ایک کالم پر تبصرہ

نذرحافی صاحب! 
آپ کا مضمون حقیقت پر مبنی اور انتہائی فکرانگیز ہے۔لیکن چونکہ عام بندے کی نسبت میں معاہدہ لاہور اور کارگل وار کا ذرا زیادہ بھیدی اور کسی حد تک عینی شاہد بھی ہوں، لہذا میں اس بارے میں آپ کے اس نتیجہ خیز نکتے کہ: *"قومی معاملات میں ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کا ایک پیج پہ ہونا ضروری ہوتا ہے"* کی تائید میں دونوں تاریخی واقعات کے بارے میں اپنی طرف سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ:
پاکستان کے وزیرِاعظم نوازشریف نے ہندوستان کے پردھان منتری اٹل بہاری واجپائی صاحب کے ساتھ "چناب فارمولے" یعنی تقسیمِ کشمیر پر پیش رفت کرتے ہوئے جب "معاہدہ لاہور" کیا تھا تو اس نے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو بالکل بھی اعتماد میں نہیں لیا تھا، جس پر جنرل نے معاہدہ لاہور کو سبوتاژ کرنے اور چناب فارمولے کے تحت کشمیر کی تقسیم کو ناکام بنانے کے لئے کارگل کی مہم جوئی کر ڈالی۔ اور جس طرح کہ آپ نے اپنے تحقیقی مقالے/ مضمون میں خود بھی بیان کیا ہے کہ کارگل میں پاکستان کا پلڑہ ہر لحاظ سے بھاری تھا لیکن پھر بھی کشمیر آزاد ہوا نہ ہمیں اس جنگ سے کچھ بھی حاصل ہو پایا، تو اس کی بھی واحد وجہ یہ تھی کہ جنرل مشرف نے کارگل آپریشن پر اس وقت کے وزیراعظم کو اعتماد میں لئے بغیر مقبوضہ علاقوں میں پیشرفت کر کے ہندوستان کے زیرِ قبضہ کافی سارے علاقے پر باضابطہ قبضہ کر لیا تھا اور دُوبدُو لڑائی میں بھی ہندوستان کو ابتدائی شکست سے کارگل میں دوچار کر دیا تھا، لیکن ایک پیج پر نہ ہونے کی وجہ سے نوازشریف نے ایٹمی جنگ سے خواہ مخواہ خوفزدہ ہو کر امریکی صدر سے گھبراہٹ کے عالم میں جنگ بندی کی اپیل کر دی اور بِن بُلایا مہمان بن کر واشنگٹن ڈی سی جا پہنچا اور یوں کارگل جنگ میں ہزاروں شہادتوں کے بعد پاکستان آرمی کو فتح کئے ہوئے علاقوں سے کنٹرول لائن پر واپس پلٹنا پڑا۔

لہذا دونوں واقعات یعنی معاہدہ لاہور کی ناکامی اور کارگل کی جنگ میں پسپائی کی واحد وجہ وہی ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے کہ سِوّل اور فوجی قیادت ایک پیج پر نہ تھے۔

میں بہ ہوش و حواس لکھ رہا ہوں کہ کاش معاہدہ لاہور کرنے سے پہلے نوازشریف نے پاکستان آرمی اور کشمیریوں کی نمائندہ قیادت کو اعتماد میں لے لیا ہوتا کہ کشمیر کا کون سا حل ان دونوں کو بھی قبول تھا۔
یا پھر کاش کارگل کی جنگ نوازشریف کو ہٹانے کے بعد شروع کی جاتی اور جنرل پرویز مشرف بطورِ چیف ایگزیکٹیو خود اپنے مضبوط اعصاب کے ساتھ اپنے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچا پاتا کیونکہ انڈیا خود بھی تو ایٹمی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا جبکہ کارگل کی جنگ میں اُس کی اِنفنٹری/ توپیں، ائیرفورس، روائتی ہتھیار اور فوجی حکمتِ عملی پاکستان کے سامنے ناکام ہو چکی تھی۔
اور پاکستان کی فوجی برتری نوازشریف کے واشنگن سے جنگ بندی کروانے تک برقرار تھی۔

