بے ہودہ مارچ کو روک دکھائیں 

تحریر.  ابو ولی اللہ خان  بہاولپور 

امید کی جاتی ہے کہ اس بار عورت مارچ کی آڑ میں اسلامی نظریات و تعلیمات کی گزشتہ سال کی طرح پامالی نہیں کی جائے گی,  مذہبی امور کے وزیر نورالحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے وزیراعظم پاکستان کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ 8 مارچ کے عورت مارچ کو روکا جائے اور اس کی جگہ باپردہ خواتین کےلیۓ پروگرام منعقد کیۓ جائیں, لیکن یہ خط کب اثر انداز ہوگا نہیں معلوم, کیونکہ طاغوتی قوتیں عمران خان کو پاکستان کا وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتیں کیونکہ عمران خان جیسا بھی ہے اسلام کا دفاع اور اچھی وکالت کرتا ہے ایسے سچ جو ان کی حکومت کےلیۓ نقصان دہ ہوں وہ بھی بول جاتا ہے, بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے, 
8 مارچ کو اقوام متحدہ کے مطابق خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس میں پوری دنیا کی خواتین کے حقوق کی تنظیمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور ایسی خواتین کے حقوق کیلئے آواز بلند کی جاتی ہے جن کے حقوق سلب کئے جارہے ہوتے ہیں , یہ یوم خواتین باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی زور و شور سے منایا جاتا ہے جس میں لال لال اور ہمیں اپنا بستر گرم کرنے دو, ہمارا جسم ہماری مرضی کے نعروں کی گونج ہوتی ہے, یہ ایک فیمینسٹ تحریک ہے جو اپنی بلندیوں کو چھو رہی ہے. میرا ایک سوال ہے اگر ناگوار گزرے تو معافی نہیں مانگی جاۓ گی, 
کیا اقوام متحدہ ایک ایسا ادارہ ہے جو کسی ایک مذہب یا نسل کی نہیں بلکہ انسانیت کی نمائندگی کرتا ہے ؟ مجھے نہیں معلوم کہ اس سوال کا جواب ہاں ہے یا نہیں. 
لیکن آپ تو مجھ سے زیادہ باشعور ہیں اور بین الاقوامی دنیا پر ہر لمحہ نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آپ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرکے  اور دنیا کو ایک گاؤں کی شکل میں بدلا جا چکا ہے, اسی اقوام متحدہ کے حکم کے مطابق دنیا چلتی ہے اقوام متحدہ جسے اچھا کہے وہ اچھا ہے جسے برا کہے وہ برا ہے,اسی طرح اقوام متحدہ کی طلب ہے عورت کو آزاد کیا جائے, اس آزادی کا کیا مطلب ہے , ہونا تو یوں چاہئیے کہ جیسے انڈیا اور دیگر اس جیسے ممالک خواتین کے حجاب نوچ ڈالتے ہیں, کشمیر میں جہاں معصوم بچیوں سے زیادتی کے پہاڑ گراۓ جاتے ہیں, فلسطین میں جہاں خواتین کی عزتیں پاش پاش کر دی جاتی ہیں اس کے ساتھ ہی باقی تمام ایسی خواتین جن پر اس طرح کے مظالم ڈھاۓ جاتے ہیں کو ان درندوں سے آزادی دلائ جاتی لیکن اقوام متحدہ اندھا ادارہ بنا ہوا ہے جو نام نہاد نعرے بازی کراتا ہے بس, یہ ایسا ادارہ جس نے ہمیشہ مسلمان ملکوں پر ظلم کرواۓ اور وہاں بسنے والی مسلمان خواتین کی عصمت دری بھی کرائ, کیا عافیہ صدیقی کے معاملہ میں اقوام متحدہ لاعلم ہے اگر افغانستان کے موجودہ طالبان حلال لگنے لگیں ہیں اب تو عافیہ صدیقی نے بھی حلال کام انجام دیۓ ہونگے, ان سڑکوں پر پھرنے والی فاحشہ عورتوں کو کیا معلوم کہ خواتین ہوتی کیسے ہیں, ایسی خواتین جنہوں نے فحاشی کے اڈے کھول رکھے ہیں وہ 8 مارچ کو اپنی نمود و نمائش کرتی ہیں اور اسلام کے خلاف نعرے لگاتی ہیں, ان طوائفوں کو کیا معلوم کہ اسلام نے تو شروع سے ہی عورت کے تحفظ کی ضمانت دی ہے, عورت کو ماں, بہن, بیٹی اور بیوی کے رشتوں میں پرودیا تھا, ایسے مرد و خواتین جو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بھی واقف نہیں وہ اگر خواتین پر ظلم کریں تو اسے مسلم دنیا کے خلاف مقدمہ کیوں بنا دیا جاتا ہے حالانکہ ایسے منافقین کا اسلام سے تعلق ہی نہیں, اسی عورت مارچ میں ریاست مدینہ کا نام لینے والوں کی حکومت کے سامنے فاحشہ عورتوں نے نبی کریم ص کی شان میں گستاخانہ جملے بولے ایسے جملے جو میں یہاں تحریر نہیں کرنا چاہتا اور میرے اندر ہمت نہیں کہ وہ بکواس لکھ پاؤں, تب ہمارے علماء جو بھڑکتے ہوۓ شعلہ بیانی کرتے ہیں کہاں تھے, تب یہ مجاہد جو علامہ سعد رضوی کی پشت پناہی میں پولیس والوں کو ڈنڈے مار کر قتل کر دیتے ہیں کہاں ہوتے ہیں, تب یہ نام نہاد مجاہدین کہاں ہوتے ہیں جب اسلام کے خلاف اسلام آباد میں چوکوں چوراہوں میں گندا مارچ ہورہا ہوتا ہے,اس مکروہ عزائم لیۓ مارچ میں شامل ہونے والے مرد و خواتین سب اسلام سے جلتے ہیں انہیں اسلام پیارا نہیں لگتا, اس لیۓ کہ اسلام نکاح کا طریقہ رکھتا ہے درندگی سے منع کرنے کی تلقین کرتا ہے, اسلام عورت ہے یا مرد دونوں کے حقوق و فرائض سرانجام دینے پر زور دیتا ہے, فاشسٹ عورتیں تو عورت کے حقوق پامال کرواتی ہیں اگر واقعی یہ درست ہیں تو کشمیر کی بیٹی کی عزت و آبرو ریزی کیوں ہوتی ہے, اگر یہی خواتین حقوق کا دفاع کرتی ہیں تو فلسطینی بہنوں کی چیخیں ان کے در و دیوار تک کیوں نہیں پہنچتیں, چاہیۓ تو یہی باحیا خواتین اس عورت مارچ سے بائیکاٹ کریں اور ان کے خلاف ریلیاں نکالیں کہ حقیقی عورت ہے کون ؟ اسلامی شریعت کے مطابق پرورش پانے والی خواتین ہی ان اقوام متحدہ کی چمنیوں کو بجھا سکتی ہیں, یہ بھی سچ ہے کہ خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات یا دیگر مظالم ڈھاۓ جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کی تعلیمات ہیں یہ,  بلکہ یہ تو سراسر اسلام دشمنی ہے اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کو بااختیار بنایا گیا, انہیں جائیداد میں حصہ دیا گیا, اور باعزت طریقہ سے ان کے نکاح کا طریقہ کار موجود ہے, اسلام میں تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بیٹی کو زندہ دفن کر دیا گیا ہو بلکہ اسلام نے بیٹی کو زندہ کردیا, میرے خیال میں ایک باشعور عورت ہمیشہ ہر موڑ پر اسلام کا دفاع کرے گی اور ناپاک ارادوں سے لیس عورت مارچ کا مقابلہ اپنے کردار سے کرے گی, جس کا ساتھ دینا, تعلیم و تربیت دینا مرد کا فرض ہے , مرد کو چاہیے کہ وہ عورت کو ایسی تعلیم سے آراستہ کرنے میں مدد دے جو ملک و قوم کو عظیم بنادے, 
اقوام متحدہ نہیں اپنے نبی کریم ص کی سنت سے رہنمائی لیں اور پھر عالمی سطح پر اسے اجاگر کیا جائے اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کو اپنے نبی کریم ص کی تعلیمات کو فروغ دینا ہوگا تاکہ بطور مسلمان آپ کا فرض ادا ہو اور عورت کی حیا قائم ہو, اللہ کریم ہمیں ہر عورت کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں راہ مستقیم پر گامزن کرے,  آمین