اسلامی تمدن کا رشد اور امام عالی مقام

نذر حافی/۸ صفر ۱۴۴۳ ھ
واقعہ کربلا  اور اسلامی تمدن کا گہرا تعلق ہے۔تمدن سے مراد ایسی زندگی ہے جس میں انسان کی مادی و معنوی ضرورتیں اس کے عقائد اور زمانے کے مطابق پوری ہو تی ہوں۔ یاد رہے کہ تمدن کا وجود تہذیب اور ثقافت ہر دو سے الگ ہے۔  سماجی رویوں اور اجتماعی آداب میں اصلاح، کانٹ چھانٹ اور دیکھ بھال کو تہذیب کہتے ہیں جبکہ ایک نسل سے اگلی نسل کو منتقل ہونے والے رسوم و رواج اور طرزِ رہن سہن کو ثقافت کہاجاتا ہے۔ کوئی بھی ثقافت جتنی مہذب ہوتی ہے اس کا تمدّن اتنا ہی عالی ہوتا ہے۔
جب ہم تمدن کی بات کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ   دنیا کی ہر قوم کے پاس کچھ  مخصوص ایام، آداب و رسوم، عبادات و مناجات، ہیروز، رول ماڈلز اور یادگار تاریخی  واقعات ہوتے ہیں جو کسی تمدن کو تشکیل دیتے ہیں۔ جیسے یہودیوں کے ہاں اُن کے اپنے نحس و بد  ایام، رسوم و رواج  اور  حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ناقابلِ فراموش ہیرو کے طور پر  ہیں۔ اسی طرح   عیسائیوں کے پاس اُن کی اپنے  سعید و نحس دن ، خوش بختی و بدبختی کے قصے، تاریخی واقعات اور  حضرت عیسی علیہ السلام بطورِ ہیرو، آئیڈیل اور نمونہ عمل ہیں۔ایسا  ہر تمدن میں ہوتا ہے۔
 پاکستان میں بھی  راجپوتوں کی ایک سوگوار شاخ پائی جاتی ہے۔ اس شاخ کا نام  ریباری ہے۔ ہمارے ہاں یہ  ریباری قبیلہ  صحرائے تھر  میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ ہندوستانی  گجرات ، راجستھان ، ننگر پارکر، بدین اور عمر کوٹ میں بھی اس قبیلے کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ آج سے سات سو سال پہلے  یعنی سن ۱۳۰۰  عیسوی میں ہندوستانی بادشاہ  علاءالدین خلجی ، یہ  راجستھان  میں مقیم  اس قبیلے کی ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا ۔اس کی حرکات سے قبیلے والوں کو اپنی عزت و ناموس کا کھٹکا لگ گیا۔ وہ راجستھان سے بھاگ کر سندھ کے رن کچھ اور ننگر پارکر کی طرف چلے گئے،  وہاں اس وقت سومرو خاندان کے  سردار دودو سومرو کی حکومت تھی۔اس نے ان مفرورین کو اپنے ہاں پناہ دے دی۔دوسری طرف مخبروں کی اطلاع کے مطابق  علاءالدین نے دودو سومر  سے استفسار کیا۔ ساتھ ہی دودو سومرو سے اس کی بہن باگھل بائی کا رشتہ  بھی مانگا۔دودو سومرو  کے صاف انکار نے علاءالدین خلجی کو مشتعل کر دیا ۔ وہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ دودو سومرو پر حملہ آور ہوا اور اس نے دودوسومرو کو تہہ تیغ کر دیا۔وہ دن اور آج کا دن ، ریباری قبیلہ اپنے اس محسن اورعظیم شخص کی یاد میں سوگوار ہے۔ اس قبیلے کی خواتین گزشتہ سات  سو سال سے سیاہ لباس پہنتی ہیں۔ ۱۹۷۰ میں ننگرپارکر، میرپور خاص اور بدین  کے راجپوتوں  اور سومرو قبیلے کے بزرگوں نے  وہاں کی  ریباری برادری کا سوگ ختم کرایا ہے لیکن دیگر مناطق میں یہ سوگ ابھی تک جاری ہے۔  جاری سوگ کا یہ عالم ہے کہ وہاں دلہن کے اوپر بھی سیاہ چادر ڈالی جاتی ہے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ  اگر کسی  کا کوئی عزیز یا رشتے دار فوت ہوجائے تو اس کا سوگ چند دن ہی ہوتا ہے لیکن اگر کسی قوم  کا  رول ماڈل یا ہیرو ظلم و بربریت کا شکار ہوجائے تو وہ  قوم نسل در نسل  رنج و غم  اور دکھ و سوگ میں مبتلا رہتی ہے۔کسی بھی قوم کا وجدان، ضمیر اور باطن جتنا زندہ ہوتا ہے وہ اپنے محسن،  رول ماڈل اور ہیرو کو اتنا ہی یاد کرتی ہے اور اپنے رول ماڈل کے قاتلوں سے اتنی ہی نفرت کرتی ہے۔
دینِ اسلام کا اپنا ایک خاص اور جداگانہ تمدن ہے۔ اس تمدن کا محور توحید ہے۔ سید الشہداء اور ان کے ساتھیوں کے طرز عمل میں خدا کی برتری اور  توحید کا نمایاں  اظہار موجود  ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر  خدا کی رضا اور غیر خدا کی خوشنودی  میں سے ایک کو انتخاب کرنا پڑے  تو  صرف خدائے واحد کی رضا کو اختیار کریں۔ یہ دنیا کے تمام مسلمانوں  کے لیے امام حسینؑ کا اٹل فیصلہ ہے۔
توحید  کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مسلمان صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اسلامی تمدن کے توحید محور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی عبادات و مادیات،  جینا  و مرنا، شادی  و  پریشانی، خوشی  و غم، دوستی دشمنی، جنگ و صلح، دشمن پروری  و رشتے داری، آداب و رسوم سمیت ہر فعل اور ہر شعبہ  خدائے وحدہ لاشریک  کی ذات  کے گرد  چکر کاٹے۔ پرچمِ توحید کے علمبردار ہونے کے ناطے اسلامی تمدّن میں  حضرت امام حسین علیہ السلام کو ایک رول ماڈل ، ہیرو اور نمونہ عمل کی حیثیت حاصل ہے۔مسلمانوں کے ہاں آپ کو  محسنِ اسلام کا درجہ حاصل ہے۔  چونکہ اگر اکسٹھ ہجری میں آپ  اپنے آپ کو خدائے وحدہ لاشریک  کی توحید اور یکتائی پر قربان نہ کرتے  تو اسلامی تمدن کا شیرازہ بکھر جاتا۔چنانچہ  سارے عالمِ اسلام میں حضرت امام حسین ؑ سے منسوب ایام کو اور خصوصا چہلمِ امام حسینؑ کو انتہائی عقیدت و احترام اور دینی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
مسلمانوں کے ہاں آپ کی یاد کی محافل و مجالس اور جلسے جلوسوں میں اسلامی تہذیب یعنی امر بالمعروف و نہی از منکر پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔اسی طرح ان محافل و مجالس اور جلوسوں  میں نسل در نسل منتقل ہونے والی اسلامی ثقافت  کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے۔ روزِ عاشور اور چہلمِ امام  کے موقع پر اسلامی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ اسلامی تمدن میں بھی  ایثار و فداکاری، حق گوئی و بیباکی، اصول پرستی و جرات کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ان ایّام میں مسلمانوں میں موجود  تمام معنوی و مادی و ملکوتی و روحانی اقدار اور صلاحیتیں  اپنا رنگ دکھانے لگتی ہیں ۔  تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر امام حسینؑ جیسی شخصیت کسی اور دین کے پاس ہوتی تو  اس دین کے پیروکار اس شخصیت سے استفادہ کرکے ساری دنیا کو اپنے اندر جذب کر لیتے۔ افسوس کہ مسلما ن ابھی تک  ایسا نہیں کر سکے۔
امام حسین علیہ السلام کی یاد منانے سے    اسلامی تمدن میں جن اعلی ٰ انسانی اقدار کا احیا ہوتا ہے   ان میں سے چند ایک مندرجہ زیل ہیں:

