اقوامِ متحدہ اور یومِ کشمیر

محمد بشیر دولتی

[سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم]

پانچ فروری یومِ یکجہتی کشمیر ہے۔ہم سب یہ دن  مناتے ہیں۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ  یہ دن  پاکستان کی سرحدوں سے نکل کر عالمی یوم  کیوں نہیں بن سکا؟ میں نے عالمی یوم خواتین کا پس منظر پڑھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ 8 مارچ 1907 کو نیویارک میں گارمینٹس انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین نے اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لئے مظاہرہ کیا تھا۔سرمایہ داروں کی پولیس نےان خواتین پر لاٹھی چارج کیا۔ اس لاٹھی چارج پر احتجاج کا ایک سلسلہ چل پڑا۔1910 میں اس تحریک کی ایک رکن خاتون ”کلاراز“ نے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں یہ سفارش پیش کی کہ 8 مارچ کو یوم خواتین منایاجاۓ۔اس دن سے آج تک اسی تاریخ کو دنیا بھر میں یوم خواتین کے طور پر منایا جارہا ہے۔ 
میں نے پڑھا ہے کہ 21 فروری 1952 کو متحدہ پاکستان میں بنگالی زبان بولنے والی اکثریت کی طرف سے اردو زبان کو سرکاری زبان قرار دینے کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں کچھ افراد شہید ہوۓ ۔یونیسکو نے 1999 کو بنگلہ دیشی شہریوں کی طرف سے خط لکھنے پر 2010  میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس قرار داد کو پاس کر کے 21 فروری کو عالمی مادری زبان منانے کی منظوری دے دی ۔
اگر آپ انٹرنینشل مناسبتوں کا کیلنڈر دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے۔ عالمی سطح پر   یومِ زن سے لے کر یومِ مادرتک منایا جاتا ہے۔لیکن کشمیر میں اب تک شہید ہونے والی ہزاروں خواتین اور سینکڑوں عصمت دری کے واقعات پر عالمی برادری خاموش ہے۔انٹرنیشنل سطح پر یومِ استاد، یومِ قلم اور یومِ صحافت منانے والوں کو کشمیر میں قلم، علم، معلم اور صحافت کی پامالی نظر نہیں آتی۔ 
 شہید حریت میر واعظ مولوی محمد فاروق سے لے کر شہید خواجہ عبدالغنی لون تک ، شہید استقامت  مقبول بٹ سے لے کر شہید اسرا  افضل گورو تک،  شہید جوان  برہان وانی سے لے کر اب تک ہزاروں شہیدوں کا خون یو این او سمیت ، اقوام عالم اور ملت اسلامیہ کو جنجھوڑ رہا ہے کہ آزادی و مساوات کے نعرے بازو ہماری قربانیوں سے چشم پوشی کیوں؟ ہمارے لئے کوئی انٹرنیشنل ڈے کیوں نہیں؟
مجھے تعجب ہے کہ یونیسیف سمیت انسانی حقوق کے ان گنت اداروں کو  محنت  و مشقت کرنے والے بچوں پر تو رحم آتا ہے لیکن کشمیر ،فلسطین اور یمن میں گولیوں اور بموں سے معصوم بچوں کے نازک جسموں کے اُڑتےہوئے پرخچوں پر کوئی رحم نہیں آتا۔ 
ہمیں بین الاقوامی ایّام کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ ہمیں انسانی بنیادوں پر اقوام متحدہ سے اپیل کرنی چاہیے کہ  6 اگست سے 9 اگست تک” انسانیت سے ہمدردی کے ایّام “ منائے جائیں۔یہ وہ ایّام ہیں کہ جب 6 اور 9 اگست 1945 کو امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پہ حملہ کیا تھا اور لاکھوں انسانوں کو پلک جھپکنے میں راکھ بنا دیا تھا۔
ہمیں ۹ نومبر کو عالمی یوم اتحادمنانے کی اپیل کرنی چاہیے  چونکہ اس دن1989 میں  اٹھائیس سال کے بعد استعمار کی کھڑی کردہ دیوار برلن ٹوٹ گئی تھی۔
ہمیں ۱۷ مارچ کو عالمی  ”یومِ حجاب“ منانے کی اپیل کرنی چاہیے چونکہ اس دن 2018 میں مہذب لباس پہننے کے جرم میں مریم عبدالاسلام مصری کو برطانیہ کے بھرے بازار میں بےدردی سے شہید کیا گیا تھا۔
ہمیں  یکم جولائی کو عالمی” یومی تقدس حجاب“ منانا چاہیے  چونکہ 2009 میں اس دن جرمنی کی عدالت میں شہیدہ حجاب مروة الشربی کو حجاب کی توہین کے کیس کا دفاع کرنے پر ججز کے سامنے ۱۸ دفعہ چھری کے پےدرپے وار کر کے شہید کیا گیا تھا۔

ہمیں چاہیے کہ ۲۸ جون یا ۳۱ اگست کو ”عالمی یوم فتحِ جمہوریت“ منائیں  چونکہ اس دن  جہانِ  جمہوریت میں ایسا دلخراش سانحہ رونما ہوا تھا  کہ تاریخِ جمہوریت میں  اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔  ۲۸ جون ۱۹۸۱ کو اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی اسمبلی کے ۷۲ اراکینِ اسمبلی  کو  ایک بم دھماکے میں شہید کیا تھا ۔ اتنے بڑے جمہوری نقصان کے باوجود ایران میں مارشل لا نہیں لگا تھا۔ ہمیں ۳۱ اگست کو حقیقی جمہوریت کا دن منانا چاہیے چونکہ ۳۱اگست  ۱۹۸۱ کو  ایران کے صدر اور و زیر اعظم کو ایک ساتھ شہید کیا تھا مگر پھر بھی مارشل لا  نہیں لگا اور آج تک اسلامی جمہوریہ ایران کامیابی سے شاہراہِ جمہوریت  پر گامزن ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف ۵ فروری کو ایک دن کیلئے کشمیر کے نام پر جلسے جلوس نکال کر خاموش نہ ہو جائیں بلکہ  اس دن کو عالمی ایّام کی فہرست میں شامل کرنے کی جدوجہد کریں۔ مسئلہ کشمیر تو اقوامِ متحدہ کے نزدیک ایک مسلمہ مسئلہ ہے۔ اگر اقوامِ متحدہ کے فیصلے کے مطابق یہ مسئلہ چوہتر سالوں سے حل نہیں ہو رہا تو ہمیں اقوامِ متحدہ سے کشمیر ڈے منانے کی اپیل کرنی چاہیے۔ 
یاد رکھئے! ہم دن منانے کی رسم  کو بدعت و گمراہی  کہہ کر اور دنیا سے کٹ کر کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ہمیں فقط جوشیلی تقریروں اور نعروں کے بجائے ایک  عظیم اور عالمی مکالمے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے ایّام کو شعوری اور منطقی طور پر عالمی سطح پر منانے کیلئے  سنجیدہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

 

 


افکار و نظریات: اقوامِ متحدہ