اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات دکھوں سے لڑائی شازیہ منشاء وہ گم سم بیٹھی تھی۔ سامنے چارپائی پر اس کے بڑے بیٹے کی لاش تھی۔ چار پائی کے گرد بیٹھے لوگ زاروقطار رو رہے تھے۔ اس کی بیٹیاں بھی رو رو کر واویلہ مچا رہی تھیں۔کوئی بھائی کا منہ چوم رہی تھی، کوئی پاؤں او کوئی ہاتھ۔۔۔۔۔۔۔وہ چارپائی کے کنارے سے سر اٹھاتی سب کو گم سم آنکھوں سے دیکھتی اور پھر سر چارپائی کے کنارے پر ٹکالیتی۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو کہیں ماضی کی یادوں میں کھوگئی تھی تقریبا آج سے پندرہ سال پہلے جب اس کے سارے بچے ہر روز شام کواس کے ارد گرد بیٹھے ہنسی مذاق کر رہے ہوتے تھے۔۔۔ اس کی چھوٹی بیٹی ،نہ جانے اس کی عقل پے کیوں پردہ پڑ گیا تھا۔ایک دن رات کے پہر وہ گھر والوں کو سوتا چھوڑ کر چپکے سے اپنے کسی پریمی کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی۔۔۔۔۔ چند دن اس کے بیٹے کا علاج چلتا رہا مگر ایک دن آنن فانن وہ بھی اس دنیا سے چل بسا۔۔۔۔ماں پر دکھوں، صدموں سے بھرے پہاڑ کی قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔وہ یہی رو رو کے دہائی دے رہی تھی کہ کس کس کاغم اور کس کس کا صدمہ برداشت کروں کتنے اس دنیا سے رخصت کر چکی ہوں۔ اب میری بوڑھی ہڈیوں میں جان نہیں تھی کہ ایک اور بیٹے کو اس دنیا سے رخصت ہوتے دیکھ لیتی یا اللہ تو مجھے ہی میرے بیٹے کے حصے کا اس دنیا سے بلا لیتا۔اس عمر میں مجھ بوڑھی لاچار ماں کو یہ صدمہ نہ دیتا۔۔۔۔۔وہ ایسی دہائیاں دے دے کر بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔۔جب ہوش میں آئی تو صدمیں کی کیفیت میں تھی۔۔۔۔۔کوئی غم، کوئی دکھ، کوئی آنسو، کوئی پریشانی اس کے چہرے سے عیاں نہ تھی وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو بھول کر اپنے ماضی کے اچھے وقتوں کی یادوں میں کھو چکی تھی جب وہ اور اس کا شوہر ہر شام اپنے بچوں کو گھر میں کھیلتے کودتے، ہنستے گاتے اور شور شرابا کرتےدیکھا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

شام کو ان کا باپ جب مزدوری کرکے گھر لوٹتا تو اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ اپنے بچوں کے لئے لے آتا۔بڑی بہن سب کو بانٹ کے ان کا حصہ دے دیتی۔لیکن چھوٹا بھائی روزانہ یہی ضد کرتا کہ مجھے کھانے کے لیے تھوڑی چیز ملی ہے اور رونا شروع کر دیتا۔ماں ہنستے مسکراتے اسے اپنا حصہ دے دیتی۔چھوٹی دو بہنیں اس کے پیچھے بھاگتیں کہ امی کا حصہ ہمیں بھی دو یوں پورے گھر میں وہ چیز کے لیے بھاگتے ، شور شرابہ کرتے رہتے۔
ایک دن شام کو جب سارے بچے بیٹھے اپنے باپ کے آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔دروازے پر دستک ہوئی۔ چھوٹا بھائی بھاگا گیا۔۔۔ ابا آئے ہیں۔۔۔۔ ابا آئے ہیں۔۔۔۔۔ اور جا کر جلدی سے دروازہ کھولا۔دروازے کے آگے دو اجنبی آدمی کھڑے تھے۔ اس کے پیچھے غالبا کچھ اور لوگ بھی تھے۔آپنی امی کو بلاؤ بیٹا۔۔ یہ حبیب احمد کا گھر ہے؟۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے پوچھا۔۔۔