۱۔بلند ہمتی 
امام حسینؑ  ایک حوصلہ پرور رہبر ہیں۔  آپ نے  جہاں شیاطین ِ وقت کے مقابلے میں انسانوں کو اٹھنے کی جرات دی  وہیں خدا کی طرف پلٹنے والے  انسانوں کی حوصلہ افزائی بھی کی  ہے۔ تحریکِ کربلا کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو  کبھی بھی خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔   چاہے کوئی بڑے سے بڑا گنہگار ہو، بڑے سے بڑا ظالم ہو، نفس اور شیطان کے ہاتھوں شکست کھا چکا ہو ،جو بھی ہو وہ حضرت حُر ؓکی طرح  اپنے آپ کو معاف کرا سکتا ہے۔
اسی طرح امام عالی مقام نے بڑوں چھوٹوں خواتین اور بچوں سب کو ایک مشترکہ ہدف  پر متحد کر دیا۔آپ نے ان سب کی ایسے ہمت بلند کی کہ تیس ہزار کے  لشکر نے اُن پر  ہر ظلم کیا لیکن  ان میں اختلاف اور دراڑ نہیں ڈال سکا۔جو ہمت و جرات  مقتل میں عباس  ؑ نے دکھائی تھی اسی کا مظاہرہ  درباروں میں زینبؑ  و سجادؑ نے کیا۔
۲۔ عزت نفس
امام حسین ؑ  نے انسانوں میں عزت نفس کے جذبے کو بیدار کیا ہے۔ انسان جب شہدائے کربلا کی یاد میں باہر نکلتا ہے، ان کے پرچم، علم، ذوالجناح اور جلوس وغیرہ دیکھتا ہے  تو اسے پتہ چلتا ہے کہ اللہ اپنے خود دار اور غیرت مند بندوں  کی یاد کو کیسے زندہ رکھے ہوئے ہے۔  شہدا کربلا کے جلوسوں میں  انسان شہدا کی عظمت و دبدبے کا نظارہ کرتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ اللہ نے انسان کو عزت و کرامت عطا کی ہے لہذا  جو لوگ اس عزت و کرامت کی قدر کرتے ہیں اور اپنی عزت نفس کو مرنے نہیں دیتے وہی عظیم لوگ کہلاتے ہیں۔ کربلا کا یہی درس ہے کہ عزتِ نفس کھوکرذلت کی زندگی  جینے سے عزت کی موت بہتر ہے۔شہدائے کربلا کو یاد کرنے سے یہ احساس انسان کو گھیر لیتا ہے کہ عزت نفس سے محروم ہوکر   ظالموں کو خوش کر کے ان کے ہمراہ جینا ننگ و عار ہے۔
۳۔ اسلامی عقائد  کی حقانیت
امام حسین ؑ نے اپنی جان دے کر  اسلامی عقائد کی حقانیت  کو ثابت کیا ہے۔ کربلا کی  جنگ ہتھیاروں کو نہیں جانتی ، یہ جنگ سرحدوں اور زمینوں تک محدود نہیں ہے ، یہ جنگ گھر اور باہر،  بھوک اور پیاس، فتح و  شکست ،  شیرینی و تلخی ،  اور فراوانی و تنگدستی  کو نہیں جانتی۔ یہ عقائدکی جنگ ہے ، یہ ایمان کی لڑائی ہے، یہ  طاقت ، پیسے ،  دھونس، جبر اور استبدادکی غلیظ  دنیا کے خلاف عقائد کی انقلابی اقدار کی جنگ ہے۔یہ ایسی  جنگ  ہے جو اسلامی عقائد کے  تقدس ، وقار اور بقا کی جنگ ہے۔
 آپ نے عملا یہ کر دکھایا ہے کہ  خدا کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں۔ جولوگ خدا کی خاطر قیام کرتے ہیں وہ میدانِ جنگ میں حواس باختہ نہیں ہوتے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ  عین جنگ میں بھی امام عالی مقام اور ان کے ساتھی اپنے  اعصاب پر مسلط تھے  اور نظم و ضبط  کے ساتھ معرکہ آرائی کرتے رہے۔
