راولپنڈی ہولی فیملی ہسپتال

رپورٹ: احسن علی

 مریضوں اور انکے لواحقین کی عزتیں غیر محفوظ

راولپنڈی ہولی فیملی ہسپتال میں سکیورٹی مافیا کا  ہسپتال میں آنے والے مریضوں اور انکے لواحقین کے ساتھ بدمعاشی اور غنڈہ گردی کرنا معمول بن گیا۔ جن کو روکنے کے بجائے ہسپتال انتظامیہ انکا نا جائز طور پر بھر پور ساتھ دینے لگے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیساکہ ہولی فیملی ہسپتال ایک علیحدہ ریاست ہے جہاں بدمعاشوں اور غیر اخلاقی لوگوں نے اجارہ داری بنائی ہوئی ہے جو کہ ہسپتال میں آنے والے حضرات کی عزتیں پامال کرتے ہیں اور اپنے قدم جما رکھے ہیں۔ جو کہ آپس میں ملے ہوئے ہیں اور محکمہء صحت کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 
گزشتہ روز ، بروز سموار 14 جون 2021 کو صبح 10 بجے جب میں اپنی والدہ محترمہ کا علاج معالجہ کروانے کے لیے ہولی فیملی ہسپتال فیزوتھراپی وارڈ کیجانب گیا تو وارڈ کے گیٹ پر دو سکیورٹی گارڈز کھڑے ہوئے تھے جو کہ اپنی جگہ سے ہٹ کر مریضوں کے آنے جانے والے راستے میں کھڑے ہوئے تھے جو کہ بیرئیر کی وجہ سے پہلے ہی بہت تنگ ہے اور لیڈیز مریضوں اور لیڈیز لواحقین کو گزرنے میں سخت دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور با مشکل ایک بندہ بیک وقت گزر سکتا ہے ۔

اسکے باوجود سکیورٹی اہلکار اپنی پوزیشن چھوڑ کر عوام کے گزرنے والی جگہ پر کھڑے ہو جاتے ہیں  اور لیڈیز کے آنے پر بھی راستہ نہیں دیتے۔ چونکہ میرے ساتھ میری والدہ محترمہ تھیں میں نے سکیورٹی گارڈز سے درخواست کی کہ برائے مہربانی تھوڑا سا راستہ دے دیں تو انکو میری یہ بات بہت بری لگی اور میرے ساتھ میری والدہ محترمہ کے سامنے بد کلامی شروع کر دی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے مجھے وہاں روک کر اپنا پابند کر لیا جب میں نے کہا کہ میری والدہ محترمہ کو وارڈ میں جانے دو تو انکا کہنا تھا کہ اب تمہاری والدہ کو بھی اندر جانے نہیں دیا جائے گا ۔

اتنی ہی دیر میں دوسرا سکیورٹی اہلکار اندر سے اپنے سکیورٹی انچارج کو بلا کر لے آیا جو کہ کچھ لوگوں کے ہمراہ آیا اور آتے ہی مجھ سے شدید بدکلامی کرنے لگ پڑا اور ہسپتال میں بند کر کے تشدد کرنے کی دھمکیاں دینے لگا ۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میں صحافی ہوں اور آپ لوگوں کی خبر لگاؤں گا تو اس نے اپنے اہلکاروں کے ساتھ ملکر وارڈ کے گیٹ پر میری والدہ محترمہ کے سامنے ہسپتال میں موجود ساری عوام کے سامنے مجھ پر تشدد کیا اور مجھے دھکے دے کر ہسپتال کی سیڑھیوں پر سے نیچے گرا دیا اور کہا تم ہسپتال کے اندر داخل نہیں ہو سکتے ۔

اتنی دیر میں ہسپتال میں تعینات پنجاب پولیس کا اہلکار علی ہمدانی پہنچا جس نے ان سفاک لوگوں سے میری جان چھڑائی اور مجھے میری والدہ محترمہ کے ہمراہ فیزوتھراپی وارڈ میں بھیج دیا جس بات کا میں نہایت شکر گزار ہوں۔ 
اسکے بعد میں نے اپنے ایک صحافی بھائی سے رابطہ کیا اور اسکو ساری بات سے آگاہ کیا تو اس نے مجھے ہسپتال کے ڈی ایم ایس کے پاس حاضر ہونے کا مشورہ دیا اور کہا کہ یہ ساری بات ڈی ایم ایس تک پہنچاؤ ۔ 
جب میں ڈی ایم ایس کے آفس میں گیا اور ساری بات بتائی تو ڈی ایم ایس صاحب نے میری بات سمجھنے سے انکار کر دیا اور بتایا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے جبکہ سکیورٹی انچارج جو کہ مجھ پر تشدد کر چکا تھا اسکو بھی ساتھ اپنے آفس کے اندر بٹھایا ہوا تھا جو کہ ڈی ایم ایس کے سامنے بھی مجھ سے الجھتا رہا۔ 
جب میں ڈی ایم ایس کے آفس سے باہر آیا تو پنجاب پولیس اہلکار علی ہمدانی نے مجھے سمجھایا اور عزت کی اور کہا بھائی اس معاملے کو ختم کرو جن کے کہنے پر میں نے گزشتہ روز خبر نہیں لگائی لیکن آج پھر میں جب ہولی فیملی ہسپتال فیزوتھراپی وارڈ میں داخل ہو رہا تھا تو وہی سکیورٹی گارڈز مجھے دیکھ کر میرا مذاق اڑانے لگے اور مجھے دیکھ کر کہنے لگے کہ جانے دیں یا روک لیں جبکہ میری والدہ محترمہ میرے ہمراہ تھیں۔ 
جس سے مکمل طور پر یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ ہسپتال انتظامیہ مافیا پوری طرح سے سرگرم ہے جو کہ غیر اخلاقی اور دیگر جرائم میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں اور سرکاری املاک اور پاکستان کی عوام کو بری طرح سے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 
میں تمام ٹی وی چینلز ، اخبارات اور سوشل میڈیا سے اپیل کرتا ہوں کہ اس خبر کو خدارا منظر عام پر لیکر آئیں ۔ تا کہ بد اخلاقوں اور بدمعاشوں کی آماجگاہ کو ختم کر کے ہسپتال کو نجاست سے پاک کیا جائے۔ اسکے علاوہ وزیراعظم پاکستان عمران خان ، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد ، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ، وزیر صحت اور پاکستان کے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں پاکستانی عوام کی عزتیں سر بازار پامال ہونے سے بچائی جائیں۔

 


افکار و نظریات: راولپنڈی ہولی فیملی ہسپتال