کبھی بہ حیلئہ مذہب کبھی ...

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

یکساں نصاب تعلیم بہت ضروری ہے۔ خصوصا صوبہ پنجاب میں یکساں نصاب کا بہت چرچا ہے۔ پنجاب اسمبلی بھی مذہبی رواداری کیلئےبِل بنانے میں خاص شہرت رکھتی ہے۔ ایک بڑے عرصے تک یہ رواداری خفیہ  اور  آہنی ہاتھوں سے انجام پاتی رہی  اب ساتھ ساتھ نظام تعلیم اور نصابِ تعلیم کے ریشمی ہاتھوں کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ آئیے ملک میں یکساں نصابِ تعلیم سے پہلے  کی ایک جھلک دیکھ لیتے ہیں۔

پرانی بات نہیں ۱۹۹۴کی بات ہے۔صوبہ  پنجاب کا ہی واقعہ ہے۔ جماعت اسلامی کےرہنما وں میں سے ایک کی داستان ہے۔اُن کے حافظ قرآن بیٹے  ڈاکٹر حافظ فاروق سجاد کی ہمسایوں سے لڑائی ہوئی۔ایک دن ہمسایوں نے  لوگوں کو جمع کیا کہ حافظ فاروق نے گھر کے اندر قرآن مجید کی توہین کی ہے۔اسکے بعد ہجوم نے حافظ فاروق کو گھر کے اندر گھس کر سنگسار کر دیا۔

ایسے کتنے ہی واقعات پولیس کے نوٹس میں ہیں کہ جہاں ایک مسجد کے مولوی نےخود اپنے ہی مذہب کے خلاف وال چاکنگ کروا کر دوسری مسجد کے مولوی پر مقدمہ درج کرایا۔

سانحہ راجہ بازار راولپنڈی بھی آپ کو یاد ہوگا کہ جب خود ایک مسلک والوں نے دوسرے مسلک پر مقدمات قائم کرانے کیلئے اپنی ہی مسجد و مدرسے کو آگ لگا دی تھی اوراپنےہی لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

۱۹۹۷اس کے علاوہ  میں جسٹس عارف اقبال بھٹی کو غیر مسلموں کو پھانسی نہ دینے کی وجہ سے قتل کیا گیا۔جنوری ۲۰۱۱میں  مذہب کی بالادستی کیلئے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اُنہی کے محافظ نے گولیاں مار کر قتل کردیا  ۔ جولائی۲۰۱۲ میں بہاولپورکے نزدیک ایک  مشتعل ہجوم نے پولیس تھانے پر حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے ایک گرفتارشدہ شخص کو پکڑ کر تیل چھڑک کر زندہ جلادیا۔ حالانکہ سب جانتے تھے کہ یہ شخص دماغی معذورہے۔ اس کے علاوہ آئے دنوں ایسی ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں جن میں ایک خاص فرقے کے لوگوں کو پکڑ کر ان کی پٹائی کی جاتی ہے اور ان کے عقائد تبدیل کرنے کیلئے انہیں گھیر کر ان سے اپنی مرضی کی باتیں کہلوائی جاتی ہیں۔  ہم نے اسکالم میں مذہبی علمبرداری کے لئے بنائے گئے ٹولوں اور لشکروں کا ذکر نہیں کیا، نہ ہی آرمی پبلک سکول پشارو جیسے سانحات کو یہاں بیان کیا ہے بلکہ   صورتحال کی عمومی  نزاکت کو سمجھانے کیلئے صرف یہ چیدہ چیدہ واقعات  پیش کئے ہیں۔

یہاں پر ایک واقعہ صرف اور صرف ایک ہی واقعہ  غیرمسلم افراد کے ساتھ ہمارے مذہبی علمبرداروں کا بھی ملاحظہ کر لیجئے۔ یہ بھی ۲۰۱۲ کا ہی واقعہ ہے۔اسلام آباد کے ایک نواحی علاقے کی بات ہے۔ ایک کم سن لڑکی رمشا مسیح پر ایک امام مسجد حضرت مولانا حافظ محمد خالد  چشتی نے قرآن مجید کی بے حرمتی کا مقدمہ دائر کرایا۔ عدالت میں کیس چلا تو یہ عقدہ بھی کھلا کہ  نعوذباللہ قرآن مجید کو نذرِ آتش کرنے کا  یہ عظیم کارنامہ بنفسِ نفیس امام مسجد حضرت مولانا حافظ محمد خالد  چشتی نے  خود انجام دیا تھا۔

ایسے ذہنی مریض ہمارے ہاں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ایک مکار اقلیت  کے آلہ کارہوتے ہیں۔یہ مکار اقلیت  اپنے دشمنوں کا صفایا کرنے کیلئے  ان  سے استفادہ کرتی ہے۔ اس مکار اقلیت کی شان اور تعارف کے بارے میں آپ ہمارا یہ کالم ضرور پڑھ لیجئے:

ایک اقلیت طاقتور لوگوں کی

اس طاقتور اقلیت نے  اگلے چند سالوں میں ایک مرتبہ پھر درہم و دینار اور ڈالر و ریال سے ہمیں مالا مال کرنا ہے۔ یہ ڈالر اور ریال سعودی شہزادے کے  وژن ۲۰۳۰  کی تجوری میں پڑے ہوئے ہیں۔ہمیں اہنے خطے میں سعودی مفادات کی جنگ لڑنی ہوگی۔ افغان جہاد کی طرح یہ بھی تو جہاد ہی ہے۔  چنانچہ  سعودی مفادات  کے مخالفین چاہےشیعہ ہوں یا اہل سنت ،ان  کا صفایا  تو ہمیں  کرنا ہی ہے۔ اب ان دنوں پھر پیسہ سعودی عرب کا ہےاورجہاد پاکستان میں ہو رہا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے خفیہ بِل ہوں یا  پنجاب حکومت کا یکساں نصاب تعلیم، ایجنڈہ یہی ہے کہ سعودی مخالفین کا صفایا کرو۔ جہاں تک گولی سے ممکن ہے تو گولی چلاو اور جہاں تک اُن  کے بچوں کے ذہن اور عقائد تبدیل کر سکتے ہوتو یہ بھی کرو۔ویسے بھی مشتاق یوسفی مرحوم کا کہنا ہے کہ جو ملک جتنا  زیادہ غربت زدہ ہوگا، اس میں اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن بھی زیادہ ہوگا۔

بقول فراز
امیرِ شہر غریبوں کو لُوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلئہ مذہب کبھی بنامِ وطن

 


افکار و نظریات: آلو اور مذہب