بسم اللہ الرحمن الرحیم
معیاری تحریر و تقریر کے مقدمات نذر حافی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاپولر جرنلزم کیلئے فکری بنیادیں
۱۔وقت کی اہمیت
۲۔نظریاتی دوست اور دشمن کی شناخت
[مستشرقین/جہلا/تکفیری]
۳۔اپنا ہدف معین کرنا
۴۔زیرِ آب حرکت
۵۔ڈیڈ میڈیا سے بچنا
۔۔۔۔۔۔۔
۲۔تفکر پروری
۱۔دو غلط فہمیاں دور کریں
الف:۔ ایسی کتاب کی تلاش جسے پڑھ کر میں لکھاری بن جاوں
ب:۔ زیادہ لکھنے سے میں لکھاری بن جاوں گا
[غلط لکھنے سے غلطیاں راسخ ہو جاتی ہیں]
۲۔ اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ اردو زبان میں معیاری لکھنا مشکل کیوں ہے؟
۳۔آپ صرف ایک جملہ لکھیں لیکن آپ کا اپنا ہو
الف۔ جملہ سات یا آٹھ الفاظ سے زیادہ کا نہ ہو
ب۔جملہ آپ کا اپنا ہو
ج۔کسی تصویر کی کیپشن سے شروع کریں
د۔جملے میں خبر نہ ہو بلکہ دھچکہ ہو
۴۔لکھنے کا آغاز کہاں سے کروں؟
اداریہ، انشا، مضمون، کالم، ۔۔۔فیڈبیک/ٹویٹر
۵۔مفید اور تخصصی میں فرق کو سمجھیں
۶۔ ڈیٹا بینک
کسی بھی نظریاتی مسئلے پر اپنے نظریے کے لئے مفید تحریروں اور کلپس وغیرہ کی جمع آوری اور وائرل کرنا
صاحب قلم صرف کالم نگار نہیں[محقق، مصنف، مولف، مترجم، مدرس، مقرر، شاعر، رپورٹر۔۔۔]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۔مسئلہ شناخت
الف: علامتوں کا استعمالب: پیٹرن  اور پیراڈائم  کا فرقج:ہائے مختفید:فکشنر:فینٹیسیس:فیڈ بیکص:ریفلیکس:۔ط: رسپانس:۔ع:کوارڈینیشن:
ف:محاورے،کہاوت اور ضرب المثل کا فرق 
۴۔ مسئلہ معلومات
استعارے اور تشبیہہ میں فرق اردو  زُ بان کی حرکات

ادب برائے ادب اور برائے زندگی
اردو ادب کے اراکین خمسہ
صحافت اورادب میں فرق
معلومات اور علم میں فرق 
۔۔۔۔۔۔۔۔
صحافتی اور کتابی کام میں فرق

صحافتی مواد کے دو عنصر ہیں،معلومات یعنی خبر اوردوسرے تاثیر۔ تاثیر سے مراد یہ ہےکہ رائے عامہ یا متعلقہ ادارہ اس پر ایکشن لے۔

قلم کار اور صحافی میں  فرق

قلم کار اور صحافی میں  فرق ہے ۔ ہر صحافی قلم کار ہو سکتا ہے لیکن ہر قلم کار، مضمون نویس صحافی نہیں ہو سکتا ہے۔ صحافت ایک فن ہے جسے سیکھا اور برتا جاتا ہے ۔ صحافت کے کچھ اصول و ضوابط ہیں جس کی پابندی ضروری ہے۔ اس لیے وہی قلم کار صحا فی کہلانے کا مستحق ہے جو صحافتی قوائد اصول و ضوابط سے آشنا ہو۔

 شعبہ ادارت:

سربراہ ایڈیٹر یا چیف ایڈیٹر ہے۔ خبریں، اطلاعات، مضامین، ادارے، فیچر، کالم،مضامین اور خطوط کوفوری چھپنے کیلئے نہیں بھیجا جاتا بلکہ  پہلے مواد کا انتخاب کیا جاتا ہے پھر  جانچا  جاتا ہے ۔ پھر اس کے متن کی نوک پلک سنواری جاتی ہے ۔ پھر اس کی سرخی تیار کی جاتی ہے ۔ اس کے بعد  ابتدائیہ لکھا جاتا ہے ۔ پھر اخبار یا میگزین کے صفحے  اور کالم یعنی جگہ  کا تعین ہوتا ہے ۔ پھر اسے کمپوزنگ کے  شعبے کو بھیجا جاتا ہے ۔ پھر اس کی پروف ریڈنگ کی جاتی ہے۔اس کے بعد اسے شائع کیاجاتا ہے۔انتخاب سے  اشاعت تک  کے تمام مراحل کو ادارت کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
"زرد صحافت" یا پیلی صحافت (انگریزی: Yellow journalism) کسی ذاتی یا گروہی مقصد کیلئے خبروں ، اداریے یا کالم سے بلیک میلنگ ، تاوان کی وصولی یا تصادم کی راہ ہموار کرنا۔فرضی خبر، من گھڑت خبر، بناوٹی خبر یا جھوٹی خبر (انگریزی: fake news)

ورکنگ جرنلسٹ [عامل صحافی ] صحافت جن کا پیشہ اور روزگار ہوتا ہے۔

فری لانس صحافی : آزاد صحافی (فری لانس جرنلسٹ) :باقاعدہ ملازم نہیں ہوتے، کسی بھی چینل یا اخبار کیلئے جز وقتی  کام کی مناسبت سے معاوضہ لیتے ہیں۔

بلاگرز:۔ ویب سائٹس، ڈاکومنٹریز، ریڈیو، ٹی وی ، یوٹیوب، اور سوشل  میڈیا پر  ڈیمانڈ کے مطابق لکھ کر معاوضہ لیتے ہیں۔

صحافی ( میڈیا پرسنز) :۔ صحافت سے منسلک اور میڈیا انڈسٹری سے وابستہ افراد بھی خود کو صحافی کہتے ہیں مگر وہ عامل صحافی کے زمرے میں نہیں آتے ہیں۔ جن میں صحافتی اداروں کے مالکان، پبلشرز، پرنٹرز اورذاتی میڈیا آوٹ لٹس رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ورکنگ جرنلسٹس کی تخصیص کا مقصود بھی یہی ہے کہ آجر اور اجیر میں فرق کو خاطر میں رکھا جائے اور یہ فطری ہے۔

پریس کلب کا کردار: پریس کلب عامل صحافیوں (ورکنگ جرنلسٹس) کا خود تشکیلی رفاہی ادارہ ہے۔ جس کے سالانہ انتخابات ہوتے ہیں۔:۔

پریس کلب کا آئین جو ریاستی قوانین و ایکٹ برائے کلب، ایسوسی ایشن ہیں میں دیے گئے اصولوں کے مطابق مرتب کیا جاتا ہے میں ممبرشپ کی دفعات میں اہلیت ومعیار مقرر کردیا جاتا ہے۔ جس میں ووٹ کا حق دینے کی شرائط بھی ہوتی ہیں۔ ووٹ کا حق خاص شرائط پر پورا اترنے والے ممبران ہی کو حاصل ہوتا ہے۔ تاہم ایسے ممبران جنہیں ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے۔ وہ پریس کلب کے تمام امور میں حصہ لینے کے اہل ہوتے ہیں۔ پریس کلب کی انتظامیہ ملکی قوانین و ایکٹ کے اندر رہتے ہوئے ترامیم کرسکتے ہیں مگر برخلاف ترامیم نہیں کرسکتے ہیں۔ اس کلب کا مقصد صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے نشستوں اور چائے پانی کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔ آجر اور اجیر کے درمیان مذاکرات، میڈیا انڈسٹری تعلقات کے امور پر پریس کلب کی بجائے جرنلسٹس کی ٹریڈ یونین اپنا کردار ادا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقدمہ
لکھ اور بول تو سبھی سکتے ہیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ دوسری کا  طالب  علم ہو یا پی ایچ ڈی  کا، سبھی بولتے اور لکھتے ہیں۔ لیکن  صرف زبان ہلانا یا قلم چلانا تو مقصدنہیں ہوتا، لکھنے اور بولنے کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔ہمارا بیان جتنا موثر اور بلیغ ہوگا لوگ ہماری بات اتنی ہی دلچسبی سے سنیں اور پڑھیں گے۔ہر زبان کےاپنے ابلا غی اصول اورقواعد ہوتےہیں۔ اگر ہم ان پر توجہ نہ دیں تو ہم انسانوں کے درمیان اپنا موقف نہیں منوا سکتے۔ان ابلاغی قواعد کی پابندی کے بغیر جتنا بھی لکھا یا بولا جائے اتنا ہی ابلاغ کیلئے نقصان دہ اورافہام و تفہیم کیلئے مضر ہے۔ نقصان دہ اور مضر اس لئے ہے چونکہ غلط لکھنے اور بولنے سے ابلاغی غلطیاں راسخ اور پختہ ہوجاتی ہیں جس کے بعد انہیں دور کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔اردو زبان میں ابلاغ کو بہتر بنانے کیلئے اہم نکات:
۱۔جملے انتہائی چھوٹے ہونے چاہیے(پانچ چھ الفاظ سے لے کر  سات آٹھ الفاظ  سے زیادہ نہ ہوں)
۲۔ہر جملے کے بعد فل اسٹاپ (نقطہ) لگائیں
۳۔ذخیرہ الفاظ کی جمع آوری کریں (عامیانہ جملے استعمال نہ کریں)
۴۔اردو ادب کی کسی  ایک کتاب کا مطالعہ جاری رکھیں۔
مندرجہ بالانکات سے استفادہ کریں، اور اپنی تحریروں پر خود نظرِ ثانی اور ترمیم کریں۔ایک اہم سوال
مجھے  کیوں لکھنا چاہیے؟✍️۔۔۔۔۔۔۔ 
عاقل انسان بغیر ہدف کے کوئی کام نہیں کرتا، لکھنے کیلئے بھی ہدف معین ہونا چاہیے۔ ویسے آپ جتنا مرضی ہے اور جیسے مرضی ہے لکھیں لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تحریریں مقبولِ عام کی حیثیت حاصل کریں، لوگ انہیں شوق سے چھاپیں، نشر کریں اور انہیں یا د رکھیں تو پھر آپ کو اپنے لئے ایک بڑا ہدف منتخب کرنا ہوگا۔
آپ کو کسی بھی ایک معاشرے، کمیونٹی ، برادری، قبیلے اور علاقے کی قید و بند سے نکلنا ہوگا۔ آپ کو گلوبل اور عالمی سطح پر سوچنا اور مقامی سطح پر کام کرنا ہوگا۔ آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ ایک قلمکار در اصل سفارتکار ہوتا ہے۔ اس کا ہدف انسانوں، مکاتب اور ممالک کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا، حقائق کو سامنے لانا، مکالمے کیلئے راستہ ہموار، مسائل کی نشاندہی کرنا اور ان کا حل بتانا ہوتا ہے۔ لہذا اس کی زبان انتہائی شائستہ اور بیان شیرین ہونا چاہیے۔
جن  موبائل نمبروں اور سائٹوں سے غیر معیاری اور حدِّ ادب سے گرے ہوئے الفاظ استعمال ہوتے ہیں، عوام میں ان کا اعتبار ساقط ہوجاتا ہے اور نتیجہ بھی دشمن  پروری ہی ملتا ہے۔لکھاری کیلئے تین اہداف لکھتے ہوئے مندرجہ زیل تین میں سےکوئی ایک ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے:۔
۱۔میں کیسے دلائل اور الفاظ استعمال کروں کہ میرا مخالف میرا ہم خیال بن جائے۔
۲۔ ہم خیال نہیں بنتا تو دشمنی ترک کر دے
۳۔ دشمنی ترک نہ کرے توکم از کم کھل کر مخالفت کرنے سے ہچکچائے
❤️ ہم جتنا بھی لکھیں مذکورہ بالا اہداف کے حصول کیلئے لکھیں، موقف میں لچک رکھیں اور کسی پارٹی کا جیالا بن کر نہ لکھیں ورنہ صرف اپنا اور اپنے جیسوں کا دل خوش کرتے رہیں گے۔
.......اگلا مرحلہ ہے  عنوان منتخب کرنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔
عنوان کا انتخاب
عنوان کے انتخاب کو نصف مضمون یا نصف مقالہ  کہاجاتاہے۔مضمون کا عنوان لکھنےکی چار صورتیں ہیں:۱۔مفرد ہو جیسے طمانچہ،امید،روشنی
۲۔مرکب ہو جیسے :آخری معرکہ،چراغِ سحر،نورِ بصیرت
۳۔تولیدی جملہ ہو:۔فاختاوں کے نشیمن پہ آگ کے شعلے،اسلامی بیداری اور حسینی کردار
۴۔ترکیبی جملہ ہو:۔ جیسے: ڈاکٹر نقوی۔۔۔احساس زندگی ہےپرامن شہر۔۔۔باامن نسلیںاِک فلسطین۔۔۔پاکستان میں بھی ہےزائرینِ کربلا۔۔۔یہ درس کربلاکاہے
۵۔ تحریر لکھنے کے بعد چند مرتبہ پڑھ کر تحریر کے متن سے اگر نیا عنوان نکال کر دیا جائے تو بہت ہی زیادہ موثر اور رسا ہوتا ہے۔ 
نوٹ:۔ ایک تحقیقی مقالے کا عنوان کُلی نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ قید لگا کر اس کے دائرہ تحقیق کو محدود اور واضح کیا جانا چاہیے۔مثلاً- دینِ اسلام میں والدین کے حقوقیہ عنوان مضمون کیلئے اچھا ہے لیکن علمی مقالے کیلئے اس میں مندرجہ زیل تبدیلیاں ہونی چاہیے:
۱۔ قرآن مجید میں والد کے حقوق
۲۔ قرآن و حدیث میں والد کے حقوق
۳۔ کتبِ اربعہ میں والد کے حقوق
۴۔ تفسیر المیزان میں والد کے حقوق
توجہ :
 والد کی جگہ والدہ یا والدین دونوں بھی لکھ سکتے ہیں لیکن جتنا جزئی کام کریں گے اتنا ہی زیادہ آسان، علمی اور معیاری کام ہوگا۔ لکھنے کی شروعاتسب سے پہلے موضوع منتخب کریں، اور پھر اسی موضوع کے بارے میں اپنے دماغ میں یا الگ سے ایک کاغذ پر چند سوالات اٹھائیں۔ انہی سوالات کے جوابات کو منطقی ربط کے ساتھ کاغذپر لکھ دیں۔ لکھتے ہوئے پانچوں اصولوں کی رعایت کریں۔مختصر اور مفید
کیا آپ  تحقیقی مقالہ  لکھ سکتے ہیں؟یہ سوال آپ کو مجبور کرے گا کہ آپ اپنا امتحان لیں۔اگر آپ  مندرجہ زیل تین باتوں پر قادر ہیں تو پھر آپ  ایسا سکتے ہیں:۱۔ ادبیات پر عبور۲۔منابع کا موجود ہونا۳۔اپنے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات ڈھونڈ لیناموضوع کے بارے میں  چار طرح کے سوالات ہو سکتے ہیں۔
•   وضاحتی سوالات: اس طرح کے سوالات میں کون، کیا، کن، کہاں اور کیوں  جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔جیسے فرشتہ کیا ہے؟•    متعلقہ سوالات: ان سوالات میں, دو یا اس سے زیادہ متغیر کے درمیان تعلقات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے.جیسے تولید اور مہنگائی کا آپس میں کتنا تعلق ہے؟•    تقابلی سوالات: ان سوالات سے  متغیرات کی سطح کے درمیان فرق کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔مثال: معاشرتی ارتقا میں سلفی اور جعفری مکتب کی سطح کتنی ہے؟• 

   وجہ اور تاثیر  کی جانچ کے  سوالات: کسی مسئلے کی وجہ اور پر اثر انداز ہونے والے عوامل کے بارےمیں سوال اٹھائے جاتے ہیں۔   جیسے کیا غلو میں اضافے کی وجہ  ذاکرین کی مالی اعانت ہے؟ متن لکھنے سے پہلےعنوان منتخب کرنے کے بعد متن لکھنے سے پہلے محاورے، کہاوت اور ضرب المثل سے آشنائی ضروری ہے۔
محاورے،کہاوت اور ضرب المثل کا فرق محاورہ :۔۱۔ ترکیب اور ترتیب معین ہوتی ہے۲۔مجازی معنوں میں استعمال ہوتاہے۳۔ اصل معانی کا واضح اشارہ ملتا ہے۴۔ محاور ے’’نا‘‘ پر ختم ہوتے ہیں ۵۔یہ مکمل جملہ نہیں ہوتےمثلاًہاتھ پاؤں توڑکے بیٹھ جانا۔۔۔ناامید ہوجانا،آنکھیں دکھانا،آنکھوں میں رات کاٹنا،باتیں بنانا،وغیرہ وغیرہکہاوت۱۔کسی سبق آموز واقعے کا نتیجہ ہوتی ہے۲۔مکمل جملہ ہوتی ہے۳۔مصدری حالت میں شاز ہیں[بھینس کے آگے بانسری بجانا]۴۔ بعض مصرعے یا شعر بھی ہیں۵۔ ایسے مصرعے یا شعر ضرب الامثال ہیں۶۔کم پڑھے لکھے لوگ استعمال کرتے ہیںمثلاً:۔ کام کا نہ کاج کا،دُشمن اناج کا؛  ناچ نہ آئے آنگن ٹیڑھا  ضرب الامثال۱۔پڑھے لکھے طبقے کی زبان ہے۲۔مکمل جملہ ہوتا ہے۳۔مجازی معنی اداکرتاہے۴۔کسی شعر کا مصرعہ بھی ہوسکتاہےمثلا:۔ لو آپ اپنے دام میں  صیاد آ گیا،ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگیعلامتوں کا استعمال۱۔سکتہ:اسے انگلش میں کاما کہتے ہیں۔(الف) ایسے جملوں کے درمیان میں آتا ہے جن کی ترکیب سے مکمل کلام بنتاہے، جیسے:ماں قدرت کاانمول تحفہ ہے،تحفہ ہرکسی کو پسندہے،کسی کو دینا اور کسی کو لینا، اچھے تحفے دینااپنے رب سے سیکھئے، اپنے بچوں کو اچھے تحفے دیجئے،خصوصا اچھی ماں کا تحفہ۔(ب) کسی چیز کی اقسام کے درمیان فرق قائم رکھنے کے لئے:مسلمانوں کی پانچ مشہور فقہیں ہیں:۱۔حنفی،۲۔جعفری،۳۔حنبلی، ۴۔۔۔۔،(ج) ایک ہی جملے میں آنے والے اسما کے درمیان، جیسے: زید،بکر ،جعفر،عثمان اور علی نے عمر کو مارا۔(د) کسی سوال کے جواب میں ”ہاں” یا ”نہیں” کے بعد۔جیسے :کیاآپ کا گھر اسلام آباد ہے؟جی نہیں،میراگھر اسلام آبادنہیں بلکہ اسلام آباد میں ہے۔(ھ) مختلف تراکیب کے درمیان ، جیسے:شان و شوکت،ٹھاٹھ باٹھ اور رعب و دبدبے کا یہ عالم تھا کہ۔(ر)   آپس میں غیرمربوط اعداد کے درمیان آتاہے  صرف ۵،۶مسافر بچ سکے۔۲۔ وقف کامل (۔)]فل اسٹاپ]جب ایک بات جملے میں مکمل ہوجائے اور اس کے بعد نیا جملہ شروع ہو رہا ہو تو پہلے جملے کے آخر میں یہ علامت لگاتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پہلے والی بات مکمل ہوگئی ہے۔مثلاً اللہ تعالی ہمارا معبود ہے۔ وہ ہم سب کا خالق ہے۔ ہمیں اس سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔۳۔ علامت شعر ( ؎)یہ علامت عبارت میں شعر لکھنے سے پہلے لگائی جاتی ہے، جیسے:؎تندی باد مخالف سے نہ گھبرااے عقابیہ تو چلتی ہے تجھے اونچااڑانے کے لئے۴۔ علامت مصرع (ع)یہ علامت مصرع سے پہلے  استعمال کی جاتی ہے، جیسے: ع یہ تو چلتی ہے تجھے اونچااڑانے کے لئے۵۔دو نقطے: (الف) متکلم اور اس کے کلام کے درمیان استعمال کئے جاتے ہیں،جیسے:علی نے کہا:میں کل آوں گا۔ (ب) کسی چیز کی وضاحت اور تفصیل سے پہلے، جیسے:اصول دین پانچ ہیں:توحید،عدل،نبوت،امامت اور قیامت۔نیز کسی علمی یا ادبی قانون کی مثال دینے سے پہلے بھی دو نقطے استعمال ہوتے ہیں ،جیسے :اگر ہائے مختفی کے بعد حرفِ ربط آجائے تووہ ـےـ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔مثلاً: کعبہ سے کعبے،ادارہ سے ادارے۶۔علامتِ استفہام (؟) یہ علامت ہمیشہ سوال کے آخر میں آتی ہے، جیسے: کیا آپ نے کھانا کھالیاہے؟ ۷۔علامت تعیین (” ”) یہ علامت اقتباس کے آغاز اور اختتام پر لگائی جاتی ہے، جیسے: مارچ کے مہینے میں یوم ِ پاکستان ”۲۳مارچ” کوملیں گے۔ ۸۔علامتِ حذف (۔۔۔) یہ تین نقطوں کی شکل میں ہوتی ہے، اسے کلام کی ابتدا یا انتہا دونوں جگہ کلام کو حذف کرنے کے لئے لگایا جاتا ہے، جیسے: صدر پاکستان نے کہا۔۔۔۸۔” علامت تعجب (!) یہ علامت  ذہنی جذبات و احساسات کے اظہاراور توجہ حاصل کے لئے استعمال ہوتی ہے،جیسے:اس نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا:ہائے افسوس!یہ ہے برائی کا انجام !ٹھہریے!غور کیجئے!9۔مربع قوسین [] یہ علامت مولف کے نظریات اور اس کی اپنی وضاحتوں کے لئے استعمال ہوتی ہے تاکہ متن اور مولف کے الفاظ کے درمیان فرق قائم رہے۔10۔قوسین() ۔الف۔ یہ علامت اس عبارت پر آتی ہے جو کلام میں مقصود نہیں ہوتی جیسے: اعجازالحق (ضیاالحق کے بیٹے) نے بھی اپنے باپ کی طرح امریکہ نوازی کا ثبوت دیا۔ ب۔ حوالہ لکھنے سے پہلے متن میں درج اقتباس کے اختتام پر قوسین کے درمیان نمبر لکھا جائے گا (1)، (2) اس کے بعد حاشیہ میں یہی نمبر لکھ کر اس ماخذ اور کتاب کا نام لکھا جائے گا۔
نوٹ: اگر ایک تحریر میں کسی  کتاب کا حوالہ یکے بعد دیگرے  دینا پڑے اور تو کتاب کے نام کی جگہ ایضاً لکھ دینا کافی ہے۔کسی آیت مبارکہ کے حوالے دینے کے لئے قوسین کے درمیان پہلے سورت کا نام، اس کے بعد سکتہ اور پھر آیت کا نمبر درج کیا جائے گا۔ (البقرہ، 2) حدیث مبارکہ کا حوالہ لکھنے سے پہلے، مؤلف کا نام (کلینی) کتاب کا نام (کافی) حصہ کا نام (کتاب الطہارہ) باب کا نام (باب المسح علی الخفین) کتاب کا نمبر اور صفحہ نمبر اور رقم، جیسے: (کلینی، کافی، کتاب الطہارہ، باب المسح علی الخفین، 1: 121، رقم: 12) فہرست کتابیات میں صرف ان بنیادی ماخذ و مراجع کے نام درج کیے جائیں جن سے عملی طور پر مدد حاصل کی ہے۔ اگر مقالے میں قرآن کریم کی کوئی آیت درج کی گئی ہے تو فہرست کتابیات میں سب سے پہلے قرآن حکیم کا ذکر کیا جائے گا۔مؤلف کا نام اور اس کے والد کا نام لکھ کر سکتہ، کتاب کا نام جلی کرکے سنِ وصال اور پیدائش یا علیحدہ رسم الخط میں لکھا جائے گا اور پھر طباعت اور طباعت کا سن لکھا جائے گا۔میں کیا لکھ رہا ہوں؟اب مرحلہ یہ ہے کہ لکھنے والے کو کیسے پتہ چلے کہ میں مضمون لکھ رہا ہوں یا کالم، درس لکھ رہا ہوں یا تقریر، اسی طرح اداریہ لکھ رہا ہوں یا انشا، اور یا پھر حاشیہ لکھ رہا ہوں یا خلاصہ، یا پھر کسی کتاب کا مقدمہ لکھ رہا ہوں یا آرٹیکل۔۔۔اس کیلئے ہمیں پیٹرن اور پیرا ڈائم کا فرق سمجھنا ہوگا۔پیٹرن  اور پیراڈائم  کا فرقبیرونی شکل کو پیٹرن کہتے ہیں، اور اندرونی شکل کو پیراڈائم ،جیسے: سر، دھڑ ، دوبازو اور دوٹانگیں یہ انسان کا پیٹرن[بیرونی شکل] ہے اور پیٹرن[بیرونی شکل] کے اندر صوفی،کافر،درویش،باپ،بیٹا الغرض جوکچھ بھی ہے وہ پیراڈائم [ ذہنی شکل]ہے۔آپ پیٹرن [بیرونی شکل]کو  بدلیں گے تو وہ انسان نہیں رہے گا البتہ پیراڈائم [ ذہنی شکل]کو تبدیل کرسکتے ہیں۔لکھتے ہوئے بھی ایک پیٹرن [بیرونی شکل]ہے اور ایک پیراڈائم [اندرونی شکل]ہے۔ہم  پیٹرن کوبغیر کسی تبدیلی کے سیکھتے ہیں جبکہ پیراڈائم کو خود تولید کرتے ہیں۔مثلا  مقالہ، داستان، کالم، مضمون، اداریہ، مقالہ،خبر، نظم، شعر یہ سب پیٹرن ہیں، اگر ہم کالم اور مضمون یا اداریے اور کالم وغیرہ  کے فرق کو نہیں سیکھیں اورنہیں سمجھیں گے تو پیٹرن کو خراب کر دیں گے۔ یاد رہے کہ پیٹرن کا تعلق تمرین سے ہے اور پیراڈائم کا تعلق تعلیم اور مطالعے سے ہے۔
پیٹرن اور پیراڈائم کے فرق کو سمجھے بغیر ہم وقت تو ضائع کر سکتے ہیں لیکن کوئی معیاری تحریر یا تقریر تخلیق نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ تمام فنون کا ایک پیٹرن اور ایک پیراڈائم ہے۔  علم و فن کی نسبت ہر وہ شخص ان پڑھ ہے  جو  علم و فن کےپیٹرن اور پیراڈائم سے آگاہ نہیں۔ علم اپنی طاقت کا اظہار فن سے کرتا ہے۔ لہذا ہمیں علم کے ساتھ فن پر بھی مکمل عبور ہونا چاہیے۔ اگر مکمل عبور نہ بھی ہو تو ضرورت کی حد تک مہارت ہونی چاہیے۔ لکھنے میں کمزوری کی چند وجوہات علوم و فنون میں کمزوری کی چند وجوہات ہوسکتی ہیں۔لہذا اپنی نسبت اپنی کمزوری کو بھی اچھی طرح  پہچان کر اس کا تدارک کیا جانا چاہیے۔۱۔فنی اعتبار سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنا۲۔تعلیم کو ادھورا چھوڑدینا۳۔تعلیم کے بغیر ہی میدان میں کود پڑناہر شعبے کی طرح  صحافت میں بھی دو طرح کے لوگ ہیں ۔ ایک وہ کہ جو اس کے پیٹرن اور پیراڈائم کو اچھی طرح جانتے ہیں اور دوسرے وہ جو پیٹرن اور پیراڈائم سے آگاہ تونہیں البتہ ان کے پاس ڈگری ہے یا پھر تعلقات کی وجہ سے میدان صحافت میں دکھائی دیتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ پڑھے لکھے ان پڑھ کہلاتے ہیں۔لہذا ہمیں صحافت اور اردو کی کم از کم  الف ب  کو اچھی طرح جاننا اور سیکھنا چاہیے۔معیاری تحریر کے پانچ بنیادی اصولاب ہم ایک معیاری تحریر کے پانچ بنیادی اصول بیان کر رہے ہیں۔ ان اصولوں کی رعایت کر کے کم عرصے میں بہترین اور معیاری تحریر لکھی جا سکتی ہے۔معیاری تحریر کے پانچ اصول پہلا اصول:ہمیشہ جو لکھیں اس پر کم از کم دوبار خود نظرِ ثانی کریں۔ نظرِ ثانی کرتے ہوئے، موضوع سے مطابقت، مذکر و مونث، مفرد و جمع ، علامتوں کے استعمال، اپنے دئیے گئے اعداد و شمار، حوالہ جات، عنوان ،اپنانام  اور ہائے مختفی کو ضرور  دیکھیں۔ناموں کے ہجے spellings اور ان کے تلفظ کی درستی کا خیال رکھیے۔اس سلسلے میں باقاعدہ تحقیق کریں۔مثلاً:یہ القائدہ ہے یا القاعدہ، حامد کرزائی ہے یا کرزئی، براک اوباما ہے یا بارک اوباما، کرونا ہے یا کورونا ہے وغیرہ وغیرہ۔بعض لوگ جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے وہ احساس کمتری کی وجہ سے ہر لفظ کے ساتھ بریکٹ میں انگریزی کا  لفظ لکھتے ہیں۔ جبکہ لکھتے ہوئے صرف اصطلاحات کی انگریزی لکھنی چاہیے۔مثلا : سعید گھر[house]  آیا تو دروازہ [door]کھلا تھا۔ یہ سراسر لاعلمی یا احساس کمتری ہے۔البتہ اس طرح لکھا جائے تو مستحسن ہے :۔آب مضاف[added water]سے وضو نہیں کیا جاسکتا۔اسی طرح انگریزی الفاظ کی جمع بناتے ہوئے بھی قانون کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اگر آپ غور کریں تواکثر انگریزی الفاظ کثرت استعمال سے اردو کے لفظ بن چکے ہیں۔اردو زبان میں  انگریزی الفاظ کی جمع بناتے ہوئے مونث الفاظ کو مفرد استعمال کر کے جمع مراد لی جاتی ہے،جیسے:  پولیس بھاگ کر آئی۔ فوج دیکھتی رہ گئی۔۔۔مذکر الفاظ کو اس طرح جمع بنایا جاتاہے۔کمپیوٹروں کا وائرس خطرناک ہے۔ٹی وی پروگراموں میں دیکھیں۔
دوسرا اصول:غیر ضروری الفاظ کا استعمال نہ کیجیے۔ مختصر ،مفید اور خلاصہ لکھئے۔ جو دعویٰ کریں اس کا ثبوت اور حوالہ ضرور لائیں۔تیسرااصول: چھوٹے چھوٹے جملے اور چھوٹے چھوٹے پیراگراف لکھیں، ایک پیراگراف میں ایک سے زیادہ  مسائل کو چھیڑنے سے اجتناب کریں۔چوتھااصول:پہلے اور آخری جملے کو مربوط رکھیں۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ موضوع سے خارج نہیں ہونگے۔ہر پیراگراف لکھتے ہوئے یاد رکھیں کہ میں نے موضوع پر ہی رہنا ہے۔پانچواں اصول: بعض لوگ سارے مسائل ایک ہی کالم میں حل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بہت ساری باتوں کو ایک ساتھ چھیڑتے ہیں، اس سےتحریر کا ستیاناس ہوجاتاہے۔ایک  کالم  میں صرف ایک   بات  کو چھیڑیں۔ 
ایک نمایاں غلطی
معیاری تحریر کے پانچ اصولوں کے بعد ہم آپ کو ایک ایس غلطی بتاتے چلیں جو آپ کی معیاری سے معیاری تحریر کو بھی غیر معیاری اور کرکرا بنا دیتی ہے۔ وہ غلطی ہے ہائے مختفی کی۔ آئیے ہائے مختفی کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہائے مختفی ہے کیا؟
ہائے مختفی کو ہائے خفی بھی کہتے ہیں، یہ وہ ہ ہے جو  عربی اور فارسی کے الفاظ کے آخر میں ہوتی ہے اور اس سے پہلے فتحہ یعنی زبر کا بلا فاصلہ ہونا ضروری ہے ۔
جب یہ الفاظ اردو میں استعمال ہوتے ہیں تو ان کے بعد اگر حرفِ ربط [کا ، کے، کی ، سے، میں۔۔۔] آجائے تو وہ "ے"  میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ مثلاً: کعبہ ،ادارہ، مجلہ، پردہ، دیوانہ، جلسہ اور غنچہ۔
وضاحت:
۱۔ مجلے کا تجزیہ نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں {درست}مجلہ کا تجزیہ نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں[غلط]
۲۔میں نے دیوانہ کو دیکھا [غلط]میں نے دیوانے کو دیکھا{درست}
۳۔ کعبہ کے گرد طواف ہوتا ہے[غلط]کعبے کے گرد طوف ہوتا ہے{درست}ہائے مختفی کی تمرین بہت ضروری ہے۔ بیانیہبیانیے میں وقت کی جو اہمیت ہے ‘ یہ صرف نظموں میں یا شاعری میں ہی نہیں بلکہ ہر بیانیہ چاہے وہ نثر میں ہو یانظم میں‘ اس میں وقت کی اپنی اہمیت ہے۔ جہاں فن پارے میں ماضی بطور وقت ہوگا وہاں بیانیے کی گنجائش زیادہ ابھرتی ہے ۔جہاں حال ومستقبل بطور وقت استعمال میں آیا ہو وہاں بیانیے کے پنپنے کے آثار نسبتاً کم ہوتے ہیں۔وقت اپنی جگہ اہم صحیح تاہم بیانیے کا اصل دارومدار قصے یا کہانی پر ہے ‘جہاں واقعے‘ قصے یا کہانی کا عمل دخل ہو گا وہاں زیادہ سے زیادہ بیانیے کی کارفرمائی ہوگی۔فکشن
فکشن( فِکْشَن ){ فِک + شَن } کی بنیاد پر ادب کی تقسیم:افسانوی ادب: بعض آپ بیتیاں، سفرناموں کی کچھ اقسام، داستان،  ناول،  افسانہ،  ڈراما، افسانچہ، فلم،  پیروڈی۔ غیر افسانوی ادب: سفر نامہ، طنز و مزاح،خطوط ڈائری/روزنامچہ،  انشائیہ،  (تذکرہ / تذکرہ نگاری)،  دیباچہ، مراسلہ، روزنامچہ،  تبصرہ، لغت نویسی،رپورتاژ، مقالہ، مضمون، تاریخ،(سوانح/ سوانح حیات/ آپ بیتی / خود نوشت سوانح )، خود نوشت،  (خاکہ/خاکہ نگاری) فکشن اور تاریخفکشن اور تاریخ دونوں کا تعلق واقعات کے بیان سے ہے۔اس لیے ان دونوں کی نوعیت بیانیے کی ہے۔ تاریخ کے بارے میں عمومی مفروضہ یہ ہے کہ یہ ماضی کے حقیقی واقعات سے سروکار رکھتی ہے جب کہ فکشن کے لیے حقائق کی نوعیت مختلف ہے یعنی تاریخ کے برعکس فکشن تخیلی’ خیالی او ر تخلیقی واقعات سے تعلق رکھتاہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فکشن میں واقعات تخلیق ہوتے ہیں جب کہ تاریخ میں پہلے سے رونما ہوئے واقعات کابیان ہوتا ہے۔جہاں تک خود فکشن  کی تاریخ کا تعلق ہے  تو یہ خود تاریخ سے قدیم ہے۔ فکشن لاطینی زبان کالفظ ہے جس کے لغوی معنی تخیل کے ذریعے تخلیق کر دہ ادب ہے۔اس کا اردو میں افسانوی ادب ترجمہ کیاگیاہے لیکن لفظ فکشن کو بھی من و عن استعمال کیاجاتاہے۔اردو میں فکشن سے مراد ناول اور افسانہ ہے جب کہ افسانوی ادب تمام طرح کے قصوں کو کہا جاسکتا ہے۔ فکشن رائٹر کتنی ہی مہارت سے ہماری دنیا ہمیں دکھائے، ہمیں ہی اپنا کردار بنائے، ہماری محرومیاں اور زیادتیاں سامنے لائے، یاد رکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ یہ سب فکشن ہے۔اُس تحریر سے کوئی مثبت نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے لیکن اُسے کسی مقدمے کے لیے فردِ جرم نہیں بنایا جا سکتا۔ اُس کی بنیاد پر کسی کو کافر یا غدار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فکشن پڑھنے والا سچ اور مفروضے میں فرق جان جاتا ہے۔ اسے جھوٹی خبریں نہیں سنائی جا سکتیں۔ اُسے مسخ تاریخ نہیں پڑھائی جا سکتی۔ اُسے نفرت پر اکسانے والا درس نہیں دیا جاسکتا۔اُسے یہ سمجھ آجاتی ہے کہ کہاں پر سوال اٹھانا مناسب ہے۔  فکشن سے دور رہنے والے، دولے شاہ کے چوہوں کی قوم بن جاتے ہیں۔ اُن کی آنکھوں پر پٹی اور ناک میں نکیل ڈالنا ممکن ہوجاتا ہے۔ انھیں محترم لوگ ہانک کر جہاں جی چاہے، لے جاتے ہیں۔ انھیں سوچنے پر نہیں اکسایا جاسکتا کیونکہ اُن کا دماغ اِس قابل نہیں رہتا۔۔۔۔۔۔فینٹیسی،Fantasy  تخیلہ فینٹیسی (تخیلہ) لٹریچر، پریوں، بونوں، جنوں اور دیگر غیر حقیقی مظاہر پر مبنی خیالی دنیاؤں کی عکاسی کرتا ہے۔وہ داستان نویسی کے اصولوں کی مکمل پابندی کرتا ہے۔امیجینیشن: اس کا تعلق بھی تخیل سے ہے۔اس میں تخیل مصوری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔فیڈ بیکفیڈ بیک کے فوائد۱۔درست معلومات کی جمع آوری یا فراہمی۲۔ مکالمے کے ساتھ اختلافات حل کرنا۳۔ کسی تحریر، پروجیکٹ یا پروڈیکٹ کی خامیاں اور نقائص معلوم کر ے اسے بہتر بنانا۴۔لچکدار اور دوستانہ قلمی تعلق کے ذریعے دشمن کو دوست، سخت کو نرم اور پتھر کو موم بنایا جا سکتا ہے۔فیڈ بیک میں بنیادی طور پر تین نکتے بیان کرنے چاہیے:۱۔ پسندیدہ ۲۔ ناپسندیدہ ۳۔ اپنا مشورہ
فیڈ بیک کا طریقہ:
سب سے پہلے سمجھنے کی باتیں:
ری ایکشن:۔ ایک فوری ردعمل جیسے مچھر کے کاٹنے پر ہاتھ کی حرکت
ریفلیکس:۔ یہ تشخیص دینا کہ کس چیز کے ساتھ ردعمل دیا جائے، ہاتھ سے زبان سے، جملے سے، شعر سے، آیت سے روایت سے، لکھ کر یا فون کر کے یا چائے پلاکر
رسپانس:۔ یہ حساب کتاب لگانا کہ ردعمل کے نتیجے میں جو ردعمل آئے گا وہ کس نوعیت اور کتنی طاقت کا ہوگا۔ اس لئے فی الحال میرا رد عمل کتنی طاقت کا اور کس انداز کا ہونا چاہیے تاکہ میرے مطلوبہ مقاصد حاصل ہو جائیں۔کوارڈینیشن: ردعمل کے وقت نظریاتی افراد کی آپس میں کوارڈینیشن اور تقسیمِ کار ہونی چاہیے۔ مثلا ایک پتھر کو اگر چاروں طرف سے زور لگائیں گے تو وہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرے گا۔فیڈبیک نوٹ:۔ فیڈبیک مشروعیت کے بجائے مقبولیت کیلئے ہونا چاہیے  اردو ادب کے اراکین خمسہیہ لوگ ادب برائے زندگی کے قائل تھے۔محمد حسین آزاد (1830-1910) سرسید احمد خاں (1817-1898)حالی (1837-1914) نذیر احمد (1826-1912) شبلی نعمانی (1857-1914) تمرین کے دوران اور ویسے بھی ان پانچوں افراد کی کتابوں کا مطالعہ اور ان سے لگاو ضروری ہے۔سرسید انہوں نے سادہ نثر کو فروغ دیا قدامت پرستی کا خاتمہ کیا ۔اردو نثر کو استدلال اور عقلیت سے آشنا کیا۔حالیحالی نے اردو ادب کو سوانح نگاری ادو تحقیق سے آشنا کیا ۔سوانح نگاری میں ان کی تین سوانح عمریاں "حیاتِ سعدی،یادگارِغالب اور حیاتِ جاوید" اپنا منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کا "مقدمہ شعروشاعری" جدید اردو تنقید کا پہلا عظیم کارنامہ ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے "مجالس النساء" لکھ کر بچیوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ایک اور کارنامہ سر انجام دیا۔ڈپٹی نذیر احمد ۔ اردو کے پہلے ناول نگار ہیں۔انہوں نے پہلی بار افسانوی ادب کو معاشرتی مسائل اور متوسط خاندانوں کی زندگی کا ترجمان بنایا۔ان کے ناول مراۃ العروس،توبتہ النصوع،فسانہِ مبتلا اور ابن الوقت آج بھی دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔نذیر احمد نے پہلی بار اپنی کتابوں میں ظرافت کی چاشنی سے کام لیا۔ ان کا مشہور کردار"ظاہردار بیگ" اردو ادب میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ نذیر احمد نے پہلی بار دہلی کی نسوانی زبان کو رواج دیا۔شبلی  نعمانی اردو کے پہلے مورّخ ہیں۔ ان کی سوانح عمریاں  مقبولیت عام کا درجہ رکھتی ہیں۔ مثلاً "المامون، الفاردق، الغزالی، سوانح مولانا روم، اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر اور سیرت النبوی" ادب تحقیق و تنقید میں "شعر العجم اور موازنہ انیس ودبیر بھی ان کے دو شاہکار ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ ان کے مقالات بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ اپنی ذات میں ایک دبستان تھے۔محمد حسین آزاداردو ادب کے عناصرِ خمسہ کی آخری کڑی۔انھوں نے انگریزی زبان کی تقلید پر پہلی بار اردو میں تمثیلی مضامین لکھے جو بعد میں نیرنگِ خیال کے نام سے شائع ہوئے۔ اردو ادب میں آزاد کی حقیقی شہرت ان کی "آبِ حیات" کی وجہ سے ہے ۔ یہ اردو شاعری کی تاریخ بھی ہے اور تنقید بھی۔ آزاد ایک مورخ بھی ہیں اور محقق بھی،ایک نقاد ارو ادیب بھی اور ایک صاحبِ طرز انشا پرداز بھی۔اس دور کی دوسری شخصیت حالی ہیں جنھوں نے ادرو ادب کو سوانح نگاری ادو تحقیق سے آشنا کیا سوانح نگاری میں ان کی تین سوانح عمریاں "حیاتِ سعدی،یادگارِغالب اور حیاتِ جاوید" اپنا منفرد مقام رکھتی ہیں ان کا "مقدمہ شعروشاعری" جدید اردو تنقید کا پہلا عظیم کارنامہ ہے اس کے علاوہ "مجالس النساء" لکھ کر بچیوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ایک اور کارنامہ سر انجام دیا۔اس دور کی تیسری شخصیت ڈپٹی نذیر احمد ہیں جو اپنی بچیوں کے لیے کہانیاں لکھتے تھے اردو کے پہلے ناول نگار بن گئے۔ نذیر احمد نے پہلی بار افسانوی ادب کو معاشرتی مسائل اور متوسط خاندانوں کی زندگی کا ترجمان بنایا۔ان کے ناول مراۃ العروس،توبتہ النصوع،فسانہِ مبتلا اور ابن الوقت آج بھی دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔ آپ بہترین مقرر بھی تھے ان کے مضامین بھی خاصے کی چیز ہیں۔نذیر احمد نے پہلی بار اپنی کتابوں میں ظرافت کی چاشنی سے کام لیا۔ان کا مشہور کردار"ظاہردار بیگ" اردو ادب میں ہمیشہ زندہ رہے گا نذیر احمد نے پہلی بار دہلی کی نسوانی زبان کو رواج دیا۔اردو کے عناصرِ خمسہ میں چوتھی شخصیت شبلی کی ہے۔ شبلی ایک ہمہ گیر طبیعت کے مالک تھے لیکن ان کے مزاج پر تاریخی رنگ زیادہ گہرا ہے۔