سوچیں گے تو آپ بھی
تبرید حسین

وہ عربی اردو پنجابی نہیں جانتا تھا، اُس نے سوچا تو ہوگا کہ مجھے گھسیٹ کر کہاں لے جا رہے ہیں۔ جب کوئی پتھر مار رہا تھا کوئی مُکّا اور کوئی لاٹھی تو اُس نے سوچا تو ہوگا کہ پچھلے 12 ربیع الاول کو جب ایک کولیگ محفل نعت میں لے گیا تھا تو بتایا گیا تھا  کہ وہ رحمۃ اللعالمین ہے۔ مگر کیا یہ اسی کے ماننے والے اور عشاق ہیں؟میں تو اکیلا ہوں، پردیسی ہوں،  نہتا ہوں۔ جب پتھر اور ڈنڈے برسائے گئے تو رحم کی بھیک تو مانگی ہو گی؟ مگر جواب میں مزید پتھر دشنام گالیاں اور لاٹھیاں۔
 نجانےکیا کیا سوچا ہوگا؟آپ تو کہتے  تھے اسلام کا لفظ سلامتی سے نکلا ہے یہ سلامتی کا مذہب ہے۔ مگر میں کیوں مسلمانوں کے ہاتھوں  خوف کا شکار ہوں۔ کیوں ! اُس نے سوچا تو ہوگا؟
اس کی ایک چھوٹی سی بیٹی تھی۔ درد کی ہر لہر کیساتھ اس کی یاد تو آئی ہو گی۔ خدا کرے اس کی بیٹی تک یہ بے رحم ویڈیو نہ پہنچے۔ سوچتا تو ہو ہو گا اس نے یہ سب دیکھا تو کیسے زندہ رہے گی؟ اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ اُس نے سوچا تو ہوگا ؟؟
آج اچھا ہوا سب مسلمان کیا شیعہ کیا سنی کیا دیوبندی کیا لبرلز اور کیا مذہبی رہنما سب بیک زبان مذمت کر رہے ہیں۔ قاتلوں پر لعن و نفرین کر رہے ہیں۔اس پردیسی کی ان سوچوں میں میں بھی کبھی کبھی شریک ہو جاتا ہوں۔ میں بھی سوچتا ہوں۔۔۔ 
1400 سال پہلے ایک پردیسی کو ایک لق و دق صحرا میں بلا کر نام نہاد مسلمانوں نے ایسا ظلم ڈھایا کہ زمین کانپ اٹھی آسماں خون کے آنسو رویا۔ وہ مظلوم نینوا کہتا تھا جس کے ہاتھ تیر تھا اس نے تیر مارا جسکے ہاتھ پتھر تھا اس نے پتھر مارا اور جس کے ہاتھ کچھ نہ آیا اس نے مٹھی بھر صحرا کی گرم ریت مظلوم کے زخموں سے چورچور بدن کی جانب اچھال دی۔ 
میں سوچتا ہوں وہ کیسے مسلمان تھے؟ 
اُس مظلوم کی بھی ایک چار سال کی بیٹی تھی۔ اس چار سالہ بیٹی نے خود اپنے بابا کو رخصت کیا تھا۔دعا تو کی ہو گی مظلوم بابا نے کہ بار الہہ ہر ظلم سہہ لوں گا بس یہ سب اس چار سالہ بچی کی نظروں سے اوجھل ہو ورنہ اس معصوم کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ میں سوچتا ہوں وہ کیسے مسلمان تھے؟؟
اور ہاں میں بتانا بھول گیا وہ پردیسی اور بے وطن مظلوم کوئی اور نہیں مسلمانوں کے رحمتہ اللعالمینﷺ نبی کا لاڈلا نواسہ حسین ابن زہرا بنت محمد عربی رحمت اللعالمین تھا۔ چلیں اچھا ہوا آج چودہ سو سال بعد ہی سہی مسلمانوں کے تمام دھڑوں اور طبقوں کا اجماع تو ہواکہ ظلم قابل نفرت اور قابلِ مذمت و لعنت ہے۔ تو آئیے ہم سب مل کر چودہ سو سال پہلے  کرب و بلا میں بھی ظلم کرنے  والوں سے نفرت کریں، اُن پر لعنت کریں۔ اگر مگر کے بغیر ۔۔۔ 
ورنہ میرے جیسے مسلمان سوچتے رہیں گے ہم کیسے مسلمان ہیں جو آج کے دور میں ہونے والے ظلم پر لعن و نفرین تو کر رہے ہیں مگر نواسہ رسول،جو سراپا رحمت تھا، پر ہونے والے ظلم پر بھلا کیوں لب سی رکھے ہیں۔۔۔ 
سوچاتو اُس نے بھی تھا، سوچا تو میں نے بھی اور اب کربلا کانام پڑھ کر سوچیں گے تو آپ بھی۔۔۔