اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات خوش قسمت لوگ تکبر کی سطح اور انداز میں فرق ہوتا ہے۔ہم سب مختلف طرح کے تکبّر میں مبتلا ہیں۔ ہر کسی نے اپنی انا کی تسکین کے لئے خوش خیالیوں کا ایک محل بنا رکھا ہے۔ کوئی دولت کی کھوٹی شان پر اترا رہا ہے تو کوئی منصب کی جھوٹی شوکت پر مغرور ہے۔ کسی کو اپنے خاندانی ہونے پر فخر ہے تو کسی پر علمی لیاقتوں کا خمار ہے۔ کوئی اپنی عیاشیوں اور خوش عیشیوں کی نمایش چاہتا ہے تو کسی کو اپنے زہد و تقوی کی نمود مطلوب ہے۔ عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے اسلئے عام حالات میں انکا اندرونی چہرہ سامنے نہیں آتا۔ کیونکہ روایتی قسم کا سفید عالمانہ لباس، خوشبٶوں میں بسا ہوا رومال، مسکراتا ہواچہرہ، خاشعانہ آواز ، میٹھی میٹھی باتیں اور من موہک رویہ، ان سب عناصر سے مل کر وہ ڈھال تیار ہو جاتی ہے جو ان کے مادی مفادات کا تحفظ کرتی ہے ۔ جودنیا کے اسٹیج پر انکو دینداری ، تواضع اور خوش اخلاقی کا شاہکار بنا کر کھڑا کردیتی ہے۔ اسلئے عام طور پر یہ لوگ ہر خاص و عام کے سامنے بڑی پرہیزگاری اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بآسانی اپنے بناوٹی کردار سے باہر نہیں نکلتے۔ قارئین! یاد رکھئیے۔ جو لوگ اپنے لئے برتری کے احساسات رکھتے ہیں اور فریب خودی میں مبتلا، جانے انجانے اپنی بڑائی میں جی رہے ہیں وہ دراصل اپنا احساس عبودیت کھو چکے ہیں (جو انکے لئے سب سے زیادہ باعث شرف چیز تھی) وہ بھول چکے ہیں کہ ہم یہاں اپنی بڑائی کے داعیات کو کچل کر اللہ کی بڑائی میں جینے آۓ ہیں۔یہاں مقصد حیات اپنی بے بسی کو پالینا اور خداکی عظمت کو دریافت کر لینا ہے۔ آخرت کی حقیقی سربلندی انہی لوگوں کا مقدر ہے ، جو اس زندگی میں خدائی قدرت کے آگے اپنا عجز قبول لینگے ۔ جو اپنے وجود کو پندار و ریا کی آلائیشوں سے نکالکر مزکی بنالینگے۔ جو نفرت و تعصب کے پردے چاک کرکے اللہ کے بندوں سے صرف محبت کرینگے ۔جنکے پاس اپنی تعریفوں کی سینکڑوں وجوہات ہونگی، لیکن اللہ کی عظمت کا خیال ان سب کو باطل بنا دیگا۔ جو دوسروں کی برائی کے ہزاروں جواز رکھتے ہوں ، لیکن اپنے گناہوں کا تصور اور خدا کے سامنے پیشی کا خوف ان کی زبانوں پر تالے لگادے۔ جو بہت کچھ جان بوجھ کر بھی انجان بن جائی ں ۔ جو لفظوں کے بازیگر ہوکر بھی گونگے بن جائیں ۔ جو انانیت اور خود پسندی کے تمام جذبات فناکرکے اللہ کی عظمت میں جینے لگ جائی ں۔ یہی لوگ حقیقةً راہِ صفا کے سالکین ہیں۔ انہی پر معرفتِ ذات کے دروازے کھلتے ہیں۔ انہی پر لطیف انعامات کا فیضان ہوتا ہے۔ یہی ہیں وہ لوگ جنکے لئے محجوبیت کے پردے ہٹا دئیے جاتے ہیں۔ پھر بارش کا ہر قطرہ درخت کا ہر پتہ ہوا کا ہر جھونکا انکے لئے میل کا پتھر بن جاتا ہے ۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

سید شیراز حسن
اور اپنے گمان میں ہر کوئی ، اپنے میدان کا سب سے اعلی شہسوار ہے۔ ہر شخص خود کو یکتاۓ زمانہ،یگانہ روزگار،در فرید،فرد وحید اور جانے کیا کیا سمجھے بیٹھا ہے ۔جسکی وجہ سے انسانی تمدن کا ہر شعبہ حقیقت پسندی سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ اعتراف کی نفسیات ختم ہو رہی ہیں۔ خود پسندی،عناد اور ہٹ دھرمی جیسے گھٹیا اوصاف انسانی معاشرے کی اعلی قدروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ بظاہر خوشنما دکھنے والے اخلاق کی عمارت خود غرضی ، لالچ اور ریا کی کھوکھلی بنیادوں پر ٹکی ہوئی ہے، جو مفاد کی عینک ہٹتے ہی زمین پر آرہتی ہے۔ یہاں معاشرے میں عجیب منافقت کا کاروبار ہے۔ لوگ خوش اخلاقی کے مکھوٹے میں،بداخلاقی کا مکروہ ترین چہرہ چھپاۓ ہوۓ ہیں۔ وہ انکساری کا سودا بیچ کر تکبر کی دولت کما رہے ہیں۔ تدین کے زندہ لبادوں میں، سڑی ہوئی بد دین لاشیں چار سو مسکراتی پھر رہی ہیں۔
خود نمائی ، خود پسندی اور خود فریبی کی یہ آگ اس قدر پھیل چکی ہے، کہ دنیادار اور دیندار سب اسکی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ہر کوئی شعوری یا لاشعوری طور پر اس نار موقدہ میں جل رہا ہے، جسکا دھواں باطن تک پہنچ کر دلوں پر منافقت کی سیاہی مل رہا ہے۔فرق صرف اتنا ہے، کہ جو لوگ اس دنیا کو خالص تاجرانہ اور مادی ذہنیت کے ساتھ دیکھتے ہیں، انہیں دین سے نسبت کا کوئی ادعا نہیں ہوتا، ایسے لوگوں کا کبر بہت سادہ ہوتا ہے، جو انکی ہر ادا سے ٹپکتا ہے۔ وہ سامنے آنے کے لیے کسی غیر معمولی واقعے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ انکا ظاہر ہی انکے باطن کا آئینہ دار ہوتا ہے۔وہ یاروں کی محفل میں کرسی کی پشت پر جھولتے، سگریٹ کے کش لگاتے، اپنی عیش و عشرت کی کارگزاریاں سنادیتے ہیں۔ کبھی بزم اقارب میں ہوں تو خاندانی عزت اور دادوں بزرگوں کی سخاوت کے قصے شروع کردیتے ہیں۔ وہ مسجد، مدرسے میں عطیہ کی ہوئی شۓ پر اپنا نام کنداں کروانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔ دنیاداروں کے ہاں عزت کا یہی معیار ہوتا ہے وہ عاجزی اور تواضع کے معنوی چولے کو اپنی حیثیت عرفی کا کفن سمجھتے ہیں۔لیکن جن لوگوں کو دین سے نسبت کا دعوی ہے اور دین کے کسی نہ کسی شعبے کو وہ بطور پیشہ اپناۓ بھی ہوتے ہیں ، خود نمائی کایہ طریق انکے پروفیشن کو سوٹ نہیں کرتا ۔ لوگ کیا کہینگے؟ دیندار ہو کر یہ مزاج! چنانچہ ایسے لوگ خود کو منوانے کے لۓ دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ دوعملی کا طریقہ ، فریب وریا کا طریقہ، سفید جبوں اور دستاروں میں انکا ظاہری وجود جتنا بھلا معلوم ہوتا ہے، انکا روحانی وجود پندار و غرور کی آلائیشوں میں اس سے کہیں زیادہ بد نما ہوتا ہے۔ مگر ع
