اگلا یوکرین کون ہوگا؟
ساجد مطہری


یوکرین۱۹۹۱ء تک روس کی ریاست تھی۔ روس سے علیحدگی کے بعد یوکرین ایٹم بم بنانے کے قریب تھا ۔ اس وقت امریکہ  اور  یورپی یونین نے اسے ایٹمی پروگرام ختم کرنے پر نیٹو اتحاد میں شامل کرنے کا وعدہ کیا۔ یوکرین نے معاہدہکرلیا اور ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہوگیا۔
ماضی میں یہی وعدے پاکستان سے  بھی کئے جا رہے تھے۔ اُس وقت پاک فوج نے ملکی حالات کے پیش نظر جوہری پروگرام جاری رکھنے کو ان وعدوں پر ترجیح دی۔  محسن قوم، محسن ملت ڈاکٹر قدیر خان کی کاوشوں سے پاکستان ایٹمی قوت بنا جس کا براہ راست فائدہ یہ ہوا کہ آج دشمن قوتیں پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں۔
اسی طرح  اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں، انہیں بھی ہر طرف سے پابندیوں کا سامنا ہے، تاہم تمام تر اقتصادی مشکلات کے باوجود ایران اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔
لیکن دوسری طرف جنہوں نے اغیار پر اعتماد کیا ان کی عبرت ناک مثالیں ہمارے سامنے ہیں،  لیبیا میں قذافی اور عراق میں صدام  کی تاریخ ہی پڑھ لیجئے۔  
آج روس نے جب یوکرین پر حملہ کیا تو  امریکہ اور نیٹو فوج سمیت کوئی بھی حفاظت کے لیے آگے نہیں بڑھا حالانکہ وہ امریکا اور نیٹو فوج کو مدد کے لیے پکارتے رہے۔بہرحال اگر آج یوکرین ایٹمی قوت ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔
یہاں اب  سعودی عرب اور دوبئی عرب امارات  کے انجام پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنا مکمل اختیار امریکا کو سونپ رکھا ہے۔ محمد بن سلمان اور عرب ولیعہدوں کی نظریں امریکی افواج پر مرکوز ہیں جو انہی کے بھاری معاوضے پر خلیج فارس میں ڈیرے ڈال چکی ہیں اور انہیں ہر طرح کی آسائشیں فراہم کی جا رہی ہیں۔بہرحال کہیں ایسا نہ ہو کہ سعودی عرب پر مشکل گھڑی آئے اور امریکا ساتھ دینے کی بجائے خاموش تماشائی بنا رہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں جب بھی پاک و ہند  جنگ ہوئی تو امریکہ نے اپنے حلیف اور دوست پاکستان کی بھی ویسے ہی مدد کی تھی جیسے آج یوکرین کی کر رہا ہے۔