آپ نے بھی اپنے مضمون میں آپریشن جِبرالٹر کا ذکر کیا ہے کہ جس کے ردِعمل میں بھارت نے انٹرنیشنل بارڈر کراس کرکے پاکستان کے ساتھ باقاعدہ جنگ شروع کر دی تھی۔ تو کیا تب نوازشریف کو بھی یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ کارگل آپریشن کے ردِعمل میں ایک بار پھر ہندوستان بین الاقوامی بارڈر تک جنگ کو پھیلا کر پاکستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کر سکتا تھا؟

اگر نوازشریف صاحب کے ایسے خدشات تھے تو پھر میرا سوال یہ ہے کہ کیا 1965ء میں بھارت لاہور پہنچ کر ناشتہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا؟

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آپریشن جبرالٹر بے وقت اور بے فائدہ ثابت ہوا تھا تو میں پوچھتا ہوں کہ اپنے جسموں پر بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر لاہور کو بچانے والے بھی کیا وہ خود ہی نہیں تھے جنہوں نے آپریشن جِبرالٹر شروع کیا تھا؟
نیز آپریشن جبرالٹر کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ کیا انڈیا نے جیت لی تھی؟

نہیں جناب!
1965ء کی جنگ مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے کے لئے آج بھی ایک حوالے کے طور پہ یاد کی جاتی ہے کہ جس میں پاکستان سے فوجی طاقت، آبادی اور رقبے میں چار گُنا بڑا ہونے کے باوجود انڈیا جیت نہیں پایا تھا لیکن اس جنگ نے ثابت کر دیا تھا کہ پاکستان کشمیر کی آزادی کے لئے جنگ کا آپشن بھی رکھتا ہے۔
اور یہی آپشن کارگل آپریشن کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ اور فرض کریں کہ 1965ء کی طرح 1999ء میں بھی پاک بھارت جنگ کشمیر سے باہر تک پھیل جاتی تو کیا کارگل شروع کرنے والے 1999ء میں پاکستان کا دفاع کرنے کے لئے موجود نہ تھے کہ نوازشریف کو جنگ سے بچنے کے لئے کلنٹن کی مدد لینی پڑ گئی تھی؟؟؟

آپریشن جِبرالٹر شروع کرنے والے اگر روائتی ہتھیاروں سے 1965ء میں وطنِ عزیز کا دفاع کر سکتے تھے تو کارگل کی جنگ شروع کرنے والے 1999ء میں باضابطہ اور مسلمہ طور پہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے کیا وطن ہندو کے حوالے کروا کے خود بھی اس کی غلامی میں جا سکتے تھے؟

کارگل سے بھارتی فوج پاکستان سے مفتوحہ علاقے چھڑانے اور پاکستان کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام ہو گئی تھی، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے نہ ماننا بددیانتی ہوگی۔
 
کارگل کی محدود جنگ نے ثابت کیا تھا کہ روائتی ہتھیاروں سے بھی پاکستان بھارتی فوج کو ہرا سکتا تھا اور ایٹمی جنگ میں بھی پاکستان خود بھلے مٹ ہی کیوں نہ جاتا لیکن دنیا کو ہندو نام کی اسلام دشمن قوم کے وجود سے بھی پاک کر سکتا تھا۔
  
نوازشریف کے روحانی اور سیاسی ایک فوجی باپ نے 1984ء میں ہی خود انڈیا جا کر اس وقت کے ان کے پردھان منتری راجِیو گاندھی کا ہاتھ پکڑ کر اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ دھمکی دے ڈالی تھی کہ اگر تم پاکستان پر روائتی ہتھیاروں سے حملہ کرو گے تو بدلے میں میں تم پر ایٹمی حملہ کر کے ہندو نام کی قوم کو دُنیا سے ہی مِٹا دوں گا۔
راجِیوگاندھی کے پاس کھڑا اس کا سیکرٹری کہتا تھا کہ ہمارے گھر میں کھڑے ہو کر ہم کو کھُلم کھُلا ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر جانے والا جنرل ضیأالحق اُس وقت مجھے دُنیا کا سب سے خوفناک انسان محسوس ہوا تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ تب راجیوگاندھی نے فوراً پاکستان کی سرحدوں پر سے بھارتی فوج ہٹا لی اور جنگ ٹل گئی۔

لہذا ثابت ہوا کہ پاکستان کی فوج کشمیر کے حل کے لئے جنگ بلکہ ایٹمی جنگ کا آپشن بھی رکھتی تھی اور رکھتی ہے، اور کارگل میں یہ ثابت بھی ہو گیا کہ ایک بار پھر اگر جنگ پھیل جاتی تو کارگل شروع کرنے والوں نے ہی وطنِ عزیز کے دفاع کی ذمہ داری بھی نبھانی تھی۔
لیکن بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کا سیاسی حکمران نوازشریف تھا۔

کاش کارگل کے وقت وزیرِاعظم نوازشریف نہ ہوتا!

نوازشریف نے اس دُکھ پر پرویزمشرف کو ہٹانے کی کوشش کی تھی کہ اس نے نوازشریف سے پوچھے بغیر بھارت کے خلاف محاذ کیوں کھولا۔
جبکہ مشرف نے اسی وجہ سے نوازشریف کو ایوانِ اقتدار سے نکال باہر کیا تھا کہ اُس نے ایک جیتی ہوئی جنگ میں پاکستان کو ہروا کر انڈیا کو وہ مفتوحہ علاقے واپس لوٹا دئیے جن پر پاکستان اور عالمی برادری انڈیا کے قبضے کو اب بھی غیرقانونی، غیراخلاقی اور جابرانہ سمجھتی ہے!

اب قارئین خود یہ فیصلہ کریں کہ نوازشریف اور پاکستان آرمی میں سے قصوروار کون تھا؟

میں ذاتی طور پہ پورے اعتماد کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ کاش نوازشریف کارگل آپریشن کے وقت وزیرِاعظم نہ ہوتا، اور مقبوضہ کشمیر کے اندر جس پوزیشن پر پاکستان آرمی چلی گئی تھی تب ہی یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ کشمیر کے لئے پاکستان پہ بھارتی ایٹم بم پَھٹنا تھا یا پھر پاکستان کے ہاتھوں ہندو نام کے راشٹر نے ہی ہمیشہ کے لئے دُنیا سے مِٹ جانا تھا۔

اور میرا یقین ہے کہ ایٹم بم تک نوبت پہنچے بغیر کشمیر کے ایک بڑے حصے پر پاکستان کا تب قبضہ ہو جانا تھا اور باقی ماندہ کشمیر کے اندر آزادی کی تحریک اتنی تیز ہو جانی تھی کہ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ سکھوں کو بھی خالصتان اور ہندوستان سے خلاصی پانے والی دیگر قومیتوں کو بھی آزادی نصیب ہونے کے چانس بڑھ جانے تھے۔

میری نظر میں:

نوازشریف کا کلنٹن کی منت کرکے جنگ رُکوانا اور پاکستانی فوجوں سے بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر کے مفتوحہ علاقوں کا قبضہ چھڑوانا ایک سیاسی حکمران کا بدترین گناہ تھا جس پہ تاریخ اور ہندوستان کے زیرِقبضہ اقوام اُسے کبھی معاف نہیں کریں گی۔

اور نوازشریف کا ایک ناقابلِ معافی جرم یہ بھی تھا کہ جس نے کارگل آپریشن شروع کیا اور ہندوستان کے خلاف کشمیر میں 1999ء میں باقاعدہ ایک جنگی محاذ کھولا تھا، اُسی پاکستان کے حاضر سروس چیف آف آرمی سٹاف کو انڈیا کے حوالے کر دینے کے لئے نوازشریف نے پی آئی اے کے پائلٹ کو حکم دیا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کی فلائٹ کو انڈیا میں اُتار دے یا کہیں بھی بے شک سمندر میں اس جہاز کو ہی پھینک دے جس میں کشمیریوں کی آزادی کا حامی اور انڈیا کا دُشمن موجود تھا!

میرا سوال یہ ہے کہ ذرا تصور کیجئے کہ اگر خدانخواسطہ سری لنکا سے پاکستان واپس آنے والی فلائٹ کا پائلٹ نوازشریف کے احکامات کی بجاآوری کرتے ہوئے اور فیول کی کمی کے پیشِ نظر واقعی جودھپور، جے پور، راجستھان یا بھارتی گجرات کے کسی بھی ائیرپورٹ پر لینڈ کر ہی جاتا تو پھر کیا ہندوستان اپنے خلاف جارحیت کے مرتکب پاکستانی فوج کے سربراہ کو پکڑ کر اُس کے خلاف بھارتی فوجی عدالتوں میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلا کر اور کارگل جنگ کے ذمہ دار کے طور پر اُس کو پھانسی پہ لٹکا کر عبرتناک مثال نہ بنا دیتا، کیونکہ اس وقت کا پاکستانی وزیرِ اعظم خود ہندوستان کے خلاف جارحیت کرنے کا اپنے ملک کے آرمی چیف کو مرتکب قرار دے چکا تھا اور اپنے اس بیان پر نوازشریف آج بھی قائم ہے، لعنتُ الله"

نوازشریف کا جنرل پرویز مشرف کی فلائٹ کو انڈیا میں اُتارنے کا حکم دینا، اُس کا دُوسرا بڑا گناہ اور ناقابلِ معافی جُرم تھا!

جنرل پرویز مشرف نے تو کارگل وار کے بعد اپنے دورِ حکومت میں بالآخر مسئلہ کشمیر کا ایک ایسا روڈمیپ تیار کر ہی لیا تھا جس پہ پاکستان، ہندوستان اور کشمیریوں کی نمائندہ قیادت متفق ہو چکے تھے، اور جو ڈرافٹ کی شکل میں آج بھی مسئلہ کشمیر کے تینوں فریقوں کے ٹیبل پہ پڑا ہوا ہے اور اس پہ بس دستخط کرنا باقی ہیں۔
لیکن ایک سیاستدان ہونے کے ناطے نوازشریف ہندوستان سے سیاسی طریقے سے 2013ء میں برسرِاقتدار آنے کے بعد بھی مسئلہ کشمیر حل نہیں کروا پائے تھے تو پھر 1999ء میں جنرل مشرف کی فوجی مہم جوئی کو ناکام بنانے کا بھی ان کو کوئی حق نہ تھا۔

یاد رہے کہ میں نے شٹل ڈپلومیسی یعنی ٹریک ٹُو، امن کی آشا، پاک بھارت عوامی رابطوں کی تحریک اور برصغیر میں دو ہمسایہ ایٹمی ممالک کے درمیان امن کی کوششوں کے لئے سرگرمی کے ساتھ کام کیا اور تین بار وفود کے ہمراہ ہندوستان کے دورے بھی کئے جبکہ بڑے بڑے بھارتی وفود کو پاکستان میں مدعو کر کے اپنے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ان کے ڈائیلاگ بھی کرواتا رہا لیکن مایوسی ہی پلے پڑی، اور پھر کارگل کی جنگ کے دو ماہ بھی میں نے بنفسِ نفیس ہندوستان کے اندر گزارے تھے اور کارگل کی لڑائی کا ہندوستانی ردِعمل وہاں بیٹھ کے دیکھتا رہا جس کی تفصیل کبھی نہ کبھی میں ایک کتاب لکھ کے بیان کروں گا، اِن شأاللہ!

✍️۔
رائے یوسف رضا دھنیالہ،جہلم۔ پنجاب۔ پاکستان۔