زندہ ہے جمعیت 
نذر حافی


میدان گرم ہے۔ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسمبلیوں کی خفیہ قرار دادیں اور  نئے دروداور نئے اسلام سے لبریز   یکساں نصاب تعلیم   کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ سندھ میں عوام کیلئےجو دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں   اور عوام کی شخصی اور مذہبی آزادی کا معیار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، بلوچستان اور پختونخواہ کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔ مسنگ پرسنز کا ناسور روزانہ پھیلتا ہی جا رہا ہے۔آزاد کشمیر میں بھی  ڈاکٹر غلام عباس راٹھور  کو ہندو کہہ کر قتل کرنے کی  تازہ   واردات نے ہر خاص و عام کو چونکا دیا  ہے۔  ایسے واقعات  اپنے ہمراہ  طالبان کیلئے واضح اشارے اور سگنل  لئے ہوئےہیں ۔ جواب میں افغانی طالبان کے عزائم اور ارادے بھی وائرل ہو چکے ہیں۔گویا اب اگلے چند ماہ اہلِ پاکستان  کیلئے بڑے صبر ازما ہونگے۔
یہ بھی واضح ہے کہ کئی دہائیوں سے نفاذِ  اسلام کا رخ  ہمارےتعلیمی اداروں کی طرف ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں میں طالبان اور القاعدہ کے عناصر  کی موجودگی کسی سے مخفی نہیں، اسی طرح مردان میں مشال خان کا قتل ، شبقدرکے علاقے میں یابہاولپور کے کالج میں کسی  طالب علم کا پرنسپل یا پروفیسر کو قتل کرنا آن دی ریکارڈ ہے۔  تاہم اس مرتبہ معاملہ قدرے مختلف ہے۔اب مقتدر قوتیں نظامِ مصطفی ﷺ کی طرح ایک مرتبہ پھر  نفاذِ اسلام کیلئے متحد ہو چکی ہیں۔ اب جو اِس نفاذِ اسلام کی مخالفت کرے گا وہ یقینا کافر اور مرتد ہی ٹھہرے گا۔   تین دن پہلے کی بات ہے کہ   گورنمنٹ سائنس کالج  وحدت روڈ  کے اندر  نفاذِ اسلام  کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا ہے۔  تفصیلات یہ ہیں کہ   یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ہمیشہ   سے جمعیت زندہ ہے۔  وقوعہ کے روز  "زندہ ہے  جمعیت" کی تاریخ  کو از سرِ نو رقم کرنے کیلئے  گلبرگ کالج، اسلامیہ کالج سول لائنزاور منصورہ سے مصلحین کی کئی اسلحہ بردار اور ڈنڈوں سے لیس   ٹولیاں اور  ٹیمیں گورنمنٹ سائنس کالج  پہنچیں۔ اُنہوں نے کمروں کے اندر سے گھسیٹ گھسیٹ کر  طالب علموں کے ساتھ وہی کیا جو  مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشال خان کے ساتھ ہوا  تھا۔یعنی صرف صوبہ اور یونیورسٹی مختلف تھی لیکن ذہنیت اور سوچ وہی تھی۔بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ بات تو یہ بھی ہے کہ  زخمی اور مضروب  ہونے والے طالب علموں میں سے بعض کو کالج کی چھت سے بھی نیچے گرایا گیا ہے۔ یہ سب ان طلبا کے ساتھ ہوا ہے جنہوں نے پہلے سے ہی کالج کے پرنسپل اور انتظامیہ کو خطرے سے آگاہ کیا تھا۔ ہاں یاد رہے کہ    اس موقع پر  دیگر کالجز سے جمعیت کے شریف لوگ تو جوق در جوق جائے وقوعہ پر پہنچ کر جہاد میں مصروف رہے لیکن اگر کوئی نہیں پہنچا تو وہ ہمارے سیکورٹی اداروں کے کارندے اور پولیس اہلکار تھے۔ ان کے نہ پہنچنے میں بھی عقل والوں کیلئے نشانیاں اور طالبان کیلئے واضح پیغام موجود ہے۔