تفتان بارڈر  ۔۔۔حکومت اور قائدین سے اپیل

منظوم ولایتی

 

 ہمارے   ایک دوست کا تعلق   سکردو بلتستان سے ہے۔ گزشتہ دنوں انہیں  تفتان کا سفر کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنی فیس بک پر لکھا ہے کہ   ملک میں داخل ہونے کے بعد  خواہ مخواہ لوگوں  کو تنگ کیا جاتا ہے۔ خصوصاً  طالب علموں  کو کئی کئی گھنٹے کھڑا رکھا جاتا ہے۔  پاکستان میں کہاں پڑھتے تھے؟ پرنسپل  اور ٹیچرز کا نام اور نمبر بتائیے؟ ایران میں کیا پڑھتے ہیں؟ ویزا کس نے لگوایا کیسے لگوایا؟؟ایران بائی ائیر گئے یا بائی روڈ ؟؟

انہوں نے تنظیمی حلقوں  اور     قائدین سے توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔  وہ  لکھتے ہیں کہ صرف تنگ کرنے کیلئے  اس طرح کے سینکڑوں بے تکے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔کتابیں تک ضبط کر لی جاتی ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ سب کچھ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ و پاسپورٹ پر موجود ہوتا ہے اور ایجنسیز بھی سب کچھ جانتی ہیں لیکن مسافروں کو شدید دماغی ٹارچر کیا جاتا ہے۔ وہ بلوچستان حکومت سے بھی نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

موصوف نے  ایک دوسری تحریر میں اہل قلم حضرات  اور میڈیا پرسنز سے بھی ایکشن لینے کی  اپیل کی ہے۔  

یہ ایک ایسے طالب علم کی اپیل تھی جو  بالکل قانونی طریقے سے ایران میں پڑھتا ہے۔ ہماری حکومتی اداروں سے گزارش ہے کہ اس طرح قانونی طور پر سفر کرنے والے پاکستانیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ اگر آپ کو ایفی شنسی دکھانی ہے تو غیرقانونی سفر کرنے والوں کا تعاقب کریں۔ آج کے جدید دور میں ہر شخص کا ڈیٹا حکومتی اداروں کے پاس موجود ہے۔ ہاں ضرورت کی حد تک معلومات لینے میں کوئی اعتراض نہیں۔مگر تفتان کے اُس لق و دق صحراء میں جہاں پانی اور سایہ تک میسر نہ ہو  چھوٹے چھوٹے بچوں کو گھنٹوں  بھوکا پیاسا رکھنا یقینا مناسب نہیں ہے۔

یاد رہے کہ کچھ دن پہلے وائس آف نیشن پر  نذرحافی نے بھی  اپنے ایک  کالم میں لکھا تھا کہ  بارڈر پر بچوں و خواتین کو تپتے ہوئے صحرا میں گھنٹوں کھڑا کر کے ان سے خواہ مخواہ نام و ولدیت و شہر و سکول کے بارے میں پوچھا جاتا ہے. حالانکہ یہ سارا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹس و شناختی کارڈز میں درج ہوتا ہے.

عوام کے ٹیکسز نگل کر اے سی رومز میں بیٹھ کر رنگ رلیاں منانے والوں کو یہ احساس ہی نہیں کہ تفتان کے جھلستے ہوئے صحرا میں لوگوں پر کیا بیت رہی ہے. کچھ سیانوں کا کہناہے کہ یہ سب کچھ ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے لہذا  اسے ابھی بھی ہونے دیجئے۔ عوام ہمیشہ کی طرح  صرف ٹیکس ادا کرے  اور باقی جونظام  جیسے چلتا آرہا ہے ویسے ہی چلنے دیجئے۔

یہ تو سیانوں کی باتیں ہیں، اب آپ بتائیے کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ سب چلتے رہنا چاہیے؟

کیا پاکستانی آئین و قانون میں پاکستانی پبلک کی یہی اوقات ہے؟

کیا ٹیکسز کے بدلے میں پبلک کو عزت و احترام اور قانونی تحفظ  کے بجائے یہی ذلت و رسوائی دی جانی چاہیے؟

آخر میں ہم اربابِ اقتدار اور قائدین ملت سے گزارش کرتے ہیں کہ مسافروں کی مشکلات کو درک کریں اور اس مسئلے کا فوری حل نکالیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اور قائدین اس بارے میں جلد ہی قوم کو کوئی خوشخبری سنائیں گے۔