علمائے کرام رہنمائی فرمائیں

رائے یوسف رضا دھنیالہ
میرا تعلق گاؤں دھنیالہ، تحصیل دینہ، ضلع جہلم، پنجاب، پاکستان سے ہے جہاں میرے والدِ گرامی مجاہدِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اسلم چشتی رحمتہ اللہ علیہ تیس سال امام و خطیب رہے۔
آپ ایک نامور سُنی بریلوی عالمِ دین تھے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی زِندگی سے ہی ایک معمول چلا آتا تھا کہ دس محرم الحرام کی صبح نمازِ فجر کی ادائیگی کے فوراً بعد نمازی حضرات مسجد میں ہی تشریف رکھتے، شہدائے کرب و بلأ کے ایصالِ ثواب کے لئے قرانِ خوانی، ذِکر و اذکار اور چھوٹے سے ایک خطاب کی محفل منعقد ہوتی۔ اور دعا کے بعد لنگر تقسیم کر کے میرے والدِ گرامی رحمتہ اللہ علیہ کے مُقتدی اپنے دن کا آغاز غمِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے کیا کرتے۔

2007ء میں میرے والدِ گرامی رحمتہ اللہ کی رحلت ہو گئی لیکن یومِ عاشور کے دن کا معمول اُسی طرح آج بھی جامع مسجد فاروقیہ دھنیالہ میں جاری ہے!

ضلع باغ، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے حضرت علامہ مولانا افراز سُلطانی صاحب آج کل ہماری مسجد کے امام و خطیب ہیں۔

چک جمال ہمارے گاؤں سے مُتصل ایک قصبہ ہے جہاں کی مسجد کے امام و خطیب حضرت علامہ مولانا مُحسن شاہ صاحب ایک نوجوان شُعلہ بیان سُنی مقرر ہیں۔ اور چونکہ برصغیر کے لوگ لیکچر کے بجائے لحن کے ساتھ کئے گئے وعظ کو زیادہ پسند کرتے ہیں، لہذا مُحسن شاہ صاحب کی علاقہ چک جمال و دھنیالہ میں کافی مقبولیت ہے اور لوگ اُن کا جوشیلا اور سُریلا خطاب سُننے کے لئے اُنہیں جلسوں کے علاوہ قُل اور ختم کی دیگر محفلوں میں بھی اتنا زیادہ مدعو کرتے ہیں کہ اکثر جگہوں پہ تواتر کے ساتھ اُنہیں دیکھنے اور سُننے کا موقع ملتا رہتا ہے۔
خُوش الحان ہونا اُن کی پذیرائی کا سب سے بڑا سبب ہے لیکن چونکہ وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ اُن میں اعتماد بڑھتا جا رہا ہے، لہذا وعظ میں روانی اور عنوان پہ اُن کی گرفت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
لیکن چونکہ اُن کے خطاب میں سُنّیت ہونا ناگزیر ہے، اس لئے ظاہر ہے کہ روائتی باتیں ہی عموماً اُن سے سُننے کو ملتی رہی ہیں۔ لیکن آج ہماری مسجد میں اُنہوں نے ایک ایسی غیر روائتی بات بیان کر دی جس سے میرے کان کھڑے ہو گئے اور خطاب کے بعد میں نے اُن سے اس بارے میں کُچھ سوالات بھی پُوچھے۔

محسن شاہ صاحب چونکہ سیّد ہونے کے دعویدار بھی ہیں، لہذا آج ہماری مسجد میں ہمارے خطیب افراز سُلطانی صاحب نے ذکرِ اہلیبیت کے لئے محسن شاہ صاحب کو ہی مدعو کر رکھا تھا۔