وہ اردو کے پہلے عظیم مورخ ہیں جہنوں نے اردو ادب کو تاریخی سوانح عمریاں عطا کیں۔ مثلاً "المامون، الفاردق، الغزالی، سوانح مولانا روم، اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر اور سیرت النبوی" ادب تحقیق و تنقید میں "شعر العجم اور موازنہ انیس ودبیر بھی ان کے دو شاہکار ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان کے مقالات بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔شبلی کے علمی مشاغل کے بہت سے پہلو ہیں وہ مورخ بھی ہیں اور فلسفی بھی،نقاد بھی اور شاعر بھی غرض یہ کے وہ اپنی ذات میں ایک دبستان تھے۔محمد حسین آزادجو اس دور کے ایک بے مثال ادیب ہیں اردو ادب کے عناصرِ خمسہ کی آخری کڑی۔انھوں نے انگریزی زبان کی تقلید پر پہلی بار اردو میں تمثیلی مضامین لکھے جو بعد میں نیرنگِ خیال کے نام سے شاۂع ہوئے۔اردو ادب میں آزاد کی حقیقی شہرت ان کی "آبِ حیات" کی وجہ سے ہے یہ اردو شاعری کی تاریخ بھی ہے اور تنقید بھی۔ آزاد ایک مورخ بھی ہیں اور محقق بھی،ایک نقاد ارو ادیب بھی اور ایک صاحبِ طرز انشا پرداز بھی ادروکے یہ پانچ بڑے نام جنوں نے اردو ادب میں انقلاب برپا کر دیا اردو ادب میں نئی اصناف کا اضافہ کیا۔زبان و بیان میں سادگی اپنائی۔ یہ لوگ ادب برائے زندگی کے قاۂل تھے۔ان لوگوں نے ادب کو حقیقت سے روشناس کروایا، قدامت پرستی سے ادب کو نجات دلائی، ان لوگوں نے ادب میں عام طبقے کے مساۂل کو ابھارا۔یہ ایک تحریک ہے اور اس نے اردو ادب کو نئی ڈگر پر چلنے کے قابل بنایا۔اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ نہ صرف اردو ادب کو یہ وقار حاصل ہوتا بل کہ اردو زبان کی یہ ترقی یافتہ شکل ہمارے سامنے نہ ہوتی۔یوں کہیں کے ان لگوں نے اردو ادب میں ایک انقلاب برپا کیا جو نہ صرف اس دور میں بل کہ آنے والے دور میں بھی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ لکھاری مطالعے کا مقصد۱۔ افزائش موضوعات مثلا : مرزا غالب کے سیاسی نظریات شہید مطہری کے رفاہ عامہ کے حوالے سے اقدامات۲۔ افزائش معلومات نیا ذخیرہ الفاظ، نئی ترکیبات، نئے جملے اور نئے زاویے۳۔ افزائش نظریات ایک ہی تحریر سے متعدد نظریات اخذ کرنا ذرائع ابلاغ، ادب اور صحافت میں فرقوہ ذرائع  جو دو دماغوں کے درمیان انتقال مطالب کے کام آتے ہیں۔ انہیں  اردو میں ذرائع ابلاغ اور انگریزی میں میڈیا کہتے ہیں۔پرنٹ میڈیا میں وہ تمام ذرائع شامل ہیں جن کی مدد سے ہم لکھ کر بات چیت کرتے ہیں۔برقی ذرائع ابلاغ میں وہ تمام ذرائع شامل ہیں جن میں بات کو پہچانے کے لیے برقی توانائی کی ضرورت ہو۔ سائیبر میڈیا: ذرائع ابلاغ کی جدید ترین شکل ہے جس نے بہت کم عرصے میں بہت زیادہ ترقی کی۔یہ میڈیا کی جدید ترین شکل ہے اسے جدید میڈیا بھی کہا جاتا ہے ۔ آج دنیا میں اسے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اس کی اہمیت، افادیت اور وسعت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔سائیبر میڈیا میں انٹرنٹ، ویب سائٹس ، بلاگز وغیرہ شامل ہیں۔ ذرائع ابلاغ جدید معاشرے کا ایک اہم شعبہ بھی ہیں اور دوسرے تمام شعبوں پر اثر انداز ہو کر  ان کی صورت گری کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس لئے اس شعبے کا اسلامی بنیادوں پر استوار ہونا نہایت ضروری ہے، اس شعبے میں اسلامی اصول واحکام کی کماحقہ پابندی نہ ہونے کے مضمر اثرات  بہت نمایاں ہیں۔ایک طرف صحافت اور اہل صحافت کا اخلاقی معیار گر رہا ہےاور دوسری طرف معاشرتی و سیاسی اور دینی اقدار متاثر ہو رہی ہیں۔ اردو ادب ادب (Literature) عربی زبان کا لفظ ہے اور مختلف النوع مفہوم کا حامل ہے۔ اردو ادب نثر اور شاعری پرمشتمل ہے۔ نثری اصناف میں کالم، مضمون، ناول، افسانہ، داستان، انشائیہ، مکتوب نگاری اور سفر نامہ وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ شاعری میں غزل، رباعی، نظم، مرثیہ، قصیدہ اور مثنوی ہیں۔ اردو ادب میں نثری ادب بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ شعری ادب۔
خواہشِ تخلیق انسان کی فطرت ہے۔ اسی جبلی خواہش سے آرٹ پیدا ہوتا ہے۔ آرٹ اور دوسرے علوم میں یہی فرق ہے کہ اس میں کوئی مادی نفع مقصد نہیں ہوتا۔ یہ بے غرض مسرت ہے۔ ادب آرٹ کی ایک شاخ ہے جسے "فن لطیف" بھی کہہ سکتے ہیں۔تخیل، حُسنِ بیان، شائستگی، ظرافت، سلیقہ اور  شیرین گفتاری یہ سب ادب کی شاملات ہیں۔ ادب بنیادی طور پر پیراڈائم کی تشکیل میں مدد کرتا ہے۔ ادب کی تعریف اسی طرح مشکل ہے جس طرح دوسرے فنون کی ۔ خاص طور پر ایسی تعریف جس پر سب کو اتفاق ہو۔ بعض لوگ مثلاً میتھو آرنلڈ ہر اس علم کو جوکتاب کے ذریعہ ہم تک پہنچے ادب قرار دیتے ہیں۔والٹر پے ٹر (Walter Pater)کا خیال ہے کہ ادب واقعات یاحقائق کو صرف پیش کردینے کا نام نہیں بلکہ ادب کہلانے کے لیے اظہار بیان کا تنوع ضروری ہے۔
ایک تعریف کے مطابق ادب میں الفاظ کی ترتیب افکار اور احساسات کا اظہار اس طرح کیاجاتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے میں مسرت کا احساس پیدا ہو۔ اس کے لئے تجربات کو ادب ایک بلند تر سطح پر پہنچادیتا ہے۔ادب صرف کتابوں ہی میں نہیں ہوتا۔ ’’زبانی ادب ‘‘ کو تاریخ میں اہمیت حاصل رہی ہے۔ قدیم شعرا  طویل نظمیں کہتے تھے، جو سنائی جاتی تھیں ۔ اکثر انہیں لکھا نہیں جاتا تھا۔ادب اِظہار کا لطیف بیان ہے۔ لہذا ہر وہ چیز جس کا اظہار الفاظ میں ہو اور لکھی جائے لازم نہیں کہ  وہ ادب کے زمرے میں بھی شامل ہو ۔وہ تمام تحریریں جو معلوماتی ہوں مثلاً سائنسی علوم، علمی اور صحافتی تحریریں اس وقت تک ادب کے زمرہ میں شامل نہیں ہوتیں جب تک کہ وہ فنِ لطیف کی حد کو نہ چھولیں۔ اگرچہ خود فن لطیف کی تعریف بہت مشکل ہے۔
بایں ہمہ گردوپیش کے کسی سائنسی تجربے کو اس ڈھنگ سے پیش کیاجاسکتا ہے کہ وہ ادبی فن پارہ بن جائے اس کے برعکس بہت سی نظمیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ادب کے زمرے میں شامل نہیں کرسکتے ہیں۔ادب کی سب سے خالص شکل غنائی یا رومانی شاعری ہے۔ اس کے بعد دوسری اصناف سخن آتی ہیں۔شعر میں جب تک لطافت نہ ہو۔ وہ ذہنی اور جذباتی گہرائیوں کو چھو نہ سکے تب تک وہ شعر نہیں کہلاتا ۔ اسے زیادہ سے زیادہ نثر موزوں کہہ سکتے ہیں۔بہت سے ناول اور ڈرامے ادب عالیہ کا حصہ ہیں۔ اگرچہ ہر ڈرامہ اور ناول اس صنف میں نہیں آتا۔ چین میں ڈرامے کی بڑی قدیم روایت ہے لیکن وہاں ڈراموں کو عام طور پر ادب میں شامل نہیں کیاجاتا۔یونانیوں کے یہاں فنون لطیفہ کی سات قسمیں ہیں۔ تاریخ اس میں سے ایک ہے۔
انہوں نے اور ان کے بعد کئی مورخوں نے صنف تاریخ میں ایسے کارنامے چھوڑے ہیں جنہیں دنیا کے ادب عالیہ میں ہمیشہ اہم مقام حاصل رہے گا لیکن تاریخ کی ہر کتاب ادب نہیں ہوتی اور خاص طور سے موجودہ دور کے مورّخین ادبی پہلو پر کچھ زیادہ زور نہیں دیتے۔ایک زمانے میں مضمون نگاری (Essay Writing)کو بھی ادبی فن سمجھا جاتا تھا۔ مواد سے زیادہ اظہار بیان پر زور دیاجاتا تھا اور بعض فن پاروں نے ادب عالیہ پر مستقل جگہ بنالی ہے۔ آج کل مضمون نگاری میں مواد پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی ایسے مضمون نگار نظر آجاتے ہیں جن کے مضامین ازلی شان رکھتے ہیں۔بعض لوگوں نے خود اپنی سوانح عمریاں لکھی ہیں یا اپنے پیچھے۔
ایسی یادداشتیں اور خطوط وغیرہ چھوڑے ہیں جو دنیا کے اعلیٰ ترین ادب کا حصہ بن گئے ہیں۔فلسفہ اور دوسرے علوم کی بہت سی کتابیں ایسی ہیںجنہیں ادب عالیہ میں جگہ حاصل ہے مثلاً افلا طون کے مکالمات (Dialogues)۔ادب برائے ادب  اور ادب برای زندگیادب برائے ادب کا مقصد قلم اٹھانا ہے۔ کسی بھی موضوع پر شائستگی کے ساتھ قلم اٹھانا ادب برائے ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ کسی واقعے کو جمالیاتی بندشوں کے ساتھ بیان کرنا ہی ادب برائے ادب ہے۔ تجریدی اور علامتی شاعری ہو یا نثر اس کی بہترین مصادیق ہیں۔اس پر عبور حاصل کئے بغیر کوئی آدمی ادیب بن ہی نہیں سکتا۔ پھر اسی ادب برائے ادب کو زمانہ ماقبل اور مابعد کے ساتھ جوڑنے کا نام ادب برائے زندگی ہے۔ جب ہم ادب کو تحقیق کے ساتھ جوڑتے ہیں اور رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کیلئے استعمال کرتے ہیں تو اس سے ادب برائے زندگی جنم لیتا ہے۔نظریاتی  صحافت در اصل ادب برائے زندگی کی بہترین مثال ہے۔ ہر شعبے میں پڑھے لکھے ان پڑھ موجود ہوتے ہیں۔ادب و  صحافت میں بھی ایسا ہی ہے۔ اگر کوئی آدمی لکھتا ہے لیکن ادب برائے ادب کے مرحلے سے نہیں گزرا تو اس کے قلم سے ہی اُس کی کم علمی کا احساس ہوجاتا ہے۔قلمکار  اور معاشرہ باہمی تعامل کے رشتے میں جڑے ہوتے ہیں۔دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز  ہوتے ہیں۔ ان کا یہ رشتہ ادب برائے ادب سے قوی ہوتا ہے۔ اگر ادب برائے ادب بیچ سے اٹھ جائے تو پھر صرف الفاظ کی جگالی باقی رہ جاتی ہے۔ادب برائے ادب کی ایک روشن مثال مرزا غالب کی شاعری اور نثر ہے۔ وہ بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے۔ تاہم تحقیق اور رائے عامہ کی  طرف میلان نہیں رکھتے تھے۔
ادب برائے زندگی  میں قدم رکھنے والے کو مندرجہ زیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔۱۔ زندگی نظریاتی کشمکش کا نام ہے، لہذا ناقدین سے نہ ڈریں ۲۔ اپنی نظریاتی تبدیلیوں اور رشد کا اعتراف کریں ۳۔ کسی بھی تحقیق کے نتیجے کو اپنی مرضی کے مطابق نہ ڈھالیں۴۔ اختلافات اور حل کو تبیین کریں، کسی گروہ کا حصہ نہ بنیں ۵۔ جو نہیں جانتے اس کا دعویِ بھی نہ کریں، خواہ ادب یا صحافت کا ہی کوئی موضوع ہو ۶۔ آج جتنے بھی نظریات مانے جاتے ہیں ایک زمانے میں ان سب کو منحرف کہا گیا اور ان کی تردید کی گئی۷۔ جہالت کے ساتھ  کسی بات کو ماننے پر دلیل کے ساتھ انکار کو ترجیح دی جائے۸۔ احمقوں کی جنت میں رہنے سے عاقلوں کی دوزخ بہتر ہے۔ کسی بھی شخص، پارٹی یا گروہ کو جو شخص ناکام یا کامیاب، اچھا یا برا کہتا ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ایسی بحثوں میں نہ پڑھیں۔ نظریات و افکار اور عقائد تک محدود رہ کر اپنے عاقل ہونے کا ثبوت دیں۔ مفاہیم کُلی کو اتنا روشن کریں کہ قاری مصادیق کا تعین خود کرے۔ دانشمند کو مصادیق سے سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ ۹۔ تبیین سے زیادہ نقد دلکش ہونا چاہیے۔ نقد میں اپنی برتری، انانیت یا قابلیت کا اظہار بالکل نہ کریں۔کسی رائٹر سے اپنے شدید اختلاف کے باوجود اس کی عزت نفس کو اپنے اوپر مقدم رکھیں۔ نقد علمی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
نقد کے دوران احساسِ شکست دلانے کے بجائے مکالمے اور تبادلہ خیال کی دعوت دیں۔
۱۰۔جو ادب برائے ادب کے مرحلے سے نہیں گزرے وہ آپ کے شعبے کی نسبت ان پڑھ ہیں۔ ایسے افراد کے ساتھ ادبی  و صحافتی موضوع پر بحث سے صلاحیتیں کُند ہو جاتی ہیں۔ صحافت (Journalism)تحقیق+ادب+ رائے عامہ= صحافت
صحافت کسی بھی شعبے، الزام، حادثے، ادارے یا  معاملے کے بارے میں تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔ گو تکنیکی لحاظ سے شعبہ صحافت کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ رائے عامل کو تشکیل دینے اور عوام کو باخبر رکھنے کا ہے۔  صحافت کسی بھی معاشرے کے کلچر کو بھی  اجاگر کرتی ہے۔کلچر میں فنون لطیفہ، شادی بیاہ کی رسومات، کھیل اور تفریخ کی مختلف صورتیں شامل ہیں۔ شعبہ صحافت سے منسلک کاموں میں ادارت، تصویری صحافت، فیچر اور ڈاکومنٹری وغیرہ بنیادی کام ہیں۔1605ء میں چھپنے والا اخبار، Relation aller Fürnemmen und gedenckwürdigen Historien دنیا میں پہلا اخبار شمار کیا جاتا ہے۔ دنیا کا سب سے پہلا انگریزی اخبار جو کہ 1702ء سے 1735ء تک جاری رہا، پہلا مقبول ترین اخبار سمجھا جاتا ہے۔
آرٹ آرٹ انگریزی زبان کا لفظ ہے، جس کے کے لغوی معنی پر غورکیا جائے تو اردو میں اسے فن یا ہنر کہیں گے۔ فن کی جمع، فنون اور لطیفہ سے مراد ایک ایسا فن، جس میں لطافت ہو۔ معنوں کے اعتبار سے فنون لطیفہ کی وضاحت کچھ یوں کی جاسکتی ہے کہ ایک ایسا شعبہ جس میں وہ تمام فنون شامل ہوں، جن کے ذریعےانسان اپنے جذبات کا اظہار خوبصورت و لطیف انداز میں کرسکے اور تخلیق کو فروغ دے سکے۔
دنیا بھر کی مقبول تہذیبوں اور ثقافتوں کا سہرا بھی کسی حد تک اس شعبہ میں جدت کے شامل ہونے کو جاتا ہے، جس کےباعث دنیا بھر میں (بشمول پاکستان) ویژول آرٹس سے لے کر پرفارمنگ آرٹس تک کی کئی قسمیں پائی جاتی ہیں۔فن کی ہر قسم اپنے پیچھے جذبات کی ایک کہانی لیے ہوتی ہے۔ممکن ہے ایک آدمی نظریاتی نہ ہو لیکن جذباتی ضرور ہو گا۔یہ ایک انسان کے جذبات اور اس کی تخلیقات کو دوسرے انسان تک پہنچانے کا خوبصورت ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ فائن آرٹس کے طالب علموں کا ان تمام قسموں سے واقف ہونا بے حد ضروری سمجھا جاتا ہے۔
پرفارمنگ آرٹس
آرٹس کی تمام اقسام میں سب سے زیادہ لطیف اور دلچسپ قسم ’پرفارمنگ آرٹس‘ ہے، جس میں درج ذیل فن شامل ہیں ۔
رقص : موسیقی کی دھن کے ساتھ جسم کو ایک خاص ترتیب میں حرکت دینے کو رقص کہتے ہیں۔رقص کو ڈراما، فن آرائش اور موسیقی جیسے فنون کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ رقص کی کئی اقسام ہیں مثلاًبیلٹ ڈانس، بالروم ڈانس، سالسا ڈانس، ٹنگو ڈانسنگ، لائن ڈانسنگ، ہپ ہاپ ڈانس وغیرہ۔
موسیقی: یہ فن کی ایک ایسی قسم ہے، جس میں آواز اور خاموشی کو ایسے ترتیب دیا جاتا ہے کہ اُس سے سُر پیدا ہوتے ہیں۔ موسیقی کے لیے مختلف آلات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان آلات کے ذریعے مختلف اقسام کی موسیقی، مثلاً آپریٹک، کلاسیکل ،ماڈرن، ملکی اور پاپ موسیقی وغیرہ شامل ہیں ۔موسیقی کو آرٹ کی مشکل ترین قسموں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن یہ آرٹ کی ایک اعلیٰ ترین قسم ہے۔
موسیقی آپ کے موڈ کو بدلنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتی ہے ۔فلم اور تھیٹر: فلم اور تھیٹر تفریح کا اہم ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ انسان کے جذبات اور تخیلات پر مبنی کہانیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ تھیٹر آرٹسٹ عوام کے سامنے پرفارم کرتے ہیں جبکہ فلمیں ریکارڈ کی جاتی ہیں ۔بصری آرٹ (Visual Arts)بصری آرٹ کی تعریف کچھ یوں کی جاسکتی ہے، ’’آرٹ کی وہ قسم جس میں ایک آرٹسٹ اپنے خیالات، جذبات اور تخیلات کے اظہار کے لیے مختلف اقسام کے میڈیم استعمال کرتا ہے‘‘۔ آرٹ کی اس شاخ میںدرج ذیل قسم کا آرٹ شامل ہے ۔
ڈرائنگ: یہ آرٹ کی وہ قسم ہے،جس میں پنسل، قلم یا چارکول کا استعمال کرتے ہوئے ہاتھ سے نقشہ سازی کی جاتی ہے۔ لازمی نہیں کہ ڈرائنگ صرف ہمارے ارد گرد موجود حالات کی تصویر بیان کرے بلکہ یہ آرٹسٹ کے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات اور جذبات کی وضاحت یا خلاصہ بھی ہوسکتا ہے۔
پینٹنگ: پینٹنگ دراصل تصویری زبان ہے۔ر نگوں سے کھیلنے اور تصویروں کو زبان دینے کا نام ہی مصوری ہے۔ آرٹ کی اس قسم میں ایک آرٹسٹ اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوکرخوشیوں، کامرانیوں پریشانیوں اور حسرتوں کو رنگوں کی مدد سے اپنے کینوس میں سمونے کی کوشش کرتا ہے۔ پینٹنگ کے دوران آئل کلرز، پیسٹلز، واٹر کلرز اور چارکولز بطور میڈیم استعمال کیے جاتے ہیں ۔
مجسمہ سازی:
مجسمہ سازی کا شمار بھی بصری آرٹ میں کیا جاتا ہے۔ مجسمہ سازی کی تعریف ایک سہ جہتی آرٹ کے طور پر کی جاسکتی ہے جس میں مٹی ،پتھر اور لکڑی کے استعمال سے شکل بنائی جاتی ہے۔ تاہم، بنیادی طور پر مجسمہ سازی کے لیے دو طریقے ہی استعمال کیے جاتےہیں، ایک میں مٹی سے مجسمہ بنایا جاتا ہے اور دوسرے میں لکڑی اور پتھر کے ملاپ سے ۔
خطاطی: فنِ خطاطی آرٹ کی وہ قسم ہے، جس میں ایک مصور خوش خطی کے ذریعے اپنے فن کااظہار کرتا ہے۔ یہ فن دنیا کے ہر گوشے میں اور ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ رومن، لاطینی اور عربی زبان میں فن خطاطی کافی مقبول ہے۔اپلائیڈ آرٹساپلائیڈ آرٹس بھی فنون لطیفہ کی ایک قسم ہے۔ اس قسم میں آرکیٹیکچر، جیولری ڈیزائنر، فیشن ڈیزائنر، ووڈ کرافٹر اور انٹیریئر ڈیزائنر شامل ہیں۔صحافت آرٹ کا ایک شعبہ ہے۔نظریاتی جنگنظریاتی جنگ قلم سے لڑی جاتی ہے۔ نظریات میں تبدیلی لاکر جس طرح  یمن کےمقداد،ایران کے سلمان،مدینے کے ایوب انصاری ،مکّے کے مہاجرین اور مدینے کے انصار کو آپس میں شیر وشکر کیا جاسکتاہے، سب کو بھائی بھائی بنایاجاسکتاہے اسی طرح فکروں کو تبدیل کر کےخلافتِ عثمانیہ کا شیرازہ بکھیراجاسکتاہے، عظیم ہندوستان کو ناکوں چنے چبائے جاسکتے ہیں اور ایک پاکستان کے شکم سے کئی پاکستان جنم لے سکتے ہیں۔ دینِ اسلام  نظریاتی جغرافیئے کو بہت اہمیّت دیتا ہے۔ یہ دین لوگوں کو تعقّل،تفکّر اور تدبّر کی طرف بلاتا ہے۔مثلا اسلام کے پاس اقتصادی، سیاسی، علمی، اخلاقی، دشمن شناسی، دوست پروری الغرض ہر لحاظ سے ایک مکمل نظریہ موجود ہے۔آج امت مسلمہ کو ضرورت ہے کہ اس کے دانشمند اسلامی نظریات کی علمبرداری اور رہبری کریں۔اسلامی نظریات کو موجودہ دور میں صحیح رہبریت اور مدیریت کی ضرورت ہے۔
بالکل ایسے ہی جیسے ظہور اسلام سے پہلے عربوں میں پرستش کا نظریہ موجود تھا لیکن اس نظریے کو صحیح رہبری اور مدیریت کی ضرورت تھی،حضورِ اکرم ﷺ نے اس نظریے کی رہبری کی، اسی طرح سید جمال الدین افغانی سے پہلے بھی مسلمانوں میں  "اسلامی تہذیب و تمدن"کانظریہ موجود تھا لیکن اس نظریے کی رہبری سید جمال الدین افغانی نے کی، ایسے ہی ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے بھی اسلامی حکومت اور وحدتِ اسلامی کا نظریہ موجود تھا،ایران میں اسلامی انقلاب کے بانیوں نے آکر اس نظریے کی رہبری اور مدیریت کی۔نظریہ ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نظریہ کسے کہتے ہیں۔۔۔؟
اس کی وضاحت کے لئے ہم مندرجہ ذیل دونکات کوبیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں:
۱۔کسی بھی تحریک کی قوتِ متحرکہ کانام نظریہ ہے۲۔معاشرے کے اجتماعی شعور کانام نظریہ ہےآپ معاشرے میں جیسا اجتماعی شعور پروان چڑھائیں گے ویسی ہی تحریک چلے گی۔
پس ہر تحریک کے پیچھے ایک اجتماعی شعور موجود ہوتاہے جسے نظریہ کہاجاتاہے۔اسی طرح ہرنظریے کے پیچھے ایک خاص طبقہ سرگرمِ عمل ہوتاہے جو"دانشمند طبقہ"کہلاتاہے۔ یہ طبقہ ایک خاص قسم کے شعور کو پروان چڑھاتاہے۔
 نظریاتی جنگ نظریاتی جنگ میں جیت کے لئے افرادی قوّت درکار ہوتی ہے، جسے حاصل کرنے کے لئے دانشمند "تولید نظریات"یا" افزائش نظریات"کاکام شروع کرتاہے۔ تولید یا افزائش نظریات کے کام کے لئے اسے مختلف پیٹرن اور پیراڈائم چاہیے ہوتے ہیں۔ظاہر ہے کہ نظریاتی مصنوعات جتنی معیاری اور نفیس ہونگی لوگ اتنے ہی زیادہ ان کی طرف مائل ہونگے۔ معیاری اور نفیس نیز ہردلعزیز  نظریاتی مصنوعات تیار کرنے کے لئے ایک دانشمند کو کبھی بھی "سماجی سائنس" کے اصولوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
سماجی سائنس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک دانشمند جس علم پر عبور حاصل کرئے اسی میں فنّی مہارت بھی حاصل کرے اور اسی میں  "افزائشِ نظریات "کاکام بھی انجام دے۔کسی بھی ملت کے نظریاتی عناصر اس کے نظریاتی جغرافیئے کا تعین کرتے ہیں۔نظریاتی عناصر سے ہماری مراد کسی بھی قوم کے بنیادی عقائد ہیں۔ مثلاً اگرایک قوم کا یہ نظریہ ہو کہ ملت مذہب سے تشکیل پاتی ہے تواس قوم  کےنظریاتی عناصر اس کے مذہبی عقائد  ہونگے۔یعنی اگر ہم یہ کہیں کہ مسلمان ایک ملت ہیں تو ملت ِ مسلمان کے مذہبی عناصر توحید و رسالت و غیرہ ہونگے۔اب جب یہ ملت اپنے نظریاتی جغرافیے کا تعیّن کرلے گی تو لازمی طور پر اسے ایک زمینی جغرافیے کی ضرورت پڑھے گی۔ جب تک اس کا نظریاتی جغرافیہ محفوظ رہے گا یہ قوم ڈوب ڈوب کر ابھرتی رہے گی لیکن اگر اس کا نظریاتی جغرافیہ کھوگیا تو اس کا زمینی جغرافیہ بھی اپناوجود کھو دے گا۔چنانچہ سمجھدار قومیں اپنی توانائیاں  زمینی جغرافیئے تبدیل کرنے کے بجائے فکریں تبدیل کرنے پر صرف کرتی ہیں۔ چونکہ جہاں پر فکریں تبدیل ہوجائیں وہاں پر منٹوں میں جغرافیے خود بخود تبدیل ہوجاتے ہیں۔
نظریاتی شخص جس شخص نے نظریہ ، نظریہ پرداز سے سمجھا ہو۔ ولایت فقیہ، دوقومی نظریہ، وحدتِ اسلامی۔۔۔
علمی نظریے کے پانچ مراحل:
۱۔ تشخیص موضوع[منابع و نظریہ پرداز]پہلے انڈے کی شناخت
۲۔ آزمایش اور تجربہ [کیا معاشرے میں ایسے ہی ہے، قصاص و زندگی، صدقہ و رزق، زنا و فقر۔۔۔مختلف جگہوں پر تجربہ کہ اسے انڈہ ہی کہتے ہیں۔
۳۔ قانون سازی ،  ہر انڈہ گول اور سفید ہے
۴۔ پیشین گوئی[ جہاں انڈہ ہوگا وہاں گولائی اور سفیدی ہو گی]۔ تحقیقی مقالہ لکھنے کیلئے گیارہ  مفید نکات۱۔ محدود موضوع  کا چناو۲۔فرضیہ لکھنا۳موضوع کے بارے میں سوال اصلی اور فرعی لکھنا۴۔ منابع ڈھونڈنا۵۔ان جہتوں پر کام کرنا جن پر پہلے کام نہ ہوا ہو یا پھر نسبتاً کم کام ہوا ہو۶۔ پیٹرن کا معلوم کرنا۷۔ مخالف نظریات کا مطالعہ کرنا۸۔ اپنے جمع شدہ منابع کی درجہ بندی کرنا۹۔ جمع بندی اور نتیجہ اخذ کرنا۱۰۔ اشاعت سے پہلے کسی ماہر کو نقد کیلئے دکھانا۱۱۔ یہ چیک کرنا کہ  کسی دوسرے  کے مقالے کی یا اپنے ہی کسی اور مقالے کی  عبارتیں تو کاپی پیسٹ نہیں ہوگئیں۔محقق کی صفات۱۔ موضوع کے ماضی اور حال سے باخبر ہو اور مستقبل اور مابعد پر نظر رکھے۔۲۔ مستقل مزاجی ۳۔اپنے موضوع سے متعلق  ہونے والے دیگر تحقیقاتی کاموں سے آگاہی۴۔ استاد رہنما اور مشاور کے طور پر کسی ماہر کا انتخاب۵۔اپنے مقالے میں ہر باب کے لیے وقت کا تعین کرنا۔ ۶۔ روزانہ میزِ تحقیق پر کم از کم تین گھنٹے یکسوئی سے  کام کرنامقالہ جات کی  درجہ بندی مقداری،  تخریجی،   تحقیقی مقداری ایسے مقالہ جات جن میں اعدادو شمار سے کام لیاجاتا ہے۔ تخریجی   مقالہ جات : تخریجی مقالے وہ ہوتے ہیں جنہیں توصیفی بھی کہاجاتا ہے۔ ان میں پہلے مرحلے میں منابعہ درجہ اول سے کسی بھی موضوع پر شواہد جمع کئے جاتے ہیں۔  تاریخی،   مذہبی، تہذیبی، سائنسی،  شخصیات پر، کتب کے تعارف پر۔۔۔تحقیقی   مقالہ جاتکسی ایسے موضوع پر تحقیق کر نا جو تشنہ ہو۔  یہ تشنگی دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ پہلے  یا  تو کسی نے لکھا ہی نہ ہو اور یا پھر ناقص لکھا ہو۔اشاریہ سازی (Indexing):
تحقیق میں اشاریہ سازی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
 اس کا اندازہ صرف ایک موضوع پر کام کرنے والوں کو ہی ہے۔ اشاریہ سازی ایک مستقل فن ہے ۔کتابیات کی طرح اشاریے  کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اس سے علمی و تحقیقی میدان میں نبرد آ زمائی کرنے والوں اور مصنفین کو بڑا فائدہ اورآسانی ہوتی ہے۔ایک اشاریے کی معلومات  کبھی کبھی پوری کتاب سے  زیادہ ہوتی ہیں۔ اشاریہ ہمیں  قلیل وقت میں تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے۔
اشاریہ کسی بھی ماخذ میں موجود اہم موضوعات، اشخاص اور دیگر اہم چیزوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کی مدد سے ایک شخص بنیادی تصور قائم کرکے اس کی روشنی میں اصل کا مطالعہ کرتا ہے۔کسی اخبار، رسالے یا کتابوں میں مذکور مضامین، شخصیات، مقامات، اسما، تبصرہ جات، اداریوں اور دیگر معلومات کو کسی مخصوص ترتیب جیسے الفبائی یا ابجدی، موضوع وار، سال یا ماہ وار یا مضمون نگاروں کے ناموں کے حساب سے مرتب شدہ فہرست کو اشاریہ کہا جاتا ہے۔
کتاب میں موجود انسانی ناموں، اہم مقامات اور بعض اوقات اہم موضوعات کا اشاریہ کتاب کے آخر میں ہی شائع کیا جانا اب عام ہے۔ اردو زبان کے بہت سے رسائل و جرائد جو شائع ہو رہے ہیں اور جو بند ہو چکے۔ ان کے اشاریے الگ سے کتابی صورت میں اور انہی رسائل یا کسی دوسرے رسالے میں ان کے اشاریے شائع ہوتے رہتے ہیں۔مختصر اور مفید
۱۔رپورٹ ﴿روداد نویسی﴾ ۔ یہ خبر اور مضمون سے جدا ہے۔  انگریزی میں اسے رپورٹ  اور  فارسی میں  روداد کہتے ہیں۔اس میں کسی جلسے، محفل یا جلوس کا آنکھوں دیکھامشاہدہ  بیان کیاجاتا ہے۔ یہ  کسی واقعے کی تلخیص کی مانند ہوتی ہے۔ 
۲۔روزنامچہ یا ڈائری ۔ یہ روزانہ کے واقعات کو روزانہ لکھنے کا نام ہے۔  بعض موقعوں پر ڈائری تاریخی سند بھی بن جاتی ہے۔۳۔کالم نگاری مسائل کی نشاندہی، افکارِ عمومی کو تبدیل کرنے اور  جہت دینے کیلئے لکھے جاتے ہیں۔صحافت کا ستون کالم نگاری کو کہتے ہیں۔ کالمزکی متعدد اقسام ہیں،مختلف کالم نگار کئی اقسام پر عبور رکھتے ہیں، بعض صرف ایک ہی قسم پر طبع ازمائی کر کے عروج و کمال پر پہنچ جاتے ہیں۔۴۔ اداریہ نویسیکسی اہم مسئلے پر دانشمندانہ رائے کو  اداریہ کہتے ہیں، اس کی جگہ اخبار اور مجلے میں مخصوص ہوتی ہے۔ اس کا لیڈ اور سپر لیڈ سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔مقالہ نگاری مخصوص پیٹرن میں مستندات کے ساتھ لکھنے کا نام مقالہ ہے۔
مضمون نویسی
مضمون ایک مشکل فن ہے۔اس کے تین فنی حصے ہیں:۱، ابتدائیہ [موضوع کا تعارف]۲، استدلال۳، [خلاصہ و نتیجہ] مرکزی خیال ہر نظم یا نثر کا ایک  تھیم ہوتا ہے۔ تھیم ایک بڑے مرکزی خیال کو کہتے ہیں جو کبھی ٹوٹتا نہیں۔  لکھاری اسی مرکزی خیال کے اظہار کیلئے لکھتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ہر تحقیق، مقالہ، کالم، مضمون اور نظم ایک دائرے کی مانند ہوتی ہے۔
کوئی بھی قاری جب اس کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ اس کے مرکزی نکتے کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ قاری نے  مرکزی خیال کشف کرنا ہوتا ہے۔ مرکزی خیال کو زیادہ سے زیادہ تین سطور میں رقم بند کیا جاتا ہے۔ مرکزی خیال کی حفاظت کے بغیر لکھاری بننا ناممکن ہے۔ تحریر چھوٹی ہو یا بڑی اس کا  مرکزی نکتہ اسے منسجم رکھتا ہے۔مقدمہ لکھنے کا فنمقدمہ ہمیشہ مقدم ہوتا ہے۔
کتاب ہو یا مقالہ اس کی ابتدا مقدمے سے ہوتی ہے۔  اس میں موضوع کی اہمیت، محقق کے ہدف ، روشِ تحقیق اور مقالے کے ابواب و ابعاد کا تعارف کرایا جاتا ہے۔یہ پڑھنے میں تو مقدم ہوتا ہے لیکن لکھا آخر میں جاتا ہے۔مقدمہ چار عناصر سے تشکیل پاتا ہے:1) عنوان کی اہمیت 2) محقق کا ہدف3) روشِ تحقیق کا بیان4) مقالے کے ابعاد و ابوابخلاصہ لکھنے کے قواعد:۱۔ جو چیز مقالے کے متن میں نہ ہو اُسے بیان نہ کیا جائے۲۔ دوسروں کا نقل قول لکھنے کے بجائے اپنا ما فی الضمیر بیان  کریں۳۔ لکھتے ہوئے فعلِ ماضی  استعمال کریں۴۔ کسی قسم کا حوالہ نہ دیں۵۔ ہر وہ لفظ حذف کر دیں جس کے بغیر آپ کی بات مکمل ہو سکتی ہے۶۔ جملے چھوٹے اور آسان ہوں۔۷۔ کسی قسم کی وضاحت نہ دیں۸۔ الفاظ ۱۵۰ سے ۲۰۰ کے درمیان ہوںعلم ، معلومات ، ہُنر اور تحقیقعلم معاشرے کا رہبر ہے۔ کسی بھی مسئلے سے متعلق معلومات کے مستند ذرائع سے منظم طریقہ کار کے مطابق حصول کو علم کہتے ہیں۔ معلومات ان قیود سے عاری ہوتی ہیں۔ اسی لئے معلومات معاشرے کی قیادت نہیں کرتیں۔ علم سماج کی ہدایت کرتاہے۔ علم  اپنی قیادت و رہبری کی  استعداد کا اظہار ہُنر سے کرتا ہے۔ اس رہبر کی آنکھ قلم ہے اور اس کے راستے کا نام تحقیق ہے۔آسان لفظوں میں علم کی عملی شکل کو ہنر کہتے ہیں۔ ہمارےپاس جو بھی علم ہے ، وہ ایک مدفون خزانے کی مانند ہے۔  وہ تجربات و مشاہدات اور کتابوں و کامپیوٹر کے حافظے سے ہمارے حافظے میں منتقل ہو گیا ہے۔ اب ہم اسے جتنی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے دماغ سے زبان یا قلم پر لاتے ہیں وہ ہمارا ہُنر ہے۔ایک دماغ سے دوسرے دماغ میں انتقال مفاہیم کیلئے جو لطیف قالب استعمال کیا جاتا ہے اُسے ہنر کہتے ہیں۔ عالم معاشرے کو ہُنر کے ساتھ تحقیق کے راستے پر ڈالتا ہے۔مقالہ نگاری اور کالم نویسی سے پہلےجملے اور ترکیبات تخلیق کریں. پانچ یا چھ الفاظ پر مشتمل جملے تولید کریں. تخلیق کا یہ عمل تعلیمی، پیشہ ورانہ، تیکنیکی اور صحافتی لکھائی سے مختلف ہے. در اصل تخلیقی لکھائی سیکھنے کا پہلا مرحلہ ہے-تخلیقی تحریر و تقریر میں سب سے بڑا مسئلہ اس کا آغاز کرنا ہے-درج ذیل تجاویز تخلیقی لکھائی کا آغاز کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں:
*۱- مطالعہ بڑھائیں*اگر آپ ایک مفید انسان بننا چاہتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا شروع کر دیں- اس طرح آپ کو نت نئے خیالات ملیں گے، لکھنے کے مختلف طریقوں سے آشنائی ہو گی اور لکھنے کا آغاز کرنا کبھی آپ کو مسئلہ نہیں لگے گا-
*۲- مشاہدہ بڑھائیں*آپ اگر اچھے لکھاری اور ادیب و مفید بننا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی مشاہدہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا چاہیئے- چلتے پھرتے، سیر کرتے، دوستوں سے گفتگو کرتے، پارٹی کرتے، فلم یا ڈرامہ دیکھتے یا کوئی کتاب پڑھتےوقت ہر چیز پر غور کریں- اس سے آپ کو لکھنا شروع کرنے میں آسانی ہو گی اور آپ کو نئے خیالات بھی ملیں گے-
*۳- ڈائری لکھیں*اگر آپ تخلیقی لکھاری بننا چاہتے ہیں تو آپ کو آج سے ڈائری لکھنا شروع کر دینا چاہیئے- اس سے آپ کو دو فائدے ہوں گے:
ایک آپ کی لکھنے سے متعلق ہچکچاہٹ کم ہوتی جائے گی اور دوسرے آپ کو لکھنا شروع کرنا کبھی بھی مسئلہ نہیں لگے گا- دوسرا یہ کہ گاہے بگاہے دماغ میں آنے والے خیالات آپ محفوظ کر سکیں گے جن پر آپ بعد میں کبھی بھی لکھ سکتے ہیں-
*٤-  موضوع کا تعین*جب آپ کوئی تخلیقی لکھائی کرنا چاہتے ہوں تو سب سے پہلے یہ فیصلہ کریں کہ آپ نے ناول لکھنا ہے، مضمون لکھنا ہے، نظم لکھنا ہے یا کچھ اور لکھنا ہے- اس فیصلے سے آپ کے ذہن میں ایک خاکہ بننا شروع ہو جائے گا اور خیالات جمع ہوتے رہیں گے- انھیں خیالات میں سے آپ کو ایک موضوع مل جائے گا جس پر آپ لکھنا شروع کر سکتے ہیں-
*۵- لکھنے میں باقاعدگی*اچھا لکھاری بننے کے لئے کچھ کام اپنی عادت بنا لیں جیسے روزانہ مطالعہ کرنا اور روزانہ کچھ نا کچھ لکھنا- کوشش کریں کہ روزانہ کسی اچھے لکھاری کی کوئی تحریر پڑھیں- اس سے آپ کو خیالات ملیں گے اور لکھنے کے مختلف انداز سے آگاہی ہو گی- اسی طرح روزانہ کچھ ضرور لکھیں- ایسا کرنے سے آپ کی جھجک ختم ہو گی اور آپ رفتہ رفتہ ایک اچھے لکھاری بن سکیں گے-
*٦- لکھنے کی جگہ اور وقت*تخلیقی لکھائی بعض اوقات اس لئے بھی نہیں ہو پاتی کہ ہمیں نا تو مناسب وقت میسر آتا  ہے نا ہی جگہ- سب سے پہلے ایک پرسکون جگہ کا انتخاب کریں کیونکہ اگر بار بار کوئی مخل ہو گا تو آپ کے خیالات منتشر ہو جایئں گے اور تحریر یا تو ممکن ہی نا ہو پائے گی یا پھر بے ربط ہو گی- دوسرا یہ کہ روزانہ لکھنے کے لئے ایک وقت مقرر کر لیں بھلے وہ چند منٹ ہی کیوں نا ہوں- اس طرح آپ روزانہ کچھ لکھیں گے جو بتدریج بڑے بڑے ناولوں اور مضامین کی صورت اختیار کر لے گا-
خلاصہ:_ اگر آپ مفید انسان بننا چاہتے ہیں تو انتظار مت کریں، قلم اٹھایئں اور  جملے تخلیق کرنا شروع کر دیں، جملوں کی اصلاح پہلے خود کریں پھر کسی اور سے کروائیں. اس طرح آپ ایک دن بہت نامور ادیب اور لکھاری بن جایئں گے-داستان اور  کہانی کےلوازماتقصہ  پلاٹ کردار نگاری مکالمہ  نگاری منظرکشی نقطہ نظرداستان کے لوازمات؟یعنی وہ  چیز یں جن کا کسی داستان میں پایا جانا ضروری ہے۔ ہنرمندوں کے ہاں قصہ، پلاٹ، کردارنگاری، مکالمہ نگاری، منظر کشی اور نقطۂ نظر کو ضروری خیال کیاجاتا ہے۔ اب ان اجزا کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ماجرا یا قصہ پہلے پہل کوئی ماجرا یا قصہ ہی ہے جو داستان کو وجود میں لاتا ہے۔آپ کے دماغ میں ایک ماجرا ہوتا ہے جو آپ کو کہانی لکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ کوئی واقعہ ،کوئی حادثہ،کوئی قصہ قلمکار کو قلم اُٹھا نے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایک ضروری بات یہ ہے کہ  پڑھنے والے کو یہ قصہ بالکل سچا لگنا چاہیے۔دوسری بات یہ کہ قصہ جتنا جاندار ہوگا قاری کی دلچسپی اس میں اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ اب یہ قلمکار کی ذمہ داری کہ وہ اس دلچسپی کو برقرار رکھے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کہانی اس طرح سے  آگے بڑھے کہ پڑھنے والا یہ جاننے کے لیے بے تاب رہے کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ گویا تجسس برقرار رہے۔پلاٹ پلاٹ قصے کو ترتیب دینے کا نام ہے۔ ایک کامیاب قلمکار واقعات کو اس طرح ترتیب دیتا ہے جیسے موتی لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔ ان واقعات میں ایسا منطقی تسلسل ہونا چاہیے کہ ایک کے بعد دوسرا واقعہ بالکل فطری معلوم ہو۔واقعات ایک دوسرے سے پوری طرح پیوست ہوں تو پلاٹ مربوط کہلائے گا۔ ایسا نہ ہو تو پلاٹ ڈھیلا ڈھیلا کہلائے گا جو ایک خامی ہے۔داستان میں ایک قصہ ہو تو پلاٹ اکہرا یا سادہ کہلائے گا۔ ایک سے زیادہ ہوں تو مرکب ۔ کردار نگاری کردار نگاری داستان کا اہم جزو ہے۔ داستان میں جو واقعات پیش آتے ہیں ان کے مرکز کچھ جاندار ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ انسان ہی ہوں۔ حیوانوں سے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ یہ افراد قصہ کردار کہلاتے ہیں۔یہ جتنے حقیقی یعنی اصل زندگی کے قریب ہوں گے داستان اتنا ہی کامیاب ہو گا۔ کردار دو خانوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ایک پیچیدہ ( راؤنڈ) دوسرے سپاٹ (فلیٹ) ۔۔انسان حالات کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔ جن کرداروں میں ارتقا ہو تا ہے یعنی جو کردار حالات کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں وہ راؤنڈ کہلاتے ہیں۔ جیسے مرزا ہادی رسوا کے امراؤجان ادا اور سلطان مرزا۔اسی طرح کے کردار جیتے جاگتے کردار کہلاتے ہیں اور ادب کی دنیا میں امر ہو جاتے ہیں۔ جو کردار ارتقا سے محروم رہ جاتے ہیں پورے داستان میں ایک ہی سے رہتے ہیں وہ سپاٹ کہلاتے ہیں۔ نذیر احمد کے "مرزا ظاہر دار بیگ" اور سرشارکے "خوجی" اس کی مثال ہیں۔یہ دلچسپ ہو سکتے ہیں مگر سچ مچ کے انسانوں سے ملتے جلتے نہیں ہو سکتے۔مکالمہ نگاری مکالمہ نگاری پر بھی داستان کی کامیابی اور ناکامی کا بڑی حد تک دارومدار ہوتا ہے۔داستان کے کردار آپس میں جو بات چیت کرتے ہیں وہ مکالمہ کہلاتی ہے۔ اسی بات چیت کے ذریعے ہم ان کے دلوں کا حال جان سکتے ہیں اور انہیں کے سہارے قصہ آگے بڑھتا ہے۔ مکالمے کے سلسلے میں دو باتیں ضروری ہیں۔ایک تو یہ کہ مکالمہ غیر ضروری طور پر طویل نہ ہو کہ قاری انہیں پڑھنے میں اکتا جائے۔ دوسری بات اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ وہ یہ کہ مکالمہ جس کردار کی زبان سے ادا ہو رہا ہے اس کے حسبِ حال ہو۔ منظر کشی منظر کشی سے داستان کی دلکشی اور تاثیر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ منظر کشی کامیاب ہو تو جھوٹھا قصہ بھی سچ لگنے لگتا ہے۔" امراؤجان ادا" میں مرزا رسوا نے خانم کے کوٹھے کا نقشہ ایسی کامیابی کے ساتھ کھینچا ہے کہ پورا ماحول ہمارے پیش نظر ہوجاتا ہے۔ عرس ،میلے،نواب سلطان کی کوٹھی کا ذکر ہے تو ایسا کار گر کہ لگتا ہے کہ ہم خود وہاں جا پہنچے ہیں۔ پریم چند کو بھی منظر نگاری میں بڑی مہارت حاصِل ہے۔شرر اور طبیب کے داستانوں میں یہ کمزوری نمایاں ہے۔نقطۂ نظر    نقطۂ نظر جسم میں خون کی طرح قلمکار کے قلم سے نکلی ہوئی ایک ایک سطر میں جاری و ساری ہوتا ہے۔ ہر انسان اور خاص طور پر قلمکار کائنات اور اس کی ہر شے کو اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔
جب وہ کسی موضوع پر قلم اٹھاتا ہے تو گویا اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے اور اپنا نقطۂ نظر واضح کرتا ہے۔ غرض یہ کہ ہر تخلیق کے پیچھے کوئی نقطۂ نظر کار فرما ہوتا ہے۔ اور اصنف اسی کی خاطر تخلیق کا کرب جھیلتا ہے۔مولوی نذیر احمد نے " ابن الوقت" یہ واضح کر نے کے لیے لکھا کہ بے سوچے سمجھے نقالی انسان کو ذلیل و خوار کر دیتی ہے۔ ان کا ہر داستان اصلاحی نقطۂ نظر کا حامِل ہے۔ نثری فصاحت و بلاغت یہ جملہ بڑا معروف ہے، آپ نے بھی سنا ہوگا ، کہا جاتا ہے کہ عربوں کا حافظہ بہت  قوی تھا، در اصل  اس زمانے کا ادیب بہت  قوی تھا، اتنا قوی کہ قرآن مجید نے بھی اسےمقابلے کی دعوت دی ہے۔ وہ ایسے الفاظ اور جملے لاتا تھاکہ دل و دماغ میں نقش ہو جاتے تھے۔
اس زمانے میں آج کا میڈیا نہیں تھا، لہذا ادیب ایسا کلام تولید کرتا تھا کہ وہ انسانوں کے درمیان زبان زدِ عام ہوجائے، اورلوگ خود اُس کے کلام کو تکرار کریں۔ یاد رہے کہ ہر لفظ اور جملے کی  اپنی  لے ، دھن اور سُرہوتی ہے۔اسی لئے دھن الفاظ کے اوزان کے مطابق بنائی جاتی ہے۔ ہردھن اپنی جگہ دلکش ہوتی ہے، لیکن اگر ایک جملے میں چند سُروں والے الفاظ آجائیں تو دھن نہیں بن سکتی ، چونکہ ہرلفظ کی دھن جدا ہوتو نغمہ نہیں بنے گا۔ الفاظ اور جملوں  کی برجستگی، سلاست سختی، نرمی،  روانی اور شیرینی ایک دوسرے پر موقوف ہوتی ہے۔ نثر و شاعری جہاں بھی الفاظ میں یہ ہم آہنگی ہو تو اسے کلامِ متناسب یا متوازن کہا جاتا ہے۔پس الفاظ اور جملوں کی بناوٹ کو سمجھنا ضروری ہے۔ بناوٹ سمجھ آئے گی تو استعمال بھی آسان ہو جائے گا۔ جیسے اینٹ کی بناوٹ کو نظر انداز کر کے گھر نہیں بنایا جا سکتا۔الفاظ کی صوتی ساخت اور بر محل استعمال فصاحت اور بلاغت پر موقوف ہے۔فصاحت و  بلاغت کو سب سے پہلے اپنی زبان میں مثالوں کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ فصاحت یہ  ہے کہ لفظ ایک آوازہے جسے لکھا جاتا ہے، بعض آوازیں دلکش اور بعض  وحشتناک، بعض متعفن ، بعض مغموم ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے الفاظ بھی متوازن یا غیر متوازن ہوتے ہیں۔  متوازن  الفاظ کو فصیح  جبکہ دیگر کو غیرفصیح۔ فصاحتِ الفاظ تدریجی ہے، کچھ الفاظ فصیح کچھ افصح،کچھ فصیح تر،  اور کچھ فصیح ترین ہوتے ہیں۔۔۔۔یہ فصاحت ہے۔۔۔۔
علمِ بلاغت کے تین اجزا ہیں ’’ معانی، بیان اور بدیع‘‘ ۔ یہ تینوں علوم مفہوم پر ناظر ہوتے ہیں۔ مفہوم ایسا ہو کہ سامع پر ظاہری یا باطنی تاثیر ہو۔ایسا مفہوم جو تاثیر ایجاد کرے اُسے بلاغت کہتے ہیں۔بلاغت کی تعریف یوں بھی کی گئی ہے کہ ایسا کلام جس میں مخاطب کے سامنے وہی نکات بیان کیے جائیں جو اسے پسند ہوں۔
جو اس کو ناگوار محسوس ہوتے ہوں ان کو حذف کر دیا گیا ہو۔ زیادہ اہم باتوں کو پہلے بیان کیا گیا ہو اور کم اہمیت رکھنے والی باتوں کو بعد میں، نیز غیر ضروری باتوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہو۔ فصاحت۔۔۔الفاظ بلاغت۔۔۔مفاہیم ارسطو کی کتاب ریطوریقا کا انگلش نام  ریٹارک اور  اردو ترجمہ فنِ خطابت  ہے،بو علی سینا کی  کتاب منطقیات شفا میں اس سے استفادہ ہوا ہے  اور  ابن رشد نے اس کے اصلی عربی ترجمے کی جواصلاح کی تھی، اس کا کچھ حصہ بیرو ت میں چھپاہے۔
 یہ کتاب بتاتی مبلغ، واغط، وکیل، حکیم، فریق  اور مقدمے وغیرہ وغیرہ کی گفتگو،خطبات  اور بیان  کے اصولوں اور طرز استدلال سے بحث کرتی ہے۔ماۃ العامل۔۔۔اردو زبان کے عامل کے بغیرسیوطی پڑھ کر نثر پر تطبیق کرتے ہیں۔ شعرپڑھ کر پھر شعر پر تطبیق ہونی چاہیے۔   استعارے اور تشبیہہ میں فرقاستعارہ ایک  یونانی اصطلاح کا ترجمہ ہے۔ اس کا مطلب  "منتقلی" یا "عبور کرنا" ہے ۔اس کے ذریعے  تخیل کو  منتقل کرتے ہیں۔اردو لغت میں استعارہ کے معنی ’عارضی طور پر مانگ لینا، مستعار لینا، عاریتاً مانگنا، اُدھار مانگنا، کسی چیز کا عاریتاً لینا ‘ہیں۔ علم بیان کی اصطلاح میں ایک شے کو بعینہ دوسری شے قرار دے دیا جائے، اور اس دوسری شے کے لوازمات پہلی شے سے منسوب کر دئیے جائیں، اسے استعارہ کہتے ہیں۔
استعارہ مجاز کی ایک قسم ہےجس میں ایک لفظ کو معنوی مناسبت کی وجہ سے دوسرے کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی کسی لفظ کو مختلف معنی میں استعمال کرنے کے لیے ادھار لینا۔استعارہ میں حقیقی اور مجازی معنی میں تشبیہ کا تعلق پایا جاتا ہے، لیکن اس میں حرف تشبیہ موجود نہیں ہوتا۔ جیسے’ لبِ لعل‘ اور ’سروقد‘ یہاں لب کو لعل سے اور قد کو سرو سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور کبھی مشبہ کہہ کر مشبہ بہ مراد لیا جاتا ہے جیسے:’چاند ‘کہہ کر چہرہ اور’ شیر‘ کہہ کر شجاع مراد لینا۔ لیکن تشبیہ میں واضح الفاظ میں موازنہ موجود ہوتا ہے۔ مثلاً: زید کالاسد (زید شیر کی طرح ہے)تشبیہ اور زیداسد (زید شیر ہے) استعارہ ہے۔ اسی طر ح اگر ماں اپنے بچے کو یہ کہے کہ میرا چاند آگیا یا کوئی شخص یہ کہے کہ خالد شیر ہے۔ پہلے جملے میں بچے کو چاند سے اور دوسرے میں خالد کو شیر سے تشبیہ دی گئی ہے، لیکن دونوں جملوں میں حرف تشبیہ موجود نہیں ہے۔اسی طرح چاند اور شیر کو حقیقی معنوں میں استعمال نہیں کیا گیا۔ تشبیہ کے اس انداز کو استعارہ کہتے ہیں۔ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں موجود ہوتے ہیں لیکن استعارہ میں مشبہ بہ کو عین مشبہ تصور کرلیا جاتا ہے، اور مشبہ بہ کی تمام صفات کو مشبہ کے ساتھ منسوب کر دیا جاتا ہے۔استعارے میں تین چیزیں ہوتی ہیں:مستعار لہ، مستعار منہ، وجۂ جامع۔ اس کی پھرچھے قسمیں ہیں:۔۱۔طرفینِ استعارہ اور وجۂ جامع تینوں حسی ہوں، بقولِ دبیرؔکی پشت سوئے خیمہ رُخِ اعدا کے سامنےاُگلے دہن سے لعل شہِ خاص و عام نےمنھ سے خون نکلنے کا استعارہ لعل اُگلنے سے کیا ہے۔ خون مستعارلہ، لعل مستعارمنہ اور یہ دونوں حسی ہیں اور وجۂ جامع یہاں سرخ رنگ ہے جو حسِ باصرہ سے متعلق ہے۔۲۔ طرفینِ حسی اور وجۂ جامع عقلی:۔ جیسے شیر سے مرد شجاع کا استعارہ کہ جامع اس میں جرأت ہے اور وہ امرِ عقلی ہے۔ میرؔ صاحب اپنے کتے کی تعریف میں فرماتے ہیں:چوہا کیا ہے جو سامنے آئےگھونس سے بھی یہ شیر بھڑجائےکتا مستعار لہ اور شیر مستعار منہ، وجۂ جامع ان میں جرأت ہے۔۳۔  مستعار لہ حسی اور مستعار منہ اور وجہ جامع عقلی ہوں:۔ جیسے معشوق کو جان اور آفتِ جان سے استعارہ کریں جیسے:یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہےہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہواس شعر میں مستعار لہ (محبوب) حسی ہے جب کہ مستعارمنہ (فتنہ) اور وجۂ جامع (بربادی) دونوں عقلی ہیں۔
