اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات تیغِ شب سے اجالے شہید ہوتے ہیں یکساں نصاب کا جائزہ ہم کسی بھی مسئلے پر اکٹھے نہیں ہوتے۔ اب سنگل نیشنل کریکولم کو ہی لے لیجئے۔ اس کی اہمیت کا سب کو اعتراف ہے لیکن یہ اعتراف اپنے ہمراہ شدید اختلافات ، اعتراضات اور تحفظات کو لئے ہوئے ہے۔ ویسے یہ ہمارے ہاں کا چلن بھی ہے کہ جب بھی آپ کوئی بڑا کام کرنے لگیں تو معترضین کی ایک فوج ظفر موج آکر سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف بڑے کام کی تعریف بھی ہم میں سے ہر ایک نے اپنے طور پر پہلے سے کر رکھی ہے۔ چنانچہ بڑے کام کے نام پر ہمارے ہاں بعض اوقات انتہائی چھوٹے اور نیچ کام کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جہاد کو ہی لے لیجئے۔ یقیناً جہاد مسلماتِ دین میں سے ہے لیکن اتنے بڑے اور عظیم کام کو ہمارے صدر مملکت ضیاالحق اور اُن کے ہمنواوں نے امریکی و سعودی مفادات کیلئے استعمال کیا۔ ہمارے بڑوں نے اپنی تجوریاں بھریں اور دینی مدارس جو کہ تعلیم و تربیت اور رفاہِ عامہ کےمراکز تھے وہ دہشت گردوں کی نرسریوں میں تبدیل ہو گئے۔ اس کا نتیجہ داخلی انتشار، قتل وغارت، خون خرابے اور باہمی بغض و عناد کی صورت میں سامنے آیا۔ آپ دینی حلقوں کے اعتراضات سنئے تو لگتا ہے کہ سیکولر اور لبرل حضرات اس نصابِ تعلیم سے خوش ہونگے لیکن سیکولر اور لبرل حضرات کی سنئے تو وہ اسے تعلیمی نصاب کے نام پرڈھونگ سمجھتے ہیں۔ اچھا تو جب اتنی بڑی اکثریت یکساں طور پر اس نصابِ تعلیم سے راضی نہیں ہے تو پھر اس کا مقصد کیا ہے؟ مقصد بھی بنانے والوں نے بتا دیا ہے۔ اُن کے بقول اس نصاب کا مقصد قومی وحدت ہے۔ یہ ایسی ایجاد ہے کہ جس کا سراغ کتاب و سنّت یا صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں میں نہیں پایا جاتا۔ کسی بھی صحابی، تابعی ، تبع تابعین، سلف صالحین میں سے کبھی کسی نے یہ درود نہ پڑھا ہے اور نہ سُنا ہے اور نہ ہی دنیا کے کسی گوشے میں یہ درود مسلمانوں کا کوئی بھی مسلک یا فرقہ پڑھتا ہے۔ یہ صرف اور صرف بچوں کو منحرف کرنے اور اُن کے والدین کو زِچ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بغیر کسی لگی لپٹی کے اسلامیات کے مضمون سے نہ صرف یہ کہ اہلِ بیت کو نکال دیا گیا ہے بلکہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ، حضرت عمار یاسرؓ، حضرت اویس قرنیؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ جیسے جیّد صحابہ کرام کی شہادت و مجاہدت، نظریات و افکار اور ان کے راستے و سیرت و حق گوئی و بے باکی کو سرے سے حذف کر دیا گیا ہے۔ یہاں پر راقم الحروف کی طرف سے یہ بتانا ضروری ہے کہ اہلِ بیتؑ کے خصوصی مقام و مرتبے کے صرف شیعہ ہی قائل نہیں ہیں بلکہ سوائے نواصب و خوارج کے سارے اہلِ سُنّت، اہلِ بیت ؑ کے لئے ایک ایسے خاص مقام و مرتبے کے قائل ہیں کہ جو کسی بھی دوسرے شخص کو حاصل نہیں۔ اس بناپر پاکستان میں محبّان اہلِ بیتؑ کی تعداد دوسرے ہر فرقے سے زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ اہلِ سنّت کا اہلِ تشیع سے تو اختلاف ہے لیکن اہلِ بیت ؑ سے اختلاف نہیں ہے۔ سخت ترین اور کٹر اہلِ سُنت فرقے بھی ردِّ روافض کے قائل ہیں نہ کہ ردِّ اہلِ بیت کے۔ چنانچہ یہ کہاجا سکتا ہے کہ اس نصابی تعلیم کے پیچھے اہلِ سُنّت کے بجائے کوئی اور ہاتھ سرگرم ہے۔ اسی طرح کتاب میں تو اصلاح کر دی گئی ہے لیکن اُستاد کے حُلیے ، لباس اور ظاہری قیافے سے کسی داعشی و طالبانی مُلّاں جیسی وحشت ٹپک رہی ہے تو پھر اُس استاد کی کلاس میں دیگر مذاہب و مسالک کے بچے خوفزدہ رہیں گے یا قومی وحدت سیکھیں گے!؟ ہماری پہلی تجویز یہ ہے کہ نصابی کتب میں قومی یکجہتی اور مذہبی بھائی چارے کی خاطر ردِّ روافض اور ردِّ اہلِ بیت میں فرق کیا جائے۔ نصابی کتب میں اہلِ بیت ؑ کا ذکر اُسی طرح خاص اور منفرد انداز میں کیا جائے جیسے کہ کتاب و سنّت اور صحابہ کرام ؓ سے ثابت ہے۔نیز درود شریف کی مانند نئی ایجاد کردہ بدعات، دشمنانِ اہلِ بیتؑ کا ذکر ، خلافِ عقل اور اسرائیلیات پر مبنی واقعات کو حذف کیا جائے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com
آج بظاہر ضیا دور کی پیدا کردہ ان دراڑوں کو بھرنے کیلئے سنگل نیشنل کریکولم کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اب سنگل نیشنل کریکولم کے حوالے سے آپ اقلیتوں کے اعتراضات سنئے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ ملک کی اکثریتی آبادی زبردستی اقلیتوں پر ٹھونس رہی ہے۔اس کے بعد آپ اکثریتی آبادی کا تعین اگر مسلکی بنیادوں پر کریں تو پہلی مذہبی اکثریت اہلِ سنت ہیں جنہیں بریلوی کہاجاتا ہے اور دوسری بڑی اکثریت شیعہ حضرات ہیں ۔ توقعات کے برعکس وہ بھی اقلیتوں کی مانند اس نصابِ تعلیم سے سخت رنجیدہ ہیں۔
یہ کون سی اور کیسی وحدت ہے اس پر الگ سے بات کریں گے لیکن اس وقت آپ یہ ملاحظہ کریں کہ اکثریت میں لوگوں کو اس نصاب پر کیا اعتراضات ہیں؟
سب سے اہم اعتراض یہ سامنے آیا ہے کہ اسلامیات کی کتاب میں بدعات اور شدید مسلکی عناد کو داخل کر دیا گیا ہے۔ بطورِ نمونہ وہ کہتے ہیں کہ نیا درود شریف ایجاد کیا گیا ہے جوکہ صریحاً بدعت ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ اعتراض بھی ہے کہ اسلامیات میں باقی سب کچھ ہے سوائے اہل بیتِ اطہار ؑکے ذکر کے۔ مثال کے طور پر معترضین کا کہنا ہے کہ جماعت اول تا ہشتم کی کتابوں میں جتنی احادیث بھی بچوں کو حفظ کرانے کیلئے لکھی گئی ہیں، ان میں سے ایک حدیث بھی اہلِ بیتؑ سے مروی نہیں ہے۔ یعنی نہ ہی تو اہل بیتؑ کا ذکر بعنوانِ اہل بیتؑ ہے اور نہ ہی ان کی تعلیمات و سیرت بیان کی گئی ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں نصابی کتب لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ہم نے تو صحابہ کرام، علمائے کرام، دانشمندوں ، سلاطین وفاتحین، صوفیائے کرام و امہات المومنین نیز خلفائے راشدین کے ضمن میں گاہے بگاہے اہلِ بیت ؑ کا ذکر تو کر دیا ہے۔
