جہادِ زینبی ؑ کے چراغ
صادق الوعد

 لکھنا  قلمکار کے لئےبھی بہت مشکل ہے۔خصوصا  جب لکھاری کو کسی عظیم ، جامع وکامل اور متحیر العقول شخصیت یا نظریے کے بارے میں لکھنا پڑ جائے- وہ  قلم اٹھانے سے پہلے بار بار یہ سوچنے لگتا ہے کہ اس ہستی کے کون سے پہلو کو  قرطاس کی زینت  بنائے۔ ایسی ہی  ہستیوں میں سے ایک ملکہ عرب وعجم ،عقیلہ بنی ہاشم، حضرت زینبؑ بنت علی ؑ بھی ہیں۔ حضرت  زینب ؑ ایک ایسی ہستی ہیں کہ  جو سب کچھ راہ خدا میں قربان کرنے کے بعد بھی  یہی سوچ رہی تھیں کہ  اب راہ خدا میں کیا  پیش کروں۔سب کچھ تو قربان کردیا ہے۔ان کے نزدیک  کربلا   ختم نہیں ہوئی تھی  بلکہ تازہ   شروع ہوئی تھی- کربلا کو انہوں نے  مسلسل جہاد اور قربانی کا مفہوم عطا کیا ۔کربلا یعنی مسلسل جہاد و قربانی،  کبھی جان و مال کے ساتھ ، کبھی آزادی کی صورت میں اور کبھی زندانوں میں ،اور  کبھی اپنی تقاریر کے ساتھ اور کبھی دعاوں کے ساتھ۔ 
انہوں نے  اپنی ذات کو مسلسل جہاد اور قربانی کے راستے پر قائم رکھا ۔ انہوں نے  اس راہ میں اپنی عزت کی قربانی،دربار شام جانے کی قربانی، انسان نما جانوروں کے طعنے سہنے کی قربانی، تڑپتے یتیموں اور بے سہاروں کی دلجوئی کی قربانی، سفر کی صعوبتوں اور عوام کی بے بصیرتی اور بیوفائی برداشت کرنے کی قربانی دی۔  یہ سب تو  حضرت زینب ؑ نے کرنا ہی تھا  چونکہ وہ تو کربلا میں تلوار سے جنگ کرنے نہیں آئی  تھیں۔وہ تو  کربلا کے  دوسرے  رخ یعنی   پیغامِ کربلا کی تبلیغ کرنے آئی تھیں ،انہوں نے پیغامِ  کربلا کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔  ان کے تبلیغی جہاد کی وجہ سے مشن کربلا تاریخی کتابوں اور کتب خانوں کی زینت  بننے کے بجائے عقل و شعور کو جھنجوڑ نے کا وسیلہ بن گیا ۔
کسی بھی تحریک یا جنگ کی مدّت ایک دو دن یا ایک مہینہ ،ایک سال تک نہیں ہوتی بلکہ  اس کے  اہداف کے حصول تک ہوتی ہے۔ لہذا  کربلا کی تحریک میں میں جتنی  اہمیت تلوار ونیزے سے لڑنے کی هے  اتنی ہی اہمیت  حقیقت اور واقعیت کو ٹھیک ٹھیک  بیان کر نے کی  یعنی اس پیغام کی صحیح تبلیغ کرنے کی بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ  قدیم زمانے سے ہر جنگ میں جنگجووں  کے ساتھ چند ایسے افراد بھی میدانِ جنگ  کی طرف روانہ کئے جاتے تھے  جو جنگی صورت حال کو ضبط تحریر میں لانے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔اس اہتمام کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ  اس جنگ کی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ آنے والی نسل بھی کر سکے۔  ان کاوشوں سے اپنی جنگوں  کی فتح  کوبعد والوں کیلئے بطورِ یاد گار باقی رکھا جاتا تھا ، یوں سپاہیوں کی دلیری ،بہادری اور ان کی  قربانیوں کو تاریخ میں ثبت کر دیا جاتا تھا ۔ کربلا میں بھی دونوں طرف سے ایسے افراد موجود تھے ۔ مگر جو کام زینب بنت علیؑ نے انجام دیا وه کوئی اور نہیں کرسکا ۔ اگر حضرت زینب ؑ  اپنے بیان کے ذریعے جہاد نہ کرتیں تو کربلا یا مٹ چکی ہوتی یا تحریف ہوجاتی- آپ کی تبلیغ کی وجہ سے ابھی  شام اور کوفہ میں ٹھیک سے امام حسین ع کی شہادت کی خبر بھی  پہنچی نہیں تھی  کہ قاتلوں کو  اپنی ہزیمت اور شکست  کا احساس ہو گیا تھا۔ 
آپ  دربار شام میں غیرت علی ؑ کا مجسمہ بن کر  داخل ہوئیں، آپ کی بے دریغ گفتگو نے  فتح کا جشن منانے والوں کو  یا اپنی  شکست کی نماز جنازه پڑھنے پر مجبور کر دیا۔ اس سے پہلے دربار کوفہ میں بھی  ایسا ہو چکا تھا۔( طبرسی، احمد بن علی؛، ج 2، ص 29، مثیر الاحزان، نجف، الحیدریه، 1369، ص 66۔)  
حضرت زینب ؑ    نے اپنی  تبلیغ سے دشمنوں کے درمیان میں ہدایت کے دو ایسے چراغ روشن کئے کہ جو کبھی بھی نہیں بجھیں گے۔ایک یہ کہ  ظالموں کو مٹانے اور شکست دینے کیلئے کربلا  ایک یونیورسٹی اور درسگاہ بن گئی۔ دوسرے یہ کہ ہر باشعور انسان کو یہ سمجھ آگئی  کہ کوئی بھی مکتب  اور نظریہ صرف اسی صورت میں باقی رہ سکتا ہے کہ جب وہ ایک مشن کی صورت اختیار کر لے۔  کسی بھی نظریے کو مشن میں تبدیل کرنے کیلئے ضروری  ہے کہ ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق اس کی تبلیغ کرے۔  کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ  کربلا در کربلا می ماند اگر زینب ؑنبود۔