لیکن مصنوعی شخصیت کا یہ بنا بنایا قصر اس وقت زمیں بوس ہو جاتا ہے جب کبھی انکی انا پر چوٹ پڑتی ہے اور انکو اپنا وقار جاتا ہوا محسوس ہو۔ مثلاً کسی محفل میں اپنے حریف کی تنبیہ پر، کسی غلطی کا اعتراف کرنا پڑ جاۓ، یا کسی بزم میں اپنی برسوں کی مخصوص نشست پر، کسی نو آمد کو تسلیم کرنا پڑ جاۓ، یا پھر اپنے قدیم تعصبات پر تنقید سہنے کی نوبت آپڑ ے، اس وقت انکا کاغزی تحمل پرزے پرزے ہو کر بکھر جاتا ہے۔ اور وہی چہرہ جو ابھی کچھ دیر پہلے تک تبسم کا گلدستہ بنا ہوا تھا، یکایک غصے سے تمتما اٹھتا ہے۔ وہ آنکھیں جو ابھی ابھی سنجیدہ شوخیاں بکھیر رہی تھیں، اچانک غضبناک ہو کر شعلہ بن جاتی ہیں۔ وہ زبان جسکی شیریں کلامی کے چرچے تھے ، سارے سمندر کی ملوحت اسکے مسامات میں اتر آتی ہے۔ خاشعانہ آواز میں رعونت کوند پڑتی ہے۔ تواضع کاپیرہن تار تار ہونے لگتا ہے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے سفید لباس کے پیچھے سے سیاہ کردار برآمد ہوتا ہے۔ ایک ایسا کردار، جو تواضع، خوش اخلاقی اور اعتراف کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہے۔ جسے مجلسی آداب کی تسمیہ بھی نہیں آتی۔ جو اپنا علم و فضل اور تحمل تو کیا، وہ اپنے انسان ہونیکو بھی بھول چکا ہے۔ اب وہ محض ایک حیوان ہے انتقام اور حسد کی آگ میں جلنے والا حیوان، جسکی انانیت کی دم پر کسی آزاد رو کا پاٶں پڑ گیا ہے اب وہ اسکی عزت کوبھی اسی طرح بھنبھوڑ دینا چاہتا ہے جیسے وہ خود بے حیثیت ہو چکا ہے۔
جبہ و دستار میں ملبوس ایسے کردار فقط نیم ملاٶں میں ہی نہیں ملتے، بلکہ مکتب کے خام معلموں سے لیکر علم و فلسفے کے موقر استاذوں تک، اس ذہنیت کے لوگ بڑی تعداد میں مل جاتے ہیں۔ جو بڑے بڑے علمی ادروں کی جان سمجھے جاتے ہیں۔ دنیاۓ علم میں انکے فضل کا طوطی بول رہا ہوتا ہے ۔ عوامی جلسوں میں انکے نام پر دھوم مچائی جاتی ہے ۔ اخلاقیات کے اعلی فلسفے، جنکی زبان پر دھرے رہتے ہیں ۔لیکن جب مرحلہ اعتراف کا آتا ہے، حقیقت کے استھان پر خود کو ذبح کرنے کا مرحلہ، اس وقت انکی وہ حالت ہو جاتی ہے، جو اوپر بیان ہوئی ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟
لوگ بڑے ہوکر بھی اتنے چھوٹے کیوں ہوجاتے ہیں؟
اخلاقیات کے معلم بد اخلاقی اور بدزبانی پر کیوں اتر آتے ہیں؟
تواضع اور تحمل کی تلقین کرنے والےیکایک آگ بگولا کیوں ہو جاتے ہیں؟
