وزیرِاعظم کا جلسہ ِ سکردو کامیاب اور عوام ناکام


🖋منظوم ولایتی
رواں مہینے کی سولہ تاریخ کو پی ایم عمران خان صاحب نے سکردو کا تاریخی دورہ کیا۔تاریخی اِس لیے کہہ رہا ہوں چونکہ ماحول تاریخی دورے کا بنایا گیا تھا وگرنہ وہاں اُن کی تقریر کی اسّی فیصد باتیں  میرے نزدیک تکراری تھیں جو وہ  اس سے پہلے چلاس، گلگت یا سکردو میں عوامی اجتماعات سے کرتے  آرہے ہیں۔دوسری طرف سکردو کے عوام نے خان صاحب کا شاندار استقبال کیا۔ چونکہ مہمان نوازی  وہاں کی تہذیب و ثقافت اور تمدّن میں رچی بسی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو بھی سیاسی و مذہبی لیڈر آجائے،سکردو کا عوامی اجتماع دیدنی ہوتا ہے۔ہاں یہ چیز بھی کہ "ہر آنے والے کا  وی آئی پی انداز میں شاندار استقبال کرنا " بذاتِ خود اچھی صفت ہے یا بری ، اس کا فیصلہ میں قارئین پر ہی چھوڑتا ہوں۔
بہرحال منفی دس ڈگری کے باوجود دسیوں ہزار لوگ خان صاحب کو سننے کیلیے شاہین گراونڈ میں حاضر تھے۔یہ لوگ کچھ امیدیں لیے دور دور سے آئے تھے۔حتیٰ  کہ ایک شخص نے جلسے کے بعد اسکردو ٹی وی کو انٹرویو دیتے  ہوئے کہا کہ وہ  خصوصی طور پر خان صاحب کو سننے کیلے بلتستان کے سب سے دور افتادہ علاقہ گلتری سے آیا ہوا ہے۔جلسے میں جو لوگ آئے ہوئے تھے اُن کی اکثریت مجلس وحدت کی شبانہ روز محنت کا ثمرہ نظر آئی۔آغا علی رضوی اور وزیر زراعت کاظم میثم صاحب نے اس جلسے کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا۔یہی وجہ ہے کہ جلسے کے دوران بھی مختلف ویڈیوز میں مجلس وحدت کے پرچم جابجا دیکھنےکو ملے۔
اب عوامی اجتماع پر جن کی نظر ہے اُن کے بقول "جلسہ کامیاب رہا" ۔ تاہم  بصد معذرت میری نظر میں عوامی مطالبات پر تو خان صاحب نے اصلاًبات ہی نہیں کی۔میرے نزدیک مندرجہ زیل مطالبات پر بات ہونی چاہیے تھی:گندم سبسڈی، مہنگائی، شتونگ نالہ کی ڈائیورجن، بجلی کرائسس، بنیادی آئینی حقوق، حقِ ملکیت،  ذہین طلبہ کیلیے ملک کے دوسرے صوبوں کی یونیورسٹیز میں کوٹہ کا اضافہ۔ بلتستان میں میڈیکل و انجینئرنگ کالجز کا قیام وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ اُن کی آمد سے قبل خود حکومتی وزراء یہی کہہ رہے تھے کہ خاں صاحب "کچھ بڑا  اعلان" کرنے جارہے ہیں۔اب ہمیں تو خان صاحب کی پوری تقریر میں صحت کارڈ کی  ایک امید کے علاوہ کہیں کوئی  بڑا تو کیا چھوٹا اعلان بھی نظر نہیں آیا۔ہاں انہوں نے ٹورزم پر ایک  زبردست موٹیویشنل لیکچر ضرور دیا جو اُن کی پرانی 'عادت' ہے۔آپ  ابھی یوٹیوب پر  دیکھ لیں یہ  وہ باتیں ہیں جو خان صاحب جب بھی جی بی تشریف لاتے ہیں دہراتے رہتے ہیں۔ اور ہاں اُن کا عوام کو  اپنی زمینیں دوسروں کے ہاتھوں نہ بیچنے کا مشورہ ضرور مفید تھا۔ بہرحال باتیں زیادہ کیا کرنیں، خلاصہ یہ کہ  تحریک انصاف اور اُن کے اتحادیوں کے بقول  "جلسہ کامیاب" ہوا جبکہ عوامی نکتہ نگاہ سے " چلو جلسہ کامیاب ہی سہی  مگر عوام ناکام ہوگئے"!یہ بھی عجیب بات ہے کہ جلسہ کامیاب ہو ااور عوام ناکام اور مایوس۔بہرحال اسے بھی خان صاحب والی "ریاست مدینہ" کے  عظیم کارناموں کی فہرست میں شامل کرلیجیے۔ البتہ  سی ایم خالد خورشید صاحب نے عوامی جذبات کی ترجمانی کی جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ خان صاحب نے واپس جاکر گلگت بلتستان کے مختلف محکمہ جات کیلیے  ہزاروں کی تعداد میں سیٹوں کا اعلان کیا ہے تاکہ ہزاروں کی تعداد میں موجود  بےروزگار جوانوں کو کہیں نہ کہیں 'کھپایا' جاسکے تو  یہ خوش آئند چیز ہے۔کم از کم اسی کا ہی جلسے میں اعلان کردیتے تو غریب عوام خوش ہوجاتے۔ سابق سی ایم مہدی شاہ صاحب کی طرح "کھودا پہاڑ نکلا چوہا" بھی تو  نہیں کہاجاسکتا چونکہ پی ایم کی آمد سے تھوڑا بہت ہی سہی کچھ نا کچھ تو ضرور فائدہ ہوگا۔سکردو انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور حلقہ دو کے سب ڈویژن بننے کی مبارکبادی ضرور عرض ہے۔ صحت کارڈ کے بھی عوام کو ملنے کی امیدیں وابستہ ہیں۔ بہرحال اِن معدودے مثبت نکات کے علاوہ باقی سچّی و کھری باتوں  کو دل پر لینے کی ضرورت نہیں۔ چلیں جلسہ تو کامیاب ہوا ، عوام کا کیا ہے ! عوام کو چھوڑئیے۔۔۔

 

 


افکار و نظریات: وزیراعظم