دکھوں سے لڑائی

شازیہ منشاء

وہ گم سم بیٹھی تھی۔  سامنے چارپائی پر اس کے بڑے بیٹے کی لاش تھی۔ چار پائی کے گرد بیٹھے لوگ زاروقطار رو رہے تھے۔ اس کی بیٹیاں بھی رو رو کر واویلہ مچا رہی تھیں۔کوئی بھائی کا منہ چوم رہی تھی، کوئی پاؤں او کوئی ہاتھ۔۔۔۔۔۔۔وہ چارپائی  کے کنارے سے سر اٹھاتی سب کو گم سم  آنکھوں سے دیکھتی اور پھر سر چارپائی کے کنارے پر  ٹکالیتی۔۔۔۔۔۔۔

وہ تو کہیں ماضی کی یادوں میں کھوگئی تھی تقریبا آج سے پندرہ سال پہلے جب اس کے سارے بچے ہر روز شام کواس کے ارد گرد بیٹھے ہنسی مذاق کر رہے ہوتے تھے۔۔۔
شام کو ان کا باپ جب مزدوری کرکے گھر لوٹتا تو  اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ اپنے بچوں کے لئے لے آتا۔بڑی بہن سب کو بانٹ کے ان کا حصہ دے دیتی۔لیکن  چھوٹا بھائی روزانہ یہی ضد کرتا کہ مجھے کھانے کے  لیے تھوڑی چیز ملی ہے اور رونا شروع کر دیتا۔ماں ہنستے مسکراتے اسے اپنا حصہ دے دیتی۔چھوٹی دو بہنیں اس کے پیچھے بھاگتیں کہ امی کا حصہ ہمیں بھی دو یوں پورے گھر میں وہ چیز کے لیے بھاگتے ، شور شرابہ کرتے رہتے۔
ایک دن شام کو  جب سارے بچے بیٹھے اپنے باپ کے آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔دروازے پر دستک ہوئی۔ چھوٹا بھائی بھاگا گیا۔۔۔ ابا آئے ہیں۔۔۔۔ ابا آئے ہیں۔۔۔۔۔ اور جا کر جلدی سے دروازہ کھولا۔دروازے کے آگے دو اجنبی آدمی کھڑے تھے۔  اس کے پیچھے غالبا کچھ اور لوگ بھی تھے۔آپنی امی کو بلاؤ بیٹا۔۔ یہ  حبیب احمد کا گھر ہے؟۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے پوچھا۔۔۔
۔چھوٹے بیٹے نے کہا جی یہ ان کا ہی گھر ہے اور اندر کی طرف ماں کو بلانے کے لیے بھاگ گیا۔
ماں کے آنے سے پہلے چار آدمی ایک چارپائی کو اٹھائے  اندر کی طرف بڑھ رہےتھے ۔ماں جس کے قدم دروازے کی طرف اٹھے تھے چار پائی دیکھ کر وہی رک گئے  اور  ہر بڑا کر بولی کون ہو تم لوگ؟،  یہ کس کی چارپائی اٹھائے ہمارے گھر لا رہے  ہو؟۔
ان میں سے ایک آدمی بولا ۔۔۔ بی بی یہ حبیب احمد کی لاش ہے۔۔۔۔
کام کرتے اچانک اسے دل کا دورہ پڑا۔اس کی تکلیف پر اسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی یہ مر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
بچے مرے  باپ کی چارپائی سے لپٹ کر زار و قطار  رو رہے تھے۔۔ اسکی تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔  چھوٹے غریب سے گھرانے کا سربراہ تین بیٹیاں، دو بیٹوں اور اپنی بیوی کو اس دنیا میں تنہا چھوڑ  کر خالق حقیقی سے جا ملا تھا۔۔۔۔
چند دن یوں ہی سوگ میں گزر گئے ۔آخر پھر پیٹ بھرنے  کے لئے بھی تو کچھ نہ کچھ کرنا تھا۔۔۔۔ ماں بیٹیوں نے مل کر مختلف گھر بیٹھے کام کرنے کرنا شروع کر دیے۔۔۔۔۔پیٹ بھرنے کے لیے آمدن تو ہو ہی جاتی تھی۔۔۔۔
دو سال بعد اس نے اپنی دونوں بڑی بیٹیوں کو بیاہ دیا۔ بڑی بیٹی اپنے رشتے داروں میں اور درمیانی بیٹی شوہر کے رشتہ داروں میں بیاہی۔۔۔۔۔۔۔۔درمیانی بیٹی دو سال  بعد ایک بیٹے کے ساتھ طلاق لے کر ماں کے گھر لوٹ آئی ماں نے بھی صبر کر کے اس کواوراس  کے بیٹے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
بڑی بیٹی کی شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے مگر ابھی تک اللہ نے اس کو اولاد سے نہیں نوازا تھا۔۔۔۔۔ویسے تو وہ اپنے گھر میں خوش حال تھی۔ بس اولاد کی کمی تھی۔۔۔۔
وہ رو رو کر  اللہ سے اپنی بیٹی کی اولاد کے لیے دعائیں کرتی 
  رہتی۔اس کے بڑے بیٹے کو نہ جانے کہاں سے نشے کی لت لگ گئی تھی۔۔۔۔۔اس نے تو گھر آنا بھی چھوڑ دیا  تھا جب دل چاہتا  گھر آ جاتا ۔۔۔۔جب دل چاہتا کتنے کتنے دن گھر سے غائب رہتا۔۔۔۔۔
بڑے بیٹے سے اس نے اپنی تمام امیدیں چھوڑ دیں اب وہ اپنے چھوٹے بیٹے سے ہی امیدیں لگائے بیٹھی تھی کہ اس کے گھر کاوہی سہارا بنے گا۔۔۔۔۔چھوٹا بیٹا فطرتاً بہت اچھا اور سب کا خیال رکھنے والا تھا۔۔۔۔وہ ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔۔۔۔۔اپنی ساری کمائی ماں کولا کر دیتا۔ بہنوں کا بھی بہت خیال رکھتا تھا۔۔۔۔۔
کام کرتے اکثر اسے اپنے پیٹ کے اندر سے درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوتی تھیں۔لیکن اس کا ذکر وہ گھر والوں سے نہیں کرتا تھا۔آخر ایک دن اس نے اپنی بڑی بہن کو بتایا  کہ اس کو تکلیف رہتی ہے اور وہ اپنے پیٹ میں کچھ گر بڑ محسوس کرتا ہے۔۔۔۔
بڑی بہن  اپنے چھوٹے اور چہیتے بھائی کو لے کر فوراً ہسپتال پہنچ گئی اور ڈاکٹر سے اس کا چیک اپ کروایا۔ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کے معدے اور جگر کا مسئلہ ہے اس کا فوری آپریشن کرنا پڑے گا۔ماں سے مشورے کے بعد اس نے ڈاکٹر کو آپریشن کرنے کی اجازت دے دی۔۔۔۔۔ڈاکٹر بھی آپریشن کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔ وہ بھی باہر بیٹھی بھائی کے لئے رو رو کر دعائیں کرنے لگی۔
اس کو ہسپتال کے کوریڈور میں اپنا شوہر بھاگ کر اس کی طرف آتا نظرآیا۔۔۔۔۔۔۔اپنی بیوی کو سینے سے لگا کر دلاسا دیا اور کہاں صبر کرو ۔۔۔۔۔تمہارا بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔
یہ سنتے ہی بہن کے پاؤں سے زمین نکل گئی اور آسمان سر پر گر گیا۔‏ماں یہ سن کر مر جائے گی میں کیسے اس کو بتاؤ کہ اس کا بیٹا اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔۔۔وہ اپنے شوہر سے لپٹ لپٹ کر رو رہی تھی۔۔۔میرا بھائی میرے ساتھ خود چل کے  ہسپتال آیا تھا۔ وہ کیسے مر سکتا ہے؟۔۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔ تم سب جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔بہن کو بھی جیسے اس کی موت کا یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔۔
خیر ماں نے بیٹے اور بہنوں  نے چھو ٹے بھائی کی موت کا صدمہ بھی صبر سے برداشت کر لیا۔یہ الگ بات تھی کہ وہ  جی تو رہی تھیں مگر زندہ لاشیں بن کر۔۔۔

اس کی چھوٹی بیٹی ،نہ جانے اس کی عقل پے کیوں پردہ پڑ گیا تھا۔ایک دن رات کے پہر وہ گھر والوں کو سوتا چھوڑ کر چپکے سے اپنے کسی پریمی کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی۔۔۔۔۔
ماں اور  باقی گھر والے صبح اٹھ کر اسے تلاش کرتے رہے۔مگر وہ انہیں  کہیں نہ ملی۔۔۔۔۔
ماں کے صبر کا پیمانہ ٹوٹ چکا تھا۔۔۔۔۔وہ یہ کہہ کر  روتی جا رہی تھی کہ ماں کو پہلے دکھ کم تھے جو نیا دکھ تم دے گئی ہو۔۔۔۔۔ماں سے ذکر کر لیتی بہنوں سے ذکر کر لیتی پر یوں ہمیں بد نام نہ کرتی ہم تیری خواہش پوری کر دیتے۔۔۔
دکھوں اور غموں نے تو جیسے اس گھر کی چوکھٹ پر ڈیرا لگا لیا تھا۔۔۔۔۔بڑی بیٹی ابھی تک بے اولاد ہی تھی۔درمیانی بیٹی کی دوبارہ شادی کی۔اس لڑکے کا کوئی رشتے دار نہیں تھا۔وہ اپنی ساس کے گھر  ہی گھر جمائی بن کر رہنے لگا۔۔۔۔۔درمیانی بیٹی کا پہلی شادی سے ایک بیٹا تھا مگر دوسری شادی کے تین سال بعد بھی اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔۔۔۔۔
اپنی بیٹیوں کے معاملے میں بھی وہ تینوں بیٹیوں کی طرف سے دکھی تھی۔
خاوند اور بیٹا پہلے ہی اس دنیا سے جا کر اس کو نہ بھولنے والا صدمہ اور غم دے چکے تھے۔۔۔۔۔ماں بیٹیاں جب اکٹھی ہوتیں۔۔۔اپنے رب سے  اس کی طرف سے دئیے جانے والے غموں پر گلہ بھی کرتیں اور صبر بھی۔ یہی کہتیں کہ مالک جس حال میں بھی تو نے رکھا ہے۔۔۔۔ ہم راضی ہیں۔۔۔۔۔
ماں اور بیٹیاں اپنے گھر کے اکلوتے وارث یعنی گھر کے بڑے بیٹے کو جو اکثر گھر سے دور رہتا، کبھی کبھار دیکھنے پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتیں۔اسے دیکھ کر سکون محسوس کرتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹی بیٹی گھر سے جانے کے بعد اپنے پریمی سے شادی کر چکی تھی اللہ نے اسے بیٹی سے نوازا تھا۔اس خوشی کے موقع پر وہ اپنے گھر والوں سے ملنےآئی تو گھر والوں نے ہنس  کے اسے گلے لگا لیا اور معاف کر دیا۔۔۔۔۔
غموں اور دکھوں نے  ابھی اس گھر کی دہلیز کو چھوڑا نہیں تھا۔۔۔اس کے بڑے بیٹے کی طبیعت خراب رہنے لگی ٹیسٹ کروائے تو پتہ چلا کہ اسے کینسر ہے اور آخری اسٹیج پر ہے۔

چند دن اس کے بیٹے کا علاج چلتا رہا مگر ایک دن آنن فانن وہ بھی اس دنیا سے چل بسا۔۔۔۔ماں پر دکھوں، صدموں سے بھرے   پہاڑ کی قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔وہ یہی رو رو کے دہائی دے رہی تھی کہ کس کس کاغم  اور کس کس کا صدمہ برداشت کروں کتنے  اس دنیا سے رخصت کر چکی ہوں۔ اب میری  بوڑھی ہڈیوں میں جان نہیں تھی کہ ایک اور بیٹے کو اس دنیا سے رخصت ہوتے دیکھ لیتی یا اللہ تو مجھے ہی میرے بیٹے کے حصے کا اس دنیا سے بلا لیتا۔اس  عمر میں مجھ بوڑھی لاچار ماں کو یہ صدمہ نہ دیتا۔۔۔۔۔وہ ایسی دہائیاں دے دے کر بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔۔جب ہوش میں آئی تو  صدمیں کی کیفیت میں تھی۔۔۔۔۔کوئی غم، کوئی دکھ، کوئی آنسو، کوئی پریشانی  اس کے چہرے سے عیاں نہ  تھی وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو بھول کر اپنے ماضی کے اچھے وقتوں کی یادوں میں کھو چکی تھی جب وہ اور اس کا شوہر  ہر شام اپنے بچوں کو گھر میں کھیلتے کودتے، ہنستے گاتے اور شور شرابا کرتےدیکھا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی ایک خاندان کی بالکل سچی کہانی ہے. آپ سے دعا کی اپیل ہے۔
آمین ثم آمین