یومِ کشمیر ۔۔۔ درد  محسوس کریں
🖊️حسین عابدی 
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم


گزشتہ روز ۵  فروری تھا۔ پانچ فروری یعنی یومِ کشمیر ہے۔ کسی بھی یوم کو فقط منانا کافی نہیں ہوتا۔  جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یکم مئی کو پوری دنیا میں یومِ مزدور کے طور پر منایا جاتاہے ۔ جس کی ابتدا 1886ء میں امریکہ  کے شہر شکاگو سے ہوئی ۔جہاں پر 1886ء میں مزدوروں نے باضابطہ طور پر کام کے اوقات کو 8 گھنٹہ کرنے اور ہفتہ میں ایک دن چھٹی کرنے کے مطالبات کیے تھے۔ مطالبات منظور نہ ہونے پر مزدوروں نے احتجاج کیا۔
یوں احتجاج کرنے کی وجہ سے  مزدوروں پر پولیس کی طرف سے فائرنگ ہوئی اور جس کے نتیجے میں بہت سارے مزدور  ہلاک اور زخمی ہوئے۔یوں آج ان مزدوروں کی یاد میں یکم مئی کو پوری دنیا میں یومِ مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے۔اب اگر ہم یکم مئی کو صرف چھٹی کر لیا کریں اور اپنے ہاں کے غریبوں کی فلاح و بہبود پر کوئی توجہ نہ دیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
اسی طرح پاکستان میں 5 اکتوبر کو یوم استاد (یومِ معلم)  اور دنیا بھر میں بھی  یوم استاد منایا جاتاہے۔ اب اگر ہم یومِ استاد تو منائیں لیکن اساتذہ کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کوئی منصوبہ اور پالیسی نہ بنائیں تو صرف استادوں کو وٹس اپ اور فیس بک پر پھول بھیجنے اور  مختلف پروگراموں میں تالیاں بجانے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔
بالکل اسی طرح  ۲۰نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد بچوں کی تعلیم و تربیت ,معاشرتی تربیت اور مذہبی تربیت کے مطلق شعور اجاگر کرنا ہے  تاکہ وہ مستقبل میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ لیکن اگر بچوں کے مسائل ہماری ترجیحات میں ہی نہیں تو پھر اس یوم کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔
یہی حال ہماری دینی اور اسلامی مناسبات کا بھی ہے۔ اگر  ہم سارے مسلمان عیدالفطر تو مناتے ہیں لیکن ہماری عید سے غریبوں کو کوئی خوشی حاصل نہیں ہوتی، ہم عیدِ قربان تو مناتے ہیں لیکن ہماری عیدِ قربان سے فقرا، محتاجوں اور فاقہ کشوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا  یا پھر دنیا بھر میں موجود مسلمان یومِ عاشورا مناتے ہیں لیکن ہمارے اندر حُسینی جذبہ اور شعور  پیدا نہیں ہوتا تو پھر ان ایّام کے منانے کا فلسفہ ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
ہمارے اہم ایّام  میں سے ایک پانچ فروری ہے۔ دنیا بھر میں یہ دن  یومِ یکجہتی کشمیر کے نام سے منایا جاتا ہے ۔خاص کر پاکستان میں اس دن سرکاری تعطیل ہوتی ہیں  اور سیمنارز اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں ،  کچھ جگہوں پر ہزاروں کی ریلیاں  بھی نکالی جاتی ہیں تو کچھ جگہوں پر ہاتھوں کی زنجیر وغیرہ بنا کر اپنے اپنے انداز سے یکجہتی کا اظہار کیاجاتا ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ  بدقسمتی سے ہم  صرف ایک دن  وہ بھی نعروں اور ریلیوں کی حد تک ان کے حق میں آواز بلند کرتے  آرہے ہیں اور پورا سال خوابِ غفلت میں اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ومشغول ہوتے ہیں۔
 ۵اگست ٢٠١٩ کے بعد سے تو  مقبوضہ کشمیر کے  حالات مزید خراب ہوچکے ہیں اور کشمیر کی باقی ماندہ آئینی و قانونی حیثیت بھی ختم کردی گئی ہے۔ 
اگرچہ پاکستانی عوام کے دل کشمیریوں کیلئے دھڑکتے ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کا حساب جدا ہے۔   جدا اس لئے ہے چونکہ انہیں خود بھی انسانی حقوق، آئینی تقاضوں، اور احترامِ انسانیت کا کچھ پاس نہیں۔ آپ خود دیکھ لیجئے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات جنہیں ہم  گلگت و  بلتستان بھی کہتے ہیں وہ آج بھی  اپنے آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ 
اسی طرح اقلیتی برادریاں بھی سیاسی و ریاستی ستم گروں کے نشانے پر ہیں۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر ہونے والے مظالم کو ہی لیجئے۔  اسی طرح اب پاکستان میں ایک نصابِ تعلیم کے نام پر  جو کچھ کیا جا رہا ہے اُس کی حقیقت بھی کسی سے پو شیدہ نہیں۔
پانچ فروری کی مناسبت سے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ  ہم اس دین کو صرف منائیں نہیں بلکہ اس دن انسانی حقوق کی اہمیت کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کریں، اس دن کشمیریوں کی مانند اپنے ملک میں بسنے والے اقلیتی برادریوں، کمزور صوبوں، لاپتہ افراد، دہشت گردی میں مارے جانے والوں کے لواحقین کی حالتِ زار،  پسماندہ علاقوں میں انسانیت کی تذلیل اور فراموش شدہ دیہاتوں میں  سہولیات کی عدمِ دستیابی پر بھی بات کریں۔

 


افکار و نظریات: درد  محسوس کریں