خوش قسمت لوگ
 سید شیراز حسن

تکبر کی سطح  اور انداز  میں فرق ہوتا ہے۔ہم سب مختلف طرح کے تکبّر میں مبتلا ہیں۔ ہر کسی نے اپنی انا کی تسکین کے لئے خوش خیالیوں کا ایک محل بنا رکھا ہے۔ کوئی دولت کی کھوٹی شان پر اترا رہا ہے تو کوئی  منصب کی جھوٹی شوکت پر مغرور ہے۔ کسی کو اپنے خاندانی ہونے پر فخر ہے تو کسی پر علمی لیاقتوں کا خمار ہے۔ کوئی اپنی عیاشیوں اور خوش عیشیوں کی نمایش چاہتا ہے تو کسی کو اپنے زہد و تقوی کی نمود مطلوب ہے۔ 
اور اپنے گمان میں ہر کوئی ، اپنے میدان کا سب سے اعلی شہسوار ہے۔ ہر شخص خود کو یکتاۓ زمانہ،یگانہ روزگار،در فرید،فرد وحید اور جانے کیا کیا سمجھے بیٹھا ہے ۔جسکی وجہ سے انسانی تمدن کا ہر شعبہ حقیقت پسندی سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ اعتراف کی نفسیات ختم ہو رہی ہیں۔ خود پسندی،عناد اور ہٹ دھرمی جیسے گھٹیا اوصاف انسانی معاشرے کی اعلی قدروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ بظاہر خوشنما دکھنے والے اخلاق کی عمارت خود غرضی ، لالچ اور ریا کی کھوکھلی بنیادوں پر ٹکی ہوئی  ہے، جو مفاد کی عینک ہٹتے ہی زمین پر آرہتی ہے۔ یہاں معاشرے میں عجیب منافقت کا کاروبار ہے۔ لوگ خوش اخلاقی کے مکھوٹے میں،بداخلاقی کا مکروہ ترین چہرہ چھپاۓ ہوۓ ہیں۔ وہ انکساری کا سودا بیچ کر تکبر کی دولت کما رہے ہیں۔ تدین کے زندہ لبادوں میں، سڑی ہوئی  بد دین لاشیں چار سو مسکراتی پھر رہی ہیں۔
خود نمائی ، خود پسندی اور خود فریبی کی یہ آگ اس قدر پھیل چکی ہے، کہ دنیادار اور دیندار سب اسکی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ہر کوئی  شعوری یا لاشعوری طور پر اس نار موقدہ میں جل رہا ہے، جسکا دھواں باطن تک پہنچ کر دلوں پر منافقت کی سیاہی مل رہا ہے۔فرق صرف اتنا ہے، کہ جو لوگ اس دنیا کو خالص تاجرانہ اور مادی ذہنیت کے ساتھ دیکھتے ہیں، انہیں دین سے نسبت کا کوئی  ادعا نہیں ہوتا، ایسے لوگوں کا کبر بہت سادہ ہوتا ہے، جو انکی ہر ادا سے ٹپکتا ہے۔ وہ سامنے آنے کے لیے کسی غیر معمولی واقعے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ انکا ظاہر ہی انکے باطن کا آئینہ دار ہوتا ہے۔وہ یاروں کی محفل میں کرسی کی پشت پر جھولتے، سگریٹ کے کش لگاتے، اپنی عیش و عشرت کی کارگزاریاں سنادیتے ہیں۔ کبھی بزم اقارب میں ہوں تو خاندانی عزت اور دادوں بزرگوں کی سخاوت کے قصے شروع کردیتے ہیں۔ وہ مسجد، مدرسے میں عطیہ کی ہوئی  شۓ پر اپنا نام کنداں کروانے میں بھی کوئی  عار محسوس نہیں کرتے ۔ دنیاداروں کے ہاں عزت کا یہی معیار ہوتا ہے وہ عاجزی اور تواضع کے معنوی چولے کو اپنی حیثیت عرفی کا کفن سمجھتے ہیں۔لیکن جن لوگوں کو  دین سے نسبت کا دعوی ہے اور دین کے کسی نہ کسی شعبے کو وہ بطور پیشہ اپناۓ بھی ہوتے ہیں ، خود نمائی  کایہ طریق انکے پروفیشن کو سوٹ نہیں کرتا ۔ لوگ کیا کہینگے؟  دیندار ہو کر یہ مزاج! چنانچہ ایسے لوگ خود کو منوانے کے لۓ دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ دوعملی کا طریقہ ، فریب وریا کا طریقہ، سفید جبوں اور دستاروں میں انکا ظاہری وجود جتنا بھلا معلوم ہوتا ہے، انکا روحانی وجود پندار و غرور کی آلائیشوں میں اس سے کہیں زیادہ بد نما ہوتا ہے۔ مگر ع 

عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے

اسلئے عام حالات میں انکا اندرونی چہرہ سامنے نہیں آتا۔ کیونکہ روایتی قسم کا سفید عالمانہ لباس، خوشبٶوں میں بسا ہوا رومال، مسکراتا ہواچہرہ، خاشعانہ آواز ، میٹھی میٹھی باتیں اور من موہک رویہ، ان سب عناصر سے مل کر وہ ڈھال تیار ہو جاتی ہے جو ان کے مادی مفادات کا تحفظ کرتی ہے ۔ جودنیا کے اسٹیج پر انکو دینداری ، تواضع اور خوش اخلاقی کا  شاہکار بنا کر کھڑا کردیتی ہے۔ اسلئے عام طور پر یہ لوگ ہر خاص و عام کے سامنے بڑی پرہیزگاری اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بآسانی اپنے بناوٹی کردار سے باہر نہیں نکلتے۔ 
لیکن مصنوعی شخصیت کا یہ بنا بنایا قصر اس وقت زمیں بوس ہو جاتا ہے جب کبھی انکی انا پر چوٹ پڑتی ہے اور انکو اپنا وقار جاتا ہوا محسوس ہو۔ مثلاً کسی محفل میں اپنے حریف کی تنبیہ پر، کسی غلطی کا اعتراف کرنا پڑ جاۓ، یا کسی بزم میں اپنی برسوں کی مخصوص نشست پر، کسی نو آمد کو تسلیم کرنا پڑ جاۓ، یا پھر اپنے قدیم تعصبات پر تنقید سہنے کی نوبت آپڑ ے، اس وقت انکا کاغزی تحمل پرزے پرزے ہو کر بکھر جاتا ہے۔ اور وہی چہرہ جو ابھی کچھ دیر پہلے تک تبسم کا گلدستہ بنا ہوا تھا، یکایک غصے سے تمتما اٹھتا ہے۔ وہ آنکھیں جو ابھی ابھی سنجیدہ شوخیاں بکھیر رہی تھیں، اچانک غضبناک ہو کر شعلہ بن جاتی ہیں۔ وہ زبان جسکی شیریں کلامی کے چرچے تھے ، سارے سمندر کی ملوحت اسکے مسامات میں اتر آتی ہے۔ خاشعانہ آواز میں رعونت کوند پڑتی ہے۔ تواضع کاپیرہن تار تار ہونے لگتا ہے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے سفید لباس کے پیچھے سے سیاہ کردار برآمد ہوتا ہے۔ ایک ایسا کردار، جو تواضع، خوش اخلاقی اور اعتراف کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہے۔ جسے مجلسی آداب کی تسمیہ بھی نہیں آتی۔ جو اپنا علم و فضل اور تحمل تو کیا، وہ اپنے انسان ہونیکو بھی بھول چکا ہے۔ اب وہ محض ایک حیوان ہے انتقام اور حسد کی آگ میں جلنے والا حیوان، جسکی انانیت کی دم پر کسی آزاد رو کا پاٶں پڑ گیا ہے اب وہ اسکی عزت کوبھی اسی طرح بھنبھوڑ دینا چاہتا ہے جیسے وہ خود بے حیثیت ہو چکا ہے۔
جبہ و دستار میں ملبوس ایسے کردار فقط نیم ملاٶں میں ہی نہیں ملتے، بلکہ مکتب کے خام معلموں سے لیکر علم و فلسفے کے  موقر استاذوں تک، اس ذہنیت کے لوگ بڑی تعداد میں مل جاتے ہیں۔ جو بڑے بڑے علمی ادروں کی جان سمجھے جاتے ہیں۔ دنیاۓ علم میں انکے فضل کا طوطی بول رہا ہوتا ہے ۔ عوامی جلسوں میں انکے نام پر دھوم مچائی  جاتی ہے ۔ اخلاقیات کے اعلی فلسفے، جنکی زبان پر دھرے رہتے ہیں ۔لیکن جب مرحلہ اعتراف کا آتا ہے، حقیقت کے استھان پر خود کو ذبح کرنے کا مرحلہ، اس وقت انکی وہ حالت ہو جاتی ہے، جو اوپر بیان ہوئی ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟ 
لوگ بڑے ہوکر بھی اتنے چھوٹے کیوں ہوجاتے ہیں؟
اخلاقیات کے معلم بد اخلاقی اور بدزبانی پر کیوں اتر آتے ہیں؟
تواضع اور تحمل کی تلقین کرنے والےیکایک آگ بگولا کیوں ہو جاتے ہیں؟
اس کا نفسیاتی سبب اس طالب علم کو یہی سمجھ آیا ہے، کہ یہاں ہر کوئی  شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی بڑائی  میں جی رہا ہے۔ ہر شخص خود کو ناقابل تسخیر اور اپنے تعصبات کو تنقید سے بالاتر سمجھتا ہے۔ بظاہر لوگ خود کو احقر الوری،بندہ عاجز،ہیچمداں اور کمترین خلائیق جیسے منکسرانہ الفاظ سے متعارف کراتے ہیں لیکن چند لمحوں کے لئے رک کر ذرا سوچیں ،،،کہ جو شخص اپنے خلاف کوئی  سخت بات سن کر طیش میں آجاۓ کیا وہ واقعی خود کو احقرالوری سمجھتا ہے؟
جسکی امراٶ زعمإ سے مل کر تو بانچھیں کھل اٹھتی ہوں اور غربإ کو ملتےہوۓ اسے موت آتی ہو ، کیا کیا وہ واقعتاً خود کو بندہ عاجز خیال کرتا ہے؟
جو اپنے حریف کی کامیابیوں پر خدا کے مقابل آکھڑا ہو، اسکی تعریف پر جل اٹھتا ہو، اور اس پر طنز و تعریض کا کوئی  بھی موقع اپنے لئے سامانِ سکون سمجھتا ہو، کیا فی الواقع وہ خود کو کمترینِ خلائیق گمان کرتا ہے؟
جو لوگ حق کو اپنے فرقے کی باٶنڈری تک محدود سمجھتے ہوں اور کسی کے گمراہ ہونے کے لئے انکے نزدیک یہی کافی ہو کہ وہ دوسرے فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ جو خود سے اختلاف رکھنے والوں کے لئے فتوے کی زبان میں بات کرتے ہوں،جنہوں نے مسلمانوں ہی کو کافر ، ملحد اور زندیق بنانےکا ٹھیکہ لیا ہوا ہو، آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا حقیقةً وہ اپنے کو ہیچمداں تصور کرتے ہیں؟
 اگر آپ ایک حقیقت پسند انسان ہیں یعنی تعصب اور اندھی عقیدت کی عینک لگا کر لوگوں کو نہیں دیکھتے تو آپ کے اندرون سے بھی یہی آواز آتی ہوگی کہ انکساری اور تواضع کے یہ سارے اظہارات، حقیقت میں منافقت کے لبادے ہیں، جنمیں تفوق، بالاتری اور تکبر کے احساسات کو چھپاۓ یہ لوگ اپنی عوام کو بھی دھوکہ دیتے ہیں اور خود بھی فریب میں مبتلا رہتے ہیں۔ جن لوگوں کے حجرے غیبت کدے بنے ہوۓ ہوں، نفرت کے زہر میں بجھے ہوۓ جملے جنکے حسد اور تعصب کے عکاس ہوں، جو تحدیثِ نعمت کا عنوان دیکر اپنے فضائیل کے ابواب پڑھ دیتے ہوں اور اپنے حریف کے لئے وہ ناگفتنیاں بک ڈالتے ہوں جنکے تحمل سے ارض وسمإ نے پیشگی معذرت کرلی تھی، ایسے لوگ مولوی،مفتی،علامہ،محدث،مفسر سب کچھ ہو سکتے ہیں مگر وہ عباداللہ الصالحین نہیں ہو سکتےجو ایک مہذب معاشرے کے معمار کہلاسکیں اورجنکو بسانے کے لئے اللہ نے جنت کی حسین دنیا بنائی  ہے۔

