تعمیرِ ملت  اور  دخترانِ ملت 
نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

کمال کا حصول ہر انسان کا فطری حق ہے۔ انسان ہونے میں عورت اور مرد دونوں مساوی ہیں۔ دونوں کو دین اور ملکی آئین ملک و ملت کی خدمت، رہبری اور تربیت کا حق دیتا ہے۔  جب انسان فطرت کے تقاضوں کے مطابق کمال کے حصول کی جستجو کرتا ہے تو پورا نظامِ فطرت یعنی نظام کائنات اس کی مدد کرتا ہے۔اس رُو سے اگر ہم خواتین کو اُن کی صلاحیتوں کے مطابق تعلیم و تربیت اور خدمت کے مواقع فراہم نہیں کرتے تو در اصل قانونِ فطرت سے بغاوت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس بغاوت کا نتیجہ بے جا صِنفی تقسیم، جنسی اجارہ داری اور نسل در نسل  پسماندگی، جہالت و فقر ہی نکلتا ہے۔
کوئی بھی خاتون اپنی عزت، حجاب، نزاکت و لطافت اور عفت و حیا کی پاسداری کے ہمراہ ملک و قوم کی خدمت اور سربلندی کا اتنا ہی حق رکھتی ہے جتنا کہ مرد رکھتے ہیں۔انسان چاہے مرد ہو یا عورت وہ  کسی پتھر کی طرح نہیں ہے کہ کوئی دوسرا اسے اٹھا کر  بلندی، معراج یا کمال کے مقام پر رکھ دے،  بلکہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ارادے ، اختیار اور محنت  کے ساتھ ترقی اور کمال کی منازل کو طے کرے۔اگر ہم اپنے معاشرے کو انسانیت کی بلندیوں اور ملکوت کے اعلی درجات پر دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ آج بھی ممکن ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی نہ برتیں۔بلاشبہ سرزمینِ پاکستان قدآور شخصیات کی سرزمین ہے اور ان قدآور شخصیات میں خواتین بھی مردوں کے شانہ  بشانہ کھڑی نظر آتی ہیں۔
ہم یہاں بطورِ نمونہ  کچھ خواتین کا ذکر کر رہے ہیں تاکہ ہمارے قارئین کو اس موضوع کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے۔
اگر محترمہ فاطمہ جناح   مادرِ ملت ہیں تو محترمہ  بینظیر بھٹو  نے بھی پاکستان کی پہلی وزیراعظم خاتون کی حیثیت سے نام کمایا ہے، اگر  بیگم رعنا لیاقت علی خاں پاکستان کی پہلی سفیر خاتون ہیں تو  علی برادران کی والدہ بی اماں کی پاکستان بنانے کیلئے خدمات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، اگر   بیگم جہاں آرا شاہنواز کو تینوں گول میز کانفرنسوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کا افتخار حاصل ہے اور وہ    آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی خاتون رکن ہیں تو  محترمہ راحیلہ درانی کو بھی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی اسپیکر ہونے  کا شرف حاصل ہے۔ صرف دنیائے سیاست میں ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر کشور نازلی محمود نے رائل کالج آف سرجنز انگلستان سے اپنی تعلیم مکمل کی اور وہ  پاکستان کی پہلی جنرل سرجن بنیں۔
  تمغہ امتیاز اور آدم جی ادبی ایوارڈ حاصل کرنے والی محترمہ ادا جعفری کو پاکستان کی پہلی خاتون شاعرہ ہونے کا مرتبہ حاصل ہے۔ اسی طرح مسلح افواج میں خدمات کے حوالے سے دختران ملت کی تاریخ قیامِ پاکستان سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ یعنی ملت کی بیٹیاں جس طرح قیامِ پاکستان سے پہلے تحریکِ پاکستان میں شامل تھیں اُسی طرح قیامِ پاکستان کے بعد دفاعِ پاکستان اور بقائے پاکستان کیلئے بھی سرگرم رہیں اور آج بھی سرگرم ہیں۔پاکستان آرمی کے میڈیکل شعبے میں خواتین کا ونگ  بیگم رعنا لیاقت علی خان کی کوششوں سے ۱۹۴۸ میں ہی قائم کردیا گیا تھا ، بعد ازاں انہوں نے  پاکستان آرمی ویمن نیشنل گارڈ کا سلسلہ شروع کیا اور اب  مسلح افواج کے تینوں شعبوں ﴿ بری، بحری اور فضائیہ ﴾  میں  خواتین اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔پاک فضائیہ کے ایرو سپیس انجنیرئنگ، پیرا شوٹرز اور شعبہ  ہوا بازی  میں بھی خواتین کی قابلِ ذکر تعداد موجود ہے۔اس حوالے سے جیٹ طیارے کی پائلٹ   کوئٹے کی  صبا خان اور شہیدہ مریم مختارپہلی جنگجو پائلٹ ہمارے لئے قابلِ رشک ہیں۔اسی طرح    آرمی میڈیکل کور کی لیفٹیننٹ کرنل شاہدہ اکرم بھرگڑی، میجر جنرل شاہدہ ملک  اور بریگیڈیئر نگار جوہر جیسی متعدد باصلاحیت خواتین پاک فوج کی انتہائی اہم پوسٹوں پر تعینات ہیں اور   ملک و ملت کی حفاظت اور دفاع کی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ  ملک کے دیگر تمام شعبوں کی مانند مسلح افواج میں بھی خواتین کی بھرتی اور ان کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کیلئے ٹی وی، فلم، ڈرامے اور  سوشل میڈیا  سے بھی مدد لینے کی ضرورت ہے ساتھ ہی  نصابِ تعلیم اور سلیبس میں بھی ضروری حد تک تبدیلیاں کی جانی چاہیے نیز خواتین کے کیڈٹس کے کالجز کی تعداد میں بھی  اضافہ ضروری ہے  اور تعلیمی اداروں میں نیشنل کیڈٹس کورس ﴿این سی سی﴾ جیسے پروگرامز کا احیا بھی کیاجانا چاہیے۔  داخترانِ ملت  کیلئے ملکی و قومی تعمیر کے مواقع فراہم کرنا  جہاں ہماری ملکی و  قومی ضرورت ہے وہیں یہ   خواتین کا دینی ، اخلاقی، فطری   اورقانونی حق بھی ہے۔