خون آلود مسجد اور ہمسایہ ملک
تنویر مطہری


سانحہ پشاور نے سب کو اداس کیا۔ البتہ خوش ہونے والوں کی بھی کمی نہیں۔ خوش ہونے والوں میں پاکستان اور ہندوستان دونوں طرف کی شدت پسند تنظیمیں پیش پیش ہیں۔انہیں پیش پیش ہونا بھی چاہیے چونکہ شدت پسندی انسان سے انسانیت ہی چھین لیتی ہے۔ انسانیت سے عاری کچھ  درندوں نے  پشاور مسجد میں دھماکہ کیا تو را کے ایجنٹ سوشل میڈیا پر متحرک ہوگئے۔ انہوں نے پشاور کی خون آلود مسجد کو حضرت عثمانؓ کا کرتہ بنانا شروع کر دیا۔  کوئی کہہ رہا تھا کہ حکومت پاکستان اب مسئلہ  کشمیر کو چھوڑے  اور پاکستان کو سنبھالے اور کوئی پا کستان کے شیعوں کو اپنے ملک کے خلاف اُکسا رہا تھا کہ بس اب اسلحہ اٹھا لو۔ بھارتی ایجنساں اور ان کے ایجنٹ بار بار یہی دہرا رہے تھے کہ پشاور میں ظلم کی انتہا ہوگئی۔نماز جمعہ کے دوران نمازیوں پر حملہ کیا گیا۔دہشت گردوں نے نمازیوں پر پہلے فائرنگ کی پھر نہتےعبادت گزراروں پر خودکش بلاسٹ کرکے ساٹھ نمازی شہید کردیے ۔
دوسری طرف مذمتی بیانات کی بارش ہو رہی تھی۔وزیراعظم پاکستان اور   ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف قمر باجوہ صاحب کے بھی مذمتی بیانات آئے۔ مذمتی بیانات کی بھی ضرورت ہے تاہم ہمارے ملک دشمن عناصر کو لگام دینے کیلئے بیانات کے علاوہ کچھ سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے۔
کہتے ہیں  کہ ایک چوہدری صاحب مسجد میں جھاڑو دے رہے تھے ۔مسجد کے مولانا صاحب نے دیکھا تو کہا چوہدی صاحب آپ جھاڑو کیوں دے رہے ہیں؟ تو چوہدری نے کہا سنا ہے ثواب بہت زیادہ ہے۔مولانا نے چوہدری کے ہاتھ سے جھاڑو لیا اور فرمایا سرکار آپ  مسجد کی صفائی کا ثواب کسی غریب کیلئے چھوڑ دیں۔آپ مسجدیں بنوانے کا ثواب حاصل  کریں۔
اس چھوٹی سی حکایت میں ایک درس عبرت ہے۔ ہم سب کیلئے خصوصا ہمارے ملک کی مقتدر شخصیات اور ریاستی اداروں کیلئے۔انہیں مذمت کا کام فلاحی و رفاہی تنظیموں اور برائے نام سیاستدانوں و کاغذی لیڈروں کیلئے چھوڑ دینا چاہیے۔ خود اُنہیں دشمنوں کی ایجنسیوں کا مقابلہ کر کے عوام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانا چاہیے۔ 
ملک میں آئے روز اس طرح کے واقعات در اصل دشمن ملک کے خفیہ اداروں کی کامیابیوں کی دلیل ہیں۔  صرف پشاور ہی نہیں ڈیرہ اسماعیل خان کی صورتحال بھی انتہائی ابتر ہے۔  امریکہ، اسرائیل، بھارت ، داعش ، طالبان  اور شدت پسندوں کو تو ہم دشمن  کہتے ہیں  لیکن اپنے ملک میں موجود ان کے  نیٹ ورکس اور سہولت کاروں پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔سانحہ پشاور کوئی پہلا سانحہ نہیں ہے۔سانحہ پشاور میں حکومت کی پہلی نا اہلی ثابت نہیں ہوئی بلکہ پہلے  کئی واقعات میں ثابت ہوچکی ہے۔کچھ ماہ پہلے مری کا انتہائی غمناک واقعہ پیش آیا۔جس میں مسافروں کو خود اپنی جال میں پھنسا کر لوٹتے رہے۔ پھر سانحہ تلمبہ ہوا۔ ہماراملک کو بدنام ہوا پوری دنیا کے سامنے۔ڈی آئی خان میں میں ایک ماہ پہلے چند گھر اجڑے،ایک ہی خاندان کے تین افراد قتل کیے گئے۔ورثا نے احتجاج کیا۔آج تک کوئی ایک دہشت گرد بھی نہیں پکڑا گیا۔ ہمارے اداروں کو اپنی قوت اور طاقت کا اظہار لوگوں کو تحفظ فراہم کر کے کرنا چاہیے۔
ہمیں دشمن کے اس بیانیے نے جکڑ لیا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جبکہ یہ بات غلط ہے۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے اس بیانیے کے پیچھے اپنا منہ چھپایا ہوا ہے۔ وہ اس بیانیے کے پیچھے چھپ کر  پندوستان، کشمیر اور پاکستان میں مسلمانوں کا قتلِ عام اور استحصال کر وا رہ ہے۔ اگر دہشت گردوں کا مذ ہب نہیں ہوتا تو پھر دھماکے فقط مساجد ، عبادت گاہوں اور امام بارگاہوں میں کیوں؟
 یہاں پر   نذر حافی صاحب کے ایک ٹویٹ کا ذکر بھی ہو جائے۔ پشاور واقعہ کے حوالے ان کا  کہنا تھا کہ صحیح ہے ایسے واقعات میں بیرونی طاقتوں کا ہاتھ ہوتا ہے مگر دہشت گرد امریکہ اسرائیل یا ہندوستان سے نہیں آتے۔  جی بالکل ہم سب اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ انسانیت کے دشمن ہمارے ملک میں بھی موجود ہیں۔ دشمنوں کے سہولت کار واضح  طور پر موجود ہیں۔ ہم سب ان کی مذمت کرتے ہیں لیکن ہمارے مقتدر اداروں کو مذمت کے علاوہ کچھ اور بھی کرنا چاہیے۔