کوئی شخص ایک امرکی تلاش اور تردد کو نہ چھوڑے، تو کہیں گے وہ باز نہیں آتا۔ نہ چھوڑنا حسی ہے اور باز نہ آنا عقلی ہے۔ وجۂ جامع ان میں عدم سکونت و اطمینان ہے۔ بقولِ میرؔ:پھر جائے ہے غیر اُس سے ملنےآئے نہیں باز ایسے تیسے۴۔ مستعار منہ حسی اور مستعار لہ اور وجۂ جامع عقلی ہوں:۔جیسے کوئی شخص ایک امر کی تلاش کے بعد تردد کے مایوس ہوجائے، تو کہیں اب اُس نے ہاتھ اُٹھالیا، ہاتھ اُٹھانا حسی ہے، اور مایوس ہوجانا عقلی ہے۔ وجۂ جامع اس میں انتفاع و عدم منفعت ہے۔ بقولِ میرؔ:یوں تو سو بار آؤ جاؤگےپیسے تدریج ہی سے پاؤگےاور اس پر بھی جو ستاؤگےاپنے پیسوں سے ہاتھ اُٹھاؤگےبوجھ میں اپنے سر سے دوں گا ٹالجیسے قطعِ تعلق و ترکِ شے کو ہاتھ دھو بیٹھنے سے استعارہ کریں۔ ہاتھ دھو بیٹھنا، حسی ہے اور قطعِ تعلق اور ترکِ شے عقلی اور وجۂ جامع اس میں سکونت و اطمینان ہے۔
بقول خواجہ میر دردؔہوا جو کچھ کہ ہونا تھا، کہیں کیا جی کو دھو بیٹھےبس اب ایک ایسا ہم دونوں جہاں سے ہاتھ دھو بیٹھےیعنی دونوں نے جہاں سے قطعِ تعلق کیا ۔۵۔ مستعار لہ، مستعار منہ اور وجۂ جامع تینوں عقلی ہوں: (یہاں جامع کا عقلی ہونا لازم ہے۔ کیوں کہ محسوس کا قیام معقول کے ساتھ صحیح نہیں) ۔بقول میرؔ:کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھاان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سُلا رکھایعنی بہت سے آدمیوں کو فنا کردیا۔ فنا کردینے کا استعارہ سلا رکھنے سے کیا ہے۔ مستعار منہ’’سلا رکھنا‘‘ ہے، مستعارلہ ’’فنا کردینا‘‘ ہے۔ وجۂ جامع ان میں افعال کا نہ ظاہر ہونا ہے، اور یہ تینوں عقلی ہیں۔ بقولِ حالیؔ:چھوڑو افسردگی کو ہوش میں آؤبس بہت سوئے، اُٹھو ہوش میں آؤعاقل رہنے کا استعارہ سونے کے ساتھ کیا ہے۔ وجۂ جامع بے پروائی و غفلت ہے، اور تینوں عقلی ہیں۔۶۔ طرفین حسی ہوں اور وجۂ جامع مرکب ہو، یعنی حسی و عقلی اجزا کا امتزاج ہو:جیسے شخصِ جلیل القدر کا استعارہ آفتاب سے کریں۔ حس اور شان و بزرگی کا مجموعہ وجۂ جامع ہے۔ بقولِ میر حسنؔ وزیروں نے کی عرض کہ اے آفتاب نہ ہو ذرا تجھ کو کبھی اضطراب کروں مختصر یاں سے اب غم کی باتلگا رہنے اُس میں وہ آبِ حیات بے نظیر کا استعارہ آبِ حیات سے کیا، اور وجۂ جامع اس میں عزیز الوجود ہونا ہے، اور لوگوں کی نظروں سے مخفی رہنا ہے۔ مدام اپنی بغل میں وہ آفتاب رہاہمارے دور میں دورِ شراب نایاب رہاآفتاب کا استعارہ معشوق سے کیا ہے۔
استعارے اور تشبیہ میں یہ فرق ہے کہ تشبیہ میں حرف تشبیہ کا ہونا لازمی ہے۔ جسے وہ شیر کی مانند ہے۔ استعارے میں حرف تشبیہ نہیں ہوتا جیسے شیر خدا۔ استعارے کی دو قسمیں ہیں۔ استعارہ بالتصریح جس میں فقط مشبہ بہ کا ذکر کریں۔مثلاً چاند کہیں اور معشوق مراد لیں۔
دوسرے استعارہ بالکنایہ جس میں صفر مشبہ کا ذکر ہو مثلاً موت کے پنجے سے چھوٹے۔ موت درندے سے استعارہ بالکنایہ ہے اور لفظ پنجہ قرینہ ہے۔تشبیہتشبیہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے لغوی معنی مشابہت، تمثیل اور کسی چیز کو دوسری چیز کی مانند قرار دینا ہیں۔ علم بیان کی رو سے جب کسی ایک چیز کو کسی خاص صفت کے اعتبار سےیامشترک خصوصیت کی بنا پر دوسری کی مانند قرار دے دیا جائے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔ارکانِ تشبیہتشبیہ کے مندرجہ ذیل پانچ ارکان ہیںا۔ مشبّہجس چیز کو دوسری چیز کے مانند قرار دیا جائے وہ مشبّہ کہلاتی ہے۔ جیسا کہ اوپر کی مثالوں میں بچہ اور عبداللہ مشبہ ہیں۔۲۔ مشبّہ ِبہوہ چیز جس کے ساتھ کسی دوسری چیز کو تشبیہ دی جائے یا مشبہ کو جس چیز سے تشبیہ دی جائے، وہ مشبہ ِبہ کہلاتی ہے۔ مثلاً چاند اور شیر مشبہ بہ ہیں۔ ان دونوں یعنی مشبہ اور مشبہ بہ کو طرفین تشبیہ بھی کہتے ہیں۔۳۔ حرفِ تشبیہوہ لفظ جو ایک چیز کو دوسری چیز جیسا ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے حرف تشبیہ کہلاتا ہے۔ مثلاً اوپر کے جملوں میں مانند اور طرح حروف تشبیہ ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی حروف تشبیہ ہیں جیسا کہ مثل، ہو بہو، صورت، گویا، جوں، سا، سی، سے، جیسا، جیسے، جیسی، بعینہ، مثال، یا، کہ وغیرہ، انہیں اداتِ تشبیہ بھی کہتے ہیں۔
۴۔ وجہِ شبہ وجہ شبہ سے مراد وہ خوبی ہے جس کی بنا پر مشبہ کو مشبہ بہ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ مثلاً:چاند کی مانند حسین میں وجہ شبہ حُسن ہے۔ اسی طرح شیر کی طرح بہادر میں وجہ شبہ بہادری ہے۔
۵۔ غرضِ تشبیہوہ مقصد یا غرض جس کے لیے تشبیہ دی جائے، غرض تشبیہ کہلاتا ہے۔ اس کا تشبیہ میں ذکر نہیں ‌ہوتا۔ صرف قرائن سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ تشبیہ کس غرض یا مقصد سے دی گئی ہے۔ مثلاً بچے کے حسن کو واضح کرنا غرض تشبیہ ہے۔ اسی طرح عبداللہ کی بہادری کو واضح کرنا بھی غرضِ تشبیہ ہے۔۱۔ کمرہ آئینے جیسا چمک رہا ہے،۲۔ پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو۳۔ نازک کلائیوں میں حنا بستہ مٹھیاںشاخوں میں ‌جیسے منہ بندھی کلیاں گلاب کی۴۔ ان کے عارض پہ دمکتے ہوئے آنسو، توبہہم نے شعلوں پہ مچلتے ہوئے شبنم دیکھی۵۔ غیر کو دیکھ کے غیرت سے پگھل جاؤں گاصورت شمع تری بزم میں جل جاؤں گا۶۔ عرق آلودہ ہونا، اس رُخِ رنگین کا ایسا ہےکہ جیسے برگِ گل پہ ہو نمایاں بوند شبنم کی۸۔ یہ آب و تابِ حسن، یہ عالم شباب کاتم ہو، کہ ایک پھول کھلا ہے گلاب کااقسام تشبیہتشبیہ کی پانچ اقسام بیان کی جاتی ہیں۔ ان اقسام کی بنیاد اس کے ارکان کو حذف کرنے پر ہے۔ کیونکہ مخاطب کے علم کی بنیاد پر بعض اوقات اس کے بعض حصوں کو حذف کر دیا جاتا ہے۔
۱۔ تشبیہ مرسلتشبیہ مرسل وہ تشبیہ ہے جس میں حرف تشبیہ کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہو۔ مثلاً: مثل نورہ کمشکاۃ(اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چراغ) اس مثال میں حرف تشبیہ ک موجود ہے۔
۲۔ تشبیہ موکدتشبیہ کی اس قسم میں حرف تشبیہ کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ اس حذف کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ متکلم اس بات پر زور دے رہا ہوتا ہے مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت بہت زیادہ ہے۔ جیسے : انت نجم فی الضیاء والرفعۃ۔ (تم روشنی اور بلندی میں ستارےہو) یعنی ستارے کی طرح نہیں، بلکہ خود ستارہ ہو، کہہ کر بات میں زور پیدا کیا ہے۔
۳۔ تشبیہ مفصل تشبیہ کی اس قسم میں تشبیہ کی وجہ کو بیان کیا جاتا ہے۔ جیسے :ھو کالاسد فی الشجاعۃ۔ (وہ بہادری میں شیر کی طرح ہے۔ ) یہاں تشبیہ کی وجہ بہادری کو واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔۴۔ تشبیہ مجمل تشبیہ کی اس قسم میں وجہ تشبیہ کو حذف کر دیا جاتا ہے کیونکہ یہ وجہ مخاطب پہلے ہی سے جانتا ہوتا ہے۔ مثلاً کان الشمس دینار۔ (سورج گویا دینا رہے) یہاں وجہ تشبیہ کو اس لیے حذف کر دیا گیا ہے کہ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ نیا سکہ چمک میں سورج کی طرح لگتا ہے۔
۵۔ تشبیہ بلیغ تشبیہ کی اس قسم میں تشبیہ میں زور پیدا کرنے کے لیے حرف تشبیہ اور وجہ تشبیہ دونوں کو حذف کر دیا جاتا ہے۔اس سے یہ باور کرانا مقصود ہوتا ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں اتنی زیادہ مشابہت ہے کہ گویا دونوں ایک ہی ہیں۔ مثلاً الاسلام حیاتنا۔ (اسلام ہماری زندگی ہے۔ ) اس مثال میں اسلام کو زندگی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چونکہ اسلام کی ہدایت کے بغیر زندگی کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا اس لیے بات میں زور پیدا کرنے کے لیے تشبیہ کی علامت اور وجہ دونوں کو حذف کر دیا گیا ہے۔
خلاصہ :۔ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں کا ذکر کیاجاتا ہے جب کہ استعارے میں مستعار لہ ( جسے تشبیہ میں مشبہ کہتے ہیں) نہیں لکھا جاتا صرف مستعار منہ ( جسے تشبیہ میں مشبہ بہ کہتے ہیں ) کا ذکر ہوتا ہے۔ گویا استعارہ میں صرف اس چیز کا ذکر ہوتا ہے جسکواستعارہ بنایا جائے جب کہ تشبیہ میں دونوں کا ذکر کیا جاتا ہے کبھی حرفِ تشبیہ کے ساتھ اور کبھی حرفِ تشبیہ کے بغیر۔ 
۔۔۔۔۔۔۔
اردو  زُ بان کی حرکاتاردو  زبان کے اغلب قواعد  فارسی، عربی، ہندی اور پنجابی سے متاثر ہیں۔یہ چاروں زبانیں بادیہ نشینوں کی زبانیں ہیں۔انہی کا لب و لہجہ ان کا معیار ہے لیکن اردو ایک شاہی زبان ہے اور اس کے قواعد ، لب و لہجے و ثقافت  میں درباری و شاہی استادوں کی بات اور شاہی تہذیب  حرفِ آخر ہے۔ اساتید اس بات کا خاص اہتمام کرتے تھے کہ اس زبان میں بادشاہوں کے جلال اور فطرت کے آداب کی مراعات کی جائے۔بادشاہ اپنے لئے استاد رکھتے تھے۔[بہادر شاہ ظفر،  مرزا غالب]۔  فارسی اور عربی میں کوئی لفظ ساکن حرف سے شروع نہیں ہو سکتا۔ یعنی پہلے حرف پر زیر، زبر یا پیش ہونی ضروری ہے۔ اردو میں بھی فارسی و عربی کی طرح لفظ کا آغاز ساکن سے ہو ہی نہیں سکتا۔ یعنی   اردو الفاظ کے ابتدائی حروف  زیر، زبر یا پیش سے شروع ہوتے ہیں۔اس کے برعکس ہندی اور پنجابی میں متعدد الفاظ ساکن سے شروع ہوتے ہیں۔ جیسے پریم۔ اس میں پ پر زبر نہیں ہے۔ بلکہ یہ ویسے ہی بولا جاتا ہے انگریزی میں سکول کا س۔  جیسے دوسری زبانوں والے اردو کے کچھ الفاظ صحیح نہیں بول سکتے[پھول کو فول، پروین کو فروین] اسی طرح اردو والے ایسے الفاظ درست نہیں بول سکتے جوساکن سے شروع ہوں۔پنجابی کے ساکن الفاظ جب اردو میں آجاتے ہیں تو انہیں پڑھنے کیلئے دو چشمی لگا دیتے ہیں۔کھوٹا، چھلا، جھلاساکن سے شروع ہونے والے وہ الفاظ جو اردو میں شامل ہو گئے ہیں ان کے پہلے حرف  کے بعد  والے حرف کی حرکت کو دیکھتے ہیں اور وہی پہلے حرف کو دیتے ہیں۔مثلا پِریم، سُکول۔۔۔اردو کے کسی بھی لفظ کے آخری حرف پر حرکت نہیں ہو گی چاہے معرب ہی ہو، سوائے دوسری زبانوں کی تراکیب کے جیسے: سلام علیکم، السلام علیکم،  
  ان شا اللہ باقی درس ایک ہفتے کے بعد اپلوڈ کیا جائے گا

 

 

 


افکار و نظریات: ابلاغ عامہ