کشمیر کی تاریخی جامع مسجد

کشمیر کی تاریخی جامع مسجد،سلطان زین العابدین عرف بڈشاہ کے والد سلطان سکندر کے ذریعہ پندرہویں صدی میں بنوائی ،شہر کے نوہٹہ علاقہ میں واقع، جامع مسجد کا کشمیر کی تحریک کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رہا ہے اور جب بھی کشمیر میں تحریک آزادی چلی ہے اس کا  جامع مسجد سے تعلق رہا ہے،  چنانچہ سکھوں اور ڈوگرہ شاہی کے زمانے سے لے کر موجودہ ہندوستانی قبضے کے دوران بھی اس مسجد کو اکثر مقفل رکھا جاتا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ1842میں سکھ دورکے آخری گورنر شیخ انعام الدین کے دورمیں اس تاریخی مسجد کو کھولا گیا تاہم اس دوران مسلسل11برسوں تک مسجد میں صرف نماز جمعہ ہی ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس دوران جمعہ کو کچھ گھنٹوں کیلئے ہی مسجد کو کھولا جاتا تھا اور بعد میں بند کیا جاتا تھا تاہم1898کے بعد مسجد کو مکمل کھولنے کا اعلان کیا گیا۔

ان دنوں بھی اسے آئے دنوں نمازیوں کے لئے بند کردیا جانا ایک معمول سا بن گیا ہے۔ قریب تیس سال پہلے جموں کشمیر میں مسلح تحریک شروع ہونے کے بعد سے یہ مسجد بھارت مخالف احتجاجی مظاہروں کا مرکز بن کے اُبھری ہے اور ہر جمعہ کو نماز کے بعد ہزاروں لوگ جلوس نکالنے کی کوشش کرتے آرہے ہیں جنہیں روکے جانے کے بعد نوجوانوں اور سرکاری فورسز کے مابین جھڑپیں یہاں ہر جمعہ کا معمول بن گئی ہیں۔

بلاشبہ اس مسجد کو کشمیر میں اسلام کے مورچے کی حیثیت حاصل ہے۔

 


افکار و نظریات: کشمیر کی تاریخی جامع مسجد