اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات یکساں نصابِ تعلیم اور ہارس ٹروجن تھیوری کالعدم سپاہِ صحابہ نے اس نصاب کی تائید کا اعلان حالیہ دنوں میں باقاعدہ ایک اجلاس میں بھی کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے کی جبکہ اجلاس میں ایم پی اے معاویہ اعظم، پیر امین الحسنات شاہ، میاں جلیل احمد شرقپوری، مولانا الیاس چنیوٹی، مولانا عبدالروف فاروقی، مولانا سید کفیل بخاری، مولانا عبدالخالق رحمانی، مولانا عبدالغفور راشد، مولانا فہیم الرحمان سمیت دیگر رہنماء شریک ہوئے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

نذر حافی
ہارس ٹراجن تھیوری صرف یونانیوں تک محدود نہیں۔ یہ نسل در نسل ہماری اس دنیا میں چل رہی ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک حملہ آور بادشاہ جب کئی سال تک ایک قلعے کو فتح نہیں کر سکا تو اس نے ایک جنگی چال چلی۔ چال کے مطابق اس نے ایک بڑا خوبصورت گھوڑا بنوایا اور اپنی فوجوں کو لے کر دور چلا گیا۔ محصور قلعے کے فوجیوں نے جب باہر کسی کو نہ دیکھا تو انہوں نے باہر نکل کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ باہر کا منظر خالی دیکھ کر وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے ، وہ اُس دیو ہیکل گھوڑے کواپنی فتح کی علامت سمجھ کر اٹھا کر اندر لے گئے۔ اندر شب بھر فتح کا جشن منایا گیا ، فوجی ناچ گا نے اور عیش و نوش کے بعد بے سُدھ ہوکر سوگئے۔ جب سنّاٹا چھا گیا تو منصوبے کے مطابق گھوڑے میں چھپے ہوئے فوجی باہر نکلے، انہوں نے قلعے کے دروازے کھولے اور اس کے بعد باہر چھپی ہوئی فوجیں قلعے میں داخل ہو ئیں اور سوئے ہوئے لوگوں پر شب خون مارنے کے بعد فاتح بن گئیں۔
تاریخ میں ایسا کئی بار ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ مثلا جہادِ افغانستان کو لیجئے۔ بڑا خوبصورت لیبل تھا لیکن اندر سے ہمیں کلاشنکوف کلچر، منشیات، خون خرابے اور تعصبات کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ ابھی یکساں قومی نصاب کی بات کر لیجئے۔نصاب کمیٹی نے اس پر مسلسل کام کیا ہے۔یکساں قومی نصاب کی سوچ واقعتا قابل تعریف اور لائق تحسین ہے ۔ اس کی بھرپور تائید کی جانی چاہیے۔تاہم ایک قوم ایک نصاب کے اس خوبصورت لیبل کے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً جب کالعدم تنظیموں اور جماعتوں کی طرف سے اس نصاب کی پورے زور و شور کے ساتھ تائید و حمایت کا سلسلہ جاری ہے تو جھانکنے میں حرج ہی کیا ہے!۔
انہوں نے کہا کہ تشکیل شدہ نصاب پر نظرِ ثانی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے مطابق صحابہ کرام ؓ کے بارے میں جو اور جیسے لکھا گیا ہے وہ بالکل درست ہے۔ ہم یہاں پر یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اصحاب رسول ﷺ کے بارے میں تین طرح کی آرا ہیں۔ ایک رائے کالعدم سپاہ صحابہ و دیگر کچھ کالعدم تنظیموں، کچھ اہلِ حدیث اور کچھ دیوبندی حضرات کی ہے ۔ اس رائے کے مطابق صحابہ کرام پر اللہ تعالی اور رسولِ اکرم کی طرح ایمان لانا واجب ہے اور جو ایمان نہ لائے وہ کافراور واجب القتل ہے۔ یہ ایک رائے ہے ، اس کے مقابلے میں دو دیگر رائےموجود ہیں۔ ان میں سے ایک اغلب رائے اکثر اہل سنت[حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، اہلِ حدیث] کی رائے ہے اوردوسری شیعہ حضرات کی۔ اکثر اہلِ سنّت کی رائے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ؐ پر ایمان لانے سے انسان مسلمان ہوجاتا ہے ۔ ان کے ہاں مسلمان ہونے کیلئے صحابہ کرام پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ وہ اس بات کو فراخدلی سے تسلیم کرتے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد بعض صحابہ کرام سے غلطیاں اور گناہ سرزد ہوئے ہیں۔ وہ تاریخی تجزیہ و تحلیل کے وقت ،ادب و احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ان غلطیوں کو غلط کہنے کو درست مانتے ہیں۔ اُن کے مطابق غلط کو غلط کہنا درست ہے لیکن ادب کے ساتھ۔اسی طرح ان کا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام نے جتنی بھی بڑی خطا کی ہو وہ قیامت کے دن سزاکے بعد بالاخر بخشے جائیں گے۔وہ صحابہ کرام کی غلطیوں کو خطائے اجتہادی کا نام دے کر انہیں جائزالخطا قرار دیتے ہیں۔اس دوسرے گروہ میں مولانا مودودی، ڈاکٹر طاہرالقادری، مولانا اسحاق مرحوم، انجینئر مرزا محمد علی وغیرہ وغیرہ جیسی شخصیات کے نام سرِ فہرست آتے ہیں۔
اس کے بعد اہلِ تشیع کا نظریہ ہے ۔ شیعہ حضرات کے مطابق جو شخص حیاتِ پیغمبرﷺ میں ایمان لایا اور تاحیات اُس ایمان پر قائم رہا صرف وہی صحابی کہلانے کا حق دار ہے۔ ان کے مطابق جس نے ایمان لانے کے بعد رسولﷺکی اطاعت نہیں کی تو وہ صحابی بھی نہیں رہا۔یعنی اہلِ تشیع کے ہاں حکمِ رسولﷺ کے مقابلے میں خطائے اجتہادی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کا چودہ سو سالہ اٹل عقیدہ ہے کہ جس نے فرمانِ رسول سے سرتابی کی یا انحراف کیا وہ صحابی بھی نہیں رہا۔
یاد رہے کہ شیعوں کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ بھی پھیلائی گئی ہے کہ شیعہ اصحاب کو نہیں مانتے جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ شیعہ اصحاب کی غلطی کو نہیں مانتے۔ورنہ حیاتِ پیغمبرﷺ میں کسی شخصیت نے ایمان لانے کے بعد اگر اپنے کسی عمل سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت نہیں کی تو اہلِ سُنّت کی طرح ہی بلکہ اہلِ سُنّت سے بڑھ کر ایسے صحابہ کرام کا شیعہ عقائد میں خاص مقام اور منفرداحترام ہے۔اہلِ سنت سے بڑھ کر اس لئے کہا ہے چونکہ اگر دو صحابی آپس میں لڑیں تو اہلِ سُنت دونوں کو واجب الاحترام کہتے ہیں لیکن شیعہ صرف اُسی کو محترم شمار کرتے ہیں جو حق پر ہو۔ اُسے نہ صرف حق پر شمار کرتے ہیں بلکہ اُسے ایک ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
راقم الحروف کی تحقیق کے مطابق اگر کسی بھی مسئلے میں دو صحابی لڑیں اور ایک صحابی ناحق دوسرے کو زخمی یا قتل کر دے تو شیعہ عقیدے کے مطابق پھر دونوں قابلِ احترام نہیں رہیں گے بلکہ جوصحابی حق پر ہوگا صرف اسی کی حمایت، مدد اور عزت کی جائے گی اور جس نے ناحق ہاتھ اٹھایا ہے اُس نے سنّتِ رسولﷺ سے انحراف کیا ہے لہذا صحابی ہونے کی وجہ سے اُسے جو عزت اور مقام ملا تھا وہ باقی نہیں رہے گا۔ شیعہ مسلک میں اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانے کے بعد جو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ اُن کے ہاں اعمال کے اعتبار سے ساری اُمّت برابرہے اس میں اہلِ بیتؑ، صحابہ کرامؓ، مجتہدین اور تابعین و تبع تابعین و مفسرین و محدثین و۔۔۔ کا کوئی فرق نہیں۔ شیعہ حضرات کے نزدیک کسی کے احترام کا معیار اور کسوٹی فقط اتباعِ قرآن و اطاعتِ رسولؐ ہے۔ان کے عقیدے کے مطابق جو حکمِ رسولﷺ سے بغاوت کرے گا وہ دین کا مجرم ہے اور وہ اہلِ بیت ؑ یا صحابہ کرامؓ میں شمار نہیں ہو سکتا۔
