تحریر: نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

مٹھاس، انسان کو پسند ہے، انسان چاہتا ہے کہ اسکی زندگی کے تمام شعبوں میں شیرینی اورمٹھاس ہی ہو۔ دینِ اسلام بھی یہی چاہتا ہے کہ انسانی معاشرے سے منکرات کو ختم کرکے حیاتِ انسانی کو حسنات کی شیرینی سے معمور کیا جائے۔

انسانی دنیا میں اتنی بڑی تبدیلی ایک دم ممکن نہیں۔ پھل کبھی بھی ایک دن میں پک کر میٹھا نہیں ہوتا۔ ایک بیج کو زمین کے اندر مدتوں کیمیائی اور حیاتیاتی عمل سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے بعد وہ ایک پودے کی صورت میں زمین کے اوپر تند و تیز ہواوں اور سورج کی گرم شعاوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنتا ہے۔ اس کے باوجود ایک پودے کو کھینچ کر زبردستی درخت نہیں بنایا جا سکتا۔

 درخت بننے کے لئے بھی ایک پودے کو  مسلسل مٹی، پانی، گیس اور ہوا کے ساتھ ساتھ موسمی تغیرات کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان مراحل سے گزرے بغیر پودا درخت نہیں بن سکتا۔ درخت بننے کے بعد بھی پودے کو مسلسل موسمی تربیّت کے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں، تب جاکر اس پر شگوفے کھلتے ہیں اور پھل اگتے ہیں۔

کسی غنچے کو طاقت کے ساتھ مروڑ کر پھول نہیں بنایا جا سکتا اور کسی پھول کو مسل کر یا دبا کر قوت و طاقت سے  پھل بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ جب پھل لگ جاتا ہے تو پھر ایک دن میں پک کر میٹھا نہیں ہو جاتا۔ پھل بھی سورج کی کرنوں اور چاندنی کی آغوش میں مقررہ عمل طے کرنے کے بعد ہی میٹھا اور شیرین ہوتا ہے۔

انسانی و اسلامی تہذیب کا شجر بھی اسی طرح ہے۔ انسانی تہذیب کو بھی آگے بڑھنے اور ارتقاء کرنے کے لئے مختلف ادوار سے گزرنا پڑتا ہے۔ بہترین تہذیب سے بہترین ثقافت جنم لیتی ہے اور بہترین ثقافت سے بہترین تمدن وجود میں آتا ہے اور بہترین تمدن اپنی گود میں بہترین اقوام کو پروان چڑھاتا ہے۔

 ایک محقق کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی تحقیقات کے دوران انسانی تہذیب کے ارتقائی مراحل کی رعایت کرے۔ اسے تہذیب، ثقافت اور تمدن کے فرق کو مدّنظر رکھتے ہوئے، اسے تہذیب و ثقافت اور تمدن کی ارتقائی سطح کو بھی ماپنا چاہیے۔ مخاطبین کی ذہنی سطح کی پیمائش کے بعد ہی انکی اصلاح ِ احوال کے لئے نسخہ تجویز کرنا چاہیے۔

یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ ہر تحقیق ہر میدان میں کام نہیں آ سکتی، ہر بات ہر شخص پر یکساں اثرات مرتّب نہیں کرتی اور ہر مریض کے لئے ایک ہی نسخہ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔

انسانی تہذیبوں کے درمیان اسلامی تہذیب کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ دیگراقوام جس قدراپنی تہذیب سے دورہوتی گئیں، انہوں نے ترقی کی اور مسلمان جس قدر اپنی تہذیب سے دور ہوتے گئے انہوں نے تنزّل کیا۔

 تہذیب کوئی ایسی شے نہیں ہے جو خود بخود ایک نسل سے دوسری نسل میں تبدیل ہو جاتی ہے، بلکہ تہذیب کے ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ موجودہ نسل اپنی آئندہ نسل کے حالات کے مطابق اپنی تہذیبی روایات کی تعبیرِ اور تعمیرِ نو کرے، تاکہ آئندہ نسل اپنی موروثی تہذیب کے سائے میں افکارِ نو کو پروان چڑھا سکے۔

 صدرِ اسلام میں صفہ کی درسگاہ اور مسجد النبی(ص)  کے زیرِ سایہ جو تہذیب پروان چڑھی، وہ خالصتاً ایک علمی و فکری تہذیب تھی۔ اسی علمی و فکری تہذیب نے ایک علمی و متمدن قوم کو جنم دیا، جس کی آغوش میں سعدی،  فارابی، رومی، سینا، جابر بن حیان اور طوسی جیسی گرانقدر شخصیات نے جنم لیا۔

مختلف حالات و واقعات کے پیشِ نظر جیسے جیسے مسلمان اپنی نسلِ نو کو اپنی علمی تہذیب سے دور کرتے گئے، وہ غیروں کے محتاج ہوتے چلے گئے۔ حتّی کہ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب اسلامی ممالک میں تہذیب بھی غیر مسلم مالک سے درآمد کی جا رہی ہے۔

موجودہ صدی کے سماجی، صنعتی اور سیاسی انقلابات بتا رہے ہیں کہ یہ صدی مسلمانوں میں بیداری اور ان کی اپنی تہذیب کی طرف بازگشت یعنی پلٹنے کی صدی ہے۔ آج کے مسلمان کو اپنی عظمتِ رفتہ کے کھو جانے کا احساس ہوچکا ہے اور اپنی اصلی تہذیب کی طرف پلٹنے کے لئے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔

 ایسے میں اسلامی دنیا کی بنیادوں میں ایک ایسا مافیا بھی دیمک کی طرح اپنا کام دکھا رہا ہے، جو عالمِ اسلام کو اس کی علمی و فکری میراث کی طرف پلٹانے کے بجائے فقط نماز روزے اور طہارت کے احکام تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔

 پاکستان کے ایک مایہ ناز محقق مختار مسعود کے مطابق انہیں زندگی میں دو  طرح کے استاد ملے۔ ایک نے انہیں بچپن میں کہا کہ خبردار قلم کو ہاتھ نہیں لگانا، یہ صرف تمہاری پڑھنے کی عمر ہے، جب تعلیم مکمل کر لو پھر لکھنا شروع کرنا جبکہ دوسرے استاد نے کہا کہ ابھی سے لکھنا شروع کرو، تب جاکر برسوں بعد کچھ لکھ پاو گے۔ ان کے بقول اگر میں پہلے والے استاد کی بات پر چلتا تو آج تک کچھ بھی نہ کر پاتا۔ یہ دوسرے استاد کی بات پر عمل کرنے کا نتیجہ ہے کہ میں نے اب تک بہت کچھ کر لیا ہے۔

اسی طرح ہمارے ارد گرد بہت سارے ایسے لوگ ہیں، جو طالبعلموں کو تعلیم کے راستے سے ہٹانے کے لئے اس طرح کے نظریات کی ترویج کرتے ہیں کہ پڑھائی لکھائی کا کیا فائدہ ہے، تعلیم چھوڑو اور چلو قوم کی خدمت کرو۔ یہ تعلیم کے بغیر قوم کی خدمت کا نعرہ اس ہمدردی اور خضوع و خشوع کے ساتھ لگاتے ہیں کہ اچھے خاصے طالب علم کا دل بھی پڑھائی سے اچاٹ ہو جاتا ہے۔

 تعلیم و خدمت کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے، نہ ہی تو خدمت کے بغیر تعلیم کسی کام کی ہے اور نہ ہی ایسی خدمت امت مسلمہ کے حق میں ہے جو تعلیم کے بغیر ہو۔

تعلیم و تربیت اور تحقیق ِ نو و تولید علمی کے بغیر خدمت ایسے ہی ہے جیسے نورکے بغیر چراغ۔ “علم دشمن مافیا” دن بدن دانستہ یا نادانستہ طور پر مسلمانوں کی نسلِ نوکے دماغوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

 آج کون نہیں جانتا کہ ہمیں اسلامی بیداری کی موجودہ صدی میں اپنی ملت کو حقیقی اسلامی تہذیب سے مرتبط کرنے کے لئے علمی و فکری شخصیات کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی علمی و فکری شخصیات کی ضرورت ہے، جو ہمیں مشرق و مغرب کی علمی واقتصادی، فکری و نظریاتی، سائنسی و معاشرتی غلامی سے نجات دلاکر حقیقی اسلامی تہذیب  کے ساتھ متصل کریں۔

یہ سب کچھ ایک دم نہیں ہوسکتا اسکے لئے ہمیں مسلسل تگ و دواور جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے اوراسکا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم  اپنے  سکولز، مدارس، کالجز اور یونیورسٹیز کے طالبعلموں کو “علم دشمن مافیا” سے محفوظ کریں، انہیں تعلیم ترک کرنے کے بجائے تعلیم مکمل کرنے کی ترغیب دیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ خدمت کرنے کا ہنربھی سکھائیں۔

 اسی طرح ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف یا چندے کے باکس تھمانے کے بجائے، انکی اخلاقی وعلمی تربیت کریں اور انکی تحقیقی و مدیریتی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے منصوبہ بندی کریں۔

 ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پھل ایک دن میں پک کر میٹھا نہیں ہوجاتا، پھل بھی سورج کی کرنوں اورچاندنی کی آغوش میں مقررہ عمل طے کرنے کے بعد ہی میٹھا اورشیرین ہوتا ہے۔ انسانی واسلامی تہذیب کا شجر بھی اسی طرح ہے۔

 اس شجرکے ثمرآور ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ملت کے  نونہالوں کو علم دشمن مافیا سے بچائیں، چونکہ تعلیم و تربیت اور تحقیق ِ نو و تولید علمی کے بغیر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا نعرہ لگانا ایسے ہی ہے جیسے نور کے بغیر چراغ  لے کر کسی کی  رہنمائی کے لئے نکل پڑنا۔

 


افکار و نظریات: ہمارا تہذیبی ارتقا۔۔۔ ہماری توجہ کا طالب ہے