دیر تک ۔۔۔ دور تک
شازیہ منشاء


پچھلے دنوں ہمارے سکول میں سالانہ رزلٹ کی تقریب تھی۔کرونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے سکول بند تھے ۔والدین کو صرف بچوں کے  رزلٹ ایشو کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔میرے کلاس روم میں ایک اور ٹیچر بھی اپنی کلاس کا رزلٹ والدین سے شیئر کر رہی تھیں۔ ایک والدہ اپنے چار بچوں کے ساتھ رزلٹ لینے کے لیے سکول آئیں۔ ان کے تین بچے سکول میں پڑھتے تھے۔چوتھے بچے کا ابھی انہوں نے ایڈمیشن کروایا ہی تھا۔۔۔۔۔
پہلے سے پڑھنے والے تینوں بچوں کی اپنی اپنی کلاس میں نمایاں پوزیشن آئی تھی۔ ۔۔۔۔میرےکمرےمیں موجود ٹیچر نے ان کو ان کے بیٹے کا رزلٹ بتاتے بہت مبارکباد بھی دی تھی۔ میں نے بھی ان کی بیٹی کا رزلٹ ان سے شیئر کرتے ان کو مبارکباد پیش کی تھی۔انکی چھوٹی بیٹی کی ٹیچر اور دونوں ونگز کی ایجوکیشنل کوآرڈینیٹرز بھی ان کو مبارکباد دینے میرے روم میں ہی چلی آئیں۔"میم آپ کو آج تو مٹھائی کی ٹوکری لانی چاہیے تھی آپکے تمام بچے نمایاں پوزیشنز لیکر پاس ہوئے ہیں".
ایک ٹیچر نے مسکراتے ہوئے ان سے کہا۔یہ سننے کے بعد اس نے کچھ نہ کہا بس پھیکی سی مسکراہٹ مسکرادی۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں بھی اداسی تھی۔میں اس کی آنکھوں کی اداسی اور پھیکی مسکراہٹ کو محسوس کر رہی تھی۔اس کا بڑا بیٹا اپنی سالانہ فائل اور پراگریس رپورٹ کے ساتھ اپنی پوزیشن دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔اس کا بس چلتا تو یقیناً وہ جھوم جھوم کر اپنی خوشی کا اظہار کرتا۔بڑی بیٹی بھی اسی طرح خوش نظر آرہی تھی۔ کلاس ٹیچر نے ان کو پھر سے مبارکباد دی۔

سب ٹیچرز آپس میں ان کے بچوں کی اچھی کارکردگی پر ڈسکشن کرنے لگیں۔وہ ان کی باتیں سن کر پھیکی مسکان مسکراتی  رہیں۔مگر منہ سے کچھ نہ کہا۔
خیر سب ٹیچرز ان کو مبارکباد دینے کے بعد کمرے سے چلی گئیں۔وہ بھی کمرے سے باہرنکلنے لگیں تو میں نے ان کو روک لیا۔۔۔۔" آپ کے تمام بچوں کی اتنی اچھی پوزیشنز آئیں ہیں مگر آپ خوش نظر نہیں آرہیں"۔میں نے ان سے استفسار کیا۔

میری بات سن کر وہ خاموشی سے میرے سامنے آکر کھڑی ہو گئیں۔ میری بات کا بھی انہوں نے مخصوص پھیکی مسکراہٹ سے ہی جواب دیا تھا۔۔۔۔میں ان کی آنکھوں کی اداسی پڑھ چکی تھی ۔مجھ میں بھی اداسی کی وجہ جاننے کا تجسس پیدا ہوا۔۔۔۔"اگر کوئی پریشانی ہے تو آپ مجھے بتا سکتی ہیں"۔
میں نے ان کی اداس آنکھوں میں جھانکتے ہوئے  کہا۔۔۔۔۔پہلے وہ خاموش رہیں پھر دھیرے سے بولیں۔۔۔۔۔۔"ان کے پاپا نے دوسری شادی کر لی ہے۔اب وہ گھر نہیں آتے۔۔۔۔۔اپنی دوسری بیوی کے پاس ہی رہتے ہیں"۔

یہ سن کر میری آنکھیں نم ہو گئیں۔۔۔۔۔مجھ میں حوصلہ نہیں تھا اس سے آگے میں ان سے کچھ پوچھتی۔
مجھے یاد آیا کہ ایک مرتبہ جب میں نے اس کی بیٹی سے سکول فیس لیٹ ہونے کی وجہ پوچھی تو اس نے مجھے کہا تھا کہ ٹیچر میرے ابو باہر کے ملک ہوتے ہیں۔ وہ وہیں سے ہماری فیس ڈائریکٹ آفس میں سر کو بھجوا دیتے ہیں۔۔۔۔۔تب بھی میرے ذہن میں یہ سوال ابھرا تھا کہ والدہ فیس کیوں آکر جمع نہیں کرواتیں؟ پاپا باہر سے سکول میں کیوں بھیجتے ہیں؟

 ہوسکتا وہ اپنی بیوی کو پریشانی سے بچانے کے لیے خود ہی پیسے ادھر بھیج دیتے ہوں گے۔میں نے یہ سوچ کر خود کو مطمئن کر لیا تھا۔۔۔۔۔لیکن آج مجھے سارا معاملہ سمجھ اگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔"کیا وہ اب گھر نہیں اتے"؟میں نے ہمت کرکے ان سے پوچھا۔۔۔۔"نہیں"۔۔۔۔۔اس مختصر سے جواب نے مجھے اور بھی زیادہ پریشان کر دیا۔۔۔۔۔۔"خانہ داری کیسے کرتی ہیں آپ"؟۔ ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہمیں ماہانہ خرچہ بھجوادیتے ہیں پر خود گھر نہیں اتے"۔۔۔۔۔
اس کے اگلے سوال کے جواب پر  نمی میری آنکھوں میں تیرنے لگی تھی۔میں نے اس کے چھوٹے بیٹے کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔۔۔"اللہ نے آپکو اولاد جیسی خوبصورت نعمت سے نوازا ہے ان کو دیکھ کر خوش ہو لیا کریں"۔۔۔۔
وہ وہاں سے چلی گئ۔۔۔۔۔میں نم آنکھوں سے  انہیں بچوں کے ساتھ جاتے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔۔دیر تک ۔۔۔ دور تک