مجمع اگرچہ کم تھا تاہم محسن شاہ صاحب کا خطاب حسبِ معمول سُریلا اور پُرجوش تھا۔ اُنہوں نے سُنّیت کے دائرے میں رہتے ہوئے شانِ اہلبیت بیان کی۔
لوگوں سے سبحان اللہ، سبحان اللہ وہ کہلواتے رہتے ہیں اور یوں مجمع اُن کی مُٹھی میں رہتا ہے۔
سامعین میں اگرچہ میں بھی موجود تھا تاہم میں کسی کے جوشِ خطابت کی طرف نہیں بلکہ نُکتے کی باتوں کی طرف متوجہ رہتا ہوں اور آج محسن شاہ صاحب نے بھی اپنے وعظ میں مروان بِن حَکم کا ذکر کُچھ اِس طرح سے کیا کہ اُن کے خطاب نے میری توجہ بھی کھینچ لی۔

اُنہوں نے بتایا کہ "مروان بِن حَکم پر الله کے نبیﷺ نے لعنت بھیجی تھی، اور یہ مروان بِن حَکم ہی تھا کہ جس نے اہلبیت پر سب سے زیادہ ظلم ڈھائے۔ لہذا یہ لعنتی قیامت تک لعنت کا حقدار ہے!"وغیرہ وغیرہ۔

محسن شاہ صاحب سے مروان بِن حَکم پر لعنت بھیجنے کی چونکہ میں توقع نہیں کر رہا تھا، لہذا میرے لئے یہ ایک غیرمعمولی پہلو تھا۔
میں نے اپنے سمارٹ فون کا جیسے ہی کیمرہ آن کیا تاکہ شاہ صاحب کا یہ بیان ریکارڈ کر لوں، لیکن افسوس تب تک مروان پر لعنت بھیج کر وہ آگے بڑھ چکے تھے اور پھر دوبارہ اُن کے خطاب میں مروان بِن حکم کا ذکر نہ ہوا۔ لہذا اُن کے خطاب کا وہ حصہ میں ریکارڈ نہ کر پایا۔
تاہم اِس دوران میرے ذہن میں کُچھ سوالات پیدا ہوئے کہ اگر مروان بِن حَکم واقعی لعنتی ہے تو پھر کم از کم تین سوالوں کا جواب بھی ملنا چاہئے!

جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ کوئی جلسہ نہیں ہوتا بلکہ ہر سال نمازِ فجر کے بعد نمازی ہی حاضرین ہوتے ہیں یا پھر دھنیالہ کی ایک دو دوسری مساجد کے امام و خطیب صاحب بھی اپنی مسجد سے فارغ ہو کر آ جاتے ہیں۔ لہذا کُل ملا کے یہ ایک گھنٹے کی مختصر سی محفل رکھی جاتی ہے۔

محسن شاہ صاحب کا خطاب ختم ہوا تو ختم شریف پڑھ کر لنگر کی تقسیم شروع ہوئی تو محسن شاہ صاحب کو میں نے مسجد سے روانہ ہوتے دیکھا۔ میزبان علامہ افراز صاحب اور جامع مسجد نُور دھنیالہ کے خطیب مولانا محمود صاحب اُنہیں الوداع کہنے مسجد کے دروازے پر موجود تھے کہ میں دوڑ کر اُن تینوں سُنی عُلمأ بلکہ خُطبأ کے پاس پہنچا اور والہانہ انداز سے محسن شاہ صاحب کے ساتھ سلام لیتے ہوئے اُنہیں اپنا تعارف کروایا کہ یُوسف رضا میرا نام ہے اور اِس مسجد کے سابقہ مرحوم خطیب حافظ محمد اسلم چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا بیٹا ہوں۔

محسن شاہ صاحب ظاہر ہے کہ پہلے سے مجھے جانتے تھے لہذا میرے پُرجوش انداز سے وہ بہت محظوظ اور مطمئن ہوئے۔ لیکن ساتھ ہی میں نے اُن سے جب یہ پوچھا کہ "شاہ صاحب! آپ نے آج اپنے خطاب میں منبرِ رسولﷺ پہ بیٹھ کے، جو کبھی میرے والدِگرامی رحمتہ الله علیہ کا بھی منبر تھا، مروان بن حکم پہ جو لعنت بھیجی ہے اِس سے میرے ذہن میں تین مزید سوال پیدا ہوئے ہیں جن کی وضاحت چاہنے کی رعائت چاہتا ہوں!"

میرے یوں پوچھنے پر محسن شاہ صاحب تھوڑے سے چوکنّا ہو کے بولے کہ "مروان بن حَکم پر لعنت میں نے نہیں بلکہ اللہ کے رسولﷺ نے بھیجی تھی!"

شاہ صاحب کی اس بات کے بعد میں نے اُن کے پاس کھڑے دھنیالہ کی جامع مسجد نُور کے خطیب مولانا محمود صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے اُن سے پوچھا کہ "محمود صاحب! آپ کا اِس بارے میں کیا مؤقف ہے؟"
تو مولانا حافظ محمود صاحب نے متانت کے ساتھ جواب دیا کہ "جیسے شاہ صاحب کہیں، ٹھیک ہے!" اور ساتھ ہی اُنہوں نے ہم سے اجازت طلب کرلی کہ اُن کی اپنی مسجد میں طلبأ ان کا انتظار کر رہے تھے جنہیں ساتھ لے کے حافظ محمود صاحب نے کسی ختم پہ جانا تھا اور وہ پہلے ہی لیٹ ہو چکے تھے!
اور یوں اب ہم تین بندے مسجد کے دروازے پر رہ گئے تو میں نے محسن شاہ صاحب سے پُوچھا کہ:
"جیسا کہ آپ نے بتایا کہ رسولِ کریم ﷺ نے مروان بِن حَکم پر لعنت بھیجی تھی۔ اور پھر یہ کہ آپﷺ نے مروان بن حکم کے مدینہ داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی کہ یہ شخص مدینہ منورہ میں کبھی داخل نہیں ہو سکتا۔۔۔۔!"
اس پر محسن شاہ صاحب نے میری بات ٹوک کر کہا: "وہ مروان کے بارے میں نہیں بلکہ اُس کے باپ حَکم کے بارے میں حُکم تھا کہ حَکم مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتا!"
محسن شاہ صاحب کا یہ جواب درست تھا لیکن حضور ﷺ نے جیسے حَکم اور اُس کی اولاد پر بھی اللہ کی لعنت بھیجی تھی، ایسے ہی حضور ﷺ نے حَکم کو اُس کی اولاد سمیت مدینہ بدر کیا تھا۔ لہذا میرے اصرار پر کہ "حضورﷺ کا حُکم مروان کے لئے بھی تھا!"
اِس پر مُحسن شاہ صاحب نے کہا کہ:
"چلو فرض کر لیتے ہیں کہ مروان کے بارے میں بھی حُکم تھا تو پھر؟"
"فرض کرو" پر مُحسن شاہ صاحب نے پورا زور دے کر مجھے اگلی بات کرنے کو کہا تھا۔ جس پر میں گویا ہوا:
"تو پھر ایسے شخص کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مدینہ واپس کیوں لے کر آئے؟ حضرت عثمان رض نے حضورﷺ سے اُن کی زندگی میں بھی اپنے سگے چچا اور اُن کے بیٹے اور اپنے داماد مَروان بِن حَکم کو مدینہ آنے کی اجازت طلب کی تھی لیکن حضورﷺ نے اجازت نہیں دی تھی۔ آپﷺ کی رحلت کے بعد حضرت عثمان رض نے خلیفۀِ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے اجازت طلب کی کہ مروان کو مدینہ آنے دیا جائے، تو آپ رض نے بھی منع کر دیا کہ یہ پیغمبرِ اسلامﷺ کی لگائی ہوئی پابندی ہے جسے میں ختم نہیں کر سکتا۔
حضرت عثمان رض نے ہار نہ مانی اور جب حضرت عمر بِن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ خلیفہ بنے تو آپ رض نے خلیفۂ دوم سے بھی گذارش کی کہ مَروان کو مدینہ آ کر رہنے دیا جائے۔ لیکن حضرت عمر رض نے بھی اس وجہ سے اجازت نہ دی کہ "رسول خدا ﷺ کے منع فرمانے کو میں نہیں بدل سکتا!"
لیکن جب حضرت عثمان رض خود خلیفہ بن گئے تو آپ نے اپنے اختیارات کے تحت مَروان بِن حَکم کو مدینہ میں بُلا کر آباد کروا دیا۔ اور پھر باغِ فَدَک جو نبیﷺ کی بیٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نہ دیا گیا تھا، وہی باغ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنی بیٹی (کے خاوند اور اپنے چچازاد مروان بِن حکم) کو دے دیا!
تو کیا پھر یہ حضرت عثمان رض کی غلطی نہیں تھی؟"

میرے اس سوال کا جواب جناب مُحسن شاہ صاحب نے یُوں دینا شروع کیا:
"پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے کہا کہ یہ منبر آپ کے والد کا ہے۔ لیکن یہ منبرِ رسولﷺ ہے۔۔۔۔!"
پھر اُنہوں نے پاس کھڑے ہماری مسجد کے موجودہ خطیب افراز سُلطانی صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا:"اِس طرح تو یہ بھی کہیں گے کہ یہ منبر میرا ہے۔۔۔۔!"
اُن کے اِس نُکتے سے میں سمجھ گیا کہ محترم مُحسن شاہ صاحب اپنے مخاطب کو نفسیاتی طور پہ مرعوب بلکہ زِچ کرنے کا ہُنر بھی رکھتے ہیں، ماشأاللہ۔

میں نے وضاحت دینا چاہی کہ "میرا مطلب یہ تھا کہ وہ منبرِ رسولﷺ جس کے کبھی میرے والدِ گرامی رحمتہ اللہ علیہ وارث تھے، اور ظاہر ہے کہ اب اُس منبر سے علامہ افراز صاحب ہی خطبہ دیتے ہیں!" لیکن میری وضاحت سُنی اَن سُنی کر کے مُحسن شاہ صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے میرے سوال کا جواب کُچھ یُوں دیا:
"دوسری بات یہ کہ یہ آپ کہہ رہے ہیں کہ مَروان بِن حکم کو مدینہ واپس بُلانا اور باغِ فَدَک اُن کے حوالے کر دینا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی غلطی تھی، میں نہیں کہہ رہا!"
میں نے اُنہیں روک کر وضاحت دینا چاہی کہ:
"حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے دورِ خلافت میں وہی باغِ فَدَک اپنے سُسر مَروان بِن حکم کے خاندان سے لے کر اہلِبیت کے اُس وقت کے موجود لوگوں کو جب دے دیا تھا تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی طرف سے بی بی فاطمہؓ کو باغِ فدک نہ دینے اور حضرت عثمان رض کی طرف سے اپنے داماد کو دے دینے کے فیصلوں کو اُنہوں نے کیا عملاً غلط قرار دے دیا تھا۔۔۔۔؟؟؟"

مُحسن شاہ صاحب نے مُجھے روکا اور کہا:

"مُجھے پتہ ہے کہ آجکل آپ کِس کو سُنتے اور کس کی مانتے ہیں۔۔۔۔۔!"
اُن کا اِشارہ ہمارے جہلم شہر کے آج کے مشہور یُو ٹیُوبَر اِنجینئر مرزا محمد علی کی طرف تھا جِن سے اپنے دو دوستوں محمد نوید طالب بٹ صاحب اور جناب اِرشاد مرزا صاحب کے ہمراہ میں بھی دو بار مِلا تھا۔
مُحسن شاہ صاحب کا انداز اگرچہ دوستانہ تھا لیکن میں اُنہیں بتانا چاہتا تھا کہ تاریخِ اسلام کا مطالعہ میں نے تب کیا تھا جب انجینئر محمد علی مرزا ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا، اور یہ کہ میں اُس کا پیروکار ہوں نہ میں تیسری بار ابھی تک اُس سے جا کے مل ہی پایا ہوں، لیکن محسن شاہ صاحب چونکہ اپنی بات جاری کر چکے تھے لہذا میں صرف اِتنا ہی کہہ پایا کہ:
"غلط بات ہے یہ (مرزا محمد علی انجینئر سے متاثر ہونے والی)! میں نے خود تاریخِ اسلام پڑھی ہوئی ہے!"

اتنے میں مُحسن شاہ صاحب نے اپنی بات مکمل کی اور یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گئے کہ:
"اِس بارے میں بہت سی باتیں ہیں، بہت سی تب مصلحتیں تھیں اور اِس کی تفصیل بہت لمبی ہے کہ کیسے سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی مُہر کا (اُن کی بے خبری میں) لوگوں نے غلط استعمال کیا۔۔۔۔۔!
لیکن آپ تو پھر اِس طرح یہ بھی اعتراض کریں گے کہ سیدِنا امیرِ مُعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا بھی فیصلہ غلط تھا۔۔۔۔!"

میں نے فِی البدیہہ کہا کہ:
"ظاہر ہے کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی قائم کردہ اسلامی ریاست میں جب خلافت کا ایک سیاسی نظام قائم ہو چکا تھا تو اُس خلافت کو ملوکیت اور بادشاہت میں بدل کر اپنے نااہل بیٹے کو جانشیں مقرر کرنے کی امیرِ شام نے غلطی تو کی تھی۔۔۔۔!"

مُحسن شاہ صاحب نے بڑی تنقیدی سی ایک نگاہ مُجھ پر ڈالی جیسے کہہ رہے ہوں کہ "اِیہ تُوں نہیں بولدا، تیرے وِچ مِرزا محمد علی انجینئیر پِئیا بولدا۔۔۔۔!" ہاہاہاہاہاہا

لیکن ملُوکیت والے میرے سوال کے جواب میں مُحسن شاہ صاحب نے جو فرمایا وہ رضأ و قضأ کے مزید سوال چھوڑ گیا:
"یہ تو خود حضور ﷺ کی اپنی حدیث ہے کہ میرے بعد تیس سال تک خلافت قائم رہے گی۔ اور خُلفائے راشدین کی خلافت تیس سال تک پوری ہوئی۔۔۔۔۔!"

اُن کے تیس سال تک کی خلافت والے حوالے سے پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اُمیہ کی خاندانی بادشاہت قائم ہونا اور اُن کے عہد میں جو جو بھی واقعات ہوئے ہیں وہ امرِ ربی تھا، تو پھر اُن کو کسی بھی کام کے لئے قصوروار کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے جبکہ وہ تو مجبورِ محض تھے اور تقدیر کا لکھا ہوا پورا کر رہے تھے۔۔۔۔!
اس طرح تو بنی اُمیہ کو بہت بڑی چھوٹ حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ بیچارے تو رضأ کے آلہ کار تھے اور اُن سے بالکل اُسی طرح سرزد ہو رہا تھا جیسے قُدرت نے اُن کی تقدیر میں لکھ رکھا تھا، جبکہ ہم سب اور خود محسن شاہ صاحب اہلِ بیت پر ظلم کرنے اور اُن کو کربلأ میں شہید کرنے کا مجرم بھی بنی اُمیہ کو ہی سمجھتے ہیں!
کیا یہ کھُلا تضاد نہیں ہے پھر؟
اِن سب ضمنی سوالوں کا جواب کون دے گا؟؟؟

وہ عاشور کا دن تھا اور یقیناً شاہ صاحب جلدی میں تھے کیونکہ اُن کے اپنے گاؤں میں ہی بہت سے لوگ اُن کا اِنتظار کر رہے ہوں گے، اور پھر یوں روانہ ہوتے ہوئے شخص کو مسجد کے دروازے پر روک کر اُن سے ساری تفصیل سُننے کا موقع تھا نہ مقام۔ لہذا مُحسن شاہ صاحب چلے گئے تاہم ہمارے اپنے خطیب علامہ افراز صاحب نے مجھے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ "یہ باتیں کہیں بیٹھ کے اگر کر لی جائیں تو بہتر ہے!"