اس جواب کے باوجود ناقدین کا نقدیہاں پر پھر بھی قائم ہے ۔ ناقدین کے مطابق کتاب و سنّت میں اہلِ بیت رسولﷺ کا مقام و مرتبہ دیگر اُمّت خصوصاً صحابہ کرام ؓسے جداگانہ طور پر ممتاز اور مشخص ہے۔ کتاب و سنّت کی تعلیمات اور صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں کی روشنی میں اہل بیت ؑ کا مقام اتنا بلند ہے کہ کبھی بھی کسی صحابیؓ نے اہل بیتؑ سے بلند ہونا تو دور کی بات ، ان کی برابری کا دعویٰ بھی نہیں کیا۔ اسی طرح کبھی کسی صحابیؓ نے اپنے آپ کو درود شریف میں شامل نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سالوں سے آج تک مسلمان اپنی پنجگانہ نمازوں میں جو درودِ ابراہیمی ؑ پڑھتے ہیں اُس میں بھی صحابہ کرام کا ذکر نہیں ہے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ اب پاکستان گورنمنٹ یا پارلیمنٹ اس درودِ ابراہیمی کو بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لے ۔ بہر حال ابھی تک پاکستانی پارلیمنٹ یا حکومت نے یہ فیصلہ نہیں کیا لہذا فی الحال درودِ ابراہیمی اپنی اصلی حالت میں دستیاب ہے۔ یاد رہے کہ دینِ اسلام کے نام پر لوگوں کے نجی عقائد میں اس قدر مداخلت صرف پاکستان کے اندر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔
یہ امر انتہائی اہم ہے کہ معترضین کا اعتراض صرف اہلِ بیت ؑ کے ذکر کے حذف ہونے تک محدودنہیں ہے بلکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اہلِ بیت کا ذکر حذف کر نے کے ساتھ ساتھ اہلِ بیت کے دشمنوں اور انتہائی متنازعہ لوگوں اور اہلِ بیت ؑ کو اذیّتیں دینے والوں کو ہیرو بنا کر نصاب میں شامل کیا گیا ہےجیسے ابوموسی اشعری اور عمروابن العاص وغیرہ وغیرہ۔
معترضین کے اعتراضات کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ اُن کے مطابق اہلِ بیت ؑ سے مروی متفقہ ، مصدقہ اور مسلمہ سیرت النبیﷺ کو نظر انداز کر کے ورقہ بن نوفل کی داستان، اور معراج النبیﷺ کے ضمن میں قطعیاتِ اسلام کے خلاف اور خلافِ عقل، نیز حدیث کے معیار کے مطابق ضعیف اور اسرائیلیات پر مبنی قصّے کہانیوں سے اسلامیات کو بھر دیا گیا ہے۔
اُن کا دعویٰ ہے کہ خلافتِ راشدہ کے مدّمقابل حضر ت سعد بن عبادہ ؓ جیسے صحابہ کرام ؓ کا بیعت سے انکار اور موقف، اہلِ بیت ِ رسول ﷺ کا بیعت سے انکار اور اختلاف، مسلمانوں کے دوسرے بڑے فرقے یعنی اہلِ تشیع کا نکتہ نظر سرے سے بیان ہی نہیں کیا گیا۔
اس اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ضیاالحق کے پروردہ جہادی و سرکاری ادارے گولی سے اہلِ بیت ؑکے محبّین، ان کی تعلیمات اور سیرت کو معاشرے سے حذف نہیں کر سکے تو اب وہ قلم اور نصابِ تعلیم کے ذریعے یہی کام کرنا چاہتے ہیں۔
