ازداوج کیلئے مناسب عمر
شازیہ منشاء

سید عبدالرشید "متحدہ مجلس العمل" کے ایم پی اے جو سندھ اسمبلی کے رکن بھی ہیں انہوں نے 26مئی بروز بدھ اسمبلی میں ایک بل پیش کیا۔جس میں نوجوان بچوں کی شادی اٹھارہ سال کی عمر میں کرنے کی تجویز پیش کی۔اس بل کا مقصد بیان کرتے انہوں نے کہا کہ اس کی مدد سے  معاشرے میں پیدا ہونے والی معاشرتی برائیوں،بچوں کی ساتھ ریپ،کچھ وجوہات کو بنیاد بنا کر ہراساں کرنے کے عمل اور معاشرے میں  رونما ہونے والی اور بہت سی غیر اخلاقی سر گرمیوں کو روکا جا سکتا ہے۔ سید عبدالرشید کے بل کا حصّہ ایک یہ بات بھی تھی کہ اگر والدین اٹھارہ سال کی عمر میں بچوں کی شادی نہیں کرتے تو انہیں آپ  ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو وجہ لکھ کے پیش کرنا ہو گی۔ایسا نہ کرنے کی صورت میں والدین کو پانچ سو یا اس سے زائد جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
اب  یہاں ایسے سولات پیدا ہوتے ہیں کہ انسان کس عمر میں بالغ ہو جاتا ہے اور اسے اپنے لیے ایک ہمسفر یا جیون ساتھی کی کب ضرورت محسوس ہوتی ہے؟اگر انسان کی طلب پر اس کی ضرورت پوری نہ کی جائے تو کیا واقعے ہی یہ معاشرہ  بے راہروی کا شکار ہو سکتا ہے؟ کس عمر میں انسان کے لیے نکاح ضروری ہو جاتا ہے؟
ان تمام سوالات کے جوابات جاننے کے لیے اگر شریعت کی رو سے اس معاملے پر غور کیا جائے اور  آج سے چودہ سو سال پہلے کے دور پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں اس حوالے سے بہتر رہنمائی مل سکتی ہے۔
خاتم النبیین انبیاء المرسلین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر، خاتونِ جنت  اور شیر خدا کی زوجہ محترمہ کی رخصتی غالبا گیارہ یا بارہ سال کی عمر میں ہوئی۔ اسی طرح ام المومنین سیّدنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کا رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح چھ سال کی عمر میں طے پایا اور نو سال کی عمر میں ان کی رخصتی کی گئی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت یے۔ انہوں نے اس روایت میں خود یہ بات بیان کی کہ نو سال کی عمر میں انکی رخصتی ہوئی اور تب وہ   بالغ تھیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک حضرت  خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کے وقت  پچیس برس جبکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر چالیس  برس  تھی۔  اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اصحابہ اکرام اور صحابیات ایسی تھیں جنکی عمر شادی  کے وقت اٹھارہ سال  سے زیادہ تھی۔
  شادی کے حوالے سے اسلامی ادوار پر نظر ثانی کرنے کا مقصد یہی تھا کہ کسی ایک عمر کا تعین کر کے نکاح کو لازماً قائم کرنا ضروری نہیں قرار دیا گیا۔ لیکن نکاح کے لیے فریقین کا بالغ ہونا شرط ہے۔
اب ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اور جس ماحول کا ہم حصہ ہیں اس کے مطابق بچیاں عموماً بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں بلوغت کے عمل کو طے کر لیتی ہیں۔ جہاں تک ہمارے نوجوان بچوں کی بات ہےتو ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں وہ چاہے ٹی وی ہے،فلم،ریڈیو،موسیقی ،موبائل،کمپیوٹر،انفارمیشن ٹیکنالوجی یا پھر الیکٹرانکس میڈیا ان تمام چیزوں کے بے دریغ استعمال نے ہمارے بچوں کو وقت سے پہلے ہی بالغ کر دیا ہے۔ عموماً آٹھ دس سال کی عمر میں ہمارے بچے اپنے اندر جنسی خواہش کو محسوس کرنے لگتے ہیں اور جنسی تسکین کے حصول کے لیے اپنے آپکو مختلف غلاظت سے بھر پور سرگرمیوں میں انوالو کر لیتے ہیں۔یوں اپنی جنسی تسکین کی خاطر وہ اپنے ساتھ اور بھی بہت سے لوگوں کو اس برائی میں شامل کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔جس وجہ سے یہ معاشرہ اور اس کے فرد بے راہ روی کا شکار ہونے کے ساتھ  بے حیائی، فحاشی ،عریانی اور اس کے علاوہ اور بہت سی برائیوں کو جنم دینے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔
اس معاشرے میں بڑھتی فحاشی,بے حیائی اور غلاظت کو روکنے کا واحد حل  صرف نکاح نہیں اس کے لیے تعلیم اور تربیت بھی بہت ضروری ہے۔ایک بچے کے لیے پہلی درسگاہ اس کی ماں ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں لیکن ماں کے ساتھ اس کی پہلی تعلیمی درس گاہ اس کے گھر کا ماحول بھی ہوتا ہے۔
بعض اوقات اولاد کی خواہش کو محسوس کرتے والدین یہ قدم بھی اٹھا لیتے ہیں اور ان کی خواہش کے مطابق ان کا نکاح بھی کر دیا جاتا ہے۔چونکہ ایسے بچے میں کسی دوسرے کو سمجھنے اور اس کی ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت موجود نہیں ہوتی جس وجہ سے وہ رشتہ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچتا اور پھر ختم ہو جاتا ہے۔ 
اگر ہم سب اچھے معاشرے کی تکمیل چاہتے ہیں تو ہم سب کو اس میں اپنا اپناحصّہ ڈالنا ہو گا۔سب سے پہلے ہمیں خود کا احتساب کرنا ہوگا۔ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم بچوں کو کیسے  دنیا اور آخرت میں کامیاب کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں  اپنی ذات  تعمیر کا یہ سفر شروع کرنا  ہو گا تب ہی ہم اپنے بچوں کا مستقبل سنوار سکیں گے۔

 


افکار و نظریات: ازداوج کیلئے مناسب عمر