اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مکتب سلیمانی کا عِرفانی مَنْہَج نذر حافی nazarhaffi@gmail.com گواہ کو شہید کہتے ہیں۔ شہید کوئی عام گواہ نہیں ہوتا۔ ایسا گواہ شہید کہلاتا ہے جو کسی بھول چوک یا خطا و نسیان کےبغیر گواہی دے، المختصر یہ کہ ایسا گواہ جو گواہی دینے میں امین ہو اُسے شہید کہتے ہیں۔ اصطلاح میں جو شخص راہِ خدا میں قُربان ہو جائے اُسے شہید کہا جاتا ہے۔ اس کلمے کی مجمل تفسیر یہ ہے کہ جو آدمی اپنی زندگی کو نامِ خدا پر نثار کر کے خدا کی ذات پر اپنے ایمان کی ناقابلِ تردیدگواہی دے دیتا ہے وہ شہید کہلاتا ہے۔ آسان الفاظ میں شہید کی شہادت اُس کے ایمان کی مظہر ہوتی ہے۔ با الفاظِ خاص ! ایمان کے قُلّہ کوہ پر شہادت کی تجلّی کَونْدتی ہے۔ اِس جبلِ ایمان کو سر کرنے کا لازمہ حرکت اور عمل ہے۔ ایمان کے طور کی چوٹی تک جو بھی پہنچا وہ حرکت اور عمل کی طنابوں کو تھام کر ہی پہنچا۔ حرکت اور عمل صفتِ حیات ہے۔ یہ صفت ایمان کے ہمراہ مومن کے پیکر میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ چنانچہ غیرِ مومن سے مومن کے ایمان کے مطابق حرکت اور عمل کا تقاضا ہی عبث ہے۔ یعنی مومن جس پر ایمان لاتا ہے اپنے عمل سے اُسی کی جانب حرکت کرتا ہے۔ اُسی کو صراطِ مستقیم، اُسی کو مطلوبِ حقیقی، اُسی کو قبلہ و کعبہ اور اُسی کو اپنا مبداومعاد سمجھتے ہوئے پوری یکسوئی اور ساری توانائی کے ساتھ اُسی کی جانب دوڑ پڑتاہے۔ مومن کی اس کیفیّت کو ایک نامی گرامی شاعر نے کچھ یوں بیان کیا ہے۔ مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے کوئے یار سے سوئے دار تک کی اس حرکت و عمل کے حسین ارتعاش کو معرفت جنم دیتی ہے۔ آفتابِ معرفت کی تمازت سکون اور جمود کی سرد تہوں کو پگھلا دیتی ہے۔ معرفتِ مطلوب کا سورج جب سوا نیزے پر چمکتا ہے تو طالبِ حقیقی کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اُس دم اُس کی لغزشِ مستانہ میں حیاتِ جاودانہ یونہی تو رقص نہیں کرتی۔ بقولِ غالب عاشقی صبر طلب اور تمنّا بے تاب دل کاکیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک یہ ایک مسلمّہ امر ہے کہ شدّتِ عشق میں عاشق کو دِلبرکے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ وہ اُس لمحے دنیا ومافیہا اور اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتا ہے جب اُسے ہر طرف معشوق و مطلوب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ یوں وارداتِ قلبی کے باعث اسی عالمِ ناسوت میں عُشّاق کی ارواح فردوسِ بریں کی مناجات سننے لگتی ہیں اوراُن کے خاکی اجساد امتحانات کے طبل پر مانند بسمل لطیف رقص کرنے لگتے ہیں۔ پس ایمان و عشق لازم و ملزوم ہیں۔ چنانچہ اقبال فرماتے ہیں: اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق جب عاشق اپنے معشوق میں جذب ہو کر مجذوب ہو جاتا ہے تو پھر وہ ہر طرف حق دیکھتا ہے، اپنے اعضا و جوارح سے حق بولتا ہے، اپنے ہر حرف و لفظ سے حق کی تصدیق کرتا ہے ۔۔۔ یہانتک کہ اِس دارِ فانی میں وہ اکیلا ہی مردِ میدان رہ جاتا ہے، وہ تنِ تنہا حق کا منادی بن کر انالحق کی صدا دینے لگتا ہے۔ اُس وقت اُس کی یہی صدا در اصل گنجینہ معنی کا طلسم اور حقیقت کا زمزم ہوتی ہے۔ جب ایمان اور عشق کا اختلاط ہو جائے ۔ اختلاط بھی ایسا کہ ایمان عشق اور عشق ایمان بن جائے۔ جب اس اختلاط کے باعث عاشق اپنے معشوق کے، محب اپنے محبوب کے، عبد اپنے معبود کے، ساجد اپنے مسجود کے ، حامد اپنے محمود کے اتنے قریب ہوجائے تو پھر صحرائے عشق میں اُس کے نقشِ پا کو طریقت اور اس نے جہاں جہاں پڑاو ڈالا ہو اور جن جن مقامات و منازل سے گزرا ہو اُنہیں سیروسلوک کی منازل کہتے ہیں۔ سیروسلوک میں ایک منزل ایسی بھی آتی ہے کہ جب مسافر خود عشق بن جاتا ہے،خود ایمان بن جاتا ہے، خود راستہ بن جاتا ہے، خود چراغ بن جاتا ہے، خود ہی ہادی ، خود ہی راہرو اور خودہی مکتب بن جاتا ہے۔ سیروسلوک کے متلاشیوں یعنی اربابِ صفا اور اہلِ فنا کیلئے اقبال نے کیا خوب پیغام دیا ہے کہ عقل و دل و نگاہ کا مرشد اوّلیں ہے عشق عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدۂ تصورات بندگانِ خدا کے درمیان ایسے عارفانِ الِہی اور عاشقانِ خدا بھی ہیں کہ جنہوں نے عرفان و تصوّف کی ملکوتی بہشت کے زرّیں ابواب کو سادہ دل اور عام انسانوں کیلئے بھی کھول دیا ہے۔ انہوں نے طریقت اور سیروسلوک کی تنگ گھاٹیوں کو مخلوقِ خدا کیلئے شاہراہ عام بنا دیا ہے۔ انہوں نے نفسِ امّارہ سے چھٹکارے کیلئے ترکِ دنیا کرکے خلوت نشینی کو اپنانے کے بجائے دکھی انسانوں کی داد رسی، اقوام کے تہذیبی سرمائے کی حفاظت،آزاد اور خود مختار ممالک سے استعماری طاقتوں کے انخلا، طاغوت کی ذہنی غلامی سے نجات، معاشرے میں عدل کی فراہمی، سماج میں مساوات کے قیام، دنیا میں مظلوموں کی مدد، مشکلات میں محتاجوں کی سرپرستی، ضرورت کے وقت ظالموں سے مقابلہ، ہر محاز پر غاصبوں سے ٹکراو اور مجبوروں کی فریاد رسی جیسی کلیدیں استعمال کر کے اہلِ عالم کو خدا کے حُسن و جمال کا نظارہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے اپنی انسان دوستی کی بنیاد پر جہاں حضرت انسان کو عشق کا نیا مفہوم عطا کیا ہے وہیں خدا کی معرفت کی اساس پر مکتبِ عرفان کو تعبیر ِ نو اور جہتِ عام بھی بخشی ہے۔عرفان کا یہی مفہوم علامہ محمد اقبال کے ہاں بھی ملتا ہے: کمال ترک نہیں آب و گل سے مہجوری کمال ترک ہے تسخیر خاکی و نوری میں ایسے فقر سے اے اہل حلقہ باز آیا تمہارا فقر ہے بے دولتی و رنجوری ایسےمتحرک، فعال اور باعمل لوگوں کا مکتب ایک جامع مکتب ہے۔ اس مکتب میں خلوص کی رعنائیاں، الہام کی پرچھائیاں، زمانے کی گردشیں، علم کی شمعیں، تجزیہ و تحلیل کی روشنیاں، شب بیداریوں کی تنہائیاں، فقاہت کی روشنائیاں، طریقت کی گہرائیاں، ایمان کی بصیرت، دل کا نور ، دماغ کا فہم، ضمیر کی زندگی اور جرات، شہامت، شجاعت، صداقت، مدیریت، حرّیت، شفافیّت، عدالت، کرامت، بندگی، اطاعت، ولایت، شہادت۔۔۔الغرض وہ سب کچھ ہے کہ جو ایک انسان کو حرکت اور عمل پر ابھارتا ہے۔ اس مکتب میں سُستی، تھکاوٹ ، مایوسی، پسپائی، شکست، اور خدا سے غفلت کا شائبہ تک نہیں۔گویا یوں کہیں کہ جبینِ شوق پہ مرد قلندر کی شکن کیوں ہو اسے کیا غم کہ جس کو دوست خود رحمان رکھتا ہے یہ ہے وہ مکتب جس کے علمبردار حضرت امام خمینی ؒ ہیں۔ جنہوں نے شہنشاہیت کے پنجوں میں سسکتی ہوئی انسانیت سے قطعِ تعلق نہیں کیا بلکہ آپ نے میدانِ عمل میں اُتر کر بلکتی ہوئی انسانیت کے سر پر دستِ شفقت رکھا۔ راہیانِ سیروسلوک کے راستے میں حضرت امام خمینی جیسے مُرشدِ کامل کا یہ عارفانہ جملہ شمعِ فروزاں بن کر مُدّام نورافشانی کرتا رہتا ہے۔ آپ کے مطابق پچاس سالہ عبادت سے انسان اُس مقام تک نہیں پہنچ سکتا جس تک راہِ خدا میں لڑنے والا مجاہد ایک شب میں پہنچ جاتا ہے۔ یہی ہے وہ شمعِ فروزاں جس کی لو میں قاسم سلیمانی جیسے عرفا جادہ ِ سیروسلوک پر گامزن رہتے ہیں۔ ابھی چند سال پہلے جب مشرق و مغرب میں شیطان کی طاقت کا ڈنکا بج رہا تھا اور چاروں سمت سے شیاطین کے تیروں کا مینہ برس رہا تھا تو ایسے میں قاسم سلیمانی نے بارود کے مُصلّے پر نمازِ عشق ادا کی۔ ہم نے دیکھا کہ قاسم سلیمانی کی اس نمازِ عشق نے طالبان ، القاعدہ اور داعش جیسے خونخواروں کے شکنجے سے بےبس انسانیت کو نجات دلائی۔ قاسم سلیمانی عالمِ بشریت کیلئے شیطان کے مقابلے میں ایک الٰہی اور آہنی سِپر تھے۔ آپ کے پارہ پارہ بدن کے خاکستر ذرّوں پر زبانِ عشق میں طالبانِ راہ حق اور فقیرانِ عرفان و تصوّف کیلئے یہ سندیسہ موجود ہے کہ اگر کوئی خدا کے حُسن و جمال کا نظارہ کرنے کا متمنّی ہے تو وہ مخلوقِ خدا کو اپنے زمانے کے شیطانوں کے سِتم سے نجات دلانے کی تگ و دو کرے۔ مکتبِ سلیمانی میں اسی تَگ و دَو کا نام سیروسلوک ہے۔ عرفان کے اس منہج کو خبیب تابش نے اپنے الفاظ میں یو ں بیان کیا ہے کہ یہی ہے منہج نبوی یہی کار نبوّت ہے کہ انساں کی غلامی سے رہے آزاد ہر گردن
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

افکار و نظریات: مکتب عرفان
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں