امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام

✒️:محمد حسن غدیری

امام حسن مجتبی علیہ السلام کی ولادت باسعادت  15 رمضان المبارک سنہ 3 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔والد گرامی امام امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور والدہ گرامی جناب خاتون جنت حضرت فاطمہ الزھراء س ہے اور آپ کی  کنیت ابو محمداور  مشہور القابات سید، تقی ، زکی ، سبط ، طیب ہیں۔

*کریم اھل بیت علیھم السلام*
امام حسن علیہ السلام نے اپنی زندگی میں دو دفعہ پوری جائیداد اور تین مرتبہ نصف جائیداد خدا کی راہ میں عطا کی۔جس کی وجہ سے آپ کو کریم  اھل بیت کالقب ملا۔ اور آپ کے در سے کبھی کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہیں گیا۔

امام حسن علیہ السلام کی زندگی دین اسلام کی راہ میں بھرپور جدوجہد سے عبارت ہے مگر اسلام کی بقا کے لیے صلح کا کارنامہ انجام دیا وہ آپکی زندگی کا روشن باب ہے۔

تمام ائمہ معصومین کی کوشش اسلامی معاشرہ کا قیام اور اسلام کا فروغ ہے۔اسی لیے امام حسن نے اپنے زمانے کے حالات اور تقاضوں کے مطابق صلح کے ذریعے دین کو بچایا۔ اور اسی صلح نے قیام امام حسین کا موقع فراہم کیا۔

 ائمہ کابنیادی  ہدف یہ ہوتاتھا  کہ اسلامی حکومت قائم ہوجائے ۔چاہے یہ کام  مستقبل قریب میں ہویا مستقبل بعید میں۔

امام حسن مجتبی کی زندگی مشکلات وسختیوں سے بھرپور تھی،جہاں ایک طرف زیرک وچالاک دشمن،نادان دوست اور اندرونی خلفشار نے امام کے لیے زندگی مشکل کردی۔اس لیے آپ صلح پرمجبور ہوئے۔

صلح امام حسن  علیہ السلام تاریخ اسلام  میں رسول اللہ کی اسلامی  تحریک کا تسلسل تھاجس کاآغاز مکہ سے ہواتھا۔آپ نے مکہ میں کفار مکہ کے ساتھ اس کے بعد صلح حدیبیہ کے ذریعے اسلامی تحریک کو طاقت بخشی ۔

مولائے کائنات علی ابن ابی طالب نے پیغمبر اکرم  کی رحلت کے بعد 25سال تک  اسلامی نظام کو بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی اور حکمرانوں کو وزیر کی حیثیت سے  مشورہ دیتے رہے۔اور مسلح جدوجہد پر  مفاہمت آمیز پالیسی کو اسلام کی حفاظت کےلئے ترجیح دی۔ 
 
امام حسن مجتبی علیہ سلام کو 6 مہینے ظاہری حکومت ملی جس میں بنو امیہ نے  امام کے لیے مزاحمت ایجاد کیا۔اور  امام کے پاس دو راستے ہی بچ گئے تھے کہ
1- شہادت کا راستہ اختیار کر لے یا 
2-صلح کر کے اسلام کو بچالے۔۔

لہٰذا امام حسن علیہ السلام  نے اس مشکل وقت میں ایک بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے صلح کا راستہ اختیار کیا اور وہ شرائط  قبول کئے جو صلح کے وقت پیش کی گئی تھی۔اگر ان حالات میں امام حسن مجتبی کی جگہ باقی ائمہ میں سے کوئی بھی ہوتے تو وہ بھی ایسا ہی کرکے صلح کی راہ اختیار کرتے۔امام حسن کے زمان امامت میں امام حسین نےاس صلح کو قبول کیا۔ آ پ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔یعنی آپ امام حسن کے پیروتھے۔
کیونکہ تمام ائمہ معصومین کا مقصد ایک ہی تھا۔
 
*امام حسن نےصلح کیوں قبول کیا؟*
امام مجتبی علیہ السلام نے نہ چاہتے ہوئے بھی مجبورہوکرصلح قبول کیا۔کیونکہ یہ ایک حکمت عملی تھی۔ایک طویل منصوبہ بندی کے تحت اسلام کاتحفظ آپ کے  منظور نظر تھااس طرح اسلامی نظام کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا۔

آپ کی نظر میں  اگر حکومت ظاھری  مل جائے تو ٹھیک اور اگر حکومت ظاھری نہ بھی ملی تو اسلامی ثقافت و دستورات ایک تحریک کی شکل میں تسلسل کے ساتھ زندہ رہے۔کیونکہ اصل ہدف اقتدار نہیں اسلام کی حفاظت تھا اور اس کے تمام شرائط کو آپ نے صلح میں پیش کیا اور یہ واضح کردیا کہ اصل ہدف اسلام ہے۔
 
رہبر انقلاب اسلامی آیة الله خامنہ ای فرماتے ہیں کہ :صلح امام حسن ع سے اسلام کو جو فائدہ و دوام ملا وہ کہیں اور سے نہیں ملا۔ یہ امام کی بہترین حکمت عملی کی وجہ سے اسلام کو حاصل ہواہے۔
اگر امام حسن،معاویہ کے ساتھ جنگ کرتے تو امام کی شہادت کے بعدبنوامیہ کی چالاک ومکراورفریب پرمبنی حکومت اس کو کسی طریقے سے چھپا دیتا۔

دشمن یا بعض ناداں دوست، دشمن کی سازش  میں آکر کہتے ہیں کہ امام حسن نے جنگ سے ڈر کر صلح کیا یا کثرت ازدواج کی وجہ سے امور حکومت میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔!!!

یہ بات بلکل غلط اور دشمن کی طرف سے  امام کی منزلت کو کم کرنے کی سازش ہے۔
حقیقت میں امام حسن مجتبی شجاعت و بہادری میں بے مثال تھے اور آپ نے  اپنے والد گرامی کے ساتھ جنگ جمل و صفین میں اپنی بہادری و شجاعت کے جوہر دکھائے تھے۔

اور آپ کا مقصد بھی نظام اسلامی کا قیام اور الٰہی دین کا نفاز تھا۔مگر اس کا طریقہ اورحالات امام حسین ع کے دور سے مختلف تھا جس کی بناء پر امام حسن ع نے معاویہ کے ساتھ صلح کیا۔اور اسی صلح کے ذریعے ہی  اسلام کے اصول اقداراور روح اسلام کو بچایا۔اور بنی امیہ کے مذموم عزائم اور سازشوں کومکمل طور پر ناکام بنادیا..