شیخ سعدی کی تین حکایتیں

تحریر: منظوم ولایتی

manzoomwilayati@gmail.com

فارسی زبان کے"سعدی شیرازی" کے نام سے مشہور شاعر کا اصل نام شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی تھا۔ سعدی ان کا شعری نام ہے۔ ایک روایت کے مطابق سعدی کے نام سے شہرت پانے کی وجہ ان کے اجداد کا قبیلہ بنی سعد سے منسوب ہونا ہے۔

شیخ سعدی تقریبا 606 ھجری قمری کو ایران کے شہر شیراز میں ایک علمی گھرانے میں متولد ہوئے۔ تحصیلات کیلیے سعدی اس زمانے کے علوم کے مرکز نظامیہ بغداد گئے اور علوم و معارف سے مستفیض ہوئے۔
بہت سارے ممالک سفر بھی کرتے رہے پینتیس سال مختلف ملکوں اور علاقوں کی سیر کرتے رہے۔

اپنی زندگی کے آخری ایام کو شیراز میں گزارا اور 690ھ کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ شیراز کی سرزمین آج تک ان کے پوری دنیا میں نام سے جانی اور پہچانی جاتی ہے۔

شیخ سعدی کے آثار میں میں دو کتابیں بڑی معروف ہیں : گلستان سعدی اور بوستان سعدی۔

یاد رہے کہ ایک عرصے تک ہمارے ہاں برصغیر پاک و ھند میں بھی یہ دونوں کتابیں نصاب تعلیم کا حصہ رہی ہیں، مگر جب ہمارے ہاں انگریزوں کا دور حکومت آیا تو یہ کتابیں ھباءاٙٙ منثوراٙٙ ہوگئیں!!

ان میں سے بوستان شیخ سعدی کا منظوم کلام پر مشتمل ہے جو اخلاق،تربیت و سیاست اور اجتماعیات کے موضوعات کو سمیٹے ہوئے ہے۔اور گلستان ، شیخ سعدی کی بلاغت اور کمال ادب کا عظیم شاہکار سمجھی جاتی ہے۔ جو زبان فارسی میں عالی ترین مسجع کلام پر مشتمل ہے۔

ذیل میں " بوستان" سے تین سبق آموز حکایتیں نقل کی جاتی ہیں:

١) شیخ سعدی لکھتے ہیں: مُشک( وہ چیز کو خوشبو دیتی ہے) وہ ہے جو خود خوشبو سے فضا کو معطر کرے نہ وہ کہ کو عطار( خشبو فروش) کہے۔ دانا شخص طبلہ عطار ہے خاموش اور اپنے ہنر کو برملا کرنے والا اور نادان ، طبلہ غازی ہے کہ بلند آواز اور درمیان سے خالی۔

خلاصہ یہ کہ دانا شخص خاموشی سے اپنا کام جاری رکھتا ہے اور منزل مقصود تک پہنچتا ہے جبکہ نادان لوگ شور شرابے سے کام لیکر بھی کہیں نہیں پہنچتے ہیں۔

٢)۔ قرآن کے نزول کا مقصد ،سیرت کو خوبصورت اور حسین بنانا ہے نہ کہ صرف لکھے ہوئے الفاظ کی دلنشین ترتیل اور ظاہری تلاوت پر ہی اکتفاء کرنا ۔ عابد عامی پیدل چلنے والے کی طرح ہے اور علمِ بے عمل سوارِ خوابیدہ۔

٣)۔ کہاجاتا ہے کہ ایک دن نوشیروان عادل کہیں شکار پر جاکر کباب کا سیخ بناتے ہیں مگر اس کو بتایا جاتا ہے کہ بادشاہ سلامت!! نمک تو ہے ہی نہیں !! وہ اپنے ایک غلام کو بھیجتے ہیں کہ قریب دیہات میں جاکر نمک لے آئے۔ اور ساتھ کہتے ہیں کہ نمک پیسے دیکر لانا تاکہ مفت خوری کا رواج نہ بن جائے۔ ساتھ بیٹھے مشیروں نے کہا: بادشاہ سلامت! اتنا تھوڑا سا نمک اگر بغیر پیسے دییے مفت میں لایا جائے تو کیا فرق پڑے گا!!
تو نوشیروان نے کہا: دیکھو دنیا میں ظلم کی ابتداء چھوٹی چیزوں سے ہوئی تھی ، اور آج یہاں تک پہنچی ہوئی ہے!!

اگر ز باغ رعیت مٙلک خورد سیبی، بر آورند غلامان او درخت از بیخ
بہ پنج بیضہ کہ سلطان ستم روا دارد، ز نند لشکریانش ھزار مرغ بہ سیخ

ترجمہ: ایک باغ سے کوئی حاکم یا بادشاہ ظالمانہ طور پر ایک سیب کھاتا ہے تو اس کی دیکھا دیکھی اس کے نوکر اور غلام وغیرہ اس درخت کو ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

اسی طرح سے اگر ایک حاکم اور کسی قوم کا سربراہ کہیں سے چوری یا ظلم کے ساتھ پانچ انڈے بھی ہڑپ کر جائے تو یقین رکھیے کہ اس بادشاہ کا لشکر یعنی مشیر و وزیر وغیرہ ہزار مرغیوں کی گردنیں مروڑ کر سیخ کباب بنانے پر اتر آئیں گے۔