آپ کی شہادت سے یہ درس ملتا ہے کہ جوخدا پر توکل کرتا ہے چاہے اس  کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائیں اُسے شکست نہیں دی جا سکتی۔آپ نے سارے زمانے کو دکھا دیا  ہے کہ  جو خدا کی راہ میں سر خم کر دے ، اس کا سرکاٹا تو جا سکتا ہے لیکن جھکایا نہیں جا سکتا۔ آپ کے خطبات و فرمودات سے  صاف پتہ چلتا ہے کہ انسان کی سعادت و شقاوت ایک اختیاری امر ہے جو چاہتا ہے وہ  اپنے ارادے و اختیار کے ساتھ سعادت یا شقاوت کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔آپ کے شوقِ شہادت سے  واقعتاً یہ محسوس ہوتا ہے کہ حیات بعد از موت ایک سچائی ہے اور شہادت سب سے بڑی سعادت ہے۔آپ کی شہادت سراسر  ایمان کی حقانیت کو ثابت کرتی ہے ۔ میدانِ کربلا سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کوئی نسل پرستی نہیں ہے۔ جو خدا پر ایمان لایا اور اس کی راہ میں شہید ہوا وہ عربی ہو یا عجمی، رومی ہو یا ایرانی، حبشی ہو یا قریشی اس کے مقام و مرتبے کو کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکتا ۔جولوگ  اپنا تن من دھن سب کچھ راہِ خدا میں قربان کر دیتے ہیں ، خدا  اپنی بارگاہ سے ان کے نام، مشن  اور قربانیوں کو زندہ رکھنے کا بندوبست کر دیتا ہے۔  
امام حسین ؑنے  ظلم کے خلاف بغاوت کو دینی فریضے کے طور پر متعارف کرایا۔ آپ نے  لوگوں کو ظلم کے خلاف  خاموش نہ رہنے کی تعلیم دی اور انہیں سکھایا کہ اگر وہ ظالموں کے ہاتھ کاٹنے کے قابل نہیں ہیں تو کم از کم  انہیں کسی نہ کسی طرح رسوا تو کریں ۔
۴۔ بصیرت
امام حسینؑ نے انسانوں میں بصیرت پیدا کی۔ امام حسین  کا مقصد  اسلامی معاشرے کو پیغمبرِ اسلام کے زمانے کی طرح توحید کی صحیح لکیر پر لوٹانا تھا۔ اس لکیر کو روشن اور نمایاں کرنے کیلئے  امام عالی مقام اور ان کے ساتھیوں نے موت کے وقت بھی ایثار و وفا کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ  وہ شخص دانا اور بصیر ہے جو نیکی اور بھلائی میں پہل کرے اور سبقت لے جائے۔ ان کی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ وہ راہِ خدا میں مرنے میں بھی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں تھے۔ وہ بصیرت کی اس معراج پر فائز تھے کہ موت میں سبقت اور جان دینے میں ایثار کیلئے بے قرار تھے۔  امام حسین ؑ نے شہادت کی تمنا کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھایا ہے کہ  ساتھیوں کی تعداد  اور ہتھیاروں کو جنگی حالات اور زمانے کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ امام حسین ؑ اپنے زمانے میں دشمنانِ دین کے چہروں سے نقاب اتارنے کیلئے  نکلے تھے چنانچہ آپ نے عسکری فوج کے بجائے  اپنے عزیزوقارب اور اہلِ خانہ کے ہمراہ قیام کر کے بتایا کہ میرے مدمقابل کتنے وحشی، سفاک اور درندے ہیں۔ آپ کی تحریک سے یہ درس ہمیں مسلسل مل رہا ہے کہ  اپنے ہمراہ چلنے والوں اور اپنے اردگرد جمع ہونے والوں  کی  تعلیمی اسناد،  رشتے داریوں، ڈگریوں اور ظاہری رکھ رکھاو کے بجائے اُن کے خلوص پر نظر رکھو۔ امام عالی مقام کی جدوجہد کا ایک  واضح پیغام یہ ہے کہ انسان جو عمل بھی انجام دے وہ ایسے  سوچ بچار کر انجام دے کے اس کا فائدہ ہمیشہ عالمِ بشریت کو پہنچتا رہے۔ ماضی میں اصلاح معاشرہ کی کئی تحریکیں اور قیادتیں ابھریں  لیکن کوئی بھی امام حسینؑ کی تحریک اور قیادت کی مانند دوام حاصل نہ کر سکی۔ ہر سال امام حسینؑ کی تحریک کی طاقت  میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ عزاداری  امام حسین ؑ ایک باقاعدہ مکتب، درس گاہ یا یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کر چکی  ہے۔ سارا سال اس عزاداری کے فیض سے کئی لوگ توبہ،  کرتے ہیں ، درس قرآن و اخلاق و تفسیر، جہاد و شہادت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا سلسلہ مسلسل چلتا رہتا ہے۔
۵۔ شائستگی اور وقار
امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب نے شائستگی اور وقار کو امر کردیا ہے۔ مثال کے طور پر ، جب حرؓ معافی کیلئے  امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام حسینؑ نے  حرؓ کے ساتھ کریمانہ برتاو کیا ۔اسی طرح  ہم حضرت عباس علیہ السلام کے خطبات میں بھی دیکھتے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ امام حسین علیہ السلام  کا ذکر ہمیشہ  سید و سردار اور مولا جیسے القابات سے کیا ہے۔ نیز حضرت زینب علیہ السلام نے بھی حوادث کربلا میں قیامت خیز متانت ، شائستگی اور وقار کا مظاہرہ کیا ہے۔ آپ نے  اپنے دونوں بیٹوں کو اپنے بھائی کے مشن اور اہداف پر  قربان کیا ، لیکن اُن کے مقتل کی طرف روانگی  کے دوران خیمے سے نہیں نکلیں ، بلکہ انہوں  نے  کربلا سے کوفے اور کوفے سے شام تک کے سارے سفر میں اپنے بچوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
اسلامی مقدسات کا تحفظ
امام حسین علیہ السلام نے اپنے اس سارے قیام میں اسلامی مقدسات  کی حرمت اور کے تحفظ کو خاص اہمیت دی۔ مثال کے طور پر وہ مدینے سے اس لئے نکلے تاکہ اہلِ مدینہ اور نبیﷺ کے روضے کی حرمت قائم رہے۔ اسی طرح  شہرِ مکہ  بلدِ امین ہے۔ اس میں  خانہ کعبہ انتہائی حرمت کا حامل ہے  ، جب امام حسین ؑکو پتہ چلا  کہ حاجیوں کے بھیس میں  یزید کے خفیہ ایجنٹ  انہیں خانہ کعبہ میں شہید کرنا چاہتے ہیں  تو آپ  فورا  یہ کہتے ہوئے بیت اللہ  سے نکل گئے کہ  "خدا کی قسم ، اگر میں مکے سے باہر مارا گیا تو یہ خانہ کعبہ کے جوار میں مکے کے اندر مارے جانے سے کہیں بہتر ہے۔
معنویت
امام حسین نے مسلمانوں کو یہ سکھایا ہے کہ سیاست اور معاشرے  کی روح معنویت ہے۔  خانہ کعبہ میں جب  موت آپ کے سر پر کھڑی تھی  پھر بھی آپ  نےلوگوں کی ہدایت کی اور  روحانیت و معنویت سے بھرپور ایک فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔
سیاسی  و سماجی میدان  اور جہاد میں خدا کی طرف توجہ اور اس کی یاد بہت ضروری ہے۔ معنوت  کو نظر انداز کرنا اسلام اور مسلمان کی حقیقی موت ہے ۔ چنانچہ تاریخ میں یہ ذکر ہے کہ عاشورہ کی رات بھی خیام حسینیؑ میں عبادتِ خدا اور  تلاوت قرآن  جاری رہی۔ جب دشمن نے شبِ عاشور  کی شام کو جنگ کرنا چاہی  تو امام حسین (ع) نے قمر بنی ہاشم سے کہا کہ  خدا جانتا ہے کہ میں نماز پڑھنے ، قرآن کی تلاوت کرنے اور خدا سے مناجات و  دعا کرنے کو بہت پسند کرتا ہوں۔امام ؑ کا یہ کام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کو ہر حال میں  اپنی اصلاح  و  روحانیت  اور  معنویت  کو مقدم رکھنا چاہیے۔