۔چھوٹے بیٹے نے کہا جی یہ ان کا ہی گھر ہے اور اندر کی طرف ماں کو بلانے کے لیے بھاگ گیا۔
ماں کے آنے سے پہلے چار آدمی ایک چارپائی کو اٹھائے اندر کی طرف بڑھ رہےتھے ۔ماں جس کے قدم دروازے کی طرف اٹھے تھے چار پائی دیکھ کر وہی رک گئے اور ہر بڑا کر بولی کون ہو تم لوگ؟، یہ کس کی چارپائی اٹھائے ہمارے گھر لا رہے ہو؟۔
ان میں سے ایک آدمی بولا ۔۔۔ بی بی یہ حبیب احمد کی لاش ہے۔۔۔۔
کام کرتے اچانک اسے دل کا دورہ پڑا۔اس کی تکلیف پر اسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی یہ مر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
بچے مرے باپ کی چارپائی سے لپٹ کر زار و قطار رو رہے تھے۔۔ اسکی تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔ چھوٹے غریب سے گھرانے کا سربراہ تین بیٹیاں، دو بیٹوں اور اپنی بیوی کو اس دنیا میں تنہا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملا تھا۔۔۔۔
چند دن یوں ہی سوگ میں گزر گئے ۔آخر پھر پیٹ بھرنے کے لئے بھی تو کچھ نہ کچھ کرنا تھا۔۔۔۔ ماں بیٹیوں نے مل کر مختلف گھر بیٹھے کام کرنے کرنا شروع کر دیے۔۔۔۔۔پیٹ بھرنے کے لیے آمدن تو ہو ہی جاتی تھی۔۔۔۔
دو سال بعد اس نے اپنی دونوں بڑی بیٹیوں کو بیاہ دیا۔ بڑی بیٹی اپنے رشتے داروں میں اور درمیانی بیٹی شوہر کے رشتہ داروں میں بیاہی۔۔۔۔۔۔۔۔درمیانی بیٹی دو سال بعد ایک بیٹے کے ساتھ طلاق لے کر ماں کے گھر لوٹ آئی ماں نے بھی صبر کر کے اس کواوراس کے بیٹے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
بڑی بیٹی کی شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے مگر ابھی تک اللہ نے اس کو اولاد سے نہیں نوازا تھا۔۔۔۔۔ویسے تو وہ اپنے گھر میں خوش حال تھی۔ بس اولاد کی کمی تھی۔۔۔۔
وہ رو رو کر اللہ سے اپنی بیٹی کی اولاد کے لیے دعائیں کرتی
رہتی۔اس کے بڑے بیٹے کو نہ جانے کہاں سے نشے کی لت لگ گئی تھی۔۔۔۔۔اس نے تو گھر آنا بھی چھوڑ دیا تھا جب دل چاہتا گھر آ جاتا ۔۔۔۔جب دل چاہتا کتنے کتنے دن گھر سے غائب رہتا۔۔۔۔۔
بڑے بیٹے سے اس نے اپنی تمام امیدیں چھوڑ دیں اب وہ اپنے چھوٹے بیٹے سے ہی امیدیں لگائے بیٹھی تھی کہ اس کے گھر کاوہی سہارا بنے گا۔۔۔۔۔چھوٹا بیٹا فطرتاً بہت اچھا اور سب کا خیال رکھنے والا تھا۔۔۔۔وہ ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔۔۔۔۔اپنی ساری کمائی ماں کولا کر دیتا۔ بہنوں کا بھی بہت خیال رکھتا تھا۔۔۔۔۔
کام کرتے اکثر اسے اپنے پیٹ کے اندر سے درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوتی تھیں۔لیکن اس کا ذکر وہ گھر والوں سے نہیں کرتا تھا۔آخر ایک دن اس نے اپنی بڑی بہن کو بتایا کہ اس کو تکلیف رہتی ہے اور وہ اپنے پیٹ میں کچھ گر بڑ محسوس کرتا ہے۔۔۔۔
بڑی بہن اپنے چھوٹے اور چہیتے بھائی کو لے کر فوراً ہسپتال پہنچ گئی اور ڈاکٹر سے اس کا چیک اپ کروایا۔ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کے معدے اور جگر کا مسئلہ ہے اس کا فوری آپریشن کرنا پڑے گا۔ماں سے مشورے کے بعد اس نے ڈاکٹر کو آپریشن کرنے کی اجازت دے دی۔۔۔۔۔ڈاکٹر بھی آپریشن کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔ وہ بھی باہر بیٹھی بھائی کے لئے رو رو کر دعائیں کرنے لگی۔
اس کو ہسپتال کے کوریڈور میں اپنا شوہر بھاگ کر اس کی طرف آتا نظرآیا۔۔۔۔۔۔۔اپنی بیوی کو سینے سے لگا کر دلاسا دیا اور کہاں صبر کرو ۔۔۔۔۔تمہارا بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔
یہ سنتے ہی بہن کے پاؤں سے زمین نکل گئی اور آسمان سر پر گر گیا۔ماں یہ سن کر مر جائے گی میں کیسے اس کو بتاؤ کہ اس کا بیٹا اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔۔۔وہ اپنے شوہر سے لپٹ لپٹ کر رو رہی تھی۔۔۔میرا بھائی میرے ساتھ خود چل کے ہسپتال آیا تھا۔ وہ کیسے مر سکتا ہے؟۔۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔ تم سب جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔بہن کو بھی جیسے اس کی موت کا یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔۔
خیر ماں نے بیٹے اور بہنوں نے چھو ٹے بھائی کی موت کا صدمہ بھی صبر سے برداشت کر لیا۔یہ الگ بات تھی کہ وہ جی تو رہی تھیں مگر زندہ لاشیں بن کر۔۔۔
ماں اور باقی گھر والے صبح اٹھ کر اسے تلاش کرتے رہے۔مگر وہ انہیں کہیں نہ ملی۔۔۔۔۔
ماں کے صبر کا پیمانہ ٹوٹ چکا تھا۔۔۔۔۔وہ یہ کہہ کر روتی جا رہی تھی کہ ماں کو پہلے دکھ کم تھے جو نیا دکھ تم دے گئی ہو۔۔۔۔۔ماں سے ذکر کر لیتی بہنوں سے ذکر کر لیتی پر یوں ہمیں بد نام نہ کرتی ہم تیری خواہش پوری کر دیتے۔۔۔
دکھوں اور غموں نے تو جیسے اس گھر کی چوکھٹ پر ڈیرا لگا لیا تھا۔۔۔۔۔بڑی بیٹی ابھی تک بے اولاد ہی تھی۔درمیانی بیٹی کی دوبارہ شادی کی۔اس لڑکے کا کوئی رشتے دار نہیں تھا۔وہ اپنی ساس کے گھر ہی گھر جمائی بن کر رہنے لگا۔۔۔۔۔درمیانی بیٹی کا پہلی شادی سے ایک بیٹا تھا مگر دوسری شادی کے تین سال بعد بھی اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔۔۔۔۔
اپنی بیٹیوں کے معاملے میں بھی وہ تینوں بیٹیوں کی طرف سے دکھی تھی۔
خاوند اور بیٹا پہلے ہی اس دنیا سے جا کر اس کو نہ بھولنے والا صدمہ اور غم دے چکے تھے۔۔۔۔۔ماں بیٹیاں جب اکٹھی ہوتیں۔۔۔اپنے رب سے اس کی طرف سے دئیے جانے والے غموں پر گلہ بھی کرتیں اور صبر بھی۔ یہی کہتیں کہ مالک جس حال میں بھی تو نے رکھا ہے۔۔۔۔ ہم راضی ہیں۔۔۔۔۔
ماں اور بیٹیاں اپنے گھر کے اکلوتے وارث یعنی گھر کے بڑے بیٹے کو جو اکثر گھر سے دور رہتا، کبھی کبھار دیکھنے پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتیں۔اسے دیکھ کر سکون محسوس کرتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹی بیٹی گھر سے جانے کے بعد اپنے پریمی سے شادی کر چکی تھی اللہ نے اسے بیٹی سے نوازا تھا۔اس خوشی کے موقع پر وہ اپنے گھر والوں سے ملنےآئی تو گھر والوں نے ہنس کے اسے گلے لگا لیا اور معاف کر دیا۔۔۔۔۔
غموں اور دکھوں نے ابھی اس گھر کی دہلیز کو چھوڑا نہیں تھا۔۔۔اس کے بڑے بیٹے کی طبیعت خراب رہنے لگی ٹیسٹ کروائے تو پتہ چلا کہ اسے کینسر ہے اور آخری اسٹیج پر ہے۔
یہ کہانی ایک خاندان کی بالکل سچی کہانی ہے. آپ سے دعا کی اپیل ہے۔
آمین ثم آمین
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں