جہاد کشمیر کی شرعی حیثیت
عبدالحمید منتظر
muntaziir1586@gmail.com

 

مقدمہ 
خداوند متعال نے انسان کو آزاد خلق کیا ہے اور انسان کا یہ فطری حق  ہے کہ وہ  کسی کا غلام نہ بنے۔ اسی طرح خود پہ کسی کو ظلم کرنے کی اجازت دینا بھی انسانی اقدار کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان اور حیوان کی فطرت و شعور میں یہ چیز رکھی ہے کہ وہ  اپنے بنیادی حقوق کا بھرپور دفاع کرے۔ انسان کے بنیادی حقوق میں دین و عقیدہ، جان و زندگی، کسب و کار، فکر، حریت، نسب، حسب، عزت و آبرو، مال و ناموس وغیرہ سب کچھ آتا ہے۔

اگر انسان کو اپنے حقوق کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو اسےخندہ پیشانی سے ان مشکلات کو قبول کرنا چاہیے۔ اسی طرح دوسرے انسانوں کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ اس انسان کی مدد کے لیے تلاش و کوشش کریں۔
اگر اس کی مدد کو دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پہ یہی حق بھی بنتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان مظلوم بھائی کے لیے کوشش و جدوجہد میں شریکِ کار بنے۔
مسئلہ کشمیر جس کو ہم بچپن سے سنتے آ رہے  ہیں اور اب تو  سوشل میڈیا کے دور میں تو ہر گھڑی کشمیر کے مسلمانوں پہ ہونے والے مظالم ہماری نظروں کے سامنے ہیں تو ہم یہاں کشمیر میں ہونے والے  جہاد کی شرعی حیثیت  کو بیان کرنے کے لیے آج قلم بدست ہوئے ہیں۔ہمارا آج کا موضوع کشمیر میں جہاد کی شرعی حیثیت  ہے۔
تعریفِ جہاد 
جہاد کا لغوی مطلب کوشش،تلاش،مشقت و جدوجہد کرنا ہے اور اصطلاحی معنا کسی دینی ہدف یا مقصد کے لیے جدوجہد کرنا، راہِ خدا میں مشقت کرنا،دشمن سے نبرازمائی اور  جنگ کرنا نیز  اپنا دفاع کرنا، یہ سب جہاد ہے۔ جہاد واجبات الِہیہ  میں سے ہے جس پر مسلمانوں کے تمام فرقوں  کا  اتفاق ہے۔ اس اتفاق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاد کے متعلق قرآن و روایات میں بہت تاکید کی گئی ہے۔

اہمیت  جہاد 
جہاد کے بارے میں قرآن کریم میں تقریباً 404 آیات ذکر ہوئی ہیں اور بہت سی احادیث نے بھی جہاد کی تائید فرمائی ہے، جہاد کے بارے میں جن سورتوں میں ذکر ہوا ہے وہ بجملہ یہ ہیں سورہ محمد، سورہ نساء، سورہ احزاب،سورہ حدید، سورہ نمل،سورہ حج،سورہ شوری، سورہ توبہ میں جہاد کو ذکر کیا گیا ہے اور ان آیات کے لہجے اور سخن سنگین سے جہاد کی اہمیت  واضح ہو جاتی ہے۔
کثرت سے جہاد کا ذکر،ان میں انتہائی سخت لہجہ و ولولہ انگیز اور حتمی گفتگو اور سزا و جزاء اور دھمکیاں، یہ سب بتا رہی ہیں کہ جہاد کی بہت اہمیت  ہے۔ جہاد ایک شرعی عمل اور قدرتی قانون اور فطری عمل ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت دبا نہیں سکتی اور نہ کوئی منطق مسلمانوں کو اس حق سے محروم کر سکتی ہے۔
کشمیر کے حالات اور وہاں پائی جانے والی مشکلات اکثر وہی ہیں جو جہاد کے متعلق ذکر ہوئی ہیں اور جہاد کشمیر نص قرآن و احادیث کی روشنی میں انتہائی  شرعی حیثیت رکھتا ہے  چونکہ وہاں دین میں  دفاعی جہاد درجہ اولی  کی اہمیت کا حامل ہے ۔کفار کشمیر میں مسلمانوں کی جان،مال،عزت،آبرو اور ناموس کو پامال کیے جا رہے ہیں اور تمام مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عظیم جہاد میں اپنا  ہر ممکنہ سیاسی و اخلاقی و اجتماعی۔۔۔ حصہ ڈالیں۔
اقسامِ جہاد 
فقہاء و مؤرخین نے جہاد کی دو اقسام بیان کی ہیں۔
۱۔جہاد ابتدائی:کفار و مشرکین سے جنگ کرنا اور ان کو اسلام کی دعوت دینا اور توحید کے نظام کو  قائم  کرنا، کفر و شرک کو ختم کر کے عدالت قائم کرنا۔
یہاں پہ بعض فقہاء کا نظریہ ہے کہ جہاد ابتدائی فقط معصوم یا ان کا نائب خاص کر سکتا ہے کہ جس میں حتیٰ کہ اس دور کے فقیہ و مراجع بھی شامل نہیں، بعض لوگ  کہتے ہیں کہ معصوم یا انکے نائب خاص کی اجازت کے بغیر بھی جہاد ابتدائی کیا جا سکتا ہے یعنی ظلم و بربریت کے خاتمے اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے جہاد ابتدائی عام و خاص کر سکتا ہے اور مظلوم کا دفاع کر سکتا ہے۔
جہادِ ابتدائی اور جہادِ دفاعی میں فرق 
جہاد ابتدائی تین گروہوں سے کرنا واجب ہے،کافران ذمی،کافران غیر ذمی، باغیان۔
جہاد دفاعی:اسلام کے دشمنوں سے جنگ کرکے انکو دعوتِ اسلام دینا یا اسلام کے دشمنوں سے اپنا دفاع کرنا،مسلمانوں کا غیر مسلموں سے مبارزہ کرنا اور اپنے اموال و ناموس کی حفاظت کرنا، جہاد دفاعی ہے۔جہاد دفاعی مسلمان کا مسلمان سے بھی واجب ہے جب کوئی رات کے وقت کسی کے گھر میں داخل ہو اور مالک اپنی جان،مال و ناموس کے دفاع کے لیے لیے اس سے جہاد کرے۔ 
جہاد قرآن و روایات میں 
وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَتَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لاَیُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ)بقرہ190

اور راہ خدا میں تم ان لوگوں سے قتال کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ خدا تجاوز کر نے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ یہاں جب کافر مسلمان پہ حملہ ور ہوں تو ان سے کیے جانے والے جہاد کو بیان کیا گیا ہے۔
وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَتَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ لِلَّہِ فَإِنْ انتَہَوْا فَلاَعُدْوَانَ إِلاَّ عَلَی الظَّالِمِینَ)بقرہ191
اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ (اور بت پرستی اور لوگوں سے سلب آزادی کی حالت ) باقی نہ رہے اور دین خدا کے لیے مخصوص ہوجائے ۔ پس اگر وہ (اپنی غلط روش سے) دستبردار ہو جائیں (توان سے مزاحمت نہ کرو کیونکہ) تعدی اور تجاوز ظالموں کے علاوہ کسی کا شیوہ نہیں ہے۔یہاں الِہی راستے کی طرف دعوت کے لیے جہاد کو بیان کیا گیا ہے۔
إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَھَاجَرُوا وَجَاھَدُوا بِاٴَمْوَالِھِمْ وَاٴَنفُسِھِمْ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ آوَوا وَنَصَرُوا اٴُوْلٰئِکَ بَعْضُھُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یُھَاجَرُوا مَا لَکُمْ مِنْ وَلَایَتِھِمْ مِنْ شَیْءٍ حَتَّی یُھَاجِرُوا وَإِنْ اسْتَنصَرُوکُمْ فِی الدِّینِ فَعَلَیْکُمْ النَّصْرُ إِلاَّ عَلیٰ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ مِیثَاقٌ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ
جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا اور وہ کہ جنھوںنے پناہ دی اور مدد کی ایک دوسرے کے اولیاء (دوست، جوابدہ اور دفاع کرنے والے) ہیں اور جو ایمان لائے اور انھوںنے ہجرت نہیں کی تم ان کے بارے میں کسی قسم کی ولایت (تعہد اور جوابدہی) نہیں رکھتے جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اور (صرف اس صورت میں کہ) جب وہ تم سے (اپنے) دین (کی حفاظت) کے لئے مدد طلب کریں (تو پھر تم پر لازم ہے کہ ان کی مدد کرو مگر ایسے گروہ کے خلاف نہیں کہ جس کے ساتھ تمھارا (جنگ نہ کرنے کا) معاہدہ ہو اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو خدا اسے دیکھتا ہے۔

مسلمانوں پہ ظلم و ستم کے خاتمے کے لیے کیا جانے والا جہاد 

 اٴُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِاٴَنَّھُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلیٰ نَصْرِھِمْ لَقَدِیرٌ 
ان لوگوں کو جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے، جن پر جنگ ٹھونسی گئی ہے، کیو وہ ظلم وستم کا نشانہ بنے ہیں اور الله سبحانہ وتعالیٰ ان کی مدد ونصرت پر قادر ہے ۔ 
یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاٴُنثَی بِالْاٴُنثَی فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ اٴَخِیہِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَاٴَدَاءٌ إِلَیْہِ)بقرہ178
بِإِحْسَانٍ ذَلِکَ تَخْفِیفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ 
اے ایمان والو! مقتولین کے بارے میں حکم قصاص تمہارے لئے لکھ دیاگیاہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت ، پس اگر کوئی اپنے (دینی) بھائی کی طرف سے معاف کردیاجائے (اور حکم قصاص خونبہا سے بدل جائے) تو اسے چاہئیے کہ پسندیدہ طریقے کی پیروی کرے (اور دیت کی وصولی میں دیت دینے والے کی حالت کو پیش نظر رکھے) اور قاتل بھی ولی مقتول کو اچھے طریقے سے دیت ادا کرے (اور اس کی ادائیگی میں حیل و حجت سے کام نہ لے) تمہارے پروردگار کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے اور اس کے بعد بھی جو تجاوز کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
وَإِنْ نَکَثُوا اٴَیْمَانَھُمْ مِنْ بَعْدِ عہدھِمْ وَطَعَنُوا فِی دِینِکُمْ فَقَاتِلُوا اٴَئِمَّةَ الْکُفْرِ إِنَّھُمْ لَااٴَیْمَانَ لَھُمْ لَعَلَّھُمْ یَنتَھُونَ)توبہ12
اور اگر وہ معاہدے کے بعد عہدو پیمان کو توڑدیں اور تمھارے دین پر طعن وطنز کریں تو آئمہٴ کفر سے جنگ کرو اس لئے کہ ان کا کوئی عہدو پیمان نہیں، شاید وہ دستبردار ہوجائیں ۔

یہاں کفار کی عہد شکنی کو بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ عہد کرتے ہیں اور اسکو توڑ دیتے ہیں۔
نبی پاک صلے فرماتے ہیں: جو شخص اپنے مال یا ناموس کا دفاع کرتے ہوئے مارا جائے وہ شھید ہے۔

جہاد فقط یہ نہیں کہ ہتھیار لےکر کشمیر پہنچ جائیں بلکہ قلمی جہاد ،فکری جہاد، ثقافتی و تہذیبی جہاد اور دیگر  کسی بھی طریقے  سے مظلوم کشمیریوں کی آواز بننا  یہ سب جہاد ہی ہے اور عنداللہ اس کا اجر ہے۔
خداوند ہمیں اس جہاد میں اپنا حصہ شامل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں مسلمان مظلوموں کے ہم ردیف رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

منابع 

1_ اقتباس تفسیر نمونہ،آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی دامہ
2_ کتاب‌ العین‌، چاپ‌ مهدی‌ مخزومی‌ و ابراهیم‌ سامرائی‌، قم‌ ۱۴۰۵.   
3_ ترتیب‌ اصلاح‌ المنطق‌، چاپ‌ محمدحسن‌ بکائی‌، مشهد ۱۴۱۲.
4_ الصحاح‌:تاج‌ اللغه‌ و صحاح‌ العربیه‌، چاپ‌ احمد عبدالغفور عطار، بیروت‌ (چاپ‌ افست‌ تهران‌ ۱۳۶۸ ش)..   
5       _ ابن‌اثیر، النهایه‌ فی‌ غریب‌ الحدیث‌ و الاثر، ذیل‌ «جهد»، چاپ‌ محمود محمد طناحی‌ و طاهر احمد زاوی‌، بیروت‌ ۱۳۸۳/۱۹۶۳، چاپ‌ افست‌ قم‌ ۱۳۶۴ ش‌.
6       _ محمدحسن‌بن‌ باقر نجفی‌، جواهر الکلام‌ فی شرح‌ شرائع‌ الاسلام‌، ج۲۱، ص‌۳، بیروت‌ ۱۹۸۱.   
7_       ابن عابدین‌، ردّ المحتار علی‌ الدّر المختار، ج۳، ص۲۱۷، چاپ‌ سنگی‌ مصر ۱۲۷۱ـ۱۲۷۲، چاپ‌ افست‌ بیروت‌ ۱۴۰۷/ ۱۹۸۷.
8_ محمد خیر هیکل‌، الجهاد و القتال‌ فی‌ السیاسه‌ الشرعیه‌، ج۱، ص۴۴، بیروت‌ ۱۴۱۷/۱۹۹۶.
9_ ابن حمزة الطوسی، الوسیلة، ج۱، ص۱۹۹.   
10_ الجامع للشرایع ص۲۳۳.   
11_ تذکرة الفقهاء ج۹، ص۱۹-۲۰.   
12_ الروضة البهیه ج۲، ص۳۸۱-۳۸۲.   
13_مسالک الأفهام ج۳، ص۷-۸.   
14_ الحدائق الناضرة ج۳، ص۴۱۵.   
15_ حسینعلی‌ منتظری‌، دراسات‌ فی‌ ولایه‌ الفقیه‌ و فقه‌ الدوله‌ الاسلامیه‌، ج۱، ص۱۱۵، قم‌ ۱۴۰۹ ۱۴۱۱.   
16_ محمدبن‌ ادریس‌ شافعی‌، الاُمّ، ج۴، ص‌۱۷۰، بیروت‌ ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
17_ کلینی‌، الکافی، ج۵، ص۲۲۳.   
18_ محمدبن‌ احمد شمس‌الائمه‌ سرخسی‌، شرح‌ کتاب‌ السیر الکبیر، ج۱، ص۱۸۷ـ ۱۸۹، چاپ‌ صلاح‌الدین‌ منجد، قاهره‌ ۱۹۷۱
19_ شھید مرتضی مطہری،مجموعہ آثار۱۶