مسنگ پرسنز ۔۔۔ آواز دو ہم ایک ہیں
منظوم ولایتی


مزارِ قائد پر دھرنا  ہنوز جاری ہے۔ تین  ہفتے ہوچکے ہیں۔ کوئی شنوائی ہوتی نظر نہیں آرہی۔ مائیں اپنے معصوم بچوں کو گودوں میں لیے  بیٹھی ہیں۔بوڑھے باپ اپنے جوان بیٹوں کی تصاویر والے پلے کارڈز  اٹھائے نظر آتے ہیں۔اور عزیز و اقارب بینرز لیے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلیے منتظر ہیں۔ اربابِ اقتدار کے کان پر جوں تک رینگتی نظر نہیں آتی۔ اوپر سے رمضان کا مہینہ گزر رہا ہے۔ آخر کیا کیا جائے!!    
پاکستان میں جو بدمعاشی دکھائے اس کی سُنی جاتی ہے۔ پرامن لوگوں کی بات کوئی نہیں سنتا۔ کل ہی کی بات ہے کہ   ڈنڈا بردار مجاہدین نے تین دن تک پورے ملک میں خوب "ٹھکائی" کی۔ اگلے دن حکومت نے کالعدم قرار دینے کے باوجود ان سے مذاکرات کیا۔  یوں مسئلہ رفع دفع ہوگیا۔ 
دوسری طرف پچھلے تین ہفتوں سے لوگ دھرنا دئیے بیٹھے  ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ یہ واضح بات ہے کہ  پاکستان میں بات منوانے کیلیے "ڈنڈا بردار لشکر" کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔  
مسنگ پرسنز کا تعلق شیعہ یا  سنی یا پنجابی و بلوچی سے نہیں بلکہ انسانیت سے ہے۔ یہ ایک انسانیت سوز اور ماورائے قانون جرم ہے۔ آخر پولیس ،عدالتیں اور ملکی آئین کس لیے ہوتا ہے؟ 
اس حوالے سے معروف سوشل ایکٹوسٹ سیدہ گل زہراء رضوی لکھتی ہیں : 
"کراچی میں مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلئے احتجاجی دھرنا جاری ہے ۔ یہ پلے کارڈز دیکھیں "مجھے میرے یوسف سے ملا دو ، میرے بابا کو رہا کرو" ۔ یہ کس سے مخاطب ہیں ؟ یہ کون ہیں جو کسی کے یوسف کو اٹھا کر لے جاتے ہیں کہ وہ سالوں مہینوں واپس نہیں آتے ؟ یہ اٹھانے والے کسی دشمن ملک کے نہیں ، اسی ملک کے رکھوالے ہیں جو اپنے ہی پر امن شہریوں کو "اٹھا" کر مسنگ پرسنز بنا دیتے ہیں ۔
میں اس احتجاجی دھرنے اور ہر  اس احتجاج کی جو مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلئے کیا جائے ، کی بھرپور تائید کرتی ہوں ۔ ہمارے پاکستانیوں کو ، ہمارے لوگوں کو رہا کرو ۔ ان کا کوئی جرم ہے تو انہیں عدالت میں لائو ، فرد جرم عائد کرو،  انصاف کرو ، جرم ثابت ہو جائے تو بھلے سزا دو ۔ لیکن یوں مسنگ پرسنز بنا کر ان کے گھر والوں کو جیتے جی نہ مارو "۔
پاکستان کے نامور کالم نگار حیدر جاوید سید اپنے ایک کالم میں  یوں رقمطراز ہیں:
"ایک دھرنا کراچی میں مزار قائد کے سائے میں گزشتہ دو دن سے جاری ہے اس دھرنے میں زیادہ تر مسنگ پرسنز کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچے شامل ہیں۔ 3اور بعض 5سال سے لاپتہ افراد کے گھروں کی خواتین اوربچوں سمیت (ان خواتین میں مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیگمات شامل ہیں) دھرنا پہلی بار نہیں قبل ازیں جو دھرنے دیئے گئے انہیں ختم کرواتے وقت وعدہ کیا گیا تھا کہ سندھ حکومت اس معاملے میں وفاقی اداروں سے بات کرے گی۔
 اندریں حالات اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت اپنا موقف سامنے لائے کہ اس نے وفاقی اداروں سے بات کی، کیا جواب ملا؟ ثانیاً یہ کہ عمر خطاب نامی پولیس آفیسر پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ اس نے متعدد ایسے افراد کو گرفتار کرکے دہشت بناکر پیش کیا جو مقدمات کے اندراج کے وقت بیرون ملک ملازمت کررہے تھے اور اس کے دستاویزاتی ثبوت فراہم کئے گئے۔
 اسی پولیس افسر پر یہ الزام ہے کہ لاپتہ افراد میں 11ایسے لوگ شامل ہیں جنہیں اس نے گھروں سے اٹھایا اور ’’کسی اور " کے سپرد کردیا۔ 
وزیراعلیٰ سندھ کو چاہیے کہ وہ پولیس افسر پر الزامات کی تحقیقات کے لئے خصوصی کمیٹی بنائیں اور یہ کہ کراچی سے پچھلے چند سالوں کے دوران لاپتہ ہوئے افراد کے حوالے سے وفاقی اداروں سے رابطہ کریں 
لیکن اس سے قبل وہ مزار قائد پر بیٹھی مائوں بہنوں اور بیٹیوں  کی فریاد سننے کے لئے ذاتی طور پر وہاں تشریف لے جائیں۔
 سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت 13ویں سال میں ہے۔ ایک صوبائی حکومت کیسے اس بات پر خاموش ہے کہ اس کی حکومتی حدود سے نوجوانوں کو کوئی اٹھاکر لاپتہ کردے اور ورثا کی دادرسی بھی نہ ہونے پائے؟
راقم الحروف کا کہنا ہے کہ آج   پختون قوم اپنے مسنگ پرسنز کیلئے  الگ تڑپ رہی ہے ،  بلوچ اپنے مسنگ پرسنز کیلئے جداگانہ سراپا احتجاج ہیں ، شیعہ حضرات  اپنے مسنگ پرسنز کیلئے  سب سے الگ تھلگ نوحہ کناں ہیں۔  سندھی اپنی جگہ پر شاکی ہیں۔کیا اب بھی وہ وقت نہیں آگیا کہ سب لوگ مل کر اس ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں!؟کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے اپنے دکھوں پر الگ الگ رونے کے بجائے مسنگ پرسنز کی حمایت میں  یک جان اور یک صدا ہوکر آواز بلند کریں!؟