گیا۔

اضطراب ، نیند نہ آنا ، پریشانی اس گروہ کو جس نے ماہ رمضان میں تمام  روزے رکھے تھے ٹھیک ہو گئے۔لیکن وہ گروہ جس نے ماہ رمضان میں روزے نہیں رکھے تھے نفسیاتی سلامتی کی کمی کے حوالے سے مشکلات باقی تھیں۔

(اثر روزہ داری بر سلامت روان ، مجلہ روانشناسی ویژہ نامہ روانشناسی و دین۔ ۱۳۸۴، ۹۰، ۳:  ص ۲۹۲ تا ۳۰۹۔)
۲۰۱۳ میں ۳۱۳ نرسوں پر تحقیق کے بعد پتا چلا کہ  روزہ داری اسٹریس اور پریشانی کو کم کرنے  میں مؤثر ہے۔ Midwifery Res۔
۹۔ روزہ اور  بدن کا دفاعی سیسٹم
۲۲ سے ۳۴ سال کے افراد پر تحقیق کے بعد پتا چلا کہ ماہ رمضان کا روزہ  دفاعی سیلز کے لئے مثبت تاثیر رکھتا ہے۔(تاثیر روزہ در ماہ رمضان بر روی سیستم ایمنی ھومورال ، سلولی انسان، رسالہ غدد درون ریز ، متابولیسم ایران  ویژہ نامہ خلاصہ مقالات کنگرہ  روزہ داری و سلامت۔ ۱۳۸۰، ۳۰،: ۱۳)
۱۰۔ ہاضمہ کا سیسٹم سب سے فعال سیسٹم ہے روزے کی حالت میں اس کو آرام کا موقع مل جاتا ہے۔
۱۱۔ ۔ بدن سے زہریلے مواد خارج ہو جاتے ہیں۔
۱۲۔ ۔ غدودوں اور سیلز کو دوبارہ طاقت جمع کرنے کی فرصت مل جاتی ہے۔
۱۳۔ گردوں اور عمل اخراج کو نسبتاً استراحت ملتی ہے۔
۱۴۔ شریانوں میں جو چربی جم جاتی  ہے وہ روزے سے کم ہو جاتی ہے اور شریانیں سخت ہونے سے بچ جاتی ہیں۔
۱۵۔ روزے کی وجہ سے بھوک باعث بنتی ہے کہ انسان شوق کے ساتھ غذا کھائے جبکہ پہلے ایک عادت بن چکی ہوتی ہے۔
۱۶۔ درد میں کمی کا سبب بنتا ہے۔ 
۱۷۔ MS بیماری کے لئے مفید ہے۔ 
۱۸۔ طول عمر کا سبب بنتا ہے 
۱۹۔ پولی سسٹک اووری سنڈروم کے علاج میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ 
۲۰۔ روزہ روماٹیزم ( جوڑوں کے درد) کے علاج کے لئے مؤثر ہے۔
خلاصه یہ کہ روزہ انسان کو روحانی حوالے سے بھی مضبوط کرتا ہے اور جسمانی حوالے سے  بھی۔ہمارا موضوع یہاں چونکہ طب ہے اس لیے جسمانی فوائد بیان کیے وگرنہ روحانی قرآن خود بیان کرتا ہے اور قرآن کی گواہی ہمارے لیے کافی ہے۔ 
پس دوستو! روزے کو اہمیت دیں جو خود ہمارے لیے  فائدہ مند ہے۔ اس کریم خالق نے جو ماں سے کئی گنا زیادہ ہم سے محبت کرتا ہے اس نے ہمیں ایک تحفہ دیا۔ اور ہم روزہ کو رکھ کر معدے کی بیماریوں ، موٹاپے ، شریانوں کا سخت ہو جانا ، ہائی بلیڈ پریشر ، گردوں کی مشکلات ، دمہ اور سانس کی مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔
نوٹ:  اس سے پہلے کہ بات ختم کروں اس نکتے کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں ممکن ہے بعض بدن کے ساتھ روزہ  سازگار نہ ہو اسی وجہ سے قرآن پاک نے مریضوں کو رخصت دی ہے۔  (وَ مَنْ كانَ مَرِيضاً أَوْ عَلى‏ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ)


فری مشورے کے لئے رابطہ

yazdanmanzur@gmail۔com

+989384313709
 

 


افکار و نظریات: طب اور روزہ