ورلڈ آرڈر کا دائرہ 
  ابو ولی اللہ خان 

فطرت کے قوانین  فرعونوں کے قوانین سے متصادم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ فطرت کی بات کرتے ہیں تو ہر زمانے کا   فرعون آپ کو باغی  قرار دے کر کچل دیتا ہے۔ اب  کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو باہمت ہوتے ہیں اور دنیا پرستوں  کے مادی  نظاموں کے خلاف جہاد شروع کرتے ہیں ۔ ان مجاہدوں کو کبھی دہشت گرد اور کبھی انتہا پسند کہاجاتا ہے۔اگر آپ اُن باہمت لوگوں میں سے ہیں تو پھر  آپ وہ پہلے ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے لوگوں کےلیۓ مثال بننا  ہے۔ اگر آپ اپنے اصول و ضوابط پر سختی سے عمل کرتے ہوۓ اس دنیا سے اگلی دنیا میں Transfer ہوجاتے ہیں تو یقین جانیں آپ Dead نہیں ہوۓ بلکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر طے کر چکے ہیں۔ اسے آپ خوش قسمتی سمجھ لیں کہ آپ اپنے فطری  نظریات کی حیات کے ساتھ  اس دنیا میں   رہ کر اگلے مقام  اور مقصد تک پہنچ گۓ ہیں۔
دنیا کے بہت سارے لوگ World Order کے تحت چلتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہتے ہیں یہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے ڈی این اے میں بھی یہ روایت منتقل ہوتی چلی آرہی ہو۔
 آپ میری بات پر یقین کیوں کریں گے ؟ میری رائے ہے کہ اپنی عقل و شعور کی بیداری سے اس بات کا سراغ لگائیں کہ ایسے لوگ جو World Order کے ماتحت چلتے ہیں وہ خود کا ایک دائرہ بنا لیتے ہیں اور اسے وہ تسکین کا دائرہ کہتے ہیں اگر ان کے تسکین کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے کوئ بات کی جائے تو وہ اسے من و عن تسلیم کرتے ہیں بلکہ اس کی تبلیغ کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ 
ایسے لوگ جو World Order کے نیچے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں وہ درحقیقت غلامی کی زندگی بسر کررہے ہوتے ہیں جس میں ایسے لوگ واحد عظیم طاقت اللہ رب العزت کے ماتحت ظاہری طور پر ہوتے ہیں لیکن اپنے جیسے انسان کی غلامی قبول کر کے  "Comfort zone " میں زندگی گزارنے کو ہی حیات سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بناۓ گۓ" تسکین کے دائرے" سے باہر جو کوئی بھی بات کرے یا نظریہ لاۓ تو وہ اس بات۔ 
نظریہ یا اصول کو برا بھلا کہتے ہیں اور ایسی چیز کو بغاوت اور ایسے نظریاتی انسانوں کو

Traitor of the World

کہہ کر قبول نہیں کرپاتے کیونکہ یہ چیز بالکل ان کے Comfort zone سے باہر کی ہوتی ہے اور انہوں نے شروع سے ہی طے کر لیا ہوتا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ دائرہ سے نہیں نکلیں گے اسے وہ مذہب۔ مسلک ۔ جماعت یا عقائد کا نام دے ڈالتے ہیں۔  یاد رہے کہ World Order ایک انسانی ساختہ قوانین کا مجموعہ یا نظام ہے اور Universal Order الہی نظام ہے کچھ لوگوں کو میری بات ان کے تسکین کے دائرہ کے خلاف لگ رہی ہو تو اسے چاہیۓ کہ الہی نظام کو اپناتے ہوئے فطرتی قوانین کا عمیق مطالعہ کرے اور پھر اگر اسے اچھا لگے تو وہ دنیا کے نظام کو اٹھا کر اپنے دل و دماغ، اپنے گھر، بستی محلے یا ملک و قوم سے باہر پھینک دے اور الہی نظام کو متعارف کرواۓ جس کی ترتیب اس کے اپنے جسم سے شروع ہو کر ملک و ملت تک پہنچے گی۔
 اگر آپ کے دائرہ کے خلاف بات آۓ تو اس سے تسکین پانے کی بجائے چھان بین کی جائے۔ اگر وہ بات درست ہو تو اسے اپنا لیا جائے اور اگر درست نہ لگے تو ترک کردیا جاۓ لیکن اس کے لیۓ ضروری ہے کہ تسکین کے دائرہ میں مقید نہ رہے بلکہ یہ تسکین کے دائرہ کی زنجیر توڑ کر اپنی اصل سے مل جاۓ۔ 
جیسا کہ شروع میں کہا تھا کہ آپ اگر دنیا کے نظام سے ٹکرائیں گے تو کچلے جائیں گے اس لیۓ ایسے لوگوں کےلیۓ ضروری ہے کہ وہ اپنے جیسے لوگوں سے مل کر ایک ایسا ماحول بنائیں جس میں صرف اور صرف ان کے ہم فکر لوگ ہوں اور ایسے لوگوں سے مل کر نظام الہی پر کاربند رہیں اور بتدریج ترقی کرکے دنیا کے موجودہ نظام سے اندرونی جنگ چھیڑ دیں۔ جب یہ مضبوط ہوجائیں تو انہیں چاہئے اعلان جنگ کردیں۔ پھر یہ ہوگا کہ آنے والے کتنے لوگوں کو الہی نظام کا سکون دہ ماحول میسر ہوگا اور یہ سب اللہ کے ہاں اعلی درجات پر فائز ہوں گے۔
 کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں؟ جی کرسکتے  ہیں لیکن کرتے کیوں نہیں کیونکہ ہم اپنے Comfort zone میں خوش ہیں۔ یاد رہے ہم اس دائرہ میں خوش تو ہیں لیکن اس طرح ہم انسان ہونے منصب سے گرجائیں گے اور انسانیت سے گرجانے کا مطلب حیوانیت یا شیطانیت سے تعاون ہے ۔
 اس لیۓ آپ کو چاہیے کہ آپ پہل کریں اور اپنا تسکین کا دائرہ توڑ دیں اور الہی نظام پر چلتے ہوئے دنیاوی غلامی سے آزادی حاصل کریں۔
 اس سے کیا ہوگا ؟
 اس آزادی کے بعد انسان اپنے منصب کو پالے گا پھر اس دنیا میں اور اگلی دنیا میں بھی کامیاب ترین ہوگا۔ 
کیا آپ بھی اپنے اندر تسکین کا خود ساختہ دائرہ بنا چکے ہیں ؟
 کہیں آپ بھی World Order کے غلام تو نہیں ؟
 کیا آپ کو Universal system یعنی نظام الہی پسند ہے اگر پسند ہے تو اپناتے کیوں نہیں۔ آخر کب تک ہم اپنی تسکین کے دائرہ کو حتمی سمجھ کر مقدس تسلیم کرتے جائیں گے۔ اگر آپ جینا چاہتے ہیں تو نظریات کا ساتھ دیں۔
  کونسے نظریات ؟ وہ نظریات جو اللہ کے پیغمبروں نے عملی طور پر پیش کیا اور یہ نظام نبی کریم ص کے صدقے ہم تک پہنچا اور کرب و بلا میں امام حسین علیہ السلام کے نظریہ پر چلنے والوں اور خود نواسہ رسول ص کو باغی گروہ کہہ کر

یزید بن ....... نے الہی نظام کو دبانے کی ہر گھٹیا کوشش کی

لیکن

آج تک حسین ع Dead نہیں بلکہ Transfer ہوۓ اور زندہ و جاوید الہی نظام میں موجود ہیں۔