ان اعترضات کو فی الحال یہیں پر چھوڑ دیجئے اور اب کچھ ہمارے اعتراضات بھی ملا حظہ کیجئے۔ ہمارا پہلا اعتراض اس نصاب کے بیان کردہ ہدف پر ہے۔ ہمارے نزدیک قومی وحدت ضروری ہے لیکن لوگوں کے عقائد و نظریات کو مسخ کرنے، حذف کرنے اور کچلنے کا نتیجہ قومی وحدت کی صورت میں نہیں نکل سکتا۔ اس سے بڑھ کر ہمارا اعتراض یہ ہے کہ نصابِ تعلیم کا اصلی ہدف سائنس، ٹیکنالوجی، تہذیب و ثقافت، تمدّن، انسانی اقدار، قطعیاتِ تاریخ اور ایمان و عقیدے کو اگلی نسلوں میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر سب سے اہم نزاکت یہ ہے کہ ایمان و عقیدے کا تعلق صرف ایک مضمون یعنی اسلامیات سے نہیں ہے۔ ایمان اور عقیدے کو سارے مضامین کے ہمراہ منتقل ہونا ہوتا ہے۔ یعنی سکول میں بچہ سائنس و ٹیکنالوجی یا علومِ انسانی و سوشل سائنسز کو اس طرح سے پڑھے کہ اس کے ایمان اور عقیدے میں اضافہ ہوتا چلا جائے۔ گویا وہ علوم کے ذریعے کائنات میں اپنے پروردگار کی نشانیوں کو کشف کرے اور علوم اُسے ایک مردِ مومن بنانے میں مددگار ثابت ہوں لیکن اس وقت ہمارے ہاں صاحبانِ ایمان کا سارا تمرکز صرف اور صرف اسلامیات کی کتاب پر ہے۔ اس وقت ہماری توجہ اس پر ہے ہی نہیں کہ تعلیمی درسگاہوں میں جاری الحاد کی یلغار کو صرف اسلامیات کی کتاب سے نہیں روکا جا سکتا۔
ہمارا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اسلامیات میں بچوں کو سمجھانے ، مکالمے اور سوال اٹھانے کے بجائے ایک خاص منہج پر برین واشنگ کرنے، رٹانے اور پڑھانے کیلئے محتوی شامل کیا گیا ہے۔ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے چونکہ اگر اس نصاب کے ساتھ ہمارا دعویٰ قومی وحدت کا ہے تو پھر ہمیں رٹانے کے بجائے بچوں کو عملی طور پر مسلمان بنانے کیلئے انہیں عملاً فراخدلی کا مظاہرہ کرنا سکھانا ہوگا، انہیں سوالات اٹھانے اور تحمل سے سوالات سننے اور جواب دینے کا تجربہ کرانا ہوگا۔ خاص ایّام میں انہیں ایک دوسرے کی مجالس و محافل، عبادت گاہوں اور مقدس مقامات میں لے جا کر وہاں بیٹھنے، بات کرنے اور اظہارِ یکجہتی کرنا عملا سکھانا ہوگا، انہیں دوسروں کی اہم مناسبتوں ، عیدوں اور غم کے ایّام میں شریک ہونے، مبارکباد دینے اور تعزیّت کرنے کی عملی ترغیب دینی ہو گی۔ اگر عملی طور پر یہ سب نہیں ہے تو پھر صرف رٹے لگانے سے قومی وحدت کے بجائے، اگلے چند سالوں میں لکیر کے فقیر جوانوں کا ایک بند دماغ لشکر تیار ہوجائے گا۔