قارئین! یاد رکھئیے۔ جو لوگ اپنے لئے برتری کے احساسات رکھتے ہیں اور فریب خودی میں مبتلا، جانے انجانے اپنی بڑائی  میں جی رہے ہیں وہ دراصل اپنا احساس عبودیت کھو چکے ہیں (جو انکے لئے سب سے زیادہ باعث شرف چیز تھی) وہ بھول چکے ہیں کہ ہم یہاں اپنی بڑائی  کے داعیات کو کچل کر اللہ کی بڑائی  میں جینے آۓ ہیں۔یہاں مقصد حیات اپنی بے بسی کو پالینا اور خداکی عظمت کو دریافت کر لینا ہے۔ آخرت کی حقیقی سربلندی انہی لوگوں کا مقدر ہے ، جو اس زندگی میں خدائی  قدرت کے آگے اپنا عجز قبول لینگے ۔ جو اپنے وجود  کو پندار و ریا کی آلائیشوں سے نکالکر مزکی بنالینگے۔ جو نفرت و تعصب کے پردے چاک کرکے اللہ کے بندوں سے صرف محبت کرینگے ۔جنکے پاس اپنی تعریفوں کی سینکڑوں وجوہات ہونگی، لیکن اللہ کی عظمت کا خیال ان سب کو باطل بنا دیگا۔ جو دوسروں کی برائی  کے ہزاروں جواز رکھتے ہوں ، لیکن اپنے گناہوں کا تصور اور خدا کے سامنے پیشی کا خوف ان کی زبانوں پر تالے لگادے۔ جو بہت کچھ جان بوجھ کر بھی انجان بن جائی ں ۔ جو لفظوں کے بازیگر ہوکر بھی گونگے بن جائیں ۔ جو انانیت اور خود پسندی کے تمام جذبات فناکرکے اللہ کی عظمت میں جینے لگ جائی ں۔ یہی لوگ حقیقةً راہِ صفا کے سالکین ہیں۔ انہی پر معرفتِ ذات کے دروازے کھلتے ہیں۔ انہی پر لطیف انعامات کا فیضان ہوتا ہے۔ یہی ہیں وہ لوگ جنکے لئے محجوبیت کے پردے ہٹا دئیے جاتے ہیں۔ پھر بارش کا ہر قطرہ درخت کا ہر پتہ ہوا کا ہر جھونکا انکے لئے میل کا پتھر بن جاتا ہے ۔
 کیسے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنا آپ قربان کرکے رازِ حیات پالیتے ہیں اور کتنے قابل رحم ہیں وہ لوگ جنکا اپنا آپ ہی انکے لئے محجوبیت کی دلیل بن جاتا ہے۔

 

 


افکار و نظریات: خوش قسمت لوگ