میں نے مُحسن شاہ صاحب کی طرف سے مَروان بِن حَکم پر منبرِ رسولﷺ پر بیٹھ کر لعنت بھیجنے کی بات موضع چک جمال کے ہی اپنے دوست جناب نوید طالب بٹ صاحب کو جب بتائی تو اُنہوں نے آگے سے اپنا ایک تجربہ مجھے یُوں سُنا ڈالا کہ ایک بار اُنہوں نے بھی مروان بن حکم کے بارے میں چک جمال میں مقیم چکوال کے ایک دیوبندی مفتی اسد مُعاویہ صاحب کے سامنے ذکر کیا تو مفتی صاحب نے تاکیداً نوید بٹ صاحب کو کہا کہ حضرت مَروان بِن حکم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ چونکہ ایک صحابیٔ رسولﷺ تھے، لہذا اُن کے بارے میں کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو توہینِ صحابہؓ کے ذمرے میں آتی ہو!

لیکن میں نے انجینئر محمد علی مرزا صاحب سے اپنی پہلی ہی ملاقات میں جب مروان بن حکم کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا تھا کہ "مروان صحابی نہیں ہے!"
اور ابھی ابھی میں نے ٹیلی فون پہ اپنے ایک واقف شیعہ عالمِ دین سے پھی پوچھا تو اُنہوں نے بھی جناب مُحسن شاہ صاحب کی طرح کا ہی مروان بارے تبصرہ کیا!

تاہم گجرات کے ایک ٹیچر اور اپنے دوست جناب پرویز سلفی صاحب کا مجھے یہ تبصرہ زیادہ پسند آیا ہے کہ یہ تاریخی واقعات ہیں جن کے بارے میں کسی کی جو بھی رائے ہو، قبر میں یا قیامت والے دن ہم سے اس بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا کہ مروان کون تھا اور اُس نے اپنے عہد یا زندگی میں کیا کیا کِیا تھا اور آپ کی اُس کے بارے میں رائے کیا تھی، بلکہ اپنے اعمال کا وہ خود جوابدہ ہو گا۔

لیکن میں سوچتا ہوں کہ ہمارے فرقہ واریت کے علمبردار عُلمأ نے مسلمانوں کے ایمان کو بنو اُمیہ، بنو عباس اور اہلِ بیت کی تاریخ اور تاریخی واقعات کے ساتھ اس قدر نتھی کر رکھا ہے کہ کُچھ شخصیات اور واقعات کے بارے میں محض رائے رکھنے والے پر بھی جزأ و سزا لاگو کر دی گئی ہے!

بہرحال میں نے مُحسن شاہ صاحب کی زبانی اہلسنت کی مسجد میں، اہلسنت کے مجمعے کے سامنے مروان بن حکم پر رسول اللہﷺ کی طرف سے لعنت بھیجنے کا واقعہ سن کر اس سے متصل جو ضمنی سوالات پیدا ہوتے ہیں، وہ پوچھنے کی جو جسارت کی تھی اُن کے جوابات وقت کی کمی یا مصلحت کے تحت چونکہ اُن سے تو مل نہیں سکے تھے، لہذا اور کوئی دوست، عالم یا تاریخ کا مطالعہ رکھنے والا کوئی دوست دے سکے تو ممنون ہونگا!

میں نے مُحسن شاہ صاحب کو اپنی مسجد سے اگرچہ گلے لگا کر رُخصت کیا تھا، اور مِل بیٹھ کے مزید ڈسکشن کی اگرچہ خود اُن کی آفر بھی موجود ہے، لیکن میں اب اُنہیں اِمتحان میں مزید ڈالنا نہیں چاہتا۔ لہذا کوئی اور عالم میرے سوالوں کے منطقی انداز میں جوابات اگر دے سکے تو یہ عنوان تبھی مکمل ہو پائے گا!

✍️ جمعرات
10 محرم الحرام 1443ھ
19 اگست 2021ء
یومِ عاشور
جامع مسجد فاروقیہ دھنیالہ، جہلم۔

آپ کی پسند: خلیفہ دوّم کا حقیقی قاتل کون ہے؟


افکار و نظریات: علمائے کرام رہنمائی فرمائیں