صحافتی گِدھوں نے” صحافت“ بیچ ڈالی !

اگلا مورچہ ۔ عمر چوہدری 


”صحافت پیغمبری پیشہ اور صحافی پر صحیفے اترتے ہیں“ یہ وہ ابتدائی کلمات تھے جو ہمیں وادی صحافت میں کشاں کشاں کھینچ لائے صحافت کے ابتدائی ایام میں ”خبر “کی تلاش میں ہم دربد ر پھرتے، واقعات کی باریکیوں کی تلاش میں رہتے اور ”خبر “کے سات ”ک“ کھوجتے ،بھوک پیاس سے بے نیاز، کپڑوں کی استری اور جوتوں کی پالش سے غرض نہ رکھتے ۔”خبر “کی پختگی اور اس کے جزئیات سمیٹتے ،نیوز ڈیسک پر بیٹھتے اِنٹرو بناتے کئی کئی صفحات پھاڑ ڈالتے پھر کہیں دماغ اور ذہن مطمئن ہوتا ،خبر کی روانی کیلئے بہترین الفاظ ترتیب دیتے ۔خبر مکمل کر کے ”آگے“پہنچاتے۔
تو صاحب !موصوف خشمگی نظروں سے ہمارا جائزہ لیتے اور حکم شاہی جاری کرتے کہ’ پہلے میں خود اس کو چیک کروں گا‘ اب ہم ”نابلد“ اس چیک کرنے کو دل ہی دل میں ”کوستے“۔چیک کے مراحل کا انتظار کرتے لیکن آخر کار خبر ”پالیسی“ کے مطابق نہیں ہے کا آخری فتویٰ جاری کر کے خبر ردی کی ٹوکری کی نظر کر دی جاتی اور ہم اگلے روز اِس سے بھی بڑی اور ”بڑھیا“ خبر کی تلاش میں جت جاتے ۔
برسوں بعد ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ صاحب! نے ”پالیسی“ کے نام پر ہماری ترقی کی راہ میں باقاعدہ ”روڑے“ اٹکا کر ہمیں بیچ ڈالا اور خبر کی جزئیات بتا کر اپنی جیب گرم کر لی۔ ہم نے ”احتجاج“ کرنے کا سوچا لیکن یار دوستوں نے یہ کہہ کر چپ کرو اڈالا کہ کیوں اپنی نوکری کے پیچھے پڑے ہو ،یہ صاحب کوئی ظفر علی خان( بابائے صحافت) تو نہیں ہیں نا کہ جو تمہیں شاباش دیتے اور تمہاری محنت نمایاں خبر کی صورت میں شائع ہوتی۔
بس ”دَڑ وٹ جا“ اور ہم ”دَڑ وٹ“ گئے ۔
لیکن ہم پر بھی ”صحافی“ بننے کا بھوت سوار تھا ہم کشتیاں جلا چکے تھے لہٰذا ”کچے گڑھے “پر تیرنے کا شغف جاری ہے۔
 ’صحافیوں کے عالمی دن‘ پر میں سوچ رہا ہوں کہ آخر اس دن کو منانے کا مقصد ہی کیا ہے آج کل تو ہر ”ویلا“ صحافت کا لبادہ اوڑھے وزٹنگ کارڈ پر جونیئر لکھوانا پسند ہی نہیں کرتا، نیوز ایجنسی کی خبر اٹھائی اپنے نام کی ’کریڈٹ لائن‘ ڈالی اور خبر داغ دی، اخبارات میں شائع ہونے والی کئی خبروں پر اپنے صحافتی کیڑے کو ”مَٹھا “کرنے کے لئے جب ہم نے متعلقہ رپورٹر سے باز پرس یا سوال و جواب کئے تو ”موصوف“ خبر کے جزئیات سے ہی نا بلد پائے گئے ۔
ہمارے ہاں بڑی تعداد میں اخبارات، ٹی وی چینلز اور اب خیر سے ”ویب پیجز“ نے خبر کی ”خبریت“ کی ایسی تیسی پھیرنے کا باقاعدہ ”ٹھیکہ“ لے رکھا ہے ۔بریکنگ نیوز کے نام پر بے تکی خبروں کا پرچار ہوتا ہے، ریٹنگ کے چکر میں ٹاک شوز میں ”تماشے“ کئے جاتے ہیں۔” پری پلانڈ“ پروگرام ترتیب دئیے جاتے ہیں بلکہ یو ں کہیے کہ ”صحافت کا تماشا“ خود بنایا جاتا ہے۔ اس پر کمال یہ ہے کہ ہمارے ہاں ”صحافت“ کی تعلیم کا کوئی باقاعدہ ادارہ موجود ہی نہیں ہے جن یونیورسٹیوں میں ”صحافت“ پڑھا ئی جاتی ہے وہاں بھی جزوقتی پروگرام چلتے ہیں جہاں صحافتی ”گھاگ“ اپنی نوکری پکی کرنے کے لئے ”براجمان“ ہیں۔ پریس کلبوں کے پاس صحافیوں کی ٹریننگ کےلئے کوئی باقاعدہ پروگرام ہی نہیں ہے جس کی بڑی وجہ یہاں قابض افراد کا صحافت محض پیسہ کمانا مقصد ہے صحافت کرنا نہیں! 
پاکستانی صحافت کا جائزہ لیا جائے تو تحریک پاکستان اور قیام پاکستان میں اخبارات اور ان کے مالکان اخبار نویس کمال صحافت کے عروج پر تھے ۔جن کا مقصد سچ کو سچ کہنا ہی تھا جنہوں نے ’قوم‘ کی اصلاح کا بیڑہ اٹھا رکھا تھا جنہوں نے قوم کے شعور کو بیدار رکھا اور اس مشن پر ڈٹ کر کھڑے رہے، صعوبتیں برداشت کیں ،قیدو بندمیں وقت گزارا۔ لیکن ”سودے بازی“ نہیں کی مگراب ان ”مہربانوں“ کی خبروں پر سلام کرنے والے شاگرد اورچاہنے والے تک موجود نہیں ہیں چونکہ جو بد قسمتی سے انہیں دیگر مشاغل سے فرصت ہی نہیں ہے ۔
آئیے ان صحافیوں کو سلام پیش کریں جنہوں نے تنگدستی کے باوجود قلم کی توقیر پر حرف نہیں آنے دیا۔کسی بڑے شخص کے تلوے نہیں چاٹے اورسرکاری افسروں کی خوشامد نہیں کی۔ اپنے اردگرد موجود صحافتی ”گِدھوں“ کا جائزہ لیں اور پھر” صحافیوں کا عالمی دن“ منائیے۔
(صحافیوں کے عالمی د ن کے موقع پر میڈیا پیپلز اینڈ میڈیا کی تقریب کیلئے بطورخاص لکھا گیا)