صحابہ کرام ؓ کے بارے میں عقائد کا یہ اختلاف یکساں نصاب میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ سپاہِ صحابہ اور ان کے ہم فکر مکاتب چونکہ مسلمان ہونے کیلئے اللہ اور رسولؐ کے ہمراہ سارے صحابہ پر ایمان لانا ضروری سمجھتے ہیں، اس لئے اس نصاب میں جن شخصیات کو اصحاب کے عنوان سے ہیرو بنا کر کتابوں میں شامل کیا گیا ہے وہ اس پر خوش ہیں۔ اس کے مقابلے میں اغلبِ اہلِ سنت اور شیعہ اس عقیدے کے قائل نہیں ہیں۔ جب معرکہ حق و باطل ہو تو اغلبِ اہل سنّت بھی حق کو حق کہتے ہیں اور حق پر کھڑے صحابی کو ہی اپنا ہیرو اور رول ماڈل مانتے ہیں جبکہ باطل پر کھڑے صحابی کی بےادبی نہیں کرتے لیکن ہیرو بھی نہیں مانتے۔ اس کی تاریخ میں بے شمار مثالیں ہیں۔ مثلا معرکہ صفین میں اغلب اہلِ سنت کے ہیرو حضرت امام علی ؑ ہیں۔ وہ امام علی ؑ کے مقابلے میں آنے والے کسی بھی شخص کو حق پر یا اپنا ہیرو نہیں کہتے اور ان کی غلطی کو قبول کرتے ہیں ۔ اسکے بعد شیعہ کا تو مسئلہ ہی واضح ہے وہ تو ایسے افراد کو صحابی ہی نہیں مانتے تو ہیرو کیسے مانیں گے۔ پس پتہ یہ چلا کہ تشکیل شدہ نصابی کتب سے سپاہِ صحابہ اور اس کے ہم فکر افراد کے نظریات و عقائد کی ترویج و اشاعت کا کام لیا گیا ہے جبکہ اغلبِ اہلِ سنت اور شیعہ عقائد کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔
ہم چونکہ غلط فہمیوں کے رسیا سماج میں متولد ہوئے ہیں۔لہذا کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یکساں نصابِ تعلیم میں صحابہ کرام کے ذکر پر کسی کو اعتراض ہے بلکہ معترضین کا اعتراض اُن لوگوں پر ہے جو اکثریت میں مسلمانوں کے ہیرو نہیں ہیں لیکن ان کے بچوں کے سامنےانہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ قارئین ِ کرام! یہ اس نصاب میں موجود صرف ایک مسئلہ ہے۔ باقی مسائل پر پھر حسبِ فرصت بات کریں گے۔
بہر حال یہ بات تو ہر باشعور کو سمجھ میں آ رہی ہے کہ جس نصابِ تعلیم پر سپاہِ صحابہ جیسی کالعدم تنظیمیں اور لوگ بغلیں بجا رہے ہوں اُسے سکولوں میں نافذ کر کے یقینا ملی وحدت اور ایک قوم کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ یعنی ایک قوم ایک نصاب کے خوبصورت گھوڑے کے اندر کالعدم تنظیموں اور شدت پسند عناصر کی فتح کا سارا سامان موجود ہے۔ دوسرے لفظوں میں آج ایک مرتبہ پھر پاکستان نامی، اسلام کے قلعے کے باہر خوبصورت گھوڑا تیار کیا گیا ہے اور اسے اب اسلام کے قلعے کے اندر لے جانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کیا کوئی ہے جو اس قلعے کی حفاظت کیلئے بیدار ہو!؟ کیا کوئی ہے جو اس مرتبہ ہارس ٹروجن تھیوری کو کامیاب ہونے سے روکنے کیلئے پاکستان کے سوئے لوگوں کو جگانے کی خاطر واویلا کرے!؟
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں