اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مسئلہ کشمیر اورتلخ حقائق مجلسِ مذاکرہ جاری تھی۔موضوع تھا " خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سَحَر پیدا" ۔ اس مصرعے کی روشنی میں محقق محمد بشیر دولتی نے مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالی۔ اُن کی گفتگو کا مرکزی خیال یہ تھا کہ آج کی دنیا میں مسئلہ کشمیر ایک مسلمہ مسئلہ ہے۔ دنیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے بیچ میں یہ ایک خاموش آتش فشاں کی مانند زندہ ہے۔ اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل بھی بطورِ مسئلہ تسلیم کرتی ہے۔ تاہم گزشتہ چوہتر سالوں سے عالمی برادری نہ ہی تو اس مسئلے کو حل کرتی ہے اور نہ ہی اس خطّے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اموات کو روکنے کیلئے عالمی سطح پر کوئی دن منایا جاتا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر دن منانے کی اہمیت اورخصوصا مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر منانے کیلئے فعالیت کرنے پر زور دیا۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

نذر حافی
انہوں نے یہ مقالہ قیامِ پاکستان کے تقریبا پچہتر سال کے بعد پڑھا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور مسئلہ کشمیر قیامِ پاکستان سے بھی پُرانا ہے۔ اُن کے مقالے کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے چونکہ یہ مجلسِ مذاکرہ اسلامی جمہوریہ ایران کے شہرِ انقلاب، قم المقدس میں منعقد ہوئی ۔ اُن کا یہ زاویہ فِکر قابل توجہ ہے کہ ہم چوہتر سالوں میں اس مسئلے کو نہ ہی تو حل کروا سکے ہیں اور نہ ہی اسے بین الاقوامی سطح پر منانے کیلئے کوئی جدوجہد کر رہے ہیں۔
راقم الحروف ایک طالب علم ہے۔ ایک طالب علم ہونے کے ناتے مجھے اس مسئلے کے بارے میں مختلف شخصیات کو سننے کا موقع ملا ہے۔ گزشتہ اڑھائی سال سے تو میری کافی زیادہ توجہ اسی مسئلے پر مرکوز ہے۔ان اڑھائی سالوں میں مجھے مسئلہ کشمیر کو لاحق خدشات اور امکانات کے عنوان سے انتیس آن لائن سیشن منعقد کرانے کی توفیق نصیب ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اس مسئلے پر کئی تجزیات پڑھنے اور لکھنے کا موقع ملا۔ اسی طرح اس مسئلے کے حوالے سےکئی دانشوروں ، صحافیوں، سیاستدانوں اور مصنفین سے سیکھنے اور اُن سے رابطہ کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ہے۔
ان اڑھائی سالوں نے مجھے مسئلہ کشمیر پر بہت کچھ سکھایا ہے۔ ظاہر ہے خیالی پلاو، کمرے میں بیٹھ کر لکھی ہوئی تحریریں، جوشیلی تقریریں اور جذباتی لیکچرز تو عملی تجربے سے بہت زیادہ مختلف ہوتے ہیں۔ جب میں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عام عوام، مختلف دانشوروں، سیاستدانوں، تنظیموں، شخصیات، اخبارات اور چینلزکو عملی طور پر جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی تو دھک سے رہ گیا۔
بلاشبہ ہمارے ہاں ایک ایسی اقلیّت ہر شعبے میں موجود ہے جو مسئلہ کشمیر سے آج بھی نظریاتی وابستگی رکھتی ہے۔ بہت کم ایسے سیاستدان، صحافی، دانشور اور تنظیمیں بھی موجود ہیں جو مسئلہ کشمیر کی غیرمشروط حمایت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسی طرح ہماری صفوں میں ایسے سرپھرے ابھی زندہ ہیں جو رائے عامہ کی طاقت، عوامی امنگوں کے طوفان، قلم کی کاٹ، جذبہ جہاد اور میڈیا کے زور پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر ایمان رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ہونے سے انکار نہیں۔ ایسے لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں لیکن ان میں بھی اکثریت اُن لوگوں کی ہے جن کے پاس اپنا کوئی نقشہ نہیں اور وہ لاشعوری طور پر اُنہی لوگوں کے نقشے پر کام کر رہے ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکلے۔
جی ہاں !ہمارے سروے کے مطابق ہمارے درمیان ایسے لوگوں کی اکثریت ہے کہ جن کیلئے مسئلہ کشمیر ایک تیل کے کنویں کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئیے اُس اکثریت کو اپنے ارد گرددیکھئے اور پہچانئے کہ جس کیلئے یہ مسئلہ تیل کے کنویں کی مانند ذریعہ آمدن بنا ہوا ہے۔ آپ کو اپنے ارد گرد کشمیر سے منسوب ایسی تنظیمیں ، ادارے اور فورمز بھی مل جائیں گے کہ جنہیں مسئلہ کشمیر کی ابجد کا بھی علم نہیں ہے۔ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نہ ہی تو کسی قسم کی تحقیقات انجام دیتے ہیں، نہ ہی کتابیں تالیف کرتے ہیں نہ ہی رائے عامہ کو ہموار کرنے کیلئے کوئی میگزین یا مجلہ شائع کرتے ہیں اور نہ ہی قلم اور سوفٹ پاور کا استعمال کرتے ہیں ۔ تاہم وہ موجود ہیں چونکہ انہیں کشمیر کے نام پر فنڈنگ مل رہی ہے۔اسی طرح ایسے سیاستدان ، پالیسی میکرز اور سیاسی پارٹیاں بھی موجود ہیں جن کیلئے یہ مسئلہ ایک منافع بخش سیاسی کارڈ کی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کشمیر کے نام پر عوام کو مصروف رکھنا ہوتا ہے، لوگوں کی توجہ حاصل کرنی ہوتی ہے، ان سے ووٹ مانگنے ہوتے ہیں ، اُن کے دلوں کو جہادی نعروں سے گرما کر، جہادی کیمپوں میں سادہ لوح لوگوں کے بچوں کو دہشت گردی کی تربیت دے کر تجوریاں بھرنی ہوتی ہیں اور کشمیر کشمیر کر کے کشمیر کے نام پر کمیٹیاں بنانی، فورمز بنانے اور چندے اکٹھے کرنے ہوتے ہیں۔
اسی طرح ہمارے عوام میں ایک بڑی تعداد اب اُن لوگوں کی ہے جو کشمیر ڈے کے دن گھر میں سو کر یا ٹی وی دیکھ کر چھٹی مناتے ہیں اور یا پھر دوستوں سے ملنے ملانے کیلئے ریلیوں میں چلے جاتے ہیں۔جہاں تک درسی کتب کی بات ہے تو وہاں پر تحریکِ آزادی کشمیر تقریباً دم توڑ چکی ہے۔ شاید آپ کو پاکستانی میڈیا سے یہ امید ہو کہ ہمارا میڈیا کشمیر کی جنگ لڑے گا تو آپ خود بھی تجربہ کر کے دیکھ لیجئے ۔ ہمارے میڈیا کیلئے بھی کشمیر ایک تیل کے کنویں کی مانند ہے۔ اُن کیلئے کشمیر کی خبریں بہترین سورس آف انکم ہیں۔ اُنہیں کشمیر سے کوئی غرض نہیں بلکہ یہ فکر ہوتی ہے کہ کشمیر کی خبریں چلانے یا چھاپنے پر آپ ہمیں یومیہ، ہفتہ وار، ماہانہ یا سالانہ کتنی رقم دیں گے اور کتنے اخبارات خریدیں گے۔حتی کہ سرکاری اداروں میں یومِ کشمیر کی منعقدہ تقریبات کی حیثیت چند فوٹوسیشنز اور ایک دفتری رپورٹ سے زیادہ کی نہیں رہ گئی۔
محترم اور فاضل محقق بشیر دولتی صاحب کا دردِ دل سر آنکھوں پر لیکن یہاں اب اکثریت کا فیصلہ یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر سے کماو جتنا کما سکتے ہو۔ بے شک میں بھی بشیر دولتی صاحب کی طرح اُس اقلیت کے ساتھ ہوں جس کے نزدیک دنیا کے سارے ظالم ایک ہی قبیلے کے لوگ ہیں اور سارے مظلوم بھی ایک ہی قبیلے کے ہیں۔ ظالم چاہے کشمیر، فلسطین، یمن یا پھرجہاں بھی ظلم کریں وہ ظالم ہیں اور مظلوم جہاں بھی ہوں وہ ایک ہی قبیلہ ہیں۔ اس بیچ میں وہ لوگ بھی ظالموں کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو مظلوموں کے خون سے نوالے تر کر رہے ہیں۔ اُن کی مثال اُس گدھ جیسی ہے جو اس انتظار میں رہتا ہے کہ کب شیر کسی کا شکار کرے اور پھر وہ لاش کو بھنبھوڑ کر اپنا پیٹ بھرے۔ قارئین ایسے میں کسی سے مظوم کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی کی امید رکھنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ مرزا غالب نے کہا تھا : ہم کو ان سے وفا کی ہے امید۔۔۔جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں