تحریر: نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

 تحریک انصاف کے ترجمان فیاض الحسن چوہان کے بیان کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ  کشمیریوں کے بارے میں تحریک انصاف کا  وہی نکتہ نظر ہے جو ہندوستان کا ہے۔ یعنی  دونوں کے ہاں کشمیریوں کی کوئی عزت، حیثیت یا آبرو نہیں۔

 اس وقت کشمیریوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی خودی کی طرف پلٹیں ، اپنے آپ کو پہچانیں اور اپنی حیثیت کا تعین کریں۔

کشمیر کی تحریکِ آزادی ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے، یہاں کے لوگوں کی غیرت، دنیا کے لئے مثال ہے، یہاں کی خواتین کی جرات اقوام کے لئے درس ہے، یہاں کے قبائل کی دنیداری بے مثل ہے،۔

یہاں کے عوام کا لہو دین اور پاکستان کے لئے وقف ہے، یہاں کے سپوت خودداری کے ستون ہیں، یہاں کے جنگلات شرافت و تصوف کی علامت ہیں، یہاں کے جوان عزم و ہمت کے کہسار ہیں، یہاں کے لوگ نظریات پر جیتے ہیں اور افکار پر مرتے ہیں، یہاں کی جھیلیں شرافتِ آدمیت کی امین ہیں، یہاں کی آبشاریں علم و حکمت کی تاریخ کا دھارا ہیں۔

 یہ اولیائے کرام کی سرزمین ہے، یہ صوفیا کا شبستان ہے، یہ شہداء کا چمن ہے اور یہ علماء و فضلا کا گلستان ہے۔ اس کے بیٹوں میں میاں محمد بخشؒ، علامہ محمد اقبال اور آیت اللہ خمینی جیسوں کے نام ہیں، اس کے بادشاہوں میں بڈشاہ جیسے عادل بادشاہوں کی تاریخ کے اوراق ہیں، اس کے  شہیدوں میں مقبول بٹ جیسوں کا خون ہے، اس کے غازیوں میں  بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان جیسوں کا کردار ہے، اس کے سیاستدانوں میں سردار عبدالقیوم خان جیسوں کی مثالیں ہیں، اس کے صدور میں کے ایچ خورشید جیسوں کے نام ہیں، اس کے سپوتوں میں پہلا نشانِ حیدر پانے والا نائیک سیف علی جنجوعہ ہے، اس کے بہادروں میں کیپٹن اظہار حیدر شہید اور آپریشن ردالفساد کے پہلے شہید راجہ خاور شہاب شہید کے نام سرفہرست ہیں۔۔۔

 جی ہاں یہ کشمیر ہے! اس کے لوگ عظیم ورثے کے مالک ہیں، اس کے عوام تاریخ گر ہیں، اس کے بوڑھے، تاریخ ساز ہیں، اس کے تعلیمی اداروں سے نکلے ہوئے احباب، علم و دانش میں اپنی مثال آپ ہیں۔۔۔۔

تحریک انصاف کے ترجمان فیاض الحسن چوہان، گذشتہ دنوں وزیراعظم آزاد کشمیر کی توہین کرتے ہوئے کشمیر کو پاکستان سے جدا کرنے کی مذموم  کوشش کی ہے، ان کی ویڈیو دیکھنے والے فوراً یہ بھانپ جاتے ہیں کہ انہوں نے کھلم کھلا کشمیریوں کو پاکستانیوں سے متنفر کرنے کی چال چلی ہے، انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر ایک ملت کے وزیراعظم، ایک قوم کے قائد ایوان اور ایک ملک کے سربراہ کی توہین کی ہے، تاہم ہم جانتے ہیں کہ مہذب لوگ کسی کی توہین نہیں کرتے۔ مسٹر چوہان نے کشمیریوں کی جو توہین اور اہانت کی ہے، اس میں کشمیریوں کے بھی مندرجہ ذیل چند اہم نکات ہیں جو کشمیریوں کو سمجھنے چاہیے۔

1۔ کشمیر میں مقامی سیاسی پارٹیوں کو مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ بدتمیز، انسان کش اور اخلاق باختہ سیاسی پارٹیاں اپنی شاخیں کشمیر میں کھول کر وہاں کے سیاسی کلچر کو داغدار نہ کریں ۔ یہ کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ  اپنے مہذب  سیاسی کلچر  کے فروغ کے لئے  صرف اور صرف مقامی  پارٹیوں کا ساتھ دیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کشمیری پاکستانی سیاست دانوں کے تقسیم کرو اور حکومت کرو کے فارمولے سے بچ جائیں گے ، اسی طرح پاکستانی پارٹیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی نفرت اور دوریاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ یہ فارمولہ گلگت اور بلتستان کے لئے بھی قابل عمل ہے۔

2۔ کشمیریوں کو ہر سطح پر اس مسئلے پر ردعمل دکھا کر اور مسٹر چوہان کی مذمت کرکے پاکستان سے اپنی محبت کا عملاً ثبوت دینا چاہیے۔تاکہ ہندوستان  اور مسٹر چوہان   بے نقاب ہو سکیں۔

3۔ تمام کشمیریوں کو مسٹر چوہان کو یہ بات سمجھانی چاہیے کہ کسی ملک کے صدر یا وزیراعظم کی غلطی کا ملبہ پوری قوم پر نہیں ڈالا جاتا، مثلاً ابھی وزیراعظم پاکستان جناب نواز شریف کو ناہل قرار دیا گیا ہے تو کیا اس نااہلی کو بہانہ بنا کر پوری پاکستانی ملت کو نااہل کہنا یا توہین کرنا کوئی عاقلانہ کام ہے۔

4۔ مسٹر چوہان کو یہ احساس دلانا اپنی جگہ ضروری ہے کہ ایک ملک کے سربراہ کے بارے میں توہین آمیز بیان دینے سے پہلے انہیں اپنے گریبان اور اپنے پاجامے کی طرف دیکھنا چاہیے، تاہم دوسری طرف میڈیا کے وہ لوگ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں، جنہوں نے  وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیان کو منفی انداز میں اچھالا ہے اور ان کی طرف سے تردید کے باوجود اس مسئلے کو زیر بحث لایا ہے۔ لہذا کشمیریوں کو  چاہیے کہ ایسے میڈیا ورکرز اور چینلز کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ  کریں۔

اسی طرح دنیا میں جہاں جہاں بھی کشمیر کمیونٹی کے لوگ ہیں، انہیں بھی چاہیے کہ اس واقعے کے بعد پہلے سے بڑھ کر پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کریں، تاکہ دشمن ہمارے اتحاد و اتفاق کو دیکھ کر مایوس ہوجائے۔

 یاد رکھئے! ہمارا ملک پہلے ہی مختلف دشمنوں اور سازشی عناصر کی زد پر ہے، اس سے پہلے بھی ہم بنگالی اور پنجابی کی نفرت کا ذائقہ چکھ چکے ہیں۔ ہم کسی بھی طور پر اس طرح کی مزید تقسیم اور نفرت کے متحمل نہیں ہیں۔

 بحیثیت پاکستانی ہم مسٹر چوہان کے اس بیان کی مذمت کرتے ہیں اور تحریک انصاف کی سپریم قیادت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی مسٹر چوہان کے خلاف تنظیمی ضوابط کے مطابق کارروائی کرے۔جس طرح مشال خان کے قتل میں عارف کونسلر کے ملوث ہونے کے باوجود اس کے خلاف تنظیمی سطح پر تحریک انصاف نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی اسی طرح فیاض الحسن چوہان کے بارے میں بھی تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کسی قسم کی کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آرہی۔

اگر اس ملک میں کوئی عدالت ہے تو اسے چاہیے کہ اس توہین پر از خود نوٹس لے، اگر اس ملک کی سلامتی کی ضامن کوئی ایجنسی ہے تو اسے چاہیے کہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے جرم میں مسٹر چوہان سے باز پرس کرے اور اگر اس ملک کی محافظ کوئی فوج ہے تو اسے چاہیے کہ مسٹر چوہان کو لگام دے۔ فوری طور پر لگام کی ضرورت اس لئے ہے چونکہ پاکستان اور کشمیر کے عوام کے درمیان نفرت اور تعصب کے بیج بونے والے غدار تو ہوسکتے ہیں وفادار نہیں۔

آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ عارف کونسلر سے لے کر فیاض الحسن چوہان تک  پی ٹی آئی نے ایک ایسی تنظیمی  تاریخ رقم کی ہے   کہ جس کا جواب اسے تنظیمی  تاریخ کے ہر موڑ پر دینا پڑے گا۔ مہذب دنیا پی ٹی آئی کے دامن پر لگے ان دھبوں پر ہمیشہ انگلیاں اٹھاتی رہے گی۔

عارف کونسلر نے ایک شخص کو بے دردی سے قتل کیا تھا اور فیاض الحسن چوہان نے ایک پوری  ملت کی عزت کو تار تار کیا ہے۔

 


افکار و نظریات: عارف کونسلر سے فیاض الحسن چوہان تک