استاد جی 🪶🤺
بیڈ_فورڈ   بسوں کے ہارن سے ہمیں پتہ چل جاتا تھا کہ اس کا نمبر کیا  ہے۔ جب کبھی دوران کلاس ہارن بجتا تو ٹیچر کی موجودگی میں بھی کان میں سر گوشی کر دیتے 2766 آئی اے۔۔۔ہن 1785 بولی اے۔۔۔۔اس زمانے میں بس ڈرائیور کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور سب اسے  استاد جی کے نام سے بلاتے تھے علاقے میں چنیدہ لوگ ہی اس منصب پر فائز ہوتے تھے۔
استاد جی کے اپنے ٹشن ہوتے استری شدہ سوٹ ،کھلے بٹن بنیان نظر آتی تھی اگرچہ میلی ہوتی  تھی چونکہ استاد جی کا زیادہ زور کپڑوں کی استری پر زیادہ ہوتا،کھلی چپل،کھلے پائنچے،انگلیوں کے درمیان سلگتا ہوا مارون کا سگریٹ جو بیڈ فورڈ کے ڈیزل کی بو کیساتھ ملکر الٹی کرنے اور سر چکرانے کیلئے اکساتا تھا۔
بس اسٹارٹ ہونے کے بعد 20 سے 25 ہارن  بجانا استاد جی کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔کچھ بسیں ایسے جدید ہارن  کی بھی حامل تھیں کہ استاد جی کو بار بار ہارن  کا بٹن پریس کرنے کی زحمت نہیں اٹھانا پڑتی تھی ایک ہی بار پریس کرتے تو کم از کم 5 منٹ تک خود بخود بجتا رہتا اور استاد جی داد طلب نگاہوں سے مسافروں کی طرف دیکھتے،
 فرنٹ سیٹ مخصوص افراد کیلئے مختص ہوتی  بعض اوقات تو دو دو دن ایڈوانس فرنٹ سیٹ بک کروا دی جاتی لیکن استاد جی کے پاس ویٹو پاور بھی تھی کسی بھی منظور نظر کو کسی وقت بھی نواز سکتے تھے۔
استاد جی کا پورا علاقہ اس طرح قدر کرتا تھا جیسے css🤣 کر کے ابھی ابھی چارج سنبھالا ہو۔عموما استاد جی غصے والے ہوتے تھے جو سواریوں کی موجودگی میں کنڈیکر کو ڈانٹنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔
کنڈیکر سے یاد آیا، کنڈیکر کی بھی تین اقسام ہوتی  تھیں۔ ایک غریب نادار جو فقط مزدوری کیلئے آتے تھے دوسری قسم جو ہشیار ہوتے تھے مسافروں پر جگتیں لگاتے اور ان کے تیور بھی بتا ر ہے ہوتے کہ آئندہ 15 سے 20 سال کی محنت شاقہ سے یہ بھی منصب استاد جی پر براجمان ہونگے ۔
تیسری قسم وہ کنڈیکر ہیں جن کی اپنی بس ہوتی  یا مامے،چاچے کی بس ہوتی  تھی ان کے نام کیساتھ نائیک جی کا لاحقہ بھی لگا ہوتا۔ہر کسے باشد انہیں نائیک جی کے نام سے پکارتا تو اس لمحے آدھا فٹ وہ فضا میں معلق ہو جاتے خواہ پکا سگریٹ نہ بھی لگایا ہو ان کیساتھ ایک سب کنڈیکر بھی ہوا کرتا تھا۔

بس کی گیلری میں 20/25 لوگ کھڑے ہوتے اتنے ھی پوہڑی اور سائیڈ پر ،طلباء کو خاص اہمیت حاصل تھی ان کیلئے بس کا چھت مختص ہوتا کیونکہ کرائے کی ادائیگی سے اکثر وہ مثتثنی با حکم از خود ہوتے تھے۔
رستے میں کوئی سواری ہاتھ دے اور استاد جی بس نہ روکیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگرچہ گنجائش پیدا کر ہی لی جاتی اگر خاتون مسافر ہوتی  تو کنڈیکر با آواز بلند کہتا لیڈی سواری کیلئے جگہ خالی کرو تو ہر کوئی بلا توقف اپنی سیٹ چھوڑنے کو آمادہ ہو جاتا۔
استاد جی بس چلاتے ساتھ سگریٹ کے کش لگاتے کئی لوگ سگریٹ اور ڈیزل کی ملی جلی بو کی وجہ سے الٹیاں بھی کرتے لیکن کیا مجال کہ استاد جی کو تمباکو نوشی سے کوئی روکنے کی جسارت کرے۔
 اس کے ساتھ عطااللہ،لتا منگیشکر،رفیع اور صبح کا وقت ہو تو عزیز میاں و ہمنوا اودھم مچاتے، رہی سہی کسر بیڈ فوڈ چڑھائی میں اپنے انجن کی صوت بالا سے پوری کر کے سماعتوں کو صبر جمیل عطا فرماتی۔
استاد جی سے تعلق اور واقفیت ایسے ہی بلند مرتبت سمجھی جاتی جیسے DCO سے شناسائی ہو استاد جی اگر کسے جاننے والے پر نظر التفات فرماتے تو وہ شخص پھولا نہ سماتا اسے اپنے پاس بیٹھنے کیلئے اشارہ کرتے تو موصوف باقی مسافروں کو پھلانگتے ہوئے  استاد جی کے قریب پڑے ٹول بکس پر اپنی آدھی تشریف کیساتھ ہی براجمان ہو جاتے۔ موڑ آتے ہی  اس توازن کو برقرار رکھنا خاصہ مشکل مرحلہ ہوتا لیکن موصوف نہ صرف توازن برقرار رکھتے بلکہ اپنی گردن لمبی کر کےعطااللہ کا گیت اور بیڈ فورڈ بس کے انجن کی تیز آواز کے  ساتھ استاد جی سے گپ شپ کی سعی کرتے پھر داد طلب نگاہوں سے مسافروں کی طرف دیکھتے اور یہ سلسلہ اختتام سفر تک جاری رہتا۔
جب کسی مسافر کے اترنے کا وقت آتا تو بھی دو طریقے اختیار کیے جاتے، اگر کوئی صاحب ثروت یا پھنے خان  ہے تو استاد جی بریک کا پورا استعمال کرتے تا دم مسافر اتر نہ جائے اور اگر کوئی عام مسافر ہوتا تو استاد جی بریک کا تھوڑا آسرا کرتے باقی کسر کنڈیکر ان کو جگتیں لگا کر گیٹ سے جلدی چھلانگ لگانے پر آمادہ کر لیتا اور پھر اونچی آواز میں کہتا۔۔۔۔۔۔۔
استاد جی جان دیو

 

 


افکار و نظریات: استاد جی