اس کا نفسیاتی سبب اس طالب علم کو یہی سمجھ آیا ہے، کہ یہاں ہر کوئی شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی بڑائی میں جی رہا ہے۔ ہر شخص خود کو ناقابل تسخیر اور اپنے تعصبات کو تنقید سے بالاتر سمجھتا ہے۔ بظاہر لوگ خود کو احقر الوری،بندہ عاجز،ہیچمداں اور کمترین خلائیق جیسے منکسرانہ الفاظ سے متعارف کراتے ہیں لیکن چند لمحوں کے لئے رک کر ذرا سوچیں ،،،کہ جو شخص اپنے خلاف کوئی سخت بات سن کر طیش میں آجاۓ کیا وہ واقعی خود کو احقرالوری سمجھتا ہے؟
جسکی امراٶ زعمإ سے مل کر تو بانچھیں کھل اٹھتی ہوں اور غربإ کو ملتےہوۓ اسے موت آتی ہو ، کیا کیا وہ واقعتاً خود کو بندہ عاجز خیال کرتا ہے؟
جو اپنے حریف کی کامیابیوں پر خدا کے مقابل آکھڑا ہو، اسکی تعریف پر جل اٹھتا ہو، اور اس پر طنز و تعریض کا کوئی بھی موقع اپنے لئے سامانِ سکون سمجھتا ہو، کیا فی الواقع وہ خود کو کمترینِ خلائیق گمان کرتا ہے؟
جو لوگ حق کو اپنے فرقے کی باٶنڈری تک محدود سمجھتے ہوں اور کسی کے گمراہ ہونے کے لئے انکے نزدیک یہی کافی ہو کہ وہ دوسرے فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ جو خود سے اختلاف رکھنے والوں کے لئے فتوے کی زبان میں بات کرتے ہوں،جنہوں نے مسلمانوں ہی کو کافر ، ملحد اور زندیق بنانےکا ٹھیکہ لیا ہوا ہو، آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا حقیقةً وہ اپنے کو ہیچمداں تصور کرتے ہیں؟
اگر آپ ایک حقیقت پسند انسان ہیں یعنی تعصب اور اندھی عقیدت کی عینک لگا کر لوگوں کو نہیں دیکھتے تو آپ کے اندرون سے بھی یہی آواز آتی ہوگی کہ انکساری اور تواضع کے یہ سارے اظہارات، حقیقت میں منافقت کے لبادے ہیں، جنمیں تفوق، بالاتری اور تکبر کے احساسات کو چھپاۓ یہ لوگ اپنی عوام کو بھی دھوکہ دیتے ہیں اور خود بھی فریب میں مبتلا رہتے ہیں۔ جن لوگوں کے حجرے غیبت کدے بنے ہوۓ ہوں، نفرت کے زہر میں بجھے ہوۓ جملے جنکے حسد اور تعصب کے عکاس ہوں، جو تحدیثِ نعمت کا عنوان دیکر اپنے فضائیل کے ابواب پڑھ دیتے ہوں اور اپنے حریف کے لئے وہ ناگفتنیاں بک ڈالتے ہوں جنکے تحمل سے ارض وسمإ نے پیشگی معذرت کرلی تھی، ایسے لوگ مولوی،مفتی،علامہ،محدث،مفسر سب کچھ ہو سکتے ہیں مگر وہ عباداللہ الصالحین نہیں ہو سکتےجو ایک مہذب معاشرے کے معمار کہلاسکیں اورجنکو بسانے کے لئے اللہ نے جنت کی حسین دنیا بنائی ہے۔
کیسے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنا آپ قربان کرکے رازِ حیات پالیتے ہیں اور کتنے قابل رحم ہیں وہ لوگ جنکا اپنا آپ ہی انکے لئے محجوبیت کی دلیل بن جاتا ہے۔
افکار و نظریات: خوش قسمت لوگ
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں