زیارت اربعین اور اسلامی عقائد

فدا حسین حلیمی

Fidahaleemi@gmil.com
ہمارے عقیدے کے مطابق جیسے اہلیبت علیہم السلام کے مزارات دینی ثقافت کے مراکز ؛ظلم وسرکشی کے مقابلے میں نقارہِ حق اور محل نزول رحمت پروردگار ہیں ۔ ویسے ہی ان سے ماثور اور منقول زیارات ہماری ہدایت ؛نصیحت ؛ اور تربیت کا بہترین ذریعہ ہیں۔ یاد رہے کہ یہ زیارات ہمیں صاحب مزار کا تعارف ؛اسکی دین سے وابستگی کا ذکر اور اسکے فی سبیل اللہ جہاد کے اہداف یاد دلاتی ہیں اور زیارت کرنے والا زیارت پڑھنے کے ساتھ ساتھ  دینی اور انسانی اقدار کے خاطر جہاد؛ قربانی؛ اور فداکاری کی تجدید بیعت کر رہا ہوتا ہے؛ لیکن یہ سب اس وقت ہے جب زیارت کرنے والا زائر معرفت کے ساتھ زیارت بجا لاے اور یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب کم سے کم زائر زیارت کے مضمون اور مفہوم سے واقف ہو۔

زائر کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں کس کی اور کس لیے زیارات کے جملے ادا کررہا ہوں .

 چنانچہ ہم یہاں اپنے اس مضمون میں زیارت ارببعین کے عقیدتی پہلو کی انتہائی مختصر صورت میں نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ زیارت کو معرفت کے ذریعے انجام دیا جائے۔

زیارت اربعین اور توحید پر ایمان

بے شک ائمہ اطہار علیہم السلام سے جو زیارتیں اور دعائیں نقل ہوئی ہیں جو در حقیقت منبع ہدایت ہیں ؛حسمیں ہمیں زندگی کے مختلف پہلو :عقیدتی ؛ اخلاقی ؛ معاشرتی اور فردی ہر حوالے سے دروس ملتے ہیں اور خدا سے تقرب حاصل کرنے اور اسکی شناخت حاصل کرنے کا بہتریں ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسکی تحلیل ؛ تکبیر اور حمد و ثنا بجالانے کاطریقہ سکھاتا ہے ٫چنانچہ صادق آل محمد زیارت اربعین بجا لانے کا طریقہ سکھاتے ہوے فرماتے ہیں : جب بھی تم زیارت اربعین کا قصد کرے تو آداب زیارت بجالانے کے بعد ان جملات کو پڑھا کرو :

الْحَمْدُ لِلَّہِ الْوَاحِدِ الْمُتَوَحِّدِ بِالْأُمُورِ کُلِّہَا خَالِقِ الْخَلْقِ وَ لَمْ یَعْزُبْ عَنْہُ شَیْء ٌ مِنْ أُمُورِہِمْ وَعَلِمَ کُلَّ شَیْء ٍ بِغَیْرِ تَعْلِیمٍ(بحار الأنوار (ط - بیروت) / ج98 / 176 / باب 18 ))

ترجمہ : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جوتمام امورکو اکیلا انجام دیتاہے ؛تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے اسطرح کہ انکے تمام احوال سے واقف ہے اور بغیر تعلیم کے ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔

اسکے بعد امام علیہ فرماتے ہیں : اسکے بعد چند قدم چلے اور جب مرقد شریف کے نزدیک پہنچے تو قبلہ رو ہو کے کہیں :

لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ فِی عِلْمِہِ مُنْتَہَی عِلْمِہِ وَ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ بَعْدَ عِلْمِہِ مُنْتَہَی عِلْمِہِ مُنْتَہَی عِلْمِہ ۔۔۔ ِ وَ الْحَمْدُ لِلَّہِ فِی عِلْمِہِ مُنْتَہَی عِلْمِہِ وَ الْحَمْدُ لِلَّہِ بَعْدَ عِلْمِہِ مُنْتَہَی عِلْمِہِ ۔۔۔۔ وَ سُبْحَانَ اللَّہِ فِی عِلْمِہِ مُنْتَہَی عِلْمِہِ وَ سُبْحَانَ اللَّہِ بَعْدَ عِلْمِہِ مُنْتَہَی عِلْمہ ۔۔۔

ترجمہ: ایسا معبود ہے کہ جسکے سواء نہ ہی اپنے لا متناہی علم میں کوئی معبودہے اور نہ ہی اسکے غیر کے علم میں کہ جسکا برگشت بھی اسی کا لا متناہی علم ہے کوئی معبود ہے اور تمام تعریفیں اپنے لا متناہی علم میں اسی کے ساتھ مختص ہیں اور اسکے غیر کے علم میں کہ جسکا برگشت بھی اسی کا لا متناہی علم ہے اسی ذات کے ساتھ مختص ہے اور اسکی ذات اپنے لا متناہی علم میں پاک ومنزہ ہے اور تمام تعریفیں اسی کے ساتھ مختص ہے اور ایسے ہی غیر کے علم میں کہ جسکا بازگشت بھی اسی کا لا متناہی علم ہے پاک ومنزہ ہے اور تمام تعریفین اسی کے ذات کے ساتھ مختص ہے اور اسکی ذات ہر قسم کی شرک سے پاک ومنزہ ہے ۔
صادق آل محمد ع کے ان تعلیمی جملات سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت اطہار علیہم السلام توحید اور اللہ کی معرفت پر کتنے توجہ دیتے ہیں اور کس طرح زیارات کے زریعے اپنے چاہنے والوں کو خدا کی معرفت کی تعلیم دیتے ہیں ؛خدا کی وحدانیت کی تفسیر کرتے ہوے فرماتے ہیں اللہ کی ذات ایک ایسی واحد ذات ہے جو اپنے تمام امور میں خواہ مخلوقات کی خلقت ہویا انکی کے جملہ امور کی تدبیر اور تربیت ہویا انکی زندگی کے متعلق دیگر امور پر مکمل علم رکھنے کے ساتھ ساتھ انجام دینے میں نہ ہی کسی کی طرف محتاج ہے اور نہ ہی کوئی اس کا شریک بن سکتا ہے وہ ایسا معبود ہے جو اپنے لا متناہی علم میں بھی صرف لائق عبادت ہے اور دیگر کے علم میں بھی کہ جسکا برگشت اسی کے علم کی طرف ہے اس کی ذات کے علاوہ کوئی اور لائق عبادت نہیں ہوسکتا اور اسکی ذات مشرکیں کے ہر قسم کے شرک سے پاک ومنزہ ہے ۔

یقینا زیات کی ضمن مین صادق آل محمد (ع)ہمیں خدا کی وحدانیت اور عبودیت کی تعلیم اس لیے  دے رہے ہیں تاکہ ہم صراط مستقیم سے بٹھک کر گمراہ نہ ہو جائے کہ جسکا خطرہ ہر حالت میں ہر لحظہ ہم میں سے ہر ایک کو لاحق ہوتا ہے اور صراط مستقیم سے مراد پروردگار عالم کی بندگی ہے کہ جسکے بارے میں ارشاد باری تعالی ہوتاہے...

وَ أَنِ اعْبُدُونِی ہذا صِراطٌ مُسْتَقِیم (یسن/٦١) ترجمہ: اور یہ کہ میری بندگی کرنا، یہی سیدھا راستہ اور صراط مستقیم ہے۔اوران لوگوں کے منہ پر بھی طمانچہ ہے جو زیارات کو شرک سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ اہل بیت (ع)سے منقول زیارات توحید اور خدا کی معرفت کا درسگاہ ہیں ۔لہذا حقیقی زائر وہ ہے جس کی نگاہیں ہمیشہ اللہ تعالی کی خوشنودی پر ہو اور ہر اٹھنے والا قدم اللہ کی بندگی اور اسے تقرب کی نیت سے اٹھے ۔

زیارت اربعین اور انبیاء (ع) کی نبوت پر ایمان

جس طرح اللہ تعالی کی توحید کا اقرار اور اسکی وحدانیت پر ایمان اساس دین شمار ہوتا ہے ایسے ہی تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت اور خاص کر سیّد المرسلین ؛خاتم النبیبن حضرت محمد مصطفی ؐ کی نبوت پر ایمان اور اقرار ؛اصول دین اور ایمان کے ارکان میں سے شمار ہوتا ہے چنانچہ ایک بامعرفت زائر کی نشانی یہ ہے کہ وہ امام علیہ السلام کی زیارت کرتے وقت تمام انبیاء ما سلف کی نبوت کی گواہی دے چونکہ امام تمام انبیاء کے وارث ہوتے ہیں اور زیارت اربعین میںبھی اس بات کی تاکید ہوئی ہے :

وَاَعْطَیْتَہُ مَواریثَ الاَْنْبِیاَّ:

ترجمہ: پرودگارا تونے انہیں(امام)تمام انبیاء کے ورثے عطا کیے ۔۔۔ جبکہ زیارت اربعین کا دوسرا نسخہ جسے جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل ہوئی ہے اس میں اولوالعزم انبیاء میں سے ہر ایک کا نام لے کر انکی نبوّت اور عظمت کی گواہی دینے کا حکم ہواہے :

السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ عِلْمِ الْأَنْبِیَاء ِ وَ رَحْمَۃُ اللَّہِ وَ بَرَکَاتُہُ (السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ آدَمَ صَفْوَۃِ اللَّہِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ اللَّہِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلِ اللَّہِ ) السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ إِسْمَاعِیلَ ذَبِیحِ اللَّہِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ مُوسَی کَلِیمِ اللَّہِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ عِیسَی رُوحِ اللَّہِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ اللَّہِ(ابن طاووس ؛الاقبال بالاعمالالحسنۃ؛ج٢ص٦٣ )

 ترجمہ : مرا سلام اور خداکی رحمت وبرکت ہو تمام انبیاء کے وارث پر ؛ سلام ہو تجھ پر اے وارث آدم جو خدا کے برگزیدہ ہیں؛ سلام ہو تجھ پراے نوح کے وارث جو اللہ کے نبی ہیں ؛ سلام ہوتجھ پر اے ابراہیم کے وارث جو اللہ کے خلیل ہیں ؛سلام ہو آپپر اے اسماعیل کے وارث جو ذبیح اللہ ہیں ؛ آپ پر سلام ہو اے موسی کے وارث جوکلیم اللہ ہیں ؛ آپ پر سلام ہو اے عسیی کے وارث جو روح اللہ ہیں ؛آپ پر سلام ہو اے محمد مصطفی ؐ کے وارث جو حبیب اللہ ہیں ۔توامام کی ان تعلیمات سے معلوم ہوتاہے کہ حقیقت میں امام حسینؐ کی زیارت تمام انبیاء کی زیارت اور امام حسین ؐ سے محبت تمام انبیاء سے محبت اور امام حسین سے بیعت انکے الھی اہداف سے بیعت ہے۔ چناہچہ زیارت کرتے وقت تمام انبیاء (ع) کی نبوّت اور عظمت کی گواہی دینا بھی ضروری ہے ۔

زیارت اربعین اور امام کامقام

مکتب اہل البیت ؐ کے ماننے والوں کے نزدیک امامت ذمہ داری کے اعتبار سے نبوت کے استمرار کا نام ہے ؛ جو ذمہ اری ؛ تحفظ دین ؛ تفسیر دین اور تنفیذ احکام دین کے اعتبار سے آنحضرت ؐانجام دیتے تھے وہی ذمہ داری انکے بعد انکے وارث حقیقی امام کو انجام دینے ہونگے چونکہ امام تمام انبیاء کے معنوی کمالات؛ انکے علوم اور عصمت کا وارث ہیں چنانچہ امام محمد باقرؐ فرماتے ہیں :

أَنَّ اللَّہَ جَمَعَ لِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ و آلہ عِلْمَ النَّبِیِّینَ، وَأَنَّہُ جَمَعَ ذلِکَ کُلَّہُ عِنْدَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ علیہ السلام ( الکافی (ط - دارالحدیث) ؛ ج1 ؛ ص554)
پروردگار عالم نے تمام انبیاء (ع)کے علوم حضرت ختم مرتبؐ میں جمع کیا اور انھوں ہے اسے حضرت سید اوصیاء امیر المومنینؐ کو بخشا جبکہ بعض دیگر روایات میں یہ تمام علوم انکے بعد دیگر اوصیاء کو وراثت میں ملے دیکھیں اصول کافی میں

(أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ مُحَمَّداً صلی اللہ علیہ و آلہ کَانَ أَمِینَ اللَّہِ فِی خَلْقِہِ، فَلَمَّا قُبِضَ علیہ السلام کُنَّا- أَہْلَ الْبَیْتِ- وَرَثَتَہُ؛ فَنَحْنُ أُمَنَاء ُ اللَّہِ فِی أَرْضِہِ، عِنْدَنَا عِلْمُ الْبَلَایَا وَ الْمَنَایَا (الکافی (ط - دارالحدیث) ؛ ج1 ؛ ص555)

اور در حقیقت ائمہ معصومیں علیہم السلام سے منقول زیارات خصوصاَ زیارت جامعۃ اور زیارت اربعین معرفت امام حاصل کرنے کا بہتریں باب ہیں ہمیں چاہیے جتنا بھی ہو سکے ان زیارات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ان زیارات میں امام کے الھی مقامات بیان ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف صفات؛خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ چنانچہ زیارت ابعین میں امام کو ولی خدا ؛ حبیب خدا ؛خلیل خدا اور روی زمین پر امین خدا کہہ کر تعارف کرایا گیا ہے اور حقیقت میں یہ صفات خدا کے نزدیک امام معصوم کی عظمت اور بلند مرتبے کو بیان کرتی ہیں۔

چونکہ آئمہ کی ذوات اس کائنات میں صفات پرودگار کی روشن ترین تجلیّ گاہ اور اسماء حسنی ہیں جسکی طرف اشارۃ کرتے ہوے صادق آل محمد آیت(وللہ اسماء الحسینی فادعوہ بھا )کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

نحن واللہ اسماء الذّی لا یقبل من احد الاّ بمعرفتنا :

ترجمہ اللہ کی قسم اسماء حسنی کی بارز ترین مصداق ہم ہیں اور ہماری معرفت کے بغیر کسی کا عمل مقبول درگاہ حق واقع نہیں ہوتا ۔

اسی طرح اما م وہ ہیں جو دین کا ستون اور اہل دنیا پر خدا کی طرف سے حجت ہوتے ہیں امام عبد اورمعبود کے درمیان نہ ٹھوٹنے والی مضبوط رسی ہیں چنانچہ اشارہ ہوتا ہے :

وَ جَعَلْتَہُ حُجَّۃً عَلی خَلْقِکَ مِنَ الاَْوْصِیاَّء ِ

ترجمہ: پرودگارا تونے اسے اپنے اوصیاء میں اپنے مخلوقات پر حجت قرار دیا کہ جسے زریعے قیامت کے دین پروردگار عالم اپنے بندوں پر احتجاج کرے گا کہ اے میرے بندے کیوں کر میری اطاعت میں  تو نے کوتاہی کی جبکہ تمھارے رہنمائی کے لیے میرے مقرب بندے ہادی برحق امام تمھارے درمیان تھے ؛

وَ اَشْہَدُ اَنَّکَ مِنْ دَعاَّئِمِ الدّینِ وَ اَرْکانِ الْمُسْلِمینَ وَ مَعْقِلِ الْمُؤْمِنینَ٭وَ اَشْہَدُ اَنَّکَ الاِْمامُ الْبَرُّ التَّقِیُّ الرَّضِیُّ الزَّکِیُّ الْہادِی الْمَہْدِیُّ 

ترجمہ : اور میں گو اہی دیتا ہوں کہ آپ اے امام دین کا ستون ہیں کہ جب ستون گر جاے تودین بھی خراب ہوجاے گا ؛ مسلمانوں کا سردار رہنما اور ہادی برحق ہیں کہ جنکی اطاعت سے انسان نجات پاے گا اور مومنیں کا مضبوط پناہ گاہ ہیں جو انھیں ہر قسم کے گمراہی اور افراط وتفریط سے بچاتے ہیں ؛البتہ یہ سب اس وقت ہے کہ جب ہم ائمہ کے دستورات کو اپنے زندگی کا نصب العین قرار دیں انکی سیرت و  کردار کو اپنے زندگی کے مختلف پہلووں میں سرمشق قرار دیں ۔

پھر زیارت اربعین کے آخر میں زیارت کرنے والا ان جملات کے ساتھ امام کے ساتھ یہ عہد کرتا ہے :

میں گواہی دیتا ہوں کہ میں آپکے اور آپکے اجداد کے ماننے والا اوراپنے دینی احکامات اور عمل کے جزاء پر ایمان رکھنے والا ہوں ؛ میرا دل آپکے دل کے ساتھ پیوستہ اور میرا ہر معاملہ آپکے معاملے کے تابع اور میں ہر آن آپکی نصرت کے لیے تیار ہوں ۔یہ ہیں حقیقی اہل تشیع اور حقیقی زائر کی خصوصیات جو امام کے دستور کو جاننے کے بعدان کے دستورات کے سامنے ہمہ تن سرتسلیم خم ہو۔

یہ ہے حقیقی شیعہ اور زائر جو صرف زبان پر یا علی یا حسین یا امام کہنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ عمل کے زریعے ؛امام (ع)کی اطاعت کے زریعے اپنے شیعہ ہونے کا ثبوت دے۔  واضح رہے کہ  جب تک کوئی عملی میدان میں اپنے شیعہ ہونے کا ثبوت نہ دے اسے خود اہل بیت (ع) بھی شیعہ نہیں مانتے۔

چنانچہ امام حسن مجتبی علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص آکر عرض کرتاہے اے فرزند رسولؐ میں آپکا شیعہ ہوں امام (ع) نے فرمایا : یاعبد اللہ، إن کنت لنا فی أوامرنا و زواجرنا مطیعا فقد صدقت، و إن کنت بخلاف ذلک فلا تزد فی ذنوبک بدعواک مرتبۃ شریفۃ لست من أہلہا، لا تقل: أنا من شیعتکم....

اے شخص اگر تم ہماری شریعت کے سامنے سر تسلیم خم ہے ہماری اوامر ونواہی جسے ہم نے انجام دینے کا حکم دیاہے اسے انجام دیتا ہے اور جس چیز سے ہم نے روکا ہے رکتاہے تو تم اپنے دعوا میں سچھے ہوورنہ اگر عمل میں ہماری پیروی نہیں کرتے ہے ہماری اطاعت کا جذبہ نہیں رکھے ہے تو اپنے آپکو اہل بیت(ع) کا شیعہ کہہ کے اس مقدس مقا م اور منزلت کو اپنی طرف خواہ ناخواہ نسبت دے کر اپنی گناہوں کے بار کو سنگیں مت کریں ۔
و قال رجل للحسین بن علی بن أبی طالب (علیہما السلام): یا ابن رسول اللہ، أنا من شیعتکم. قال (علیہ السلام): اتق اللہ، و لا تدعین شیأ ایقول لک اللہ: کذبت، و فجرت فی دعواک ۔۔۔۔ اسے ہی کوئی شخص امام حسین (ع) کی خدمت میں وہی دعوا دہراتا ہے تو امام حسین (ع)اسے ڈانٹے ہیں اور فرماتے ہیں اے شخص اللہ سے ڈرو کہیں عمل میں ہمارے شیعہ نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی تمھیں جھوٹا قرار نہ دے ۔(البرہان فی تفسیر القرآن، ج4، ص:٦٠٣)

قیامت اور زیارت اربعین

زیارت اربعین میں جن امور کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے ان میں سے ایک معاد یعنی مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے کا ہے؛قیامت کے دن امام کے مقابلے میں دو گروہ ہونگے پہلا گروہ ان لوگوں کا ہونگا جو دنیا میں امام کی امامت اور مقام شفاعت پر عقیدہ رکھتے تھے اور ہر معاملے میں انکے تابع رہیں ہیں یہ گروہ امام کی شفاعت سے بہرہ مند ہونگے اور یہ وہ لوگ ہونگے جو دنیا میں گواہی دیتے تھے :

فانّ لک عند اللہ مقاما معلوما وشفاعۃ مقبولۃ

ترجمہ:اے امام (ع)میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے ہاں تیرا بلند مقام ہے تمھیں مقام شفاعت حاصل ہے ۔جبکہ دوسرا گروہ ان لوگوں کے ہونگے جنہوں نے دنیا کے خاطر اپنی آخرت کو بیچ دیا ہے۔

( قَدْ تَوازَرَ عَلَیْہِ مَنْ غَرَّتْہُ الدُّنْیا ۔۔٭وَ ا شَری آخِرَتَہُ بِالثَّمَنِ الاَْوْکَسِ وَ تَغَطْرَسَ وَ تَرَدّی فی ہَواہُ ٭ وَاَسْخَطَکَ وَاَسْخَطَ نَبِیَّکَ٭ الْمُسْتَوْجِبینَ النّارَ )

نتیجہ

جن لوگوں نے عقائدِ اسلامی سے انحراف کیا ہے انہوں  نے امام حسین ؑپر ظلم کیا ہے۔یہ لوگ دنیا سے دوھوکہ کھاے ہوے ؛ مٹھی بھر متاع دنیا کی خاطر اپنی آخرت کو  چھوڑے ہوے اور اپنے آپ کو ہوااورہوس کے پیچھے برباد کیے ہوے ہیں۔ انہوں نے  خدا، نبیؐ  اور امام حسین ؑکو غضبناک کیا ہے۔  انہوں نے  ہمیشہ کے لیے اپنے آپ کو آتش جہنم کے حوالہ کردیا ہے ۔یہ گروہ ماضی میں  یزید ؛ ابن زیاد ؛ عمر سعد ؛ شمر اور حرملہ کی شکل میں امام حسین ؑپر ہر طرح کے ظلم ڈھا رہا تھاجبکہ آج ہمارے زمانے میں دشمن انسانیت امریکا اور اسكی  لابی،  اسی طرح امام مظلوم کے نا م پر لوٹنے والے تاجران خون حسین اور مومنین کو گمراہ کرنے کے لیے منبر حسینی پر بندروں کی طرح ناچنے والے غالیوں کی شکل میں امام مظلوم ؑ پر مسلسل ظلم کررہا ہے ۔ لہذا حقیقی زائر وہ ہے جو ماضی کے یزید اور یزیدی کرداروں سے نفرت اور دوری اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ آج کے غالیوں اور یزیدیوں کردارکے مالک افراد کو بھی پہچانے اور انکے یزیدی کردار سے نفرت اور دوری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پوری  توانائی کے ساتھ ان کا  مقابلہ کرے ۔