تقریر اور تدبیر
اصغرگلکالہ


چند دن قبل ایک بزرگ دوست جو سالوں سے شعبہ تعلیم سے وابسطہ ہیں کسی کام کے سلسلے میں ان سے ملنے گیا۔ حال احوال میں ان کے ادارے کی صورتحال بارے دریافت کیا تو سب اچھا ہے کا رسمی جواب ملا۔ پھر ان کے ادارے سے وابسطہ ایک اور صاحب کا مجھے خیال آیا جو کہ موٹیویشنل اسپیکر اور ٹرینر ہیں۔ دراصل میں بھی ان کا ایک موٹیویشنل سیشن اٹینڈ کر چکا ہوں تو انکی گفتگو، تقریر اور ویژن سے خاصا متاثر تھا، میں نے ویژن کی شدید تفصیل دراصل پہلی بار انہی سے سنی تھی۔

تو ان کے ویژن نے مجھے انہیں یاد رکھنے پر مجبور رکھا۔ میرے میزبان جو گزشتہ چند گھنٹوں میں صرف مثبت موضوعات پر بات کر رہے تھے اچانک انکا نام آنے پر ناراحت ہو گئے۔ وہ بتانے لگے کہ کیسے ان صاحب کی موٹیویشنل اسپیچ اور ٹریننگ سیشن سے متاثر ہو کر ہم نے ادارہ انکے حوالے کر دیا کہ وہ اپنے ویژن کے تحت اسے چلائیں لیکن جب ٹرینر صاحب کو تقریر سے نکال کر عملی میدان دیا گیا تو انہوں نے اپنی نالائقی اور مس مینیجمینٹ سے کیسے ایک چلتے ہوئے ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ نیا ویژن رکھنے والی انکے دوستوں کی ٹیم نے لاکھوں روپے تنخواہیں لینے کے بعد بھی کیسی گھناؤنی کرپشن کی اور بچوں کے کئی قیمتی ترین تعلیمی سال ضائع ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اچھی تقریر کرنے والا ضروری نہیں کہ اچھی تدبیر والا بھی ہو۔

ادارے اور ملک اچھی تقریروں سے نہیں بلکہ اچھی تدبیروں سے چلتے ہیں اور اچھی تدبیر والوں کی شناخت کرنا ہر ادارے کے سربراہ قوموں اور مملکت کے افراد کی ذمہ داری ہے۔ ہم پرچی والے لیڈر پر لعنت ملامت کرتے رہے لیکن بنا پرچی کے تقریر کرنے والے نے بھی نئے قرض، معاشی بحران اور سب سے بڑھ کر ناکارہ ترین شارجہ پالیسی کا تحفہ ہی دیا ہے۔