ہمارا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ پاکستان میں اصل مسئلہ نصابی کُتب کا نہیں ہے۔ نظامِ تعلیم اور سارے کے سارےنصابِ تعلیم کا ہے۔ اگر ہم نصابی کتب کے ذریعے قومی وحدت چاہتے ہیں تو نظامِ تعلیم کے سارے شعبوں میں سب ادیان نیز مسالک و مذاہب کو اُن کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح نصابِ تعلیم میں سکولوں کی تعداد، استادوں کی بھرتیوں، استادوں اور طالب علموں کی وضع قطع اور یونیفارم، پیشہ وارانہ تربیت اور سکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی کے وقت بھی سب ادیان و مذاہب کو زمینی حقائق کے مطابق ایجوکیشنل سسٹم میں قبول کیا جائے۔ مثال کے طور پر کتاب تو بہت اچھی لکھی ہوئی ہے لیکن پڑھانے والا ایسے مدرسے کا فارغ التصیل ہے جو طالبان، القاعدہ اورداعش کی نرسری ہے۔ اب ایسے استاد کی موجودگی میں قومی وحدت کا خواب کیونکر پورا ہو سکتا ہے!؟
آپ نے ہمارے تین اعتراضات پڑھ لئے۔ اس کے ساتھ ہی ہم اپنی چار تجاویز بھی بیان کر کے بات کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔
ہماری دوسری تجویز یہ ہے کہ ملی اتحاد کیلئے اسلامیات کا نصاب آیات و روایات اور سیرت کے واقعات کو رٹنے و پڑھنے تک محدود ہونے کے بجائے عملی وحدت کے طریقہ کار پر مبنی ہونا چاہیے۔
ہماری تیسری تجویز یہ ہے کہ ہماری توجہ اسلامیات کی کتاب کے علاوہ دیگر مضامین پر بھی ہونی چاہیے۔ہمیں ماہرینِ تعلیم کی مدد سے تعلیم و تربیت کا ایسا انتظام کرنا چاہیے کہ بچہ سکول میں جو بھی مضمون پڑھے، اُس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہو۔ ایمان کا مسئلہ کسی ایک فرقے یا مسلک کا نہیں ہے۔ لہذا نصابی کتب کو فرقہ وارانہ جنگ کیلئے استعمال کرنے کے بجائے توحید، نبوت اور معاد جیسے عقائد و ایمان کے منتقل کرنے کی خاطر استعمال کیاجانا چاہیے۔
ہماری چوتھی اور آخری تجویز یہ ہے کہ نصابی کتب سے یہ معاملہ حل ہونا والا نہیں۔ بغیر کسی تعصّب کے سارے مسالک و مذاہب کو اُن کی آبادی کے تناسب سے نظامِ تعلیم میں جگہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب نظامِ تعلیم میں میرٹ اور آبادی کے تناسب کی پابندی کی جائے گی اور سب مسالک کو اُن کا حقیقی حق دیا جائے گا تو نصابِ تعلیم میں بھی مسلکی ہم آہنگی جنم لے گی۔ لہذا نصابِ تعلیم میں مسلکی ہم آہنگی ہوگی تو تب جا کر قومی وحدت کا مسئلہ حقیقی معنوں میں حل ہوگا۔ جب نصابِ تعلیم کے تھنک ٹینکس میں بیٹھے ہوئے پالیسی میکرز یہ طے کریں گے کہ ہم نے قومی وحدت کی خاطر اپنے ملک کی کسی اقلیت یا فرقے کو حذف نہیں کرنا بلکہ طالبان، القاعدہ اور داعش کے طرزِ تفکر کو حذف کرنا ہے تو تب جا کر ایک قوم اور ایک نصاب کا خواب پورا ہوگا۔
ہم ایک پاکستانی ہونے کے ناتے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہمیں حقیقی معنوں میں قومی وحدت درکار ہے اور اگر اس ملک کی درسگاہوں میں ہم شہرون مسیح اور مشال خان جیسے بچوں کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں صرف درسی کتابوں کو ہی نہیں بلکہ اس نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم کو تبدیل کرنا ہوگا۔
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں