پرستش و بندگی

       علی سردار سراج 

  انسان چاہیے جس زمین و زمان سے تعلق رکھتا ہو اور جس قوم و مذہب و مکتب سے تعلق رکھتا ہو، وہ عبد اور بندہ ہے یعنی کسی نہ کسی کی عبادت اور ستائیس کرتا ہے ۔ 
کوئی ایک فرد بھی اس قانون و کلی سے خارج نہیں ہے لہذا کہا جاتا ہے کہ عبادت اور بندگی فطری امور میں سے ہے۔ 
شاید کوئی شروع میں یہ خیال کرے کہ وہ ایک آزاد بندہ ہے جو کسی کی بھی بندگی نہیں کرتا ہے لیکن جب توجہ کرے گا تو متوجہ ہو جائے گا کہ وہ کس کے بند میں اسیر ہے؟ 
انسان بندگی سے نہیں نکل سکتا ہے کیونکہ وہ ذاتی طور پر فقیر اور نیاز مند ہے،  یعنی  جس طرح سوچ اور فکر انسان سے جدا نہیں ہو سکتی ہے اسی طرح فقر اور نیاز مندی بھی تمام ممکنانات (1 ) 
سے جدا نہیں ہو سکتی ہے وہ اپنے وجود کے اندر نقص اور ضعف کا احساس کرتا ہے اور دائمی طور پر کمال کی تلاش میں ہے۔
 اے لوگو ! تم اللہ کے محتاج ہو اور  صرف اللہ ہی  بے نیاز، اور  لائق ستائش ہے۔(2)۔
لہذا اس فقر ذاتی اور کمال مطلق کی تلاش کی وجہ سے انسان  کسی نہ کسی کی بندگی میں ہوتا ہے اور اللہ تعالی تمام انسانوں کو اپنی بندگی کی طرف دعوت دیتا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا خالق بھی ہے اور رب بھی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے، 
اے لوگو! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے والے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم متقی بن جاو ۔(3)
اور دوسری جگہ خلقت جن و بشر کا ہدف ہی اللہ تعالی کی عبادت کو قرار دیا گیا ہے ۔
اور میں نے جن و انس کو خلق نہیں کیا مگر یہ کہ وہ میری عبادت کریں۔(4) 
لیکن یہ انسان اپنی نادانی اور جہالت کی وجہ سے کبھی  بت پرستی کرتا ہے تو کبھی مال اور شہرت پرستی تو کبھی قوم و وطن پرستی تو کبھی نفس اور ھوا پرستی ۔
 کیا آپ نے اس (شخص) کو دیکھا جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟ کیا آپ اس شخص کے ضامن بن سکتے ہیں۔(5 ) 
ذات بارئ تعالی کے علاوہ کسی کی بھی بندگی اور پرستش حماقت اور نادانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
جیسا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا:
آدم از بی بصری بندگی آدم کرد
گوهری داشت ولی نذر قباد و جم کرد
یعنی از خوی غلامی ز سگان خوارتر است
من ندیدم که سگی پیش سگی سر خم کرد(7)

انسان کے لئے خدا وند کریم کی بندگی ہی میں عزت ہے کیونکہ وہ انسانوں کے خالق ہونے کے ساتھ ساتھ ہر حوالے سے بے نیاز اور کمال مطلق ہے ۔ اور عزت کا سر چشمہ ذات پروردیگار ہے۔
《إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔》
 لہذا اس کی عبادت میں ہی عزت اور اسی کی پرستش اور بندگی میں ہی فخر و سر بلندی ہے ، جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے اپنی مناجات اور راز و نیاز میں فرمایا:
«إِلَهِی کَفَى لِی عِزّاً أَنْ أَکُونَ لَکَ عَبْداً وَ کَفَى بِی فَخْراً أَنْ تَکُونَ لِی رَبّا».(6)
آج کل کچھ پڑھے لکھے لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ وہ قوم پرست ہیں،  وطن پرست  ہیں ۔۔۔۔۔ 
تو جاننا چاہیے کہ حقیقی پرستش اور بندگی اللہ تعالی کی ہے وہ حق مطلق ہے اور اسی کی بندگی میں ہی سعادت اور عزت ہے لہذا اگر ہم وطن،  قوم یا دوسری کسی بھی ارزش سے دفاع کرتے ہیں تو اس کا معیار بھی اللہ تعالی کی ذات با برکت ہے،  پھر وطن کا دفاع اور قوم کی خدمت حقیقت میں اللہ تعالی کی عبادت ہے جس میں عزت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1):( فلسفہ کے اندر وجود اور موجودات کو تین قسموں میں تقسیم کرتے ہیں ۔
 1: واجب الوجود( ذات بارئ تعالی) یعنی جس کے لئے وجود ضروری اور واجب ہے ۔2: ممتنع الوجود : یعنی جس کے لئے وجود محال اور نا ممکن ہے
 3: ممکن الوجود: یعنی جس کے لئے وجود کا ہونا اور نہ ہونا، نہ واجب ہے اور نہ ممتنع ۔ بلکہ ہونا بھی واجب نہیں اور نہ ہونا بھی واجب نہیں ہے ۔)

(2):《یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ اللّٰہُ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ》 ( سورہ فاطر 15)
(3) 《یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ》( سورہ بقرہ 21)
(4) 《وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ》( سورہ ذاریات 56)
( 5) 《اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ إلهه  هواه  ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا》( سورہ فرقان 43)
(6) . شیخ صدوق، خصال، محقق، مصحح، غفاری، علی اکبر، ج 2، ص 420، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، 1362ش۔
(7) ایک انسان بے سمجھی کے سبب دوسرے انسان کی بندگی کرتا ہے۔ اس کے پاس(آزادی کا)ایک ہیرا تھا جو اس نے شاہوں کے سپرد کر دیا۔ گویا وہ خوئے غلامی میں کتوں سے بدتر ہے کیونکہ میں نے آج تک کسی کتے کو دوسرے کتے کے سامنے سر خم کرتے